حيض

شارك استفتاء

خون نفاس

خون نفاس،جورحم سے بچے کی پیدائش کے ساتھ یا اس کی پیدائش کے بعد خارج ہوتاہےاور معلوم ہوتاہے کہ یہ خون زچگی کی وجہ سے ہے،اس کے کم ازکم ہونے کی حد معین نہیں ہے البتہ زیادہ سے زیادہ دس دن آتا ہے،اگر عورت اس خون کو بچے کی پیدائش کے چوتھے دن دیکھےتو اس کی حد اکثر یہ ہے کہ چودویں دن سے تجاوز نہ کرئےاور اگر اس خون کو بچے کی پیدائش کے دس دن بعد دیکھے تو نفاس نہیں ہوگا،اگر دس دنوں میں خون نہ دیکھے تو اس کے لیے اصلاً نفاس نہیں ہوگا،اکثر کے حساب کی ابتداء  پیدائش کےمکمل ہونے کے  وقت سے شروع ہوتی ہے،پیدائش میں شروع ہونے کے وقت سے نہیں  ،اگرچہ اس پر احکام کاجریان شروع کے وقت سے ہوتا ہے ،دونفاس کے درمیان اقل طُہر کافاصلہ معتبر نہیں ہے،بلکہ دونفاس کے درمیان اصلاً فاصلہ معتبر نہیں ہے۔

مسئلہ69:ظاہرہے،سقط حمل کے وقت نکلنے والاخون،اگرچہ سقط کے وجوہات  واضح  نہ ہوں تو خون نفاس کو معتبر سمجھا جائے گا،اور اس عورت پر نفاس والے احکام جاری ہوں گے،تروک احکام نفاس اور افعال استحاضہ کے درمیان جمع میں احتیاط حسن  ہے۔

مسئلہ 70:نفاس والی عورت کی تین قسمیں ہیں:

اول۔جس عورت کاخون دس دن سے تجاوز نہ کرئے،اس صورت میں سارا خون نفاس ہوگا۔

دوم۔جس عورت کاخون دس دن سے تجاوز کرجائےاوروہ حیض میں صاحب عادت عددیہ ہو،دس دن سے تجاوز سے مراد یہ ہے کہ اس عورت کاخون ،خون دیکھنے کے وقت سے  قراردیاجائے،نہ کہ پیدائش سے شروع کیاجائے،جیساکہ ہم نے اسے پہلے بیان کردیاہے،اس صورت میں اس کانفاس اس کی عادت کی مقدار ہوتا ہے اور باقی استحاضہ ہوتاہے ،اس کے لیے احتیاط واجب  ہے کہ جمع کےذریعہ سے احتیاط کرئے،یعنی عادت سے دس دن تک زائد مدت کے دوران جمع کرئے۔

سوم۔جس عورت کاخون دس دن سے تجاوز کرجائے،اور وہ  عورت حیض میں صاحب عادت نہ ہو،خواہ مضطربہ ہویامبتدئہ ہو ،وہ اپنی قریبیوں کی عادت کی مقدار کو نفاس قراردے اور باقی کواستحاضہ قراردےاور احتیاط کوترک نہ کرئےیعنی عادت اور دس کے درمیان احتیاطاً جمع کرئے ،بشرطیکہ اُن کی عادت دس دن سے کم کی ہو۔

مسئلہ71:نفاس والی خواتین ،خون کے  استظہارکے ذریعہ حیض والی عورت کے حکم میں ہوتی ہے ،جب اس کاخون  ایام عادت سےتجاوز کرجائے۔

اور جب خون بند ہوجائے توچھان بین سے اپنی پوزیشن کو سمجھنا لازم ہے،وہ روزے کی قضاء بجالائے اور نماز کی قضاء کابجالانااس کے ذمہ میں نہیں ہے،اس کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے،اسے طلاق دینا درست نہیں ہے،احتیاط واجب ہے کہ نفاس والی عورت کے لیےواجبات و محرمات و مستحبات اور مکروہات   وہی امور ہیں جو حیض والی عورت کےلیے ہیں۔

شارك استفتاء

استحاضہ کی اقسام اور اس کے احکام

اس کی تین قسمیں ہیں،قلیلہ و متوسطہ اور کثیرہ۔

قلیلہ،جس میں خون کم آتاہے جو روئی کے اندر داخل نہیں ہوتاہے۔

متوسطہ،جس میں خون قلیلہ سے زیادہ آتاہے جو روئی کے اندر داخل ہو جاتا ہے لیکن روئی کی  دوسری  طرف سے خارج نہیں ہوتا۔

کثیرہ،جس میں خون متوسطہ سے زیادہ آتاہے جو روئی کے اندر داخل ہوکر دوسری طرف سے خارج ہوجاتاہے۔

مسئلہ62:احتیاط واجب  یہ ہےکہ ایسی عورت کو نماز کےلیے اختیار ہے ،خون نکلنے کے مقام میں روئی داخل کرئےاور کچھ دیر انتظار کرئےپھر روئی نکال کردیکھے اوراس میں سابقہ اوصاف میں سے کسی ایک کو پائےتو اُس پر بناء رکھے ،اگراس اختیار کوعمداً یاسہواً ترک کردے اور عمل بجالائے،اوراس کاعمل لازم وظیفہ کے مطابق ہویااس سے زائد ہو،اور اس نے عمل کوقربۃ ً الی اللہ تعالی کی نیت سے انجام دیاہوتوصحیح ہے ورنہ اس کاعمل باطل ہوگا۔

مسئلہ63:استحاضہ قلیلہ کاحکم:

روئی یاپٹی تبدیل کرئےیااسے پاک کرئے ، اور خون والی جگہ نجس ہونے کی صورت میں پاک کرئے،ہر نماز  کےلیے وضو کرنا واجب ہے، نماز  فرض ہویا نافلہ ہو، نماز کے بھولے ہوئے اجزاء،نمازاحتیاط ،نماز کے ساتھ ہی اداکئے جانے والے سجدہ سہو کے لیے دوبارہ سے وضوکرناواجب نہیں ہے ،(بلکہ اسی وضو سے انہیں اداکرسکتی ہے)۔

مسئلہ64:استحاضہ متوسطہ کا حکم:

استحاضہ قلیلہ والے احکام کے علاؤہ،یعنی پٹی تبدیل کرنے اور خون والی نجس جگہ کو پاک کرنے اور ہر نماز کےلیے وضو کرنے کے علاؤہ ،دن میں ایک غسل کرئے،جس کا وقت پہلی فرض نماز کے وضو سے پہلےکاہے،جس سے قبل حدث حاصل ہواہو،اور بعد والی راتوں میں نماز صبح کے وضوسےقبل غسل کرئےپس مستحاضہ متوسطہ پر نماز فجرسے قبل نمازکےلیےغسل کرنا واجب ہے ،پھر وضوکرکے نماز فجر اداکرئے،اگر کسی  وجہ سے نماز فجر کے لیے غسل نہ کرسکے تونمازظہرین کےلیے غسل کرئے۔

اس صورت میں نماز صبح کااعادہ کرئےیعنی دوبارہ پڑھے،جب کسی عورت کو نمازفجر کے بعد استحاضہ متوسطہ آجائے تواُس پر واجب ہےکہ غسل اور وضو کرکے نماز ظہرین ادا کرئےاور اگر کسی عورت کو نماز ظہر کے بعد استحاضہ متوسطہ آجائےتو غسل اور وضوکرکےنماز عصر ادا کرئے ،یہ پہلے دن کےلیے ہے،لیکن بعد والے دنوں کےلیےنماز فجرکے وضوسے پہلے غسل کرئے،اوراگر نماز کےدوران حدث ہوجائے یعنی خون استحاضہ آجائے تو واجب ہےکہ غسل اور وضوکےبعد نماز دوبارہ سے  پڑھے۔

 غسل  کرنالازم ہوتویہ وضوسے بےنیاز نہیں کرتاہے،اگر حدث کےختم ہونے پر غسل کرئے تو وہ وضو سے بےنیاز کردےگایعنی اب اس کے بعد خون خارج نہ ہو  یا وہ خون  شرمگاہ کے باطن کی طرف اُترجائے۔

مسئلہ65:استحاضہ کثیرہ کاحکم:

گزشتہ احکام متوسطہ والے پرعمل کے علاؤہ دواور  غسل بھی  ہیں  ،ایک ظہرین کی نماز کےلیےاور دوسرا مغربین کی نماز کےلیے،جب دو نمازیں  اکٹھی اداکرئے ، دو یومیہ  فرض نمازوں سے زیادہ ایک غسل سے ادا نہیں کر سکتا ۔

مسئلہ66:جب استحاضہ کثیرہ نماز فجر کے بعد آجائےتو ایک غسل  نمازظہرین کےلیے اور دوسراغسل  نمازمغربین کے لیے کرئے،اور جب استحاضہ کثیرہ نماز ظہرین  کے بعد میں آجائے تونماز مغربین کےلیے غسل کرناواجب ہے،جب استحاضہ کثیرہ نماز ظہرین یانماز مغربین کے درمیان میں آجائے تواُن دونوں میں سے بعد والی  نماز کے لیے رجائے مطلوبیت یااحتیاط کی نیت سے غسل واجب ہوگا،اور ساتھ وضوبھی کرناہوگا۔

مسئلہ67:مستحاضہ پر واجب ہے کہ خون کے نکلنےسے حفاظتی اقدام کرئے یعنی شرمگاہ پر زیادہ سی روئی رکھے اور کپڑے سے سخت کرکے باندھے،یعنی جتنا کرسکتی ہو کرئے اور اگر وہ ایساکرنےسے قاصر ہوتو نماز کااعادہ کرئے۔

مسئلہ68:ظاہرہے،مستحاضہ کے روزے کی صحت ،استحاضہ کثیرہ میں دن والے اغسال کے بجالانے پر موقوف ہے ،حتی کہ مغربین کا غسل ،اُس رات میں جو روزے   کےدن سے پہلے احتیاط واجب  کی بناء پر کیاجاتاہے،لیکن اگلی رات کا غسل ، اس کی شرط استحبابی ہے۔

استحاضہ متوسطہ، اس کے روزے کی صحت فجر کے غسل پر احتیاط واجب  کی بناء پر موقوف ہے،جب مستحاضہ کثیرہ غسل کرلے تو اس کاشوہر اس سے مباشرت کر سکتا ہے،مساجد میں داخل ہونا ،سجدے والی سورتوں کاپڑھنا اور قرآن مجید کی کتابت کو مس کرنامستحاضہ کے لیے مطلق طورپرجائزہے،اگرچہ اولی ٰ اور بہتر یہ ہے کہ وہ جونسی  مستحاضہ ہے اپنے وظیفہ کو اداکرنے کےبعد ،ان امور کوانجام دے۔

 

شارك استفتاء

استحاضہ کا خون

استحاضہ کا خون اکثر زرد،ٹھنڈا اور پتلا ہوتاہےجو تیزی کے ساتھ نہیں نکلتاہےاور یہ حیض کے خون کے برعکس ہوتاہے۔

 بسااوقات یہ خون حیض کی صفات والا ہوتاہے،اس میں حیض والی شروط عامہ کاہونا شرط نہیں ہے،اس کی زیادہ و کم کی کوئی حد نہیں ہےاور نہ ہی اس کے افراد کےدرمیان طہر کے لیے کوئی حد ہے،یہ بلوغ سے قبل ،بلوغ کے بعد اور یائسہ ہونے کے بعد بھی آسکتاہے۔

شارك استفتاء

احکام حیض

مسئلہ57:حیض والی عورت پر ،اُن تمام عبادات کاانجام دیناحرام ہے،جس میں طہارت شرط ہے،مثلاً نماز،روزہ،طواف ،اعتکاف۔

اقوی ہےکہ یہ حرمت تشریعیہ ہے، حرمت ذاتیہ نہیں ہے،یہ حرمت مثل شراب کی حرمت کے نہیں ہے،جو مخالفت کی صورت میں گناہ کاموجب بنتی ہے ،اس سے ہماری  مراد اس کی مشروعیت کانہ ہوناہے۔

اُس پر تمام وہ چیزیں حرام ہیں جو جنب والے شخص پر حرام ہوتی ہیں،جیسے قرآن مجید کی کتابت کو مس کرنا،اور سجدہ والی سورتوں کی قرائت کرنا،مسجد نبوی اور مسجد حرام سے گزرنااور دوسری مساجد میں ٹھہرنا،ان کی حرمت ذاتی ہے تشریعی نہیں ہے۔

مسئلہ58:حیض کی حالت میں عورت کی شرمگاہ میں  ،مباشرت کرنااُس پر اور (فاعل)یعنی کرنے والےپر حرام ہے ، بلکہ کہاگیاہےکہ یہ کبیرہ گناہ ہے،بلکہ احتیاط واجب   ہےکہ عضو تناسل کا کچھ حصہ بھی اندر داخل نہ کیاجائے،جسے عرف جماع کہے،وطی فی الدبر(پچھلی طرف میں مباشرت)احتیاط واجب  ہےکہ وطی فی الدبر نہ کی جائے۔

مسئلہ59:حیض والی    ایسی عورت کوطلاق دینا،ظہارکرنا صحیح نہیں ہے،  جس کے ساتھ مباشرت ہوچکی ہو  ،اگرچہ  وطی فی الدبر کی ہوئی ہو،اور حاملہ عورت  کو طلاق دینا درست نہیں ہے، جس کا شوہر حاضر ہو یا  اس کی دسترس میں ہو ۔         

 مسئلہ60:حیض کے ختم ہوجانے کے بعد غسل کرنا واجب ہے، بلکہ ہراُس کام کےلیے جو  حدث اکبرکی صورت میں طہارت کے ساتھ مشروط ہے،یہ مشروع ہے تاکہ طہارت پررہاجائے ،جسے قربت مطلق کی نیت سے انجام دیاجاتاہے،یہ غسل جنابت کی مثل ہے جو ترتیبی اورارتماسی  طریقہ سے انجام دیا جاتاہے،اس کے بعد نماز وغیرہ کےلیےوضو کی ضرورت نہیں ہے۔

 مسئلہ61:ماہ رمضان کے جو روزے حیض کی حالت میں قضاء کیے ہیں ،اُن کو اداکرناواجب ہے،بلکہ وہ نذری روزے جو معین وقت میں رکھنے تھے اوروہ اس وقت  حیض کی حالت میں تھی ،قضاء ہوئےروزوں کو اداکرئے،اُس پر حیض کے دوران قضاء ہونے والی یومیہ نمازوں اور نمازآیات کی قضاء واجب نہیں ہے۔


شارك استفتاء

حیض والی عورت کی اقسام

1۔ عادت وقتیہ عددیہ ۔

2۔عادت وقتیہ فقط۔

3۔عادت عددیہ فقط۔

4۔ناسیہ(جو وقت وعدد دونوں یا ان میں سے فقط کسی ایک کو بھول گئی ہو۔

5۔مبتدئہ(جو بچی پہلی دفعہ خون دیکھےاور اس کی عادت مستقر اور پکی نہ ہو)۔

6۔مضطربہ(جس کی عادت مضطرب ہو)۔

مسئلہ54:مبتدئہ،خون دیکھے جودس دن سے تجاوز کرجائےتو تمیز کی طرف رجوع کرئے یعنی جب جاری  خون کا کچھ  حیض کے خون کی صفات والا ہو اور کچھ میں حیض کے خون کی صفات نہ  ہوں،یااس کاکچھ  سیاہ ہواورکچھ سرخ یا کچھ سرخ اور کچھ زرد ہوتواس پرواجب ہےکہ  جس خون میں حیض والے خون کی صفات موجود ہوں اسے حیض قراردے ،بشرطیکہ تین دن سے کم  اور دس دن سے زیادہ خون نہ ہو۔

مسئلہ54:اگر مبتدئہ ،  صفات کے ذریعہ سےتمیز نہ رکھتی ہو،جن کو ہم نے گزشتہ مسئلہ میں ذکرکیاہے،یعنی وہ تمام صفات سے فاقد ہو یا واجد صفات ،تین دن سے کم یادس دن سے زیادہ خون دیکھے تو اپنی عورتوں کی عددی عادت کی طرف رجوع کرئے۔

مسئلہ 55:مضطربہ،اگر دس دن سے پہلے خون منقطع ہوجائےتو سارے عرصہ کو حیض قراردے،اوراگر دس دن کے بعد بھی خون جاری رہےتو چھ یا سات دنوں کوحیض قراردے اور باقی دنوں کو استحاضہ قراردے،اوراگر خون کے استمرارمیں شک کرئے تو ان دنوں اور دس سے پہلے والےدنوں میں احتیاط کرئے۔

تنبیہ:گزشتہ بحث  سے ظاہر ہوگیاکہ مضطربہ مبتدئہ سے ایک نقطہ میں مختلف ہےاور وہ یہ ہے کہ مضطربہ صفات کے ذریعہ سے تمیز حاصل نہ کرسکتی ہو تووہ عدد کی طرف خود سے  رجوع کرئے،اور مبتدئہ جب تمیز حاصل نہ کرسکتی ہو تووہ اپنی قریبی عورتوں کی طرف رجوع کرئے گی۔

 پس اگر وہ  اس پر بھی قدرت نہ رکھتی ہو تو عدد کی طرف رجوع کرئے۔

مسئلہ 56:جو تمیز نہ رکھتی ہو ،جب اپنی عادت کےعدد کویاد رکھتی ہو اور وقت بھول گئی ہو یا ذاتِ عادت عددیہ ہو ،ذات عادت وقتیہ نہ ہو،اگر حیض کی صفات والاخون تین  یازیادہ دن  دیکھے،جو دس دن سے تجاوز نہ کرئے،   تو ساراحیض ہوگا۔

اور جب دس دن سے تجاوز کرجائے تو جس مقدار میں عادت کااحتمال ہےوہ حیض ہوگااور باقی استحاضہ ہوگا،اور اگر عدد دونوں احتمالوں کےدرمیان متردد ہو تواقل و اکثر  کے درمیان احتیاط  واجب ہوگی،اور احتیاط یہ ہےکہ یہ احتیاط دس دن تک جاری رہے۔

 

شارك استفتاء

استبراء اور استظہار

استبراء:ایسی شناخت کا طلب کرنا جس سے معلوم ہوجائے کہ رحم خون سے خالی اور صاف ہوگئی ہے۔

استظہار: (جوعورت  معین عادت رکھتی ہو،جس کی عادت کازمان دس دن سے کمتر ہو،اُس کاخون زمان عادت سے گزرجائے،اوراسے معلوم نہ ہوکہ خون دس  دن تک جاری رہے گاتاکہ دس دن تک کوحیض قراردے،یادس دن سے زیادہ تک جاری رہے گا،اس صورت میں تنہا مدت عادت ،حیض شمار کی جائے گی،وہ استظہار کرئےگی،یعنی دس دن تک صبر کرئےاور حیض والی عورت کے احکام پر عمل کرئے یہاں تک کہ اس کی حالت روشن ہوجائے، اگر دس دن تک خون بند ہوگیاتو تمام دنوں کو حیض قراردےگی،چنانچہ اگر دس دن سے خون تجاوز کرگیا توعادت کے ایام کوحیض اورباقی کو استحاضہ شمار کرئے گی،مترجم،)۔

حیض کی حالت پر ہونے کی شناخت کا طلب کرنا،جو خون نظر آتے ہی ترک عبادت   یعنی نماز و روزہ (کے ترک ) کو متضمن ہو،یہ عبادت کاترک اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ظاہر نہ ہوجائے کہ یہ حیض ہے یانہیں ،یہ حیض کی شروط عامہ کے پائے جانے کی روشنی میں ہوگا۔

جب دس دن سے پہلے خون حیض منقطع ہوجائےاور احتمال دیاجائے کہ ابھی خون رحم میں باقی ہے تو وہ استبراء کرئےیعنی روئی شرمگاہ کے اندر داخل کرئے،اگر روئی خون سے بھری ہوئی نکلے تو حیض باقی ہوگا اور اگر روئی صاف نکلے تو غسل کرئے اور پاک عورت والے عمل انجام دے،اس صورت میں اس پر استظہار نہیں ہے،یہاں تک کہ اگر اسے خون کی واپسی اور دوبارہ سے آجانے کا گمان ہی کیوں نہ ہو،مگر یہ کہ اگر خون کی واپسی اور دوبارہ سے آجانے کی عادت رکھتی ہو ،اس حیثیت سے کہ  وہ خون کے حصول کاعلم یا اطمینان رکھتی ہو،اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ احتیاطاً غسل کرئے اور نماز اداکرئے ،مگر جب اسے اطمینان ہو کہ اس سارے عرصےکاخون حیض ہے،جیسے مجموع خون دس دن سے کم ہو۔

مسئلہ52:جب عورت  کسی عذر کی وجہ سے یعنی بھولنے یاغفلت کرنے کی وجہ سے ،استبراء کو ترک کردے،اور غسل کرلےاور واقع میں بھی خون ختم ہوگیاہو تواس کاغسل صحیح ہوگا اور اگر بغیر عذر کے استبراء کو ترک کرئے اور غسل کرلے ،اور واقع میں بھی خون ختم ہوگیا ہو تو اس کا غسل صحیح ہوگا ،بشرطیکہ  اس نے صحیح غسل   والی نیت بھی کی ہوئی ہو۔

اگر استبراء کی قدرت نہ رکھتی ہو ،تواقوی یہ ہے کہ حیض پر باقی رہے ،یہاں تک کہ  اسے علم  حاصل ہوجائے یااطمینان حاصل  ہوجائے کہ خون ختم ہو گیا ہے ، بشرطیکہ   خون دس دن سے متجاوز نہ ہواہو،اگرچہ اس کے لیے احتیاط مستحب   ہے کہ ہر (نماز کے) وقت غسل کرئے ،جس میں خون کے ختم ہوجانے کااحتمال ہو ،یہاں تک کہ اسے خون کے ختم ہونے کاعلم حاصل ہوجائے ،اس صورت میں غسل  اور روزے کااعادہ کرئے۔

 

شارك استفتاء

ایک ماہ میں دوخون کے درمیان طُہر کا تخلل

جس خون کو عورت اپنی عادت کے دنوں میں دیکھتی ہے،وہ حیض ہے اگرچہ اس خون میں خون حیض والی صفات نہیں ہوں،اور جس خون کو عورت اپنی عادت کے علاؤہ دوسرے دنوں میں دیکھتی ہےاور اُس میں خون حیض والی صفات موجود نہیں ہوتی ہیں،وہ خون استحاضہ ہوتاہے،بشرطیکہ اسے علم ہوکہ اسے عادت ،عادت ہی کے وقت میں حاصل ہوتی ہے،اگرچہ عادت معجل ہو یاعرفاً متاخر ہو،اور اگر اسے صورت حال کاعلم نہ ہو،اور جان لےکہ یہ خون ماہواری کے حصے کا ہے ،تواسے حیض کاخون قراردے،بغیر صفات کے اعتبار کے اور بغیر ان دونوں قسم کے علم کے، بناء بر  اظہر قول کے، صفات کے مطابق عمل کرئے گی۔

مسئلہ49:جب عورت تین دن خون دیکھےاور وہ خون منقطع ہوجائے،پھر اور تین دن  یااس سے زیادہ خون دیکھے،اگر نقاء(بدون خون کازمانہ)اور دونوں خون دس دن سے زیادہ نہ ہوں،اور دونوں خون اس کی عادت میں ہوں،یا حیض کی صفات کےہوں، تو کل  متخلل نقاء کے ساتھ ،ایک حیض شمار ہوگا،اور اگر مجموع خون دس دن سے تجاوز کرجائےلیکن دونوں کے درمیان اقل طہر کافاصلہ نہ ہو،پس جب دومیں سے ایک عرفاً عادت میں ہو اور دوسراعادت میں نہ ہو،توجوعادت میں ہے وہ حیض ہوگااور دوسرا مطلق طور پرنفاس ہوگا۔

لیکن اگر اُن دونوں میں سے کوئی شے عادت کے ساتھ مصادف نہ ہو ،اگرچہ اس لیے کہ وہ ذات عادت نہیں ہے،اب اگر اُن دوخونوں میں سے ایک میں حیض والی صفات ہوں اور دوسرے میں حیض والی صفات نہ ہو،توجس میں حیض والی صفات ہوں وہ حیض ہوگا اور جس میں حیض والی صفات نہ ہوں وہ استحاضہ ہوگا،جب تک اسے علم نہ ہو کہ یہ استحاضہ ہے اور جب اطمینان ہو کہ خون اُس کی عادت کے قریبی وقت میں آیاہےتواسے خون حیض قراردے گی۔

مسئلہ50:جب دونوں خون میں حیض والی صفات ہوں،یا حیض والی صفات نہ ہوں،اگراسے علم ہوکہ اسے مستقبل میں عادت حاصل ہوگی،تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہوگی،اور اگر اسے علم ہو کہ یہ خون اس کے ماہ کے حصہ سے ہے تو پہلاخون حیض ہوگا اور دوسرے خون کی بابت احتیاط کرئےاور اگر اسے دونوں علم حاصل نہ ہوں تو خون کی صفات کے مطابق عمل کرئےگی،اوراگر دونوں خون میں حیض والی صفات پائی جاتی ہوں تو وہ پہلےخون کے شروع سے دسویں دن کی انتہاء تک  حیض ہی  میں ہوگی،اور دونوں خون میں حیض والی صفات موجود نہ ہوں تو وہ مستحاضہ ہوگی ،اور اولی یہ ہے کہ حائض کے تروک اور مستحاضہ کے اعمال کے درمیان جمع کرئے۔

مسئلہ51:جب دوخون کے درمیان اقل طہر سے زیادہ کا فاصلہ ہو،تو دونوں خون مستقل حیض ہوں گے،جب دونوں خون عادت میں ہوں یا اُن میں  خون حیض والی صفات موجود ہوں یا وہ جانتی ہو کہ یہ خون اس کی ماہواری کاحصہ ہے،اور اس کے بغیر وہ مستحاضہ ہوگی۔

 

شارك استفتاء

ذات عادت

عورتوں کی عادت کی طبعیت مختلف ہوتی ہے،کچھ کی عادت کاعدد ثابت ہوتاہے،مثلاً چھ دن ،لیکن وقت مقرر نہیں ہوتاہے،اسے عادت عددیہ کہتے ہیں،کچھ کی عادت کاوقت مقررہوتاہے ،جیسے قمری ماہ کی پانچ ،لیکن مدت معین نہیں ہوتی ہے ،اسے عادت وقتیہ کہتے ہیں۔

کچھ کی عادت کاعدد اور وقت دونوں معین ہوتے ہیں ،اسے عادت وقتیہ عددیہ کہتے ہیں،عورت خود جانتی ہے کہ وہ کس قسم سے ہےیعنی جب وہ ایک ہی روش سے دو دفعہ خون حیض دیکھتی ہے اور اس عادت کے مطابق ہوتاہے تووہ اسےاپنی عادت بنالیتی ہے،پس اگر دوخون حیض ایک ہی مدت اور تاریخ  میں دیکھے،تو صاحب عادت وقتیہ عددیہ ہے ۔

اوراگردوخون حیض خاص زمانے میں دیکھے،جس کاعدد ایک نہ ہوتوصاحب عادت وقتیہ ہے۔

اور اگر دوخون حیض صرف ایک ہی عدد میں دیکھے تو صاحب عادت عددیہ ہوگی۔

مسئلہ46:ذات عادت وقتیہ خواہ عددیہ ہویانہ ہو،عادت میں یااس سے قبل یااس سے ایک دو دن بعد خون کو دیکھتے ہی خودکو حیض میں قراردے، جس سے عرف میں  تقدم و تاخر صادق نہ آئے،اور خاص کرکے جب ثابت کرلےکہ یہ خون کے مہینہ کاحصہ ہے،پس وہ عبادت کوترک کرئےاور تمام احکام میں حائض والے عمل کوانجام دے،اگرچہ خون ،حیض والی صفت کانہ ہو،لیکن جب منکشف ہوجائے کہ یہ خون حیض نہیں ہےکیونکہ وہ تین دن سے پہلے منقطع ہوگیاہے،تواس صورت میں نماز کی قضاء واجب ہوگی۔

مسئلہ47:جو ذات عادت وقتیہ نہ ہو،خواہ صرف ذات عادت عددیہ ہویااصلاًذات عادت نہ ہو،جیسے مبتدئہ ،خون دیکھتے ہی خود کو حیض میں قرار دے ،بشرطیکہ خون میں تمام صفات موجود ہوں ،مثل حرارت ،سرخی،اچھل کر تیزی سے نکلنااور اگر اس میں حیض والی صفات موجود نہ ہوں،توتین دن کے بعد خود کو حیض میں قراردے،اور تین دنوں کے دوران احتیاط کوترک نہ کرئےیعنی تروک حائض اور افعال مستحاضہ کے درمیان جمع کرئے،بہرحال جب تین دن سے پہلے خون منقطع ہوجائے تو حیض نہیں ہوگا۔

مسئلہ48:جب خون عادت وقتیہ سے مقدم یااس سے زیادہ مقدار میں مؤخر ہوجائےتواس کاوقوع متعارف نہیں ہوگا،جیسے دس دن،پس اگر خون جامع صفات ہو یاوہ عورت جان لےکہ یہ خون کے مہینہ کا حصہ ہےتو حیض میں ہوگی ،اگر ایسانہ ہوتو اس پر مستحاضہ کا حکم جاری ہوگا،اس کے لیے احتیاط یہ ہےکہ تروک حیض اور افعال مستحاضہ کے درمیان جمع کرئے۔

 

شارك استفتاء

حیض کی شرائط عامہ کاخلاصہ:

چار شرائط ہیں:

1۔عورت نوسال قمری مکمل کر چکی ہو،اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کی نہ ہو۔

2۔خون تین دن مسلسل جاری رہے۔

3۔خون دس دن سے تجاوز نہ کرئے۔

4۔دوحیض کے درمیان طُہر کاعرصہ دس دن سے کم نہ ہو۔

شارك استفتاء

خون حیض کی کم مدت اور زیادہ مدت

خون حیض کم ازکم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن آتاہے،دن سے مراد طلوع فجر سے لے کر  غروب آفتاب تک ہے،اگر خون رات کے وقت شروع ہوتو وہ وقت تین دن میں شمار نہیں ہوگا،یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجائے،اسے پہلی رات کا نام دیاجاتاہے،خون کا شرمگاہ کے اندر ہوناہی کافی ہے،جیسے پہلی دفعہ خارج ہواتھا ، متوسط دوراتیں حساب میں شامل ہوں گی۔

 شرط ہے کہ ان ایام میں خون منقطع نہ ہو،سوائے تھوڑی مدت کےلیےجو عورتوں کے ہاں متعارف ہے،تین دنوں میں سے ہرایک کے بعض حصے میں خون کاوجود کافی نہیں ہے،اگر خون پہلے دن کے وسط میں دیکھے تو شرط ہےکہ وہ چوتھے دن وسط تک جاری رہے۔

خون حیض زیادہ سے زیادہ دس دن آتاہے،اگر خون حیض دس دن سے تجاوز کرجائے تو زائد خون حیض نہیں ہوگا۔

اقل طہر،یہ ایسی حالت ہےجس میں عورت اصلاً خون سے خالی ہوتی ہےیااس میں خون استحاضہ موجود ہوتاہے۔

دو حیض کے درمیان اقل طہر دس دن ہے  ،ایک حیض سے دوخونوں کے درمیان پیداہونے والی صفائی ،اس سے بھی کم ہوسکتی ہے،

 

1 2
المجموع: 12 | عرض: 1 - 10

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف