اساسى | | رسالہ عمليہ | باب طہارت
باب طہارت

شارك استفتاء

 استبراء

استبراء کی کیفیت میں مہم یہ ہے کہ اس کے نتیجہ کی تحقیق ہو جاتی ہے یعنی پتہ چل جاتاہے کہ پیشاب کی نالی میں  پیشاب باقی نہیں بچا ہے ،لیکن اسے اس کی کیفیت سے بجالانا افضل ہے ،روایات میں   اسے نو  دفعہ کھینچنے کا نام دیا گیاہے۔

 سب سے پہلے تین مرتبہ مقعد سے عضو کی جڑ تک دباکر کھینچیں ،پھر تین مرتبہ عضو کی جڑ سےعضو تناسل کے سر تک نیچے سے بڑی انگلی سے دباکر کھینچیں،پھر تین مرتبہ عضو تناسل کے سر کو جھٹکا دیں یااسے نچوڑیں۔

مسئلہ 20:استبراء کافائدہ:

 اس کے بعد نکلنے والی تری کو پاک قراردیاجاتاہے،جب احتمال دیاجائےکہ کہیں یہ پیشاب کی تری تو نہیں ہے ،اگرچہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو،اس کے ظاہر ہونے کے بعد وضو کرنابھی واجب نہیں ہے،اگر استبراء سے پہلے پیشاب جیسی تری نکلےتو اسے پیشاب  ہی قراردیاجائے گا،پس اس صورت میں اسے پاک کرنااور وضوکرناواجب ہے ،اگرچہ اس نے اسے اس لیے ترک کیاتھاکہ وہ اس کے کرنے کی قدرت نہیں رکھتاتھا،اس کافائدہ  یہ ہے کہ اسے معلوم ہوجائےگا یا اطمینان پیداہوجائےگاکہ اب   پیشاب کی نالیوں  میں تری باقی نہیں  رہی ہے۔

مسئلہ21: عورتوں کے لیے استبراء  نہیں ہے،وہ مشتبہ تری جو عورتوں سے خارج ہوتی ہے ،پاک ہے،اُس کی وجہ سے وضو واجب نہیں ہوتا ہے،بہتر  یہ ہے کہ وہ صبر کرئے اور کھانسے اور چوڑائی میں شرمگاہ کو نچوڑے۔

 

شارك استفتاء

بیت الخلاء کے احکام

پیشاب و پاخانہ کے واجبات

پیشاب و پاخانہ کی حالت میں درج ذیل امور کا خیال رکھناواجب ہے:

اول۔شرمگاہ کاچھپانا واجب ہے،اس سے اس باب میں مراد (آگے ،پیچھے  کی شرمگاہ اور  ان کے درمیان کا حصہ اور خصیتین)ہے،اسے ہر اُس  دیکھنےوالےشخص سے  چھپائیں جو اچھے برے کی تمیز رکھتاہو ،سوائے اس کے جس کے ساتھ جنسی فائدہ اٹھاناحلال ہے جیسے میاں،بیوی یہ ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ سکتے ہیں۔

دوم۔قبلہ رخ اور قبلہ پشت ہوکر بیٹھنا اور پیشاب و پاخانہ کرنا حرام ہے،اگرچہ شرمگاہ دوسری طرف پھیری ہوئی ہو،اسی طرح رخ اور پشت تو قبلہ کی سمت نہ ہو لیکن شرمگاہ قبلہ کی سمت ہوتو بھی حرام ہے،یہ حالت استبراء اور استنجاء کے وقت جائزہےاگر رخ اور پشت میں سے کسی ایک کی طرف ہونے کی مجبوری ہو تو مکلف کو اختیار ہے  رخ یاپشت میں سے جسے چاہے قبلہ کی سمت قرار دے سکتاہے،بہتر یہ ہے کہ  اس  مجبوری کی حالت میں قبلہ کی سمت رخ نہ کرئے۔

مسئلہ19:کسی دوسرے کی ملکیت میں اُس کی اجازت کے بغیر پیشاب و پاخانہ کرنا جائز نہیں ہے ،لیکن اگر معلوم ہوکہ اس جگہ کامالک راضی ہے ،ناراض نہیں ہوگاتو ایسی جگہ پر پیشاب و پاخانہ کرناجائز ہے۔

پیشاب و پاخانہ کے مقام کا پاک کرنا

پیشاب والے مقام کو قلیل پانی  سے جو جاری نہ ہو، دو مرتبہ دھونا واجب ہے، بہتر یہ ہےکہ اتنا دھوئے جس سے عین نجاست دور ہوجائے،البتہ جاری اور کثیر پانی سے ایک مرتبہ دھوناہی کافی ہے،اسی طرح ضروری ہے کہ  اس پر پانی کواوپر سے ڈالاجائے ،جس سے عرف کہے کہ اسے دھودیاہے۔

پاخانہ والے مقام کا پاک کرنا،اگر پاخانہ نکلنے والے مقام سے پاخانہ باہر دائیں ،بائیں تجاوز کرجائے تو اسے پانی ہی سے دھونا واجب ہے،جیسے دوسری نجس چیزوں کو پانی ہی سے دھوکر پاک کیاجاتاہے ۔

اور اگر پاخانہ نکلنے والے مقام سے پاخانہ باہر دائیں ،بائیں تجاوز نہیں  کرئے تو مکلف کواختیار ہے اسے پانی سے دھوئے یہاں تک کہ  وہ جگہ صاف ہوجائےیااسے پتھر اور ڈھیلے سے صاف کرئے یاایسی شے سے صاف کرئے جس سے نجاست ختم ہوجائے جیسے ٹیشو پیپر ۔

البتہ پانی سے دھونا افضل ہے اور جمع اکمل ہے (یعنی پتھراور پانی دونوں سے صاف کرئے)البتہ پہلے نجاست صاف کرنے والی شے سے صاف کرلے۔

 

شارك استفتاء

پانی کی اقسام اور اس کے احکام

پانی کی دوقسمیں ہیں:

اول۔مطلق پانی،جو  پانی طبیعی ہو اور نہروں ،دریااور پائپ وغیرہ میں موجود ہو۔

دوم۔مضاف پانی،جیسے انار کاپانی اور گلاب کاپانی،اس پر پانی کے نام کا مجازی طور پر اطلاق ہوتاہے،کیونکہ یہ حقیقۃً پانی نہیں ہوتاہے،اس لیے کہ اسے دوسری شے کے  ساتھ نسبت دے کر  ذکر کیا جاتاہے جیسے   گلاب کاپانی۔

مطلق پانی

مطلق پانی کےلیے مادہ نہیں ہوتاہے،یعنی یہ  مصدر کے ساتھ متصل نہیں ہوتا ہے جواس سے لی گئی مقدار کواستمرار سے معین کرئے،یااس کے لیے مادہ ہوتاہے مثلاً برتن جس میں کچھ مقدار پانی ہو ،گاہے  اس حیثیت سے  پائپ سے پانی جاری ہوتاہے ،جو پانی اس سے لیاجائے گا اُس کا بدل ساتھ ہی آجائے گا ،یا کنواں ہوجس سے سیراب ہواجاتا ہےاور وہ اپنی طبیعی سطح پر آجاتاہے،یازمین سے پھوٹنے والاچشمہ ہو،یہ مادہ کے ساتھ متصل ہوتاہے۔

اول۔یعنی جو مادہ کے ساتھ متصل نہ ہو،یہ گاہے قلیل ہوتاہے یعنی جو شرعاً محدود مقدار تک نہ پہنچے،کہ اسے کُرکہاجاسکے ،پس ایسے پانی کو قلیل پانی کہتے ہیں،اور گاہے پانی کثیر ہوتاہےیعنی جو اس مقدار تک پہنچ جائے اسے کثیر پانی کہتے ہیں،ان میں سے ہر ایک کےمخصوص  احکام ہیں،مادہ کے ساتھ متصل ہو تواسے کثیر پانی کہتے ہیں ۔

 جاری پانی کو آب معتصم کہتے ہیں،(یعنی جو پانی نجاست کی ملاقات سے نجس نہیں ہوتاہےمگر یہ کہ اس کا رنگ یا بویاذوائقہ تبدیل ہوجائے  )اور اس کے غیر کو آب غیر معتصم کہتے ہیں،یعنی جو پانی نجاست کی ملاقات سے نجس ہوجاتاہے۔

1۔ قلیل پانی،جس کی مقدار کُر پانی تک نہ پہنچےاور مادہ کے ساتھ متصل نہ ہو،یہ پانی نجاست کی ملاقات سے نجس ہوجاتاہےاگر اس کی کسی ایک طرف میں نجاست گرےخواہ وہ عین نجاست ہو یاکوئی متنجس شے ہو۔

مسئلہ9:قلیل نجس شدہ پانی دو طریقہ سے پاک ہوسکتاہے:

ایک۔ اس کے ساتھ پاک پانی کو متصل کیا جائےجیسے اس پر پائپ کو کھولا جائے

دوم۔اس کے ساتھ ٹینکی کا کُربھر یااس سے زائدپانی وصل کیاجائے ،جس طرح بارش کے پانی کے اتنے قطرے گریں جن کی پرواہ کی جاسکتی ہو ،صرف چند قطرے نہیں ہونے چاہیے۔

2۔جاری پانی،اس کے متعدد مصداق ہیں،جیسےپرنالے کاپانی،جو بارش کی وجہ سے چھت سے گرتا ہے،یا چشمے کا پانی جو زمین پر بہتاہے،یا پائپ سے نکلنے والا پانی جو زمین پر بہہ رہا ہوتاہے،یہ سب ایسے پانی ہیں جو اُس وقت تک نجس نہیں ہوتے جب تک اس پانی کا رنگ یا بو یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے تبدیل نہ ہوجائے،یہ مادہ کے ساتھ متصل ہوتاہے۔

ہماری کلام قلیل پانی کے بارے میں ہےخواہ اوپر سے نیچے آئے جیسے جگ سے پانی کاگرانا،یا نیچے سے اوپر جائے جیسےوہ پانی جو فوارہ وغیرہ سے نکلتاہے،دونوں فرض کے مطابق ، نجاست کی ملاقات سے اس  پانی کا محل ملاقات ہی نجس ہوتاہے،اس سے متصل عمود نجس نہیں ہوتاہے،یعنی  قلیل پانی کا حکم فقط عین نجاست سے ملنے والی جزء پر منطبق  ہوتاہے۔

مسئلہ10:جاری ہونا ایسی حالت ہے جس کا عرف حکم لگاتی ہے،اس میں شرط ہے کہ تیزی سے جاری ہو اور مقدار کے مطابق ہو۔

مسئلہ 11:پائپ اور ٹینکی کاپانی جاری پانی کےحکم میں  ہوتاہے ،جب تک مرکز کے ساتھ متصل ہو ،پس اگر اس کاجریان کٹ جائے تو قلیل پانی سےشمار  ہوگا۔

کثیر پانی،جس کی مقدار کُر پانی تک پہنچ جائے ،کُر پانی کاوزن 377 کلوگرام یا لیٹر ہوتاہے، احتیاط حسن کے مطابق اس کاوزن 400 کلوگرام یا لیٹر ہوتاہے ۔

مسئلہ12:کثیر پانی ،اس میں نجاست کے گرنے سےیہ پانی  نجس نہیں ہوتاہے چہ جائیکہ اس میں ناپاک شے گرجائےمگر جب نجاست کی وجہ سے اس کا رنگ یابو یاذائقہ تبدیل ہوجائے۔

مسئلہ13:اگر پانی  میں رنگ،بو ،ذائقہ کے بغیر تبدیلی آجائے جیسے اس کی کثافت تبدیل ہوجائے تو وہ پانی نجس نہیں ہوتاہے۔

مسئلہ14:اگر نجاست کے قریب ہونے کی وجہ سے ،پانی کا رنگ،بو،ذائقہ تبدیل ہوجائے،لیکن اس کے ساتھ نجاست کی ملاقات نہ ہو تووہ پانی نجس نہیں ہوگا۔  

4۔بارش کاپانی،جب بارش برس رہی ہو تو اس کی نجاست سے ملاقات ہوتو اس کا پانی نجس نہیں ہوجاتاہے،یہ پانی اپنے غیر کو پاک کرتاہے،لیکن اگر بارش کاپانی کسی شے پر پڑے جیسے درخت کے پتے پر یا چھت  پریا ان دونوں جیسی کسی شے  پرپڑے ،پھر بہہ کر نجس شے پرگرے تو نجس ہوجاتاہے۔

مضاف پانی

مضاف پانی،وہ ہے جسے تروتازہ جسموں سے نچوڑا جائے جیسے پھلوں سے نچوڑا جائے،یا اس میں کسی شے کی ملاوٹ کی جائے جسے عرف کہے کہ یہ خالص پانی نہیں ہے ،جیسے گلاب کا پانی اور دیگر مائع چیزیں،جیسے تیل ،سرکہ ،زیتون کا تیل،نجاست گرتے ہی مضاف پانی نجس ہوجاتاہے ،قلیل ہویا کثیر ہو،مگر جب نجاست پر قوت کے ساتھ کثیر جاری پانی اوپر سے ڈالاجائے،اور وہ پانی ڈالاجائے جو فوارہ سے نکلتاہے،اس صورت میں نجس صرف وہی جزء ہوگا، جس نے نجاست سے ملاقات کی ہے،عمود یعنی اوپرکی طرف نجاست سرایت نہیں کرئے گی۔

مسئلہ15:جب مضاف پانی نجس ہوجائےتو اصلاً پاک نہیں ہوگا،اگر چہ پاک پانی سے اتصال کیاجائے،جیسے بارش کاپانی یا کُر کاپانی۔

ہاں!جب وہ مضاف نجس پانی ،پاک پانی میں ڈالاجائے اور وہ اپنی شناخت ختم کردےجیسے کُرکاپانی ،تو پاک ہو جائے گا،اس مضاف پانی کے حکم میں باقی سب مائع اشیاء ہیں۔

مسئلہ 16:مضاف پانی،خبث اور حدث کو دور نہیں کرتاہے۔

مسئلہ17: سوائے کتے اور سور کے  ،تمام جانداروں کا  جوٹھ پاک ہے،جو کافر اہل کتاب نہ ہو، احتیاط واجب کے تحت اس کا جوٹھ پاک نہیں ہے،لیکن اہل کتاب کافر کاجوٹھ ذاتاً پاک ہے ،غیر ماکول اللحم جانور کا جوٹھ سوائے بلی کے ،مکروہ ہے۔

روایات شریفہ میں وارد ہواہےکہ مؤمن  کا جوٹھ بیماریوں سے شفاء کا باعث ہے ،بلکہ بعض روایات میں ہے کہ مؤمن کا جوٹھ ستر بیماریوں سے شفاء کاباعث ہے۔

مسئلہ18:اگر مطلق پانی میں مٹی،صابن،سدر(بیری) کی آمیزش ہو جائے تو وہ مطلق پانی ہی رہتاہے،اور اس سے مضاف پانی نہیں بنتاہے،اگر وجدان کہے کہ اس کانام تبدیل ہوگیاہے ،اب یہ مطلق پانی نہیں رہاہے،اسے مٹی کا یا صابن کا پانی کہیں گے۔

 

شارك استفتاء

باب طہارت

طہارت کی دوقسمیں ہیں:

اول۔معنوی طہارت،یعنی  انسان اپنے دل کو ملاوٹ،حسد،کینہ،انا پرستی اور دیگر رذیل صفات  سے پاک قراردےاور  خواہشات نفسانیہ کی پیروی اور دنیاکےناروا تعلقات سے دوری اختیارکرئے اور آخرت کو فراموش   نہ کر دے اور اللہ تبارک وتعالی کی بابت غفلت  اختیار نہ  کرئے۔

دوم۔ظاہری طہارت،یہ گاہے خبث سے ہوتی ہے ،اور خبث  وہ نجاست ہے،جو جسم  وغیرہ کو لگ جاتی ہے،جیسے پیشاب ،خون اور اس کی مثل،اور اس کے اثر کودور کرنے کےلیےخاص کیفیات اور طریقے ہیں۔

اورکبھی حدث سے ہوتی ہے،اور یہ زندگی کی فعالیتوں میں سے   ہے جس کے ساتھ انسان کاقوام ہے اور انسان  سے صادر ہوتی ہے اور اس کی دوقسمیں ہیں:

1۔حدث اصغر ،وہ ہے جو وضو کاباعث بنتاہے یا  وضو کی  مشکل کی صورت میں وضو کے بدل تیمم کاموجب بنتاہے ،یہ نیند اور پیشاب و پاخانہ پر مشتمل ہے۔

2۔ حدث اکبر،جو غسل یا اس کے بدل کا باعث بنتاہے ،یہ جنابت پر مشتمل ہے ،یہ جنسی فعالیات  ،حیض وغیرہ  سے پیدا ہوتاہے ۔

 

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف