شارك استفتاء
تیمم کے احکام
مسئلہ125:جب اثنائے عمل میں پانی مل جائےجو طہارت پرموقوف ہو ،جیسے نماز تو اس کاعمل باطل ہوجاتاہے،بنابراس کے پانی سے وضویاغسل کرکے نماز کا وقت ہوتو اسے پڑھے ،اوراگرنماز کاوقت تنگ ہوتو تیمم والی نماز کوجاری رکھے اور مکمل کرئے۔
مسئلہ126:حدث اکبر والا شخص غسل کے بدلے میں تیمم کرتاہےاور یہ مطلق طور پر وضوسے مجزی وکافی رہتاہےجیسے اس نےخود غسل کرلیاہے۔
پس اگر اسے حدث اصغر ہوجائے اور وہ وضوکرنے سے معذور ہو توتیمم کیا جائے اور اگر معذور نہ ہوتووضوکیاجائے،غسل کےبدل میں کیاہواتیمم باطل نہیں ہوتا مگر حدث اکبر سے باطل ہوجاتاہے۔
مسئلہ127:تیمم،ہراُس عمل کےلیےمشروع ہے ،جس کے بجالانےمیں طہارت شرط ہے،واجبات و مستحبات سے،نماز وغیرہ سے۔
مسئلہ128:تیمم پانی پرقدرت حاصل ہونے سے ٹوٹ جاتاہے،جب کافی وقت میں کافی پانی مل جائے توتیمم باطل ہوجاتا ہے تاکہ پانی سے طہارت انجام دے ،بشرطیکہ پانی کے استعمال سے مانع موجودنہ ہو۔
شارك استفتاء
تیمم میں معتبر امور
تیمم میں شرط ہے،قربت کی نیت اور اخلاص جس کے ساتھ بناء بر اظہرقول کے ، زمین پر ہاتھ مارنا ،ملاہواہو۔
مسئلہ122:تیمم میں شرط ہے،خود کرئےاور موالات رکھے،یہاں تک کہ اُس میں بھی جو غسل کے بدلے میں ہو،اس میں ترتیب بھی شرط ہے۔
مسئلہ123:جب تیمم کرنے والا ترتیب کی مخالفت کرئے،اور موالات فوت ہوجائےتوتیمم باطل ہوجاتاہےاگرچہ مخالفت نادانی یا فراموشی کی وجہ سے ہو اور اگر موالات فوت نہ ہو اور اس طرح اعادہ کرئےجس سے ترتیب حاصل ہوجائےتو تیمم صحیح ہوگا۔
مسئلہ124:اگر ہاتھ میں انگوٹھی وغیرہ ہو تو اسے تیمم کرتے وقت اتار دینا واجب ہے کیونکہ یہ مسح کرتے وقت مسح میں مانع ہوجاتی ہے۔
شارك استفتاء
تیمم کاطریقہ
دونوں ہاتھوں کی باطنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارے،اور احتیاط واجب کی بناپر اسے ایک ہی دفعہ مارے،یعنی اگر متعدد بار ہاتھ زمین پر مارے گاتو احتیاط کی بناء پر تیمم باطل ہوجائے گا،پھر دونوں ہتھیلیوں سے ساری پیشانی کا مسح کرئے،پیشانی بالوں کےاگنے سے پٹپٹی تک ہےاور وہاں سے ہتھیلیوں کوکھینچ کر ناک کی نوک تک لےآئے،احوط ہےکہ پٹپٹیوں کو بھی مسح کرئے،پھر دائیں ہاتھ کے سارے ظاہری حصے کوکلائی سے انگلیوں کے سروں تک بائیں ہاتھ کے باطن سے مسح کرئے، پھر بائیں ہاتھ کےسارے ظاہری حصے کوکلائی سے انگلیوں کے سروں تک دائیں ہاتھ کے باطن سے مسح کرئے ۔
مسئلہ118:دونوں ہتھیلیوں میں سے ہرایک کے تمام حصے سے مسح کرنا واجب نہیں ہے،بلکہ بعض سےہی کافی ہےجس سے پیشانی اور پٹپٹیوں کومسح شامل ہو جائے ،یہاں مہم مسح والی جگہ ہے ،مسح کرنے والانہیں ہے۔
مسئلہ119:مسح کرنےوالےمیں ،ہتھیلی کے باطن اور انگلیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے،خواہ مسح کیے جانے والی جگہ چہرہ ہو یا ہاتھ ہو۔
مسئلہ120:پیشانی سے مراد ،چہرےکااوپروالاحصہ ہے اور پٹپٹی سے مراد قلموں کی بالوں کے اگنے کی طرف والی جگہ ہے۔
مسئلہ121:دونوں ہاتھوں کوزمین پر رکھنا جس سے ان کازمین پر مارنا صادق نہ آئے،درست نہیں ہے،اور دوہاتھوں میں سے ایک کازمین پر مارنا بھی درست نہیں ہے،دونوں ہاتھوں کایکےبعد دیگرے زمین پرمارنا درست نہیں ہے،جزئیت کی نیت سے ہاتھوں کو باربار زمین پر مارنابھی درست نہیں ہے۔
ہاں! اگر ایسانادانی یا فراموشی کی وجہ سے ہوجائےتوکوئی حرج نہیں ہے،دونوں ہاتھوں کے ظاہر کوزمین پرمارنادرست نہیں ہے،دونوں ہاتھوں کے معتدبہ حصہ کوترک کرکے بعض حصہ کےباطن کو زمین پر مارنادرست نہیں ہےاگرچہ ایک انگلی کے برابر ہی کیوں نہ ہو،دو ہتھیلیوں میں سے ایک کامسح کرنا اور دوسرے کو چہرے اور ہاتھوں کےلیےترک کرنادرست نہیں ہے،اور نہ ہی چہرے کو آگے پیچھےکرکے دونوں ہاتھوں سے مسح کرنادرست ہے۔
شارك استفتاء
جن چیزوں سے تیمم کیا جاسکتاہے
اقوی ہےکہ،تیمم ہر اس شے سے جائز ہے،جسے زمین کانام دیاجائے،خواہ مٹی ہویا ریت ہویالیپی ہوئی مٹی ہویا سنگریزہ ہویاریگستانی پتھرہو۔
یہی حکم چونہ اور نورہ کاہے ،اسے جلانے سے قبل ،اس سے تیمم ہوسکتاہے، اورکسی معلق اورلٹکی ہوئی شےپر ہاتھ پھیر کر تیمم کرنے کاکوئی اعتبار نہیں ہے۔
احتیاط مستحب ہےکہ امکان کی صورت میں مٹی پرہی اقتصار کیاجائے۔
مسئلہ114:جس پر زمین کانام صادق نہیں آتاہے اُس پرتیمم کرناجائز نہیں ہے،اگرچہ اُس کی اصل زمین ہی سے ہو،جیسے خاکستر،نبات،معدنیات ،سونا،چاندی اور اس طرح کی دوسری چیزیں،جن کو زمین نہیں کہا جاتاہے۔
اسی طرح متبرک نگین جیسے عقیق ،فیروزہ بلکہ ہرقسم کی معدنیات ،یہاں تک کہ نمک اور تیل ،اگرچہ اب جامد ہوگئے ہوں ،جیسے تارکول ،اسی طرح بنابر احتیاط کےجلائے جانے کے بعد ٹھیکری و چونہ اور نورہ سے بھی تیمم نہ کیاجائے۔
یہ سب حالت اختیار کے ساتھ مربوط ہے،لیکن اگر منحصر ہوجائے کہ ان چیزوں میں سے کسی ایک سے تیمم کیا جائے تو اس سے تیمم کرناضروری ہے،اوراگر اُس کے علاؤہ کوئی اور شے مل جائےاور ابھی نماز کاوقت ہوتو پھر سے نمازاداکرئے اور اگر نماز کاوقت گزر ہوگیاہو تو دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ،اگرچہ احتیاطاً نماز پڑھ لے۔
مسئلہ115:نجس اور غصبی زمین پر تیمم کرناجائز نہیں ہے، مگر جہالت یا فراموشی کی صورت میں وہ شخص غصبی زمین میں تیمم کرسکتاہے جسے اس نے غصب نہیں کیاہے،جس زمین میں اتنی ملاوٹ ہوگئی ہو جس سے وہ زمین کے نام سے خارج ہوجائے ،اس پربھی تیمم کرناجائز نہیں ہے۔
مسئلہ116:جب کوئی شخص غبار سے تیمم کرنے سے عاجز ہو تو گل سے تیمم کرئے۔
اور جب کیچڑ کو خشک کیاجاسکتاہو ،اگرچہ اس کی تھوڑی سی مقدار کو ہی خشک کرسکتاہو اور اس کے لیے وقت وسیع ہو جس میں تیمم کرکے نماز ادا کرئے تو اسے خشک کرکےتیمم کے بعد نماز ادا کرئے
مسئلہ117:جب کوئی شخص زمین ،غبار،گل پر تیمم کرنے سے عاجز ہوتو اس کے پاس طہور نہیں ہوگا ،لیکن بناء بر اقوی قول کے اس پر وقت میں نماز پڑھنا متعین ہے ،اور طہور کے میسر ہونے پر اس پر نماز کی قضاء بجالانا واجب ہوگی۔
شارك استفتاء
تیمم کےجوازکادوسرا سبب ۔
مکلف کےپاس پانی ہولیکن وہ پانی کے استعمال کی قدرت نہ رکھتا ہو، اور یہ درج ذیل حالتوں میں سے ایک حالت کے ضمن میں متحقق ہوتاہے:
حالت اول۔پانی کے استعمال سے ضرر کاخوف ہو،بیمار ہوجائےگا،یابیماری بڑھ جائےگی،یابیماری لمبی ہوجائے گی،یاجان اور بدن پر مرض کاخوف ہو،یہی حکم شدید سردی کاہے جو پانی کے استعمال سے مانع ہو۔
حالت دوم۔اپنی جان پر یا کسی دوسرے کی جان پر پیاس کاخوف ہو ،جس کی حفاظت کرنااس پر واجب ہے،یا جانور کی جان پر پیاس کاخوف ہو ،جس کی حفاظت اور اہتمام کرنا مکلف کی ذمہ داری ہے۔
حالت سوم۔اس کا بدن یالباس نجس ہو ،اوراس کے پاس اتناپانی ہوجس سے وہ نجاست کودور کرسکتاہویا وضو کرسکتاہو۔
حالت چہارم۔نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ وہ وضوکرکے نماز ادانہیں کرسکتا،اس صورت میں وہ تیمم کرکے پوری نماز وقت میں اداکرئے۔
حالت پنجم۔وہ شخص کسی دوسرے واجب کامکلف ہو، جو اہم ہے اوراس میں پانی کا صرف کرنا معین ہو ،کیونکہ پانی کے علاؤہ کوئی اورشے اس اہم واجب کی قائم مقام نہیں بن سکتی،مثل مسجد نجس ہے اور اسے پاک پانی ہی سے کیا جاسکتاہے۔
مسئلہ113:جب مکلف عمداً مخالفت کرکے ایسے مورد میں وضو کرلے،جس میں وضوکرنا حرجی ہو ،جیسے شدید سردی میں وضو کرئے تواس کاوضوصحیح ہوگا،اور اگر ایسے مورد میں وضو کرئے جس میں وضو کرنا حرام ہو تواس کاوضو باطل ہوگا،جیسے اس کا ضرر بہت زیادہ ہو اوریہ وہ ضرر ہے جس میں مکلف کے لیے حرام ہے کہ خود کو اس ضرر میں ڈالے۔
شارك استفتاء
تیمم کےجوازکاپہلا سبب ۔
پانی کاموجود نہ ہونا،جس سے وضویاغسل کیاجاسکتاہو ،یاجو ان دونوں میں استعمال کی صلاحیت رکھتاہو،اور یہ درج ذیل حالتوں میں سے ایک حالت کے ضمن میں متحقق ہوتاہے:
حالت اول۔مکلف اپنے گھر میں پانی نہ پائےاور نہ ہی کسی دوسرے مقام میں پانی پائے جو اس کی پہنچ میں ہو ۔
حالت دوم۔اس علاقے کے بعض نقاط میں پانی موجود ہولیکن اس تک پہنچنے میں شدید مشقت اور حرج کاسامناکرناپڑے۔
حالت سوم۔اس کے علاقے میں پانی موجود ہو،لیکن وہ کسی اور کی ملکیت ہو،جو اس میں تصرف کااذن نہ دیتاہو،مگر وہ پانی کی قیمت مانگتاہو جس کاادا کرنا بندے کے بس میں نہیں ہو،یااس پانی تک پہنچنے میں حرام کاارتکاب ہوتاہو۔
مسئلہ108:زمین کی وہ مساحت ،جس میں مکلف پر پانی کاتلاش کرنا واجب ہے،شرعاً طول وعرض میں معین حدود نہیں رکھتی ہے ،پانی کی تلاش کے وجوب میں مساحت کی کمی و بیشی کےلحاظ سے معیار،یہ ہے کہ اس سے عسروحرج یا جسمانی ضرر و خطر لازم نہ آئے۔
مسئلہ109:جب کوئی شخص پانی تلاش کیے بغیر اس امید پر کہ پانی ملنے والا نہیں ہے تیمم کرلے اور حقیقت میں بھی پانی نہ ملے تو اس کا تیمم صحیح ہوگا ۔
مسئلہ110:جب مکلف کو علم ہویااسے اطمینان ہو کہ حد مذکور سے خارج میں پانی موجود ہے ،تواس پر کوشش کرناواجب ہے ،اگرچہ دور ہی کیوں نہ ہو،مگریہ کہ اس کے لیے کوشش کرنا حرج کاباعث ہویا اس میں بہت زیادہ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔
مسئلہ111:پانی موجود نہ ہو اور نماز کاوقت تنگ ہو توپانی کی تلاش کاوجوب ساقط ہوجاتاہے،اور اگر اسے اپنی جان یامال کی بابت خوف ہو،چوری یادرندے وغیرہ کاڈر ہو،تو اس سے پانی کی تلاش ساقط ہوجاتی ہے، اگرپانی کی تلاش میں ناقابل برداشت مشقت اور حرج ہوتو اس پر پانی کی تلاش کرنا ساقط ہے۔
مسئلہ112:جب مکلف پانی تلاش کرئے اور اسے میسر نہ ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لے ،پھر معلوم ہوجائے کہ جہاں پانی تلاش کرتارہاہوں وہاں پانی موجود تھا تو اس صورت میں وقت ہوتو نماز کااعادہ کرنا واجب ہے۔
ہاں،نماز کاوقت گزر گیاہوتو اس پرقضاء بجالانا واجب نہیں ہے۔
شارك استفتاء
تیمم
جن امور کی بناپر تیمم کرناجائز ہے
اسے اصطلاح میں مسوغات تیمم کہتے ہیں،یعنی جن وجوہ کی بناء پر تیمم کرنا جائز ہےاور مسوغات تیمم دوچیزیں ہیں: