اساسى | | رسالہ عمليہ | باب نماز
باب نماز

شارك استفتاء

احکام مسافر:

مسئلہ296:چاررکعتی  فرض نمازوں میں قصر واجب ہے،یعنی ان میں سے پہلی دورکعتیں اداکی جائیں گی اور آخری دو رکعتیں حذف ہوجائیں گی،سوائے چارجگہوں کے(مسجد نبوی،مسجد الحرام،مسجد کوفہ،حائر امام حسین علیہ السلام)۔

مسئلہ297:جس شخص کے ذمہ پوری نماز اداکرناواجب ہواور وہ نماز کو قصر کرئےتواس کی نماز تمام صورتوں میں باطل ہوگی،اوراس پر نماز کااعادہ یاقضاء واجب ہوگی،یہاں تک کہ تخییر کے موارد میں بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ298:جب کسی سے حضرمیں نماز فوت ہوجائے ،وہ پوری نماز کی قضاء کرئےگا،اگرچہ اسے سفر میں اداکرتاہے، جب کسی سے سفرمیں نماز فوت ہوجائے ،وہ قصر نماز کی قضاء کرئےگا،اگرچہ اسے حضر میں اداکرتاہے،اور اگر نماز کے اول وقت میں حاضر ہو اور آخر وقت میں مسافر ہویااس کے برعکس ہو،تو قضاء میں نمازکے فوت ہونے کی حالت کی رعایت کرئےگا اور وہ آخر وقت ہے،پس پہلی صورت میں قصرنماز ادا کرئےگااور برعکس صورت میں پوری نماز اداکرئےگا۔

مسئلہ299:مسافر کو چارجگہوں پر قصر اور تمام میں اختیار ہے :

مسجد نبوی،مسجد الحرام، مسجد کوفہ،حرم امام حسین علیہ السلام۔

مسئلہ300:تخییر مذکور میں ،روزہ نماز کے ساتھ ملحق نہیں ہوتاہے ،پس ان چار جگہوں میں روزے کاقصر کرنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ301:مذکورہ تخییر ادا کے ساتھ مختص ہے ،اور یہ قضاء میں جاری نہیں ہوتی ہے۔

 

شارك استفتاء

قواطع سفر

قواطع سفر یعنی جہاں سفر کاسلسلہ ٹوٹ جاتاہے،چند امور ہیں:

اول۔وطن،اس سے مراد وہ مکان ہے جسے انسان اپنےہمیشہ  ٹھہرنے کے لیے غیر محدود مدت تک کے لیے قراردیتاہے،اس حیثیت سے کہ جب تک وہاں سے خروج کا کوئی مقتضی عارض نہیں ہوتاوہ وہاں سے خارج نہیں ہوتا،اس کی اس شہر میں ملک وزمین  کاہونا معتبر نہیں ہےاور ناہی اس کااُس شہر میں چھ ماہ اقامت  رکھنا معتبر ہے۔

مسئلہ 294:عرف  کی نظر میں متعدد وطن ہوسکتے ہیں ،جیسے بصری  جو علوم دین حاصل کرنے کے لیے نجف اشرف میں رہتاہےپس اب وہ نجف اشرف کو وطن بناتاہےجب کہ اُس کارابطہ اپنے پہلے وطن  بصرہ کے ساتھ باقی رہتاہے،اگر عرف سے سوال کیاجائےتو کہیں گےکہ یہ شخص اہل بصرہ سے ہے اور نجف میں رہتا ہے ، اپنے اصلی وطن آتاجاتاہے ،اسی طرح بغدادی انجینئر جس کی ڈیوٹی کربلا میں ہے اور وہ یہاں اہل خانہ کے ساتھ رہائش رکھے ہوئے ہے،اور اس کابغداد کےساتھ بھی رابطہ ہے،دوسرے کو عارضی وطن اور پہلے کو اصلی وطن کہتے ہیں ۔

دوم۔ایک مقام میں دس دن متواتر رہنے کاعزم ہو یااسے علم ہوکہ وہ یہاں دس دن رہےگااگرچہ یہ اس کے اختیار سے نہ ہو۔

سوم۔کسی مقام میں تیس دن تردد کی حالت میں رہےاوردس دن کی اقامت کاعزم نہ ہو،خواہ نو دن  یاکم کی اقامت کاعزم ہویاتردد کی حالت میں باقی ہو،اس پرتیس دن تک  قصر واجب ہے،اور تیس دن گزرنے کے بعد پوری نماز پڑھناواجب ہے یہاں تک کہ نیا سفر اختیار کرئے،اگرچہ ایک نمازکے لیے ہی ہو۔ 

مسئلہ295:وہ شخص جو متعدد جگہوں پر متردد ہووہ قصر کرئے،اگرچہ مدت تیس  دن تک پہنچ جائے۔

 

شارك استفتاء

راستے میں نماز پڑھنے کا حکم :

مسئلہ290:جس شخص کا عمل اور کام سفرمیں ہو ،اس کی دوصورتیں ہیں:

اول۔جوشخص محل کار ،ڈیوٹی کی جگہ کو اپنے اصلی وطن کےدوسراوطن قرار دیتا ہےاور اس میں اقامت اختیار کرلیتاہے،اور وہ چھٹیوں میں بھی اپنے اصلی وطن نہیں  جاتاہے جیسے دینی طالب علم جو نجف اشرف میں پڑھتاہےاور مدرسہ میں ایک ماہ،دوماہ رہتاہے،اگرچہ چھٹیوں میں اس کے پاس پڑھنے کےلیے درس نہ ہوں ، یاانجینئر جسے کارخانے والے رہائشی مکان  دیتے ہیں،اور وہ کام کے موقع پر وہاں رہتے ہیں،یہاں ہفتے کے اختتام پر چھٹی والے دن بھی وہیں رہتے ہیں،یا دانشجو جو ہوسٹل کو وطن بنالیتاہےاور اس میں رہتاہے،حتاکہ اس کے پاس اس وقت میں درس نہ ہوں ،اس قسم کے لوگ آنے جانے کے راستے میں نماز قصر پڑھیں گے اورفقط اپنے دونوں وطنوں میں پوری نماز پڑھیں گے۔

 دوم۔ جوشخص محل کار کو وطن قرارنہ دے ،جب تک کام ہے وہاں ٹھہرے اور جب کام نہ ہوتواپنے گھرواپس آجائے،جیسے دانشگاہوں کی طالبات جوہفتے کے آخر میں  ایام درس کے ختم ہوتے ہی  گھر واپس چلی جاتی ہیں،یہ آتے جاتے راستے میں پوری نماز پڑھیں گی اور دونوں وطنوں میں پوری نماز پڑھیں گی۔

مسئلہ291:ظاہرہے، جس کا عمل سفر ہو یا سفر میں ہو ،اس کے قصد پر موقوف ہے تاکہ بمنزلہ پیشہ کے قرارپائے،جب اس کاقصد کرئے اگرچہ پہلی مرتبہ ہی ہو تو سفر میں پوری نماز پڑھے،لیکن اگر وہاں غیر معتاد عرصہ نہ رہے تو اس میں وہ شخص اپنے عمل پر تردد کو مہمل قراردےگا،اس حیثیت سے کہ عرف میں تمرین کے زمرہ سے خارج ہو ۔

شرط ششم۔اُن لوگوں میں سے نہ ہو جس کاگھر اُس کے ساتھ ہوتاہے،جیسے خانہ بدوش ،جن کازمین پر معین گھر نہیں ہوتاہے ،بلکہ وہ دانے پانی کے پیچھے ہوتے ہیں ، جہاں میسر آتاہے وہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں،اُن کے گھر خیموں کی صورت میں ہوتے ہیں جو شہروں کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں،اور جیسے کشتی ران لوگ جو کشتی کےاندر اپنے لیے کمرہ بنالیتے ہیں اور اُس میں رہتے ہیں،خود رہتے ہیں اور اہل خانہ بھی بمع ساز وسامان کے رہتے ہیں،ایسے لوگوں کاکوئی وطن نہیں ہے،لذا وہ ہر جگہ نمازپوری اداکریں گے،البتہ  سفر حج وزیارات یا خرید وفروخت کے سفر میں نماز قصر کریں گےیہی  قصر والاحکم ہے جب وہ منزل اختیار کرنے کے لیے یادانے پانی کے مقام کو اختیار کرنے کےلیے سفر کریں،ظاہر ہے کہ وہ جس سفر میں  گھر اٹھائے جارہے ہوں  ،نماز پوری اداکریں ، دوسرے سفروں کا یہ حکم نہیں ہے۔

شرط ہفتم ۔مسافر گھر سے نکلے اور حد ترخص پر پہنچ جائے ،حد ترخص سے قبل نماز کو قصر نہیں پڑھے گا،حد ترخص سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مسافر کو شہر کے گھروں  کے آخر میں کھڑا شخص دیکھائی نہ دے ،اگر اس مقام کے حصول میں شک کرئے تو وہاں پوری نماز پڑھنے میں احتیاط لازم ہے،یہاں تک کہ اس مقام کا وثوق حاصل ہوجائے،اس کی علامت تقریبی شکل سے حاصل ہوتی ہے کہ مسافر شہر کے آخر میں کھڑے شخص کو دیکھ نہ پائےاور اس شہر کی اذان کی آواز سن نہ سکے۔

مسئلہ292:مشہور فقہاء فرماتے ہیں کہ جس طرح حد ترخص جاتے ہوئے ثابت  ہے ،اُسی طرح واپس آتے ہوئے بھی ہے پس جب کوئی شخص حد ترخص پر پہنچے تو نمازپوری اداکرئے،ورنہ اقوی یہ ہےکہ یہ شے ثابت نہیں ہےپس وہ  اپنے شہرمیں داخل ہونے تک   قصر کے حکم پرباقی رہےگا،اور خاص کرکے جہاں وطن کا عنوان صادق نہ آئے ،بلکہ محل اقامت یامحل عمل میں۔

مسئلہ293:ہوائی سفر ،قصر کی مسافت اور حدترخص  اور وجوب اتمام کے  موارد میں ،مانند زمینی سفر کےہے۔

 

شارك استفتاء

مسافر کی نماز:

قصر نماز کی شرطیں:

چار رکعتی نمازکی آخری دو رکعت سفر میں چند شروط کے ذریعہ سے قصر ہوجاتی ہیں:

شرط اول۔مسافت کاطے کرنا جو آنے جانے کے حساب سے آٹھ فرسخ ہے یا جانا چار فرسخ اور آنا چار فرسخ ہے۔

مسئلہ282: ایک فرسخ تین میل کاہوتاہے،اور ایک میل چارہزار ہاتھ کا ہوتا ہے اور یہ ہاتھ کہنی تا انگلیوں کے سرے،اس حساب سے کل مسافت تقریباً 44 کلومیٹر بنتی ہے۔

اس کانصف 22 کلومیٹر ہے ،ہم نے اس مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب الریاضیات للفقیہ میں بیان کردیاہے۔

مسئلہ283:جب ایک شہر کے دو راستے ہوں ،ایک قریب کاراستہ ہو اور دوسرا دور  کاراستہ ہو،دور کاراستہ قصر کے لیے شرعی مسافت بنتاہو اور  قریب کا راستہ شرعی مسافت نہیں بنتاہو ،اب اگر دوروالے راستہ سے سفر کرکے جائے تونماز قصر پڑھے گا اور اگر قریب والے راستہ سے سفر کرکے جائے تو نماز پوری پڑھے گایہی حکم ہے جب دور  والے راستہ سے جائے اور قریب والے راستہ سے آئےاور دونوں سفروں کو ملا کر  آنے جانے کی مسافت44 کلومیٹر بنے تو نماز قصر پڑھے گا۔

مسئلہ 284:جب جاناپانچ فرسخ ہو اور آنا تین فرسخ ہو تو دونوں سفروں کوملاکر آٹھ فرسخ سفر بن جائے گا ،اس صورت میں نماز قصر ہوگی،البتہ واپسی کے راستہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے، جانے کی مسافت چار فرسخ سے کم نہیں ہوناچاہیے ،اگر ایسا ہوتوقصر کرئےورنہ اتمام !

مسئلہ285:مسافت کے حساب کی ابتداء شہر کی باؤنڈری دیوار سے ہوتی ہے اور اگر یہ موجود نہ ہوتو شہر کے گھروں کی انتہاء سے ہوتی ہے،خواہ شہر بڑاہو یا چھوٹا ہو۔

شرط دوم۔ابتداء سے آخر تک سفرکاقصد ہو۔

شرط سوم۔سفر کی ابتداء میں مسافت کے پہنچنے سے قبل دس دن کی اقامت کی نیت  نہ ہو یا وہ اس میں متردد ہو ،اگر ایسانہ ہوتو سفر شروع کرتے ہی نماز پوری پڑھے گا۔

شرط چہارم۔سفر مباح ہو ،اگرسفر حرام ہوتو قصر نہیں ہوگی،خواہ سفر فی نفسہ حرام ہو جیسے بیوی کا سفر جو اس کے شوہرکے حق کے منافی ہو اور شوہر کی اجازت کے بغیر ہو یا اس کاسفر کسی غرض کی وجہ سے ہوجیسے کسی انسان کے قتل کرنے کے لیے سفر کرئے،چوری کرنےکےلیےسفرکرئے،زناکرنے کےلیےسفر کرئے،ظالم  کی مدد کرنے کےلیے سفر کرئےوغیرہ۔

شرط پنجم۔سفر کو اپناعمل اور پیشہ بنایاہوانہ ہو،جیسے گاڑیاں چک کرنے کی ڈیوٹی کا کام ،چرواہے کا  کام،تجارت کا کام جس کےلیے سفر میں رہناپڑتاہےاور اس کے علاؤہ دیگر کام ،جن میں وہ مسافت یااس سے زائد سفر میں ہی رہتاہو ،یہ لوگ اپنے سفر میں نماز پوری پڑھیں گے ،جب تک کے اپنے کاموں سے خارج نہیں ہوجاتے ہیں۔

اگر اپنے لیے سفر کریں ،جیسے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانا یا عتبات مقدسات کی زیارت  کے لیے جانا،اس صورت میں اس کا وظیفہ قصر ہے ،مگر جب اساسی عمل مقصود ہو اور یہ استعمال ضمنی ہو۔

مسئلہ286:جیساکہ وہ تاجر جو اپنی تجارت میں گردش کرتاہے وہ نماز پوری پڑھتا ہے ،اسی طرح ہے وہ عامل (کام کرنے والا)جواپنے عمل (کام کے سلسلہ) میں چکر لگاتاہے،جیسے چیکر شخص جو چیکنگ کے پوائنٹ پرگردش کرتاہے،یا ڈاکیہ ڈاک لے جاتاہے،یا سرحدوں کی حفاظت کےلیے جانے آنے والا،اور ان کی مثل لکڑی کا کارو بار کرنے والے اور سبزیاں و پھل اور دالوں کاکاروبار کرنے والے جو ایک شہر سے دوسرے شہر آتے جاتے ہیں،یہ لوگ نماز پوری پڑھیں گے۔

مسئلہ287:شرط پنجم کے لیے جن عناوین کااحتمال دیا جاتا ہے ،چند امور پر مشتمل ہیں:

امر اول۔ سفر  اس کاعمل اور کام ہو یعنی  اس کا سفر   کاروبار ہوجیسے کرایہ اور بھاڑے  پر کام کرنے والاشخص،اونٹوں کامہاری جو راستہ دکھانے کے لیے اونٹوں کے ساتھ آتاجاتا ہے ،جہاز کاپائلٹ،جب اپنے کام کے سلسلہ میں نکلے تو نماز پوری پڑھے اور روزہ رکھے،اور جب کسی دوسرے کام کے سلسلہ میں نکلے تو نماز قصر اور روزہ افطار  کردے۔

امر دوم۔اس کاعمل اور کام سفر میں ہو،یعنی اس کاکام سفر پر موقوف ہو،جو سفر کےبغیر انجام نہ دیاجاسکتاہو،جیسے وہ  شخص جو   اپنی سکونت والے شہر کوچھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں کام کرتاہومانند ڈاکٹر،نرس ،طالب علم ،فوجی ،گارڈ اوران کی مثل پیشہ والے لوگ،یہ لوگ جب اپنے کام کے سلسلہ میں ڈیوٹی پرجائیں تو نمازپوری پڑھیں اور روزہ رکھیں،طالب علم میں فرق نہیں ہےکہ دینی طالب علم ہو یا اکیڈمی کا طالب علم ہو ،جس کاعلم اس کے مستقبل میں دخیل ہو ،اور اس پر اس کی زندگی کا سرکل موقوف ہو ،صرف تاریخی مشکل کی بابت چھان بین کافی نہیں ہےجو مصادر میں ہے۔

امر سوم۔جس کے عمل کاسفر جزء ہو،جیسے تجارت میں واسطہ شخص جو تاجروں کامال لےآتاہےاور ایک ایک خریدار پر تقسیم کرتاہے۔

امرچہارم۔اس کاعمل پھیری لگانے میں ہو،جو مختلف شہروں میں  جاتاہو،جیسے کوئی شخص متعدد کام اٹھاتاہےاور شہر بہ شہر جاکر خدمات پیش کرتاہے،اس کی مثالوں  میں سے مکانات کی اصلاح کرنے والا ،مستری یالوہار وغیرہ۔

مسئلہ288:تمام (پوری نماز پڑھنے)کے وجوب میں  سفر کا تین مرتبہ تکرار معتبر نہیں ہے،بلکہ کافی ہے کہ سفر اس کےلیےعمل ہو یا اس کاعمل سفر میں ہو ،اگرچہ پہلی دفعہ ہی سفر کررہاہو۔

مسئلہ289:جب کوئی شخص کئی اتفاقی سفروں میں گھر سے خارج ہو ،لیکن یہ سفر اس کے عمل کے ساتھ مربوط ہو اور یہ سفر اس کے عمل کا جزء ہو،تو نماز پوری پڑھے اور روزہ رکھے،جیسے ڈاک پہنچانے والا رسمی عمل میں یا فوجی اپنی ماموریت و ڈیوٹی میں اس قسم کاسفر اختیار کرتاہےاور جب اس طرح نہ ہو ،وفود کی تمرین کےلیے یاکام میں مہارت حاصل کرنے کےلیے کام کرناپڑتاہے اور یہ سفر عمل کاجزء قرارنہیں پاتاہے تو اس کا حکم قصر ہے۔

شارك استفتاء

جماعت کےاحکام:

مسئلہ 276:نماز باجماعت ہو تو امام ماموم سے نماز کے افعال اور اقوال سے کسی  شے کو تحمل(برداشت)نہیں کرتاہے سوائے پہلی دورکعت کی قرائت کے،جب وہ ان دو رکعتوں کی امامت کرواتاہےتو ماموم کے لیےامام ہی کی قرائت کافی ہورہتی ہے،ماموم پر قیام کی حالت میں امام کی متابعت کرناواجب ہے،اس قیام میں طمانیہ فی الجملہ واجب ہے۔

مسئلہ277:اخفاتی نماز کی پہلی دورکعتوں میں ،ماموم کےلیے جزئیت کے قصد سے قرائت کاترک کرناا حوط ہے ، اس کے لیے افضل ہےکہ اس دوران ذکر اور درود میں مشغول رہے،جہری نماز کی پہلی دورکعتوں میں امام کی آواز سنائی دے رہی ہو ،اگرچہ مدہم ہی سنائی دے تو ماموم پر قرائت کاترک کرنا واجب ہے،بلکہ احوط اور بہتر ہے وہ اس کی قرائت کی وجہ سے خاموش رہے،اور اگر اسے سن  نہ رہاہو ،یہاں تک کہ اس کی سرسراہٹ کو بھی سن نہ رہاہوتواس کا قصد قربت اور قصد جزئیت سے قرائت کرنا جائز ہے۔

مسئلہ278:جب امام کو آخری دورکعت میں درک کرئے،تو اس پر واجب ہے کہ سورہ حمد اوردوسری سورہ کو پڑھے،اگر سورہ کی قرائت سے رکوع میں امام کی متابعت فوت ہوجائےتو سورہ حمد ہی پر اکتفاء کرئےاورسورہ حمد کوپڑھےاور رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے۔

مسئلہ279:افعال میں ،ماموم پرامام کی متابعت واجب ہے،یعنی جان بوجھ کر اس سے آگے نہ بڑھے اور بغیر ضرورت کے زیادہ پیچھے بھی نہ رہے ۔

مسئلہ280:انفرادی نماز پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی نماز کا جماعۃً اعادہ کرئے وہ امام ہویاماموم ہو ،یہی حکم ہے جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھے ،امام ہویاماموم ہو،وہ دوسری جماعت میں نماز کااعادہ کرسکتاہے ،امام ہویاماموم ہو ، احتیاط لازم ہےکہ جماعت میں وہ ہو جو اپنی اصلی نماز اداکررہاہو،یعنی ایسا نہ ہو کہ جماعت میں سارے لوگ ایسے ہوں جو نماز کااعادہ کررہے ہوں،یہ اشکال وضعی ہے ورنہ وہ تو فرض کے حساب سے اپنافرض اداکرچکے ہیں۔

مسئلہ281:جب کوئی شخص نافلہ نماز پڑھ رہاہو اور جماعت کھڑی ہوجائے اور اسے خوف لاحق ہوجائے کہ اگر نماز مکمل کرتاہوں تو جماعت کو درک نہیں کرپاؤں گا ،اگرچہ امام کے ساتھ تکبیر کو درک نہیں کرسکوں گا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ نماز نافلہ توڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے۔

 

شارك استفتاء

امام جماعت کے شرائط:

امام جماعت میں چند ایک شرائط ہیں:

1۔ عقل۔

2۔اسلام۔

3۔ایمان۔

4۔عدالت۔

5۔بناء براحتیاط کےبلوغ ۔

6۔ ذکوریت،جب ماموم مرد ہوں،عورت صرف عورتوں ہی کو جماعت کروا سکتی ہے۔

7۔ امام کی قرائت صحیح ہو۔

8۔امام اعرابی(بدو،خانہ بدوش)نہ ہو۔

9۔ احتیاط مستحب کی بناء پرامام پر کوئی شرعی حد لگی ہوئی نہ ہو ۔

10۔حرام زادہ  نہ ہو۔

11۔اتنی فقہ جانتاہو ،جس سے اس  کا انفرادی نماز پڑھنا صحیح ہو،اس سے زیادہ فقہ کاحاصل کرناواجب نہیں ہے۔ 

12۔بیٹھ کر کھڑے لوگوں کونماز پڑھانا جائز نہیں ہے،لیٹاہوا بیٹھے ہوئے کو نماز نہیں پڑھاسکتاہے ،کھڑاہوا بیٹھوں اور لیٹے ہوؤں کو نماز پڑھا سکتاہے۔

مسئلہ275: جو شخص اپنے وضو میں معذور ہو ،عجز یا کٹے ہوئے بعض اجزاء پر پانی ڈال نہ سکتا ہو ،اس کانماز پڑھانا جائزہے،یہی حکم ہے جو اپنی نماز پڑھنے میں معذور ہو لیکن اس کا عذر گزشتہ عذر کے علاؤہ ہو،جیسے جو شخص اونچی جگہ پر سجدہ کرتاہے یا جوقیام میں مانند رکوع کی ہیئت کے ہوتاہے(جھکی کمر والاہے)یا جو پیشانی کے علاؤہ اپنے بعض اعضائے سجدہ کو زمین پر ٹیک نہیں سکتاہے۔

 

شارك استفتاء

شرائط انعقاد جماعت:

جماعت کے انعقاد میں چند امور معتبر ہیں:

1۔ امام اور ماموم کے درمیان کسی چیز کاپردہ نہ ہو ،اسی طرح  بعض مامومین کے درمیان بھی کسی چیز کا پردہ نہ ہو ،اس حیثیت سے کہ وہ امام کے ساتھ اتصال میں واسطہ قرارپائے،پردہ سے مراد کپڑے کا یادیوار کا یا درخت کا یاایسی کسی اور شے کاحائل ہوناہے،اگرچہ کوئی انسان  کھڑا ہو،جب تک حائل کےعنوان کاصدق موجود ہو۔

یہ اس وقت ہے جب ماموم مرد ہو لیکن جب ماموم عورت ہو اورامام مرد ہو تواس کے اور امام یا مامومین کے درمیان ، حائل کےہونے کاکوئی حرج نہیں ہے ،لیکن جب امام عورت ہو تو وہی حکم ہوگاجو عورت کے بارے میں بیان کردیاہے ،مہم  مردوں اور عورتوں کے درمیان حائل کاوجود ہے،ناکہ ایک جنس کے درمیان ،خواہ وہ امام ہویامامومین ہوں۔

مسئلہ 271:حائل میں فرق نہیں ہے جوجماعت کے انعقاد سے مانع ہوتاہے،کہ وہ دیکھنے اور مشاہدہ وغیرہ کے کرنے سے مانع ہو ،یہ حکم اظہر قول کی بناء پر ہے ، حائل کے ہوتے ہوئے جماعت منعقد نہیں ہوتی ہے،جوبمثل  شیشہ و کھڑکی اور سوراخوں والی دیواروغیرہ کے ہو ، جو دکھنے سے مانع نہ ہو،کھال اور بسیط راستہ کاکوئی حرج نہیں ہے جب عرف کی نظر سے معتد بہ نہ ہو ،اس صورت میں اس کاحکم بیان کیاجائے گا،اندھیرے اور غبار وغیرہ کاکوئی حرج نہیں ہے۔

2۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم کے کھڑے ہونے کے مقام سے بلند نہ ہو جیسے عمارت اوراس کی مثل ،بلکہ اگر پہاڑی کی طرح ڈھیلوانی جگہ ہو تو درست نہیں ہے ،ہاں! اگر ڈھیلوانی جگہ ہو اور اس پر بسیط زمین کانام صدق کرئے،اور ایک بالشت یا اس سے  تھوڑا سا کم بلند کھڑے ہونے کامقام ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ272:ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ سے بلند ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ،جب اتنی مقدار میں ہو جس کی بابت عرف  کہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہیں ،یہی حکم  مامومین کے ایک دوسرے سےبلند ہونے کا ہے ،لیکن احتیاط واجب  ہے کہ ان کے درمیان برابری ہو اگرچہ  تھوڑی سی مقدار ،جیسے پہلے کاقدم دوسرے کے سر کے برابر ہو ۔

3۔ ماموم امام سے دوری پر نہ ہو ،یابعض مامومین سے معتدبہ مقدار میں دوری پرنہ ہو ،آگے اور دائیں بائیں کے اتصال  میں زیادہ فاصلہ نہ ہو ،احتیاط مستحب ہےکہ آگے والے شخص کے کھڑے ہونے کی جگہ اور پیچھے والے شخص کے سجدے والی جگہ کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ273:جب امام کے پیچھے پوری صف جماعت کےلیے کھڑی ہواور وہ انفرادی نماز پڑھ رہے ہوں تواحتیاط واجب کی بناء پر  پچھلی صف کا امام سے اتصال منقطع ہوجائےگا،یہی حکم ہے جب کوئی ماموم  پچھلی صف میں کھڑا ہو اوراُس کے آگے ایک شخص کھڑا ہو اور وہ انفرادی نماز پڑھ رہاہو ،اس صورت میں پچھلے شخص کےلیے معین ہے کہ انفرادی  نیت کرلے۔

دائیں بائیں والااتصال،اس میں ایک شخص کےفاصلے کاکوئی حرج نہیں ہے،خواہ وہ انفرادی نماز پڑھنے والاہویاکوئی  غیر ممیزبچہ ہو یاکوئی اور !

ہاں،اگر دائیں بائیں دویادوسے زیادہ آدمیوں کافاصلہ ہوجو اتصال احتیاط واجب  کے مخالف ہو تو انفرادیت ہی کی نیت کرئے۔

  کھڑے ہونے میں ماموم امام سے آگے نہ ہو،بلکہ احتیاط واجب ہےکہ ماموم امام کے برابر بھی کھڑا نہ ہو ،جب وہ متعدد مرد ہوں ،اس کے برخلاف ہے اگرماموم ایک ہو یا جماعت عورتوں کی ہوتو موقف میں مساوات کا کوئی حرج نہیں ہے،احتیاط مستحب ہے کہ  جب ماموم متعدد ہوں تو  امام کے پیچھے ہی کھڑے ہوں ، جس طرح احتیاط مستحب ہے کہ  جو عورت عورتوں کو امامت کراتی ہے وہ  اُن کے وسط میں کھڑی ہو اور اُن سے مقدم نہ ہو ،بلکہ اس احتیاط کو  ترک نہ کرئے،اور خاص کرکے جب ایسی جگہ پر ہوں جہاں مردوں کے وجود کااندیشہ ہو(یعنی وہاں مرد آسکتے ہوں جس سے وہ انہیں مشاہدہ کرلیں گے)۔

مسئلہ274:بعض  مامومین کاایک دوسرے کے سامنے حائل ہونے کاکوئی حرج نہیں ہے،اگرچہ وہ ابھی نمازمیں داخل نہ ہوئے ہوں ،بلکہ نماز میں داخل ہونے کے لیے آمادہ ہوں۔

 

شارك استفتاء

ماموم کے جماعت کودرک کرنے کی بابت مسائل:

مسئلہ269:امام کی تکبیرۃ الاحرام کے بعد سے اس کے رکوع کوختم کرنے تک جماعت میں داخل ہوسکتے ہیں،پس اگرامام کے ساتھ تکبیرۃ الاحرام میں یا اس کے بعد قرائت سے قبل قیام کی حالت میں یاقرائت کے دوران یا قرائت کے بعد رکوع سے قبل یا رکوع کی طرف جھکتے ہوئے یا رکوع کی حالت میں اس کے ذکرکے ختم ہونے تک  نماز میں داخل ہو تواس نے رکعت کو پالیا،رکعت کاادراک موقوف نہیں ہے کہ امام کے ساتھ رکوع میں اجتماع اختیارکیاجائے،اگرچہ امام کے رکوع میں جانے سے قبل تکبیر کہہ دے،اس کے علاؤہ  اس کےلیے امام کی متابعت واجب ہے ،رکوع کے ادراک کے لیے معتبرہے کہ دونوں رکوع  میں  اطمینان کی حالت میں اکٹھے  ہوں،اگرچہ ایک لحظہ کے لیے ہو ،اگروہ امام کے رکوع  سے خارج ہوجانے کے  بعد تکبیر کہے،اس کی جماعت کی صحت مشکل ہوجاتی ہے ،جیسے ماموم  رکوع میں جا رہاہو اورامام رکوع سے سر اٹھارہاہوتو   یہاں احوط یہ ہے کہ وہ انفرادیت کی نیت کرلے۔

مسئلہ270:جب کوئی شخص امام کو آخری تشہدیاسلام  میں درک کرئے،تو اس کےلیے جائز ہے کہ وہ احتیاط واجب کی بناء پر  تکبیرۃ الاحرام کہے اور امام کے ساتھ بیٹھ کر قربت مطلقہ یا مطلق ذکر  کی نیت سے تشہد پڑھے،اورجب امام سلام پڑھے تویہ  بغیر  تکبیر کے اپنی نماز کےلیے کھڑاہوجائے،اسے جماعت کی فضیلت  اورثواب مل جائے گا،  اگرچہ اس کی  رکعت شمار  نہیں ہوگی،یہی حکم ہے جب کوئی  امام کو آخری رکعت کے دوسرے سجدے میں  درک کرئےتویہ اسے قربت مطلقہ کی نیت سے بجالائے ،اور اس کی نماز  تکبیراول کے ذریعہ سے صحیح ہوگی۔

 

شارك استفتاء

نماز جماعت:

یومیہ نمازوں کو باجماعت اداکرنا مستحب مؤکد ہے ،اداہوں یاقضاء ہوں ،بلکہ نمازطواف کے علاؤہ باقی سب فرائض میں یہی حکم ہے،احتیاط لازم یہ ہے کہ اس میں جماعت کی بابت  اتمام پراکتفاء نہ کیاجائے،یومیہ ادانمازوں میں جماعت مستحب مؤکد ہے اور خصوصاً صبح اورمغربین میں ہے کہ انہیں باجماعت اداکیاجائے،اس کابہت زیادہ ثواب ہے ،اس کی بہت تاکید ہوئی ہے اور اس کے ترک پر مذمت ہوئی ہے ،اس کی بابت بہت زیادہ اخبار اور عالی مضامین بیان ہوئے ہیں ،جتنے اکثر مستحبات میں وارد نہیں ہوئے ہیں۔

مسئلہ266:اگر امام  یومیہ نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھا رہاہو ،اور پیچھے سے کوئی شخص آئے تووہ اپنی نمازاس کی اقتداء میں پڑھ سکتاہے ،اگر چہ ان دونوں کے درمیان جہر واخفات کااختلاف ہو یعنی ایک کی نماز جہری ہواوردوسرے کی اخفاتی ہو یاایک کی نماز اداہواور دوسرے کی نماز قضاء ہو یاایک کی نماز قصر ہو اور دوسرے کی نماز پوری ہو۔

مسئلہ267:تنہانماز پڑھنے والے کے لیےجائز نہیں ہےکہ نماز کے دوران عدول کرکے امام کے پیچھے نماز کی نیت کرلے۔

مسئلہ268:جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے کےلیے جائز ہے کہ دوران نماز نماز کے تمام حالات میں ، حالت اختیار میں جماعت کی نیت سےعدول کرکے انفرادیت  کی نیت کرلے،یہ قول اقوی ہے۔

 

شارك استفتاء

میت کی قضاء نمازوں کے احکام

مسئلہ 262:بناء براحتیاط کےمرنےوالےکے بڑے بیٹےپرباپ کی قضاء ہونے والی یومیہ نمازوں کواوردوسری واجب عبادات کواداکرناواجب ہے۔ 

مسئلہ263:جب بڑا بیٹا باپ کے مرنے کے بعد مرجائے تو باپ کی قضاء  اس کے دوسرے بھائیوں پر واجب نہیں ہے ،اور اس کا بڑے بیٹے کے ترکہ سے اخراج واجب نہیں ہے۔

مسئلہ264:جب کوئی شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ نماز کے ترک میں عناد رکھتاہو تواس کی طرف سے قضاء احتیاط استحبابی پر مبنی ہوگی،صورت حال اس کے برخلاف ہوگی اگر کوئی شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ نماز کے ترک میں عناد نہ رکھتاہو ،جیسے وہ اسے عمداً ترک کرئے پھر توبہ کرلے اور قضاء کودرک کرنے سے قبل مرجائے۔

مسئلہ265:جس شے کی قضاء بڑے بیٹے پر واجب ہے،وہ اسے خود انجام دے سکتاہےاور اپنے مال سے اجرت پر بھی انجام دلواسکتاہے۔

 

1 2 3 4 5
المجموع: 42 | عرض: 1 - 10

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف