استبراء

| |عدد القراءات : 4
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

 استبراء

استبراء کی کیفیت میں مہم یہ ہے کہ اس کے نتیجہ کی تحقیق ہو جاتی ہے یعنی پتہ چل جاتاہے کہ پیشاب کی نالی میں  پیشاب باقی نہیں بچا ہے ،لیکن اسے اس کی کیفیت سے بجالانا افضل ہے ،روایات میں   اسے نو  دفعہ کھینچنے کا نام دیا گیاہے۔

 سب سے پہلے تین مرتبہ مقعد سے عضو کی جڑ تک دباکر کھینچیں ،پھر تین مرتبہ عضو کی جڑ سےعضو تناسل کے سر تک نیچے سے بڑی انگلی سے دباکر کھینچیں،پھر تین مرتبہ عضو تناسل کے سر کو جھٹکا دیں یااسے نچوڑیں۔

مسئلہ 20:استبراء کافائدہ:

 اس کے بعد نکلنے والی تری کو پاک قراردیاجاتاہے،جب احتمال دیاجائےکہ کہیں یہ پیشاب کی تری تو نہیں ہے ،اگرچہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو،اس کے ظاہر ہونے کے بعد وضو کرنابھی واجب نہیں ہے،اگر استبراء سے پہلے پیشاب جیسی تری نکلےتو اسے پیشاب  ہی قراردیاجائے گا،پس اس صورت میں اسے پاک کرنااور وضوکرناواجب ہے ،اگرچہ اس نے اسے اس لیے ترک کیاتھاکہ وہ اس کے کرنے کی قدرت نہیں رکھتاتھا،اس کافائدہ  یہ ہے کہ اسے معلوم ہوجائےگا یا اطمینان پیداہوجائےگاکہ اب   پیشاب کی نالیوں  میں تری باقی نہیں  رہی ہے۔

مسئلہ21: عورتوں کے لیے استبراء  نہیں ہے،وہ مشتبہ تری جو عورتوں سے خارج ہوتی ہے ،پاک ہے،اُس کی وجہ سے وضو واجب نہیں ہوتا ہے،بہتر  یہ ہے کہ وہ صبر کرئے اور کھانسے اور چوڑائی میں شرمگاہ کو نچوڑے۔