اساسى | | رسالہ عمليہ | مطہرات
مطہرات

شارك استفتاء

مطہرات(جوخودپاک ہیں اور نجس شے کوپاک کرتی ہیں):

یہ چند چیزیں  ہیں:

اول۔ مطلق خالص  پاک پانی،ہر نجس شے کو پاک کرتاہے ،ایک دفعہ دھوئیں اور کبھی متعدد بادھونا واجب ہوتاہے۔

مسئلہ 146:پاک کرنے میں معتبر ہے کہ سب سے پہلے عین نجاست کو دور کیاجائے،پھر عین نجاست کے زائل ہونے کے بعدنجس جگہ پر اوپر سے پانی ڈالا جائے۔

مسئلہ147:جن اجسام میں رطوبت نفوذ کرتی ہے جیسے صابن ،مٹی ،ٹھیکری اور لکڑی،ہوسکتاہے اس میں نجاست باطن تک نفوذ کرجائے،لیکن  اس پر پانی ڈال کر ،اس کے ظاہر کادھونا ممکن ہے۔

مسئلہ148:جب کسی برتن میں پانی یاکوئی اور شے ہو اور کتااسے منہ مارکے چاٹ لے اور عرف میں اسے چاٹنا کہاجائے تواسے سب سے پہلے مٹی مارکر مانجا جائےیعنی نجاست والی جگہ کو مانجیں،اور دودفعہ پانی سے دھوئیں،احوط یہ ہے کہ کثیرپانی سے دھونا مٹی سے مانجنے سے کفایت نہیں کرتاہے۔

مسئلہ149:احتیاط واجب ہے کہ برتن مانجنےوالی مٹی  استعمال سے قبل پاک ہو۔

مسئلہ150:کپڑےاور اس کی مثل چیزیں ،پیشاب کی وجہ سے نجس ہوجائیں تو آب جاری میں ایک مرتبہ دھوناکافی ہےاور ٹینکی  کاپانی آب جاری ہوتاہے،اوراگر آب جاری نہ ہوتو آب قلیل سے دومرتبہ دھوئیں،یہاں تک کہ بناء براحتیاط کے  کُربھر پانی میں بھی دومرتبہ دھوئیں،اور ان دو کے درمیان ایک دفعہ نچوڑیں تاکہ اس کے اندر سے پانی نکل جائے،اور تعدد عرفی صادق آجائے۔

مسئلہ151:برتن کو آب قلیل سے دھویاجاسکتاہے،یعنی اُس میں پانی ڈالا جائے اور اسے برتن کے اندر چکر دیاجائے،یہاں تک کہ پانی برتن کے تمام اجزاء تک پہنچ جائے،پھر زمین پر بہادیاجائے،تین دفعہ ایساکرنے سے برتن پاک ہوجاتاہے۔

مسئلہ152:پاک کرنے میں عین نجاست کا دور کرنامعتبر ہے ،نایہ کہ نجاست کےاوصاف جیسے رنگ و بو دور ہوجائے،جب اس کی مثل باقی ہو تویہ طہارت کے حصول میں نقصان دہ نہیں ہے ،بشرطیکہ معلوم ہوکہ  عین نجاست زائل ہوگئی ہے۔

مسئلہ153:سخت زمین،یا اینٹوں کے فرش والی زمین یا پتھر یا اس کی مثل،کا آب  قلیل سے پاک کرنا ممکن ہے ،جب اس پر  عین نجاست کے زائل ہوجانے کے بعد، پانی ڈالا جائے ،اسی طرح نرم زمین،یہاں تک کہ اگرچہ پانی اس کی گہرائیوں تک چلا جائے اور اس کے غیر کی طرف تجاوز نہ کرئے۔

مسئلہ154:زیورات،جس کو کافر بناتاہے،نجس ہوتے ہیں،اگر معلوم نہ ہو کہ کافر نے اسے تری والا ہاتھ لگایاہےیا کسی اور نجاست نے اسے چھواہےتو پاک  ہوں گے،اور اگر معلوم ہوکہ  کافر نے اسےتری والاہاتھ لگایاہے یاکسی اور نجاست نے اسے  چھوا ہے تو اسے دھوکرپاک کرناواجب ہوگا،اس کے ظاہر کو دھوئیں ،اس کا باطن نجس ہی رہے گا۔

دوم۔زمین،یہ قدم کے باطن کو پاک کرتی ہے جیسے جوتی کاتلوا جو زمین پر چلنے سے رگڑ کھاتاہے،اگر چہ عین نجاست کے زائل ہونے کے بعدپانچ قدم ہی چلیں۔    

مسئلہ155:زمین یعنی مطلق زمین پس پتھر،مٹی اور ریت سب زمین ہیں،بعید نہیں ہےکہ اس حکم کوتعمیم دی جائے اور ہر اس شے کو زمین قراردیاجائے جس پر عادۃ ً چلاجاتاہےجیسے اینٹ ،چونہ ،اسفلٹ ،بلکہ ظاہری معدنیات اسی حکم میں ہیں،جیسے نمکین زمین۔

سوم ۔سورج

مسئلہ156:سورج،نجس زمین  اور جس پر زمین کاعنوان صادق آتاہے،جیسے چھت اور منزلوں کی چھتیں،سب کوپاک کرتاہے،یہ عنوان عمارتوں اور ان ملی ہوئی چیزوں اور درختوں اور پھلوں اور چٹائیوں اور بوریوں کی طرف تجاوز نہیں کرتاہے۔

مسئلہ157:سورج کے ذریعہ سے طہارت میں ،عین نجاست کے دور ہونے اور جگہ کے تر ہونے کے علاؤہ ،شرط ہے،کہ دھوپ سے جگہ خشک ہو ،اگرچہ اس سوکنے میں دھوپ کے ساتھ کسی اورشے کاعمل بھی شامل ہوجیسے ہوا وغیرہ چلی اور دھوپ اور ہوانے نجس جگہ کو خشک کردیا۔

مسئلہ158:جب پیشاب سے زمین نجس ہوجائے،اوراس پر دھوپ پڑے اور خشک ہوجائے تو بغیر پانی کے ڈالے وہ پاک ہوجاتی ہے۔

چہارم۔استحالہ،یعنی عرفاً ایک چیز دوسرے جسم میں منحل ہوجائے،کسی شے کی حقیقت  اور نوعی صورت کا دوسری صورت میں تبدیل ہوجاناہی استحالہ ہوتا ہے ،اور یہ اس وقت اساسی شکل میں ہوجاتی ہے،پس آگ لکڑی کوجلاکر خاکستر بنادے یا دھواں بنادے یا بخارات میں تبدیل کردے،خواہ نجس ہویا متنجس ہو،یہی حکم ہے جب آگ کے بغیر  ایسا ہوجائے۔

مسئلہ159:جب میت کااستحالہ ہوجائے یا نجاسات میں سے کسی عین کااستحالہ ہوکر خاک بن جائے تو پاک ہوجاتی ہے ،یہاں تک کہ اگر کتابھی مرنےکےبعد خاک بن جائے تووہ خاک پاک ہوجاتی ہے۔

پنجم۔انقلاب،یہ شراب کو پاک کرتی ہے ،اس طرح کہ جب وہ شراب کے عنوان سے خارج ہوجائے،خواہ تبدیل ہوکر سرکہ بن جائے یاکوئی اور شے۔

ششم۔دوثلث کاکم ہوجانا،(یہ حجم کےحساب سے ہے وزن کے حساب سے نہیں)جیسے اس کی مقدارتین لیٹر ہواور آگ پر ابلنے سے ایک لیٹر رہ جائےتویہ سرکہ کےلیے مطہر ہوگا یعنی اسے نجاست سے پاک کردے گا اور پینا بھی ہمارے نزدیک حلال ہوجائے گا۔

ہفتم۔انتقال،یہ منتقَل کےلیے پاک کرنے والا ہے ،جب وہ منتقل الیہ کاجزء قرارپائے،جیسے انسان کا خون جوں یا مچھر پی  لے ۔

ہشتم۔اسلام،یہ نجس کافر  کی تمام اقسام کےلیےپاک کرنے والا ہے،یہاں تک کہ مرتد فطری کوبھی اقوی قول کی بناء پر پاک کردیتاہے،اس کے اجزاء اس کے تابع قراردیئے جاتے ہیں،جیسے اس کے بال،ناخن ،پسینہ،ناک کی غلاظت اور قئی وغیرہ۔

نہم۔تبعیت،جب کافر مسلمان ہوجائے تو اس کی تبعیت میں اس کےنابالغ  بچے بھی پاک قراردےدیئےجاتے ہیں،اگرچہ اقوی قول کی بناء پر وہ بچے ممیز ہی ہوں ، جب تک کہ ان کے سوء اعتقاد کی وجہ سے ان پر کفر کا حکم  لگایانہ  جاسکے۔

دہم۔عین نجاست کا انسان کے باطن سے زائل ہونا،اور حیوان کے  ظاہری وباطنی جسد سے عین نجاست کا زائل ہوجانا،پس مرغی کی چونچ جس پر انسان کا فضلہ لگا ہوا ہو ،عین نجاست ،اور رطوبت کے زائل ہوتے ہی پاک ہوجائے گی۔

گیارہ۔مسلمان کاغائب ہوجانا،یہ مسلمان کے جسم ،کپڑے ،بستر،برتن اور دوسری اس کے تابع چیزوں کے لیے پاک کرنے والا ہے،جب اس کےلیے طہارت کے حصول کااحتمال دیاجائے اور اس کی نجاست کاعلم ہو ،لیکن اس کاصاحب اسے ایسے کام میں استعمال کررہاہو،جس میں طہارت معتبر ہے۔

بارہ۔گندگی خور جانور کااستبراء، یہ اس کے لیے اور اس  کے فضلات کے لیے جو گندگی کھانے کی وجہ سے نجس ہوگئے تھے ،پاک کرنے والا ہے۔

استبراء یعنی  حیوان سے نجاست کےکھانے کوکچھ مدت کےلیے روک دینا ،جس سے  وہ حیوان گندگی خور کےعنوان سے خارج ہوجائے۔

احتیاط واجب ہے کہ شرعاً معین مدت  کاگزر جانامعتبر ہے۔     

المجموع: 1 | عرض: 1 - 1

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف