وضو

شارك استفتاء

مبطلات وضو

جن چیزوں سے وضو باطل ہوجاتاہے

جب انسان وضو کرئے تو وہ پاکیزگی کی حالت میں رہتا ہے ،جب تک کہ اسے مبطلات وضو میں سے کوئی شے عارض نہ ہو ،پس جب مبطلات وضو میں سے کوئی شے عارض ہوتو اُس  پراُس عمل کے لیےدوبارہ وضو کرناواجب ہے ،جس میں باوضو ہوناشرط ہے جیسے نماز ۔

مستحب ہے کہ انسان ہمیشہ باوضورہے،روایت میں ہے کہ ایسا شخص مرجائے تو شہید ہے۔

وضو ٹوٹنے کی حالت کو حدث اصغر کہتے ہیں،اور مبطلات وضو چند چیزیں ہیں:

1،2:پیشاب اور پاخانہ کا نکلنا،خواہ عادی مقام سے نکلیں یا مصنوعی مقام سے نکلیں،جب تک کہ اس پر مذکورہ دوناموں میں سے ایک نام صادق آتاہے۔

3۔ دُبر(پیچھے والی شرمگاہ سے)ریح یعنی ہوا کا نکلنا یا مصنوعی مقام سے ہوا کا نکلنا،جب تک کہ اُس پر ریح کانام صادق آئے۔

عورت کی آگے والی شرمگاہ سے ریح نکلے تواس کاکوئی اعتبار نہیں ہے اگرچہ تکرار سے نکلتی رہے۔

4۔ وہ نیند جو کان ،آنکھ پر غالب آجائے ،یعنی کان سے سنائی نہ دے اور آنکھ سے دکھائی نہ دے،خواہ کھڑاہو یا بیٹھا ہو یالیٹا ہو اور اگرکوئی  شخص اُنگھ کی حالت میں اردگرد کی باتیں سن رہاہو تو اس کاوضو باطل نہیں ہوگا۔

مسئلہ32:ہر وہ شے جو کان آنکھ اور دماغ پر غالب آجائے ،اُس کا حکم نیند والا ہے،جیسے جنون،بے ہوشی،نشہ وغیرہ۔

مسئلہ33:مذی یاودی یا وذی کے نکلنے سے وضو باطل نہیں ہوتاہے،یہ بہنے والامادہ ہیں،جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے نکلتے ہیں،جنس مخالف کے ساتھ کھیل کود سے مذی نکلتی ہے،پیشاب کے بعد ودی نکلتی ہے،منی کےبعد وذی نکلتی ہے ،ان کے نکلنے سے غسل باطل نہیں  ہوتاہےیہ حکم  واضح اور اولیٰ ہے۔

5۔استحاضہ،بناء بر اُس تفصیل کے جو ان شاء اللہ تعالی ٰ بیان کی جائے گی۔

وضوکے بارے میں چند مسائل

وضو  ذاتی طور پر واجب نہیں ہے ،بلکہ کسی دوسری شے کےلیے واجب ہوتا ہے ،پس نماز کی صحت وضو پر موقوف ہے خواہ نماز واجب ہو یا مستحب ہو ،اسی طرح نماز کے بھولے ہوئے اجزاء کو ادا کرنے کے لیے بھی وضو کرناواجب ہے،بلکہ بناء بر احتیاط کے سجدہ سہو کےلیے بھی باوضوہونا واجب ہے،اسی کی مثل واجب طواف کی نماز  ہےجو حج یاعمرہ کاجزء ہو ،یہ حج وعمرہ واجب ہوں یا مستحب ہوں۔

مسئلہ34:محدث(حدث کی حالت میں شخص)کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم کی کتابت کو چھوئے یہاں تک کہ اس کی مد و شد کو احتیاط کی بناء پر  چھو نہیں سکتاہے۔

البتہ اس کی تجویدی علامات اور وہ آیات جو قرآن مجید کے علاؤہ کسی اور کتاب میں ہوتی ہیں،جیسے علم نحو کی کتابوں میں شاہد کے طور پر پیش کی جانے والی آیات ،قرآن مجید کا کاغذوغلاف ،ان کا قرآن والا حکم نہیں ہے،انہیں محدث چھو سکتا ہے ،احتیاط یہ ہےکہ لفظ اللہ اور دوسرے اسمائے حسنیٰ الہی جو قرآن میں نہ  ہوں،انہیں محدث شخص  مت  چھوئے۔

ہاں!

 اگر کسی شخص کے مرکب نام میں یہ اسماء ہوں جیسے عبداللہ،اللہ دتہ وغیرہ تو اسے  مس کرنے کاکوئی حرج اور گناہ نہیں ہے،اور یہی حکم آئمہ معصومین علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ کے لیےہے۔

مسئلہ35:وضو ذاتی طورپر مستحب ہے،تاکہ پاک رہاجاسکےاور یہ نیکی ہے جس کےلیے اسے انجام دینا کافی ہے،اس کے ساتھ واجب کا تعلق ہوجائے ،اس کی کوئی حاجت نہیں ہے،جیسے نماز کاوقت داخل ہوجائے ،اس صورت میں اس کےلیے تمام امور کابجالاناجائزہے۔

مسئلہ36:جو حکم قرآن مجید کے لیے بیان کیاہے،اس کی بابت کوئی فرق نہیں ہے عربی میں ہویاکسی دوسری لغت میں ،جب تک لفظ قرآن باقی ہے ،یہی حکم جاری رہے گا،اسی طرح کوئی فرق نہیں ہےکہ کتابت سیاہی کی ہویا اُکری ہوئی ہویا نقاشی وغیرہ سے کی ہوئی ہو،اسی طرح کوئی فرق نہیں ہے مس کرنے والاایسے عضو کو مس کرئے جس میں زندگی حلول کرتی ہے یااس میں زندگی حلول نہیں کرتی ہے جیسے بال ،یہ حکم احتیاط مستحب کی بناء پر ہے۔

مسئلہ37:جب فرض نماز کاوقت داخل ہوجائےتو فرض نماز کے انجام دینے کی نیت سے وضو کرناجائز ہے،اور ممکن ہے کہ وہ وجوب کی نیت سے وضو کو بجالائے ،جس طرح جائز ہے کہ وہ طہارت میں رہنے کی نیت سے وضوبجالائے،یاکسی اور غرض سے وضو بجالائے،البتہ نماز کے وقت سے پہلےجائزنہیں ہے کہ نماز کےلیے واجب کی نیت سے وضوبجالائے،ہاں نمازکے لیے تیار ہونے کی نیت سے استحباباً وضو کرسکتاہے۔

 

شارك استفتاء

وضومیں خلل کے احکام

مسئلہ28:جس کو حدث کایقین اور وضو میں شک ہو،وہ وضو کرئے،جیسے کسی کو علم ہو کہ اس نے وضو نہیں کیاہےاور شک ہوکہ وضو کیاہے یاوضو نہیں کیا ہے؟

مسئلہ29:جب اثنائے نماز میں یا ایسے عمل میں جس کےلیے وضومعتبر ہوتاہے ،وضو میں شک ہوجائے،تو اس نماز یا عمل کو توڑ دے اور وضو کرکے نئے سرہ سے نماز  پڑھے یااس عمل کو انجام دے۔

مسئلہ30:جب کسی کو یقین ہوکہ اُس نےوضوکے عضو کو دھونے یا مسح کرنے میں خلل ڈالاہے،اسے بجالائے،اور پھر اس کے بعد والے اعضاء کو ترتیب وار بجالائے ،پس ترتیب و موالات اور دوسری سب شرائط کی رعایت کرئے،اسی  طرح اگر کوئی شخص افعال وضو میں سے کسی فعل کی بابت وضو سے فارغ ہونے سے پہلے شک کرئے تو اسے بجالائے اور اگر وضوسے فارغ ہونے کے بعد شک کرئے تو اُس شک کی طرف توجہ  نہ کرئے۔

مسئلہ31:جب وضوسے فارغ ہونے کے بعد یقین ہوکہ میں نے کسی جزء کوترک کردیاہے اور معلوم نہ ہو کہ وہ واجب جزء ہے یامستحب جزء ہے تو ظاہر اً  حکم لگائے کہ اس کا وضو صحیح ہے۔

 

شارك استفتاء

شرائط وضوء

وضوء کے چند شرائط ہیں :

1۔ وضو کاپانی کا پاک ہو،وضوکاپانی مطلق ہو،وضوکاپانی مباح ہو،وضوکےپانی کو خبث کے پاک کرنے میں استعمال نہ کیاگیا ہو ،وضو کے پانی کو  حدث اکبر کے دور کرنے میں استعمال نہ کیاگیا ہو،جب دوسرے پانی سے وضو کرسکتاہوتوایسے پانی سے وضو نہ کرئے جسے اصل شریعت میں واجب ا غسال  میں استعمال  کیا گیاہو۔  

2۔ وضوکے دھونے اور مسح کرنے والامقام پاک ہو اور اس پر کوئی حائل شے نہ ہو۔

3۔احتیاط واجب کی بناء پر جس فضاءاورجگہ  میں دھونا اور مسح کرناواقع ہورہاہے ،وہ مباح ہو

4۔ پانی کے استعمال سے کوئی شے مانع اور رکاوٹ نہ ہو ،یعنی مرض یا پیاس مانع نہ ہو ،جس سے اسے اپنی جان یا کسی محترم شخصیت کی جان کی بابت خوف ہو،بلکہ غیر مضر حیوان کی جان کی بابت خوف ہو ،جوعرفاً مالیت رکھتاہو ،خواہ وہ حیوان اُس کا اپنا ہو یاکسی دوسرے شخص کاہو جس کی  حفاظت کی  ذمہ داری اس شخص پر ہو۔

5۔ نیت،یعنی ان افعال کے ذریعہ سے وضو کاقصد کرئے،صفائی،ٹھنڈک،لہو و عبث وغیرہ کا قصد نہ ہو۔

وضوکرنے والا خود اعضاء دھوئے اور مسح کرئےاور اگر دوسرا شخص وضو کروائے ،اس حیثیت سے کہ فعل کی اس کی طرف نسبت نہ دی جائے تواس کاوضو باطل ہو جائے  گا،لیکن  مجبوری اور عجز کی صورت میں جائزہے!

  6۔موالات،یعنی  عرفاًپےدرپےاعضائے وضودھوئے اور مسح کرئے،اس حیثیت سے کہ اسے ایک فعل سمجھاجائے۔

7۔ترتیب،اعضاء کے درمیان ترتیب رکھے،یعنی پہلے چہرہ دھوئےپھر دایاں ہاتھ دھوئے پھر بایاں ہاتھ دھوئےپھر سرکامسح کرئے پھر دائیں پیر کا مسح کرئےپھر بائیں پیر کا مسح کرئے۔

 

شارك استفتاء

وضو کے چار اجزاء ہیں:چہرے کادھونا،دونوں ہاتھوں کادھونا،سرکامسح،دونوں پیروں کامسح۔

1۔چہرے کا دھونا:

چہرے کادھوناواجب ہے،سرکےبالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی تک لمبائی میں ،اورچوڑائی میں جو حصہ بڑی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان آئے ،اس سے زائد کادھونا واجب نہیں ہے،مگر از باب مقدمہ رخسار کے دائیں بائیں اطراف کو دھویاجائے۔

2۔دونوں ہاتھوں  کا دھونا:

دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سے لےکرانگلیوں کے سروں تک دھوناواجب ہے ، اورواجب ہے کہ کہنیوں سے شروع کر کے نیچے کی طرف انگلیوں کے سروں تک یوں  دھویں کہ عرف کہے کہ اس نے ہاتھوں کو دھویاہے،یعنی دھونے کی حرکت نیچے کی طرف ہو ،تھوڑا تھوڑا کر کے مت دھویں جس سے وضوکو تقطیعی کہاجائے۔

3۔سرکا مسح:

سر کے سامنے والے حصہ کا مسح کرناواجب ہے،جو ماتھے کے اوپر ربع(چوتھائی )حصہ پر مشتمل ہوتاہے،اس میں مسح کے عنوان کا متحقق ہوناکافی ہے،یہ لمبائی اور چوڑائی میں ہے،اگرچہ بسیط حرکت سے ہو۔

4۔پیروں کا مسح:

دونوں قدموں کا انگلیوں کے سروں سے لےکر ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرنا واجب ہے ،جو پنڈلی کاجوڑ ہے،اتناکافی ہے کہ عرف اسے کہے کہ اس نے قدموں کا مسح کیاہے ۔ 

وضوء جبیرہ

جبیرہ سے مراد پٹی کا ٹکڑا یا پھٹیاں ہیں،جو  وضوکے عضو پر باندھی ہوئی ہوں ، کیونکہ دھونے کی جگہ پر زخم ہو یا پھوڑاہویاہڈی ٹوٹی ہویا ایسی جلدی بیماری ہوکہ اس جگہ پر پانی ڈالنے سے نقصان ہوتاہو،اس کاحکم عام ہے جو ہراُس حائل کو شامل ہے جس سے عضو تک پانی پہنچانا مشکل اور مضر ہو ،جیسے وہ لوگ جو مکان بناتے ہیں یا گاڑیوں کی ورکشاپ میں کام کرتے ہیں ،اُن کے ہاتھ زخمی اور جلد حساس ہوجاتی ہے اور اُس پر پانی ڈالنا مشقت اور ضرر کاباعث بنتاہے۔

جس کے وضوکے بعض اجزاء پر جبیرہ ہوتاہے،اس کاحکم یہ ہے کہ اگر پٹی اتار کر دھوسکتے ہوں یااسے پانی میں ڈبو سکتے ہوں ،اور اوپر سے نیچے کی طرف دھوسکتے ہوں تو واجب ہے کہ یہی کریں اور اگر نہیں کرسکتے ہوں،ضرر و حرج کاخوف ہوتو پٹی پر گیلا ہاتھ پھیرنا ہی کافی ہے،اسی طرح اگر جبیرہ کے نیچے پانی کاپہچانا ممکن نہ ہو تو پٹی پر گیلا ہاتھ پھیرنا کافی ہے،اور اگر جلد پر گیلا ہاتھ پھیرنا ممکن ہو تواس پر مسح کرئے، ضروری ہے کہ سارے عضو پر مسح کیاجائے،مگر یہ کہ سارے عضو پر مسح کرنا ٹانکوں اور سلائی کی وجہ سے مشکل ہو۔

وضو جبیرہ میں  اکتفاء کرنے کی بابت ،گزشتہ امور  یعنی جلد تک پانی پہچانے میں ضررو حرج اور مشقت کے علاؤہ چند شرطوں کالحاظ رکھا جائےگا:

1۔ جبیرہ یاپٹی نجس نہ ہو،بلکہ پاک ہو،اگرچہ اس کااوپر والاحصہ پاک ہو،البتہ جبیرہ کے اندر والے حصہ کی نجاست مضر نہیں ہے۔

2۔جبیرہ یا باندھی ہوئی پٹی متعارف حد سے زیادہ نہ ہو۔

3۔ جبیرہ مباح ہو ،غصبی جبیرہ پر گیلا ہاتھ پھیرناجائز نہیں ہے،اگر ایسا ہوتو اس کا وظیفہ تیمم ہوگایعنی جبیرہ کے غصبی ہونے کی صورت میں تیمم کرئے۔

4۔متاثرہ عضو جس پر وضوکاپانی ڈالنے سے ضرر کااندیشہ ہو،وہ اعضائے وضو میں سے ہونا چاہیے،اگر وہ عضو اعضائے وضو کے علاؤہ ہو تو جبیرہ وضو پر اکتفاء کرنا جائز نہیں ہوگا،اس کاوظیفہ تیمم  ہوگا۔

مسئلہ22:جبیرہ نجس ہو اور اس پر پاک پٹی باندھ  کر مسح کرسکتے ہوں تو درست ہے ،ایسا نہ ہوتو تیمم کرناچاہیے۔

مسئلہ 23:کھلے ہوئےزخموں اور پھوڑوں کاحکم جبیرہ والاہے،اور اگر زخم اور پھوڑا کھلا ہوا نہ ہو اور وہ وضو میں  دھونے والی جگہ پر ہو تواگر سارے عضو کے ساتھ زخم     والی جگہ کادھوناممکن ہو تواسے دھوناواجب ہے،اور اگراس کے گرد کو دھونا ممکن  نہ ہو(پاک ہو اور نقصان دہ نہ ہو)تو اُس پر گیلا ہاتھ پھیرے،اگرایسا نہ ہوتواس پر  پاک کپڑا رکھ کر مسح کرئے،اگر اس کے اطراف کامتعارف مقدار میں دھونا نقصان   دہ ہو یا نجس ہو اور اس کادھوناممکن نہ ہو تو تیمم کرئے۔

مسئلہ24:اگر کھلےزخم یاپھوڑے والا عضو مسح کی جگہ پر ہو اور  زخم یا پھوڑا سارے مقا م تک پھیلاہواہواور اس پر مسح کرناممکن ہو تو اس پر مسح کرنا واجب ہے اور اگراس پر ضرر ہوتاہو یانجاست کی وجہ سےمسح کرناممکن نہ ہو تو تیمم کرئے۔

مسئلہ25:جب وضو کاعضو ٹوٹا ہواہو ،زخمی یاپھوڑے والانہیں ہو اور وہ کھلا ہواہو،اگر اس عضو کادھونا ضرر کاباعث ہو تو تیمم کرئے،اس کاوظیفہ عضو کے گرد کو دھونانہیں ہے ،ایسے ہےجیسے زخم اور پھوڑے کی حالت میں ہواجاتاہے۔

جب کھلی ٹوٹی ہوئی ہڈی مسح کی جگہ پر ہو اور اس پر مسح کیا جاسکتاہو تووضو کرئے اور اگرایسانہ ہو توتیمم کرئے،لہذا  واجب ہے کہ کھلےہوئے متضرر عضو کے درمیان فرق کرنا چاہیے ،جس میں زخم ہویا پھوڑا ہو یا ٹوٹا ہوا ہو۔

مسئلہ26:جب جبیرہ متعارف حد سے زائد ہو ،ہوسکےتواسے چھوٹا کرنا واجب ہے،اگر ایساممکن نہ ہو تو تیمم کرئےبشرطیکہ وہ جبیرہ وضو اور تیمم کے مشترک اعضاء پر نہیں ہو ،اور اگرایساہوتو تیمم اور وضو جبیرہ دونوں کرئے۔

مسئلہ27:جبیرہ کاحکم غسل میت کے علاؤہ تمام اغسال میں جاری ہوتا ہے۔

 

المجموع: 4 | عرض: 1 - 4

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف