استبراء اور استظہار

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

استبراء اور استظہار

استبراء:ایسی شناخت کا طلب کرنا جس سے معلوم ہوجائے کہ رحم خون سے خالی اور صاف ہوگئی ہے۔

استظہار: (جوعورت  معین عادت رکھتی ہو،جس کی عادت کازمان دس دن سے کمتر ہو،اُس کاخون زمان عادت سے گزرجائے،اوراسے معلوم نہ ہوکہ خون دس  دن تک جاری رہے گاتاکہ دس دن تک کوحیض قراردے،یادس دن سے زیادہ تک جاری رہے گا،اس صورت میں تنہا مدت عادت ،حیض شمار کی جائے گی،وہ استظہار کرئےگی،یعنی دس دن تک صبر کرئےاور حیض والی عورت کے احکام پر عمل کرئے یہاں تک کہ اس کی حالت روشن ہوجائے، اگر دس دن تک خون بند ہوگیاتو تمام دنوں کو حیض قراردےگی،چنانچہ اگر دس دن سے خون تجاوز کرگیا توعادت کے ایام کوحیض اورباقی کو استحاضہ شمار کرئے گی،مترجم،)۔

حیض کی حالت پر ہونے کی شناخت کا طلب کرنا،جو خون نظر آتے ہی ترک عبادت   یعنی نماز و روزہ (کے ترک ) کو متضمن ہو،یہ عبادت کاترک اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ظاہر نہ ہوجائے کہ یہ حیض ہے یانہیں ،یہ حیض کی شروط عامہ کے پائے جانے کی روشنی میں ہوگا۔

جب دس دن سے پہلے خون حیض منقطع ہوجائےاور احتمال دیاجائے کہ ابھی خون رحم میں باقی ہے تو وہ استبراء کرئےیعنی روئی شرمگاہ کے اندر داخل کرئے،اگر روئی خون سے بھری ہوئی نکلے تو حیض باقی ہوگا اور اگر روئی صاف نکلے تو غسل کرئے اور پاک عورت والے عمل انجام دے،اس صورت میں اس پر استظہار نہیں ہے،یہاں تک کہ اگر اسے خون کی واپسی اور دوبارہ سے آجانے کا گمان ہی کیوں نہ ہو،مگر یہ کہ اگر خون کی واپسی اور دوبارہ سے آجانے کی عادت رکھتی ہو ،اس حیثیت سے کہ  وہ خون کے حصول کاعلم یا اطمینان رکھتی ہو،اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ احتیاطاً غسل کرئے اور نماز اداکرئے ،مگر جب اسے اطمینان ہو کہ اس سارے عرصےکاخون حیض ہے،جیسے مجموع خون دس دن سے کم ہو۔

مسئلہ52:جب عورت  کسی عذر کی وجہ سے یعنی بھولنے یاغفلت کرنے کی وجہ سے ،استبراء کو ترک کردے،اور غسل کرلےاور واقع میں بھی خون ختم ہوگیاہو تواس کاغسل صحیح ہوگا اور اگر بغیر عذر کے استبراء کو ترک کرئے اور غسل کرلے ،اور واقع میں بھی خون ختم ہوگیا ہو تو اس کا غسل صحیح ہوگا ،بشرطیکہ  اس نے صحیح غسل   والی نیت بھی کی ہوئی ہو۔

اگر استبراء کی قدرت نہ رکھتی ہو ،تواقوی یہ ہے کہ حیض پر باقی رہے ،یہاں تک کہ  اسے علم  حاصل ہوجائے یااطمینان حاصل  ہوجائے کہ خون ختم ہو گیا ہے ، بشرطیکہ   خون دس دن سے متجاوز نہ ہواہو،اگرچہ اس کے لیے احتیاط مستحب   ہے کہ ہر (نماز کے) وقت غسل کرئے ،جس میں خون کے ختم ہوجانے کااحتمال ہو ،یہاں تک کہ اسے خون کے ختم ہونے کاعلم حاصل ہوجائے ،اس صورت میں غسل  اور روزے کااعادہ کرئے۔