جن چیزوں سے تیمم کیا جاسکتاہے
جن چیزوں سے تیمم کیا جاسکتاہے
اقوی ہےکہ،تیمم ہر اس شے سے جائز ہے،جسے زمین کانام دیاجائے،خواہ مٹی ہویا ریت ہویالیپی ہوئی مٹی ہویا سنگریزہ ہویاریگستانی پتھرہو۔
یہی حکم چونہ اور نورہ کاہے ،اسے جلانے سے قبل ،اس سے تیمم ہوسکتاہے، اورکسی معلق اورلٹکی ہوئی شےپر ہاتھ پھیر کر تیمم کرنے کاکوئی اعتبار نہیں ہے۔
احتیاط مستحب ہےکہ امکان کی صورت میں مٹی پرہی اقتصار کیاجائے۔
مسئلہ114:جس پر زمین کانام صادق نہیں آتاہے اُس پرتیمم کرناجائز نہیں ہے،اگرچہ اُس کی اصل زمین ہی سے ہو،جیسے خاکستر،نبات،معدنیات ،سونا،چاندی اور اس طرح کی دوسری چیزیں،جن کو زمین نہیں کہا جاتاہے۔
اسی طرح متبرک نگین جیسے عقیق ،فیروزہ بلکہ ہرقسم کی معدنیات ،یہاں تک کہ نمک اور تیل ،اگرچہ اب جامد ہوگئے ہوں ،جیسے تارکول ،اسی طرح بنابر احتیاط کےجلائے جانے کے بعد ٹھیکری و چونہ اور نورہ سے بھی تیمم نہ کیاجائے۔
یہ سب حالت اختیار کے ساتھ مربوط ہے،لیکن اگر منحصر ہوجائے کہ ان چیزوں میں سے کسی ایک سے تیمم کیا جائے تو اس سے تیمم کرناضروری ہے،اوراگر اُس کے علاؤہ کوئی اور شے مل جائےاور ابھی نماز کاوقت ہوتو پھر سے نمازاداکرئے اور اگر نماز کاوقت گزر ہوگیاہو تو دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ،اگرچہ احتیاطاً نماز پڑھ لے۔
مسئلہ115:نجس اور غصبی زمین پر تیمم کرناجائز نہیں ہے، مگر جہالت یا فراموشی کی صورت میں وہ شخص غصبی زمین میں تیمم کرسکتاہے جسے اس نے غصب نہیں کیاہے،جس زمین میں اتنی ملاوٹ ہوگئی ہو جس سے وہ زمین کے نام سے خارج ہوجائے ،اس پربھی تیمم کرناجائز نہیں ہے۔
مسئلہ116:جب کوئی شخص غبار سے تیمم کرنے سے عاجز ہو تو گل سے تیمم کرئے۔
اور جب کیچڑ کو خشک کیاجاسکتاہو ،اگرچہ اس کی تھوڑی سی مقدار کو ہی خشک کرسکتاہو اور اس کے لیے وقت وسیع ہو جس میں تیمم کرکے نماز ادا کرئے تو اسے خشک کرکےتیمم کے بعد نماز ادا کرئے
مسئلہ117:جب کوئی شخص زمین ،غبار،گل پر تیمم کرنے سے عاجز ہوتو اس کے پاس طہور نہیں ہوگا ،لیکن بناء بر اقوی قول کے اس پر وقت میں نماز پڑھنا متعین ہے ،اور طہور کے میسر ہونے پر اس پر نماز کی قضاء بجالانا واجب ہوگی۔