راستے میں نماز پڑھنے کا حکم

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

راستے میں نماز پڑھنے کا حکم :

مسئلہ290:جس شخص کا عمل اور کام سفرمیں ہو ،اس کی دوصورتیں ہیں:

اول۔جوشخص محل کار ،ڈیوٹی کی جگہ کو اپنے اصلی وطن کےدوسراوطن قرار دیتا ہےاور اس میں اقامت اختیار کرلیتاہے،اور وہ چھٹیوں میں بھی اپنے اصلی وطن نہیں  جاتاہے جیسے دینی طالب علم جو نجف اشرف میں پڑھتاہےاور مدرسہ میں ایک ماہ،دوماہ رہتاہے،اگرچہ چھٹیوں میں اس کے پاس پڑھنے کےلیے درس نہ ہوں ، یاانجینئر جسے کارخانے والے رہائشی مکان  دیتے ہیں،اور وہ کام کے موقع پر وہاں رہتے ہیں،یہاں ہفتے کے اختتام پر چھٹی والے دن بھی وہیں رہتے ہیں،یا دانشجو جو ہوسٹل کو وطن بنالیتاہےاور اس میں رہتاہے،حتاکہ اس کے پاس اس وقت میں درس نہ ہوں ،اس قسم کے لوگ آنے جانے کے راستے میں نماز قصر پڑھیں گے اورفقط اپنے دونوں وطنوں میں پوری نماز پڑھیں گے۔

 دوم۔ جوشخص محل کار کو وطن قرارنہ دے ،جب تک کام ہے وہاں ٹھہرے اور جب کام نہ ہوتواپنے گھرواپس آجائے،جیسے دانشگاہوں کی طالبات جوہفتے کے آخر میں  ایام درس کے ختم ہوتے ہی  گھر واپس چلی جاتی ہیں،یہ آتے جاتے راستے میں پوری نماز پڑھیں گی اور دونوں وطنوں میں پوری نماز پڑھیں گی۔

مسئلہ291:ظاہرہے، جس کا عمل سفر ہو یا سفر میں ہو ،اس کے قصد پر موقوف ہے تاکہ بمنزلہ پیشہ کے قرارپائے،جب اس کاقصد کرئے اگرچہ پہلی مرتبہ ہی ہو تو سفر میں پوری نماز پڑھے،لیکن اگر وہاں غیر معتاد عرصہ نہ رہے تو اس میں وہ شخص اپنے عمل پر تردد کو مہمل قراردےگا،اس حیثیت سے کہ عرف میں تمرین کے زمرہ سے خارج ہو ۔

شرط ششم۔اُن لوگوں میں سے نہ ہو جس کاگھر اُس کے ساتھ ہوتاہے،جیسے خانہ بدوش ،جن کازمین پر معین گھر نہیں ہوتاہے ،بلکہ وہ دانے پانی کے پیچھے ہوتے ہیں ، جہاں میسر آتاہے وہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں،اُن کے گھر خیموں کی صورت میں ہوتے ہیں جو شہروں کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں،اور جیسے کشتی ران لوگ جو کشتی کےاندر اپنے لیے کمرہ بنالیتے ہیں اور اُس میں رہتے ہیں،خود رہتے ہیں اور اہل خانہ بھی بمع ساز وسامان کے رہتے ہیں،ایسے لوگوں کاکوئی وطن نہیں ہے،لذا وہ ہر جگہ نمازپوری اداکریں گے،البتہ  سفر حج وزیارات یا خرید وفروخت کے سفر میں نماز قصر کریں گےیہی  قصر والاحکم ہے جب وہ منزل اختیار کرنے کے لیے یادانے پانی کے مقام کو اختیار کرنے کےلیے سفر کریں،ظاہر ہے کہ وہ جس سفر میں  گھر اٹھائے جارہے ہوں  ،نماز پوری اداکریں ، دوسرے سفروں کا یہ حکم نہیں ہے۔

شرط ہفتم ۔مسافر گھر سے نکلے اور حد ترخص پر پہنچ جائے ،حد ترخص سے قبل نماز کو قصر نہیں پڑھے گا،حد ترخص سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مسافر کو شہر کے گھروں  کے آخر میں کھڑا شخص دیکھائی نہ دے ،اگر اس مقام کے حصول میں شک کرئے تو وہاں پوری نماز پڑھنے میں احتیاط لازم ہے،یہاں تک کہ اس مقام کا وثوق حاصل ہوجائے،اس کی علامت تقریبی شکل سے حاصل ہوتی ہے کہ مسافر شہر کے آخر میں کھڑے شخص کو دیکھ نہ پائےاور اس شہر کی اذان کی آواز سن نہ سکے۔

مسئلہ292:مشہور فقہاء فرماتے ہیں کہ جس طرح حد ترخص جاتے ہوئے ثابت  ہے ،اُسی طرح واپس آتے ہوئے بھی ہے پس جب کوئی شخص حد ترخص پر پہنچے تو نمازپوری اداکرئے،ورنہ اقوی یہ ہےکہ یہ شے ثابت نہیں ہےپس وہ  اپنے شہرمیں داخل ہونے تک   قصر کے حکم پرباقی رہےگا،اور خاص کرکے جہاں وطن کا عنوان صادق نہ آئے ،بلکہ محل اقامت یامحل عمل میں۔

مسئلہ293:ہوائی سفر ،قصر کی مسافت اور حدترخص  اور وجوب اتمام کے  موارد میں ،مانند زمینی سفر کےہے۔