مبطلات وضو

| |عدد القراءات : 6
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

مبطلات وضو

جن چیزوں سے وضو باطل ہوجاتاہے

جب انسان وضو کرئے تو وہ پاکیزگی کی حالت میں رہتا ہے ،جب تک کہ اسے مبطلات وضو میں سے کوئی شے عارض نہ ہو ،پس جب مبطلات وضو میں سے کوئی شے عارض ہوتو اُس  پراُس عمل کے لیےدوبارہ وضو کرناواجب ہے ،جس میں باوضو ہوناشرط ہے جیسے نماز ۔

مستحب ہے کہ انسان ہمیشہ باوضورہے،روایت میں ہے کہ ایسا شخص مرجائے تو شہید ہے۔

وضو ٹوٹنے کی حالت کو حدث اصغر کہتے ہیں،اور مبطلات وضو چند چیزیں ہیں:

1،2:پیشاب اور پاخانہ کا نکلنا،خواہ عادی مقام سے نکلیں یا مصنوعی مقام سے نکلیں،جب تک کہ اس پر مذکورہ دوناموں میں سے ایک نام صادق آتاہے۔

3۔ دُبر(پیچھے والی شرمگاہ سے)ریح یعنی ہوا کا نکلنا یا مصنوعی مقام سے ہوا کا نکلنا،جب تک کہ اُس پر ریح کانام صادق آئے۔

عورت کی آگے والی شرمگاہ سے ریح نکلے تواس کاکوئی اعتبار نہیں ہے اگرچہ تکرار سے نکلتی رہے۔

4۔ وہ نیند جو کان ،آنکھ پر غالب آجائے ،یعنی کان سے سنائی نہ دے اور آنکھ سے دکھائی نہ دے،خواہ کھڑاہو یا بیٹھا ہو یالیٹا ہو اور اگرکوئی  شخص اُنگھ کی حالت میں اردگرد کی باتیں سن رہاہو تو اس کاوضو باطل نہیں ہوگا۔

مسئلہ32:ہر وہ شے جو کان آنکھ اور دماغ پر غالب آجائے ،اُس کا حکم نیند والا ہے،جیسے جنون،بے ہوشی،نشہ وغیرہ۔

مسئلہ33:مذی یاودی یا وذی کے نکلنے سے وضو باطل نہیں ہوتاہے،یہ بہنے والامادہ ہیں،جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے نکلتے ہیں،جنس مخالف کے ساتھ کھیل کود سے مذی نکلتی ہے،پیشاب کے بعد ودی نکلتی ہے،منی کےبعد وذی نکلتی ہے ،ان کے نکلنے سے غسل باطل نہیں  ہوتاہےیہ حکم  واضح اور اولیٰ ہے۔

5۔استحاضہ،بناء بر اُس تفصیل کے جو ان شاء اللہ تعالی ٰ بیان کی جائے گی۔

وضوکے بارے میں چند مسائل

وضو  ذاتی طور پر واجب نہیں ہے ،بلکہ کسی دوسری شے کےلیے واجب ہوتا ہے ،پس نماز کی صحت وضو پر موقوف ہے خواہ نماز واجب ہو یا مستحب ہو ،اسی طرح نماز کے بھولے ہوئے اجزاء کو ادا کرنے کے لیے بھی وضو کرناواجب ہے،بلکہ بناء بر احتیاط کے سجدہ سہو کےلیے بھی باوضوہونا واجب ہے،اسی کی مثل واجب طواف کی نماز  ہےجو حج یاعمرہ کاجزء ہو ،یہ حج وعمرہ واجب ہوں یا مستحب ہوں۔

مسئلہ34:محدث(حدث کی حالت میں شخص)کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم کی کتابت کو چھوئے یہاں تک کہ اس کی مد و شد کو احتیاط کی بناء پر  چھو نہیں سکتاہے۔

البتہ اس کی تجویدی علامات اور وہ آیات جو قرآن مجید کے علاؤہ کسی اور کتاب میں ہوتی ہیں،جیسے علم نحو کی کتابوں میں شاہد کے طور پر پیش کی جانے والی آیات ،قرآن مجید کا کاغذوغلاف ،ان کا قرآن والا حکم نہیں ہے،انہیں محدث چھو سکتا ہے ،احتیاط یہ ہےکہ لفظ اللہ اور دوسرے اسمائے حسنیٰ الہی جو قرآن میں نہ  ہوں،انہیں محدث شخص  مت  چھوئے۔

ہاں!

 اگر کسی شخص کے مرکب نام میں یہ اسماء ہوں جیسے عبداللہ،اللہ دتہ وغیرہ تو اسے  مس کرنے کاکوئی حرج اور گناہ نہیں ہے،اور یہی حکم آئمہ معصومین علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ کے لیےہے۔

مسئلہ35:وضو ذاتی طورپر مستحب ہے،تاکہ پاک رہاجاسکےاور یہ نیکی ہے جس کےلیے اسے انجام دینا کافی ہے،اس کے ساتھ واجب کا تعلق ہوجائے ،اس کی کوئی حاجت نہیں ہے،جیسے نماز کاوقت داخل ہوجائے ،اس صورت میں اس کےلیے تمام امور کابجالاناجائزہے۔

مسئلہ36:جو حکم قرآن مجید کے لیے بیان کیاہے،اس کی بابت کوئی فرق نہیں ہے عربی میں ہویاکسی دوسری لغت میں ،جب تک لفظ قرآن باقی ہے ،یہی حکم جاری رہے گا،اسی طرح کوئی فرق نہیں ہےکہ کتابت سیاہی کی ہویا اُکری ہوئی ہویا نقاشی وغیرہ سے کی ہوئی ہو،اسی طرح کوئی فرق نہیں ہے مس کرنے والاایسے عضو کو مس کرئے جس میں زندگی حلول کرتی ہے یااس میں زندگی حلول نہیں کرتی ہے جیسے بال ،یہ حکم احتیاط مستحب کی بناء پر ہے۔

مسئلہ37:جب فرض نماز کاوقت داخل ہوجائےتو فرض نماز کے انجام دینے کی نیت سے وضو کرناجائز ہے،اور ممکن ہے کہ وہ وجوب کی نیت سے وضو کو بجالائے ،جس طرح جائز ہے کہ وہ طہارت میں رہنے کی نیت سے وضوبجالائے،یاکسی اور غرض سے وضو بجالائے،البتہ نماز کے وقت سے پہلےجائزنہیں ہے کہ نماز کےلیے واجب کی نیت سے وضوبجالائے،ہاں نمازکے لیے تیار ہونے کی نیت سے استحباباً وضو کرسکتاہے۔