اساسى | | رسالہ عمليہ
رسالہ عمليہ

شارك استفتاء

فصل:عقود کے اختلاف کے بارے میں ہے۔

مسئلہ691:جب شوہر اور بیوی کا عقد کے بارے میں اختلاف ہو ،یعنی شوہر کہے کہ عقد متعہ کاہے اور بیوی کہےکہ عقد دائمی والاہے ،یاشوہر کہے کہ عقد دائمی ہے اور بیوی کہے کہ عقد متعہ کا ہے۔

ظاہرہےکہ یہاں دائمی عقد والے کے دعوا کو قبول کیاجائے گا ،اور جو عقد متعہ کادعویدار ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مدعاپر گواہ پیش کرئے،اوراگر گواہ پیش نہ کرسکےتو مدعی عقد دائمی سے قسم لےکر عقد دائمی کا حکم جاری کیا جائے گا ،یہی حال ہے جب شوہر اور بیوی کے گھر والوں کے درمیان اختلاف ہوجائے۔

مسئلہ 692:جب مرد اور عورت دونوں کے اعتراف سے زوجیت ثابت ہو جائے ، اور  کوئی دوسراشخص دعوی کرئے کہ یہ عورت میری ہے پس اگروہ اپنے دعوی پر بینہ (گواہ )پیش کردے توٹھیک ہے ،اوراگر وہ اپنے دعوی پر بینہ(گواہ) پیش نہ کرئے تو اُسے  حق حاصل ہے کہ ان دونوں میں سے جس سے چاہے حلف لے سکتاہے ۔

مسئلہ693:اگرایک مرد دعوی کرئے کہ یہ عورت میری ہے اوروہ عورت اس کی زوجیت کا اعتراف نہ کرئے اورایسا بھی نہ کہے کہ میں صورت حال سے ناواقف ہوں اور دوسراشخص بھی دعوای کرئے کہ یہ میری بیوی ہے اور دونوں شخص اپنے مدعاپر بینہ(گواہ) پیش کریں اور حلف دیں ،جن کے گواہوں کی تعداد زیادہ ہو فیصلہ ان کے حق میں ہوگااور اگردونوں کے گواہوں کی تعداد مساوی ہوتو ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا گا ،جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ حلف دے اوراگروہ حلف نہ دے جس کے گواہوں کی تعداد زیادہ ہے یاجس کے نام کا قرعہ نکلا ہے تواس سے زوجیت ثابت نہیں ہوگی ،کیونکہ دو بینہ آپس میں ٹکرانے سے درجہ اعتبار سے ساقط ہوجاتے ہیں ۔

اور جب زوجہ ہرایک کی زوجیت سے انکار کرئے ،تواگر دونوں میں  سےایک بینہ (گواہ) پیش کرئے اور گواہ گواہی دیں کہ یہ اس کی زوجہ ہے تو ٹھیک ہے ،اوراگر ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس بینہ(گواہ) نہ ہوں توعورت کو چاہیے کہ حلف دے جس سے دعوی ختم ہوجائے گا۔

ہاں،اگر حاکم حکم صادر کرئے یہ بینہ یااس کی مانند کے ذریعہ سے اس کی بیوی ہے اوروہ عورت جانتی ہو کہ میں واقعی طور پر اس کی بیوی نہیں ہوں اور بینہ (گواہ)جھوٹے ہوں تواس صورت میں عورت کے لیے زوجیت کےآثار کو مرتب کرنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ694:جب دولوگوں کاعقد میں اختلاف ہو ،اور مال نقل کرنے والا بیع کا مدعی ہو اور جس کی طرف مال منتقل کیا گیاہے وہ ہبہ کا مدعی ہو ،یہاں ہبہ والے کے دعوی کو قبول کیا جائے گا ،بیع کے مدعی پر لازم ہے کہ اسے ثابت کرئےخواہ ہبہ لازمہ ہو جیسے اس میں تصرف واقع ہواہو یایہ قریبی رشتہ دار کے لیے ہو یاہبہ جائزہ ہو ۔لیکن جب معاملہ برعکس ہو ،اورناقل ہبہ کادعوی کرئےاور منقول الیہ بیع کادعوی کرئے تو مدعی بیع کی بات قبول کی جائے گی ،اور مدعی ہبہ پر اپنے دعوی کو ثابت کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ695:جب مالک اجارہ کادعوی کرئے اوردوسراعاریہ کا دعوی کرئے ،توعاریہ کے مدعی کے قول کو قبول کیاجائے گا،اوراگر معاملہ برعکس ہو تو مالک کے قول کو قبول کیا جائے گا،اور ان دونوں حکموں میں تردد ہے۔

مسئلہ696:جب دو جوگ اختلاف کریں ،مالک دعوی کرئے کہ جو مال تلف ہواہے وہ قرض تھا،اورقابض دعوی کرئےکہ یہ امانت تھی ،تویہاں مالک کاقول قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا ۔

لیکن ،اگر مال موجود ہو ،اور وہ قیمتی ہو تو ودیعت (امانت)والے کے قول کو قبول کیا جائے گا۔

مسئلہ697:جب دو لوگ اختلاف کریں ،مالک دعوی کرئےکہ یہ مال امانت تھا اور قابض دعوی کرئے کہ یہ مال رہن تھا،پس اگر قرض ثابت ہوتو قابض کے قول کو قسم کے ساتھ قبول کیاجائے گا،اور اگر قرض ثابت نہ ہوتو مالک کے قول کو قبول کیا جائے گا۔

مسئلہ698:جب دو لوگوں کا رہن میں اتفاق ہو ،اور مرتہن کہےکہ ہزار درہم کی رہن ہےاور راہن دعوی کرئے کہ سودرہم کی رہن ہے تو راہن کاقول قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔

مسئلہ699:جب دو لوگ عین مال کی بعنوان بیع یااجارہ قبض میں اختلاف کریں ،پس قابض بیع کا دعوی کرئےاورمالک اجارہ کادعوی کرئےتوظاہرہے مدعی اجارہ کاقول قبول کیاجائےگااورمدعی بیع پر لازم ہےکہ اپنے مدعا کوثابت کرئے۔

مسئلہ700:جب بایع اور مشتری قیمت کی زیادتی اور کمی میں اختلاف کریں،اگر مبیع مال تلف ہونے والاہو توقسم کے ساتھ مشتری کے قول کو قبول کیا جائے گا ،اوراگر مبیع مال باقی رہنے والاہو تو بعید نہیں ہے کہ بایع کے قول کو قسم کے ساتھ قبول کیاجائے،جیسا کہ یہ مشہور ہے۔

مسئلہ701:جب مشتری بایع پر شرط کادعوی کرئے ،جیسے قیمت کا جلد اداکرنا یا درک کرنے پر رہن کی شرط کادعوی کرئے یااس کے علاؤہ کوئی اور شرط لگائے تو بایع کے قول کو قسم کے ساتھ قبول کیاجائے گا،یہی حکم ہے جب دولوگ مدت کی مقدار میں اختلاف کریں اور مشتری زیادہ مدت کا دعوی کرئے۔

مسئلہ702:جب دولوگ مال مبیع کی مقدار میں اختلاف اور قیمت کی مقدار میں اتفاق رکھتے ہوں ،پس مشتری دعوی کرئے کہ مال مبیع دوکپڑے ہیں اور بایع کہے کہ ایک کپڑا ہے تو بایع کاقول قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا،اور جب دونوں کا مال مبیع کی جنس میں اختلاف ہو یاقیمت کی جنس میں اختلاف ہو تویہ مورد دعاوی کے موارد میں سے ہوگا پس اگراُن دونوں میں سے ایک کادعوی بینہ(گواہوں) یاحلف سے ثابت نہ ہو تودعوی کے فسخ کا حکم لگایاجائے گا۔

مسئلہ703:جب دو لوگ اجارہ میں اتفاق رکھتے ہوں اور کرایہ کی کمی و بیشی میں اختلاف رکھتے ہوں تومدعی کمی کے قول کو قبول کیا جائے گا ،اور مدعی زیادہ پر لازم ہے کہ اپنے دعوی کو ثابت کرئے،یہی حال ہے جب عین مستاجرہ میں کمی و بیشی کااختلاف ہو اور اجرت میں اتفاق ہو یااختلاف مدت کی کمی و بیشی میں ہو اور عین مال واجرت کی مقدار میں اتفاق ہو۔

مسئلہ704:جب دولوگ ایک معین مال میں اختلاف کریں ،اوراُن میں سے ہرایک دعوی کرئےکہ ہم نے اسے زید سے خرید کیا ہے اور اسے قیمت دی ہے ،پس اگر بایع دومیں سے ایک کے لیے اعتراف کرئے اور دوسرے کےلیے اعتراف نہ کرئےتومال اُس کے لیے ہوگا جس کے لیے اقرار کیاہے،اوردوسرے کےلیےہےکہ بایع سے حلف لے خواہ دونوں میں سے ہرایک اپنے مدعاپر بینہ (گواہ) قائم کرئے یا بینہ قائم نہ کرئے۔

ہاں، جب غیر مقرلہ اپنے مدعاپر بینہ (گواہ )قائم کرئےتو بایع کااعتراف درجہ اعتبار سے گرجائے گا اور اس کے لیے مال کا حکم لگایا جائے گا۔

اس صورت میں بایع پر لازم ہے کہ مقر لہ سے جو شے اپنے اعتراف کے ذریعہ سے قبض کی ہے اُسے واپس کردے اوراگر بایع اصلا ً اعتراف نہ کرئےاوران دونوں میں سے کوئی ایک اپنے مدعاپر بینہ(گواہ) قائم کرئےتو اس کے حق میں حکم ہوگا اوردوسرے کے لیے ہے کہ بایع سے حلف مانگے ،اگر وہ حلف دےدے تواس کا حق ساقط ہوجائےگا،اور اگروہ حلف کو اس کی طرف لوٹا دے اوریہ حلف دینے سے انکار کردےتواس کا بھی حق ساقط ہوجائے گا ،اوراگرحلف دےدےتو اس کاقیمت کے اخذ کرنے میں حق ثابت ہوجائے گا،اوراگران میں سے ہرایک اپنے مدعا پر بینہ(گواہ) پیش کرئے یاکوئی بھی اپنے مدعاپر بینہ(گواہ)پیش نہ کرئے توبایع حلف دےگا،پس اگر وہ حلف دےکہ میں نے ان دونوں میں سے کسی سے بیع نہیں کی توان دونوں کا حق ساقط ہوجائے گا،اوراگرحلف دے کہ میں نے ان دونوں میں سے ایک سے بیع نہیں کی تو خاص کرکے اُسی کاحق ساقط ہوجائے گا اوراگر حلف سے انکار کرئے اورحلف کوان دونوں کی طرف لوٹا دے ،اب اگروہ دونوں حلف دےدیں تومال اُن کے درمیان آدھا آدھاتقسیم ہوگا،اوراگروہ دونوں حلف نہ دیں تواُن دونوں کاحق ساقط ہوگا،اوراگراُن دونوں میں سے ایک حلف دےتومال حلف دینے والے کا ہو گا ، اور اگر بایع ان دونوں میں سے ایک سے بیع کا اعتراف کرئے،لیکن کس سے بیع کی ہے اُسے معین نہ کرئےتواس پر مال کی بابت دو دعووں کا حکم جاری کیا جائے گا،اس پر کسی کاہاتھ نہیں ہوگا ،جیساکہ مسئلہ ۶۸۸ کی صورت چہارم کے احکام میں گزر چکا ہے ۔  

مسئلہ705:جب دوشخصوں میں سے ہرایک دوسرے کے ہاتھ میں موجود مال کا دعوی کرئےاور اُن میں سے ہرایک بینہ(گواہ) پیش کرئے کہ دونوں مال اس کے ہیں،دونوں قسم دیں تو جس کے پاس جو مال ہوگا وہ اس کی ملکیت ہوجائے گا۔

مسئلہ706:جب میاں بیوی کسی شے کی ملکیت میں اختلاف کریں جودومیں سے ایک کے مختصات میں سے ہے ،وہ شے اس کی ہوگی،اوردوسرے پر اپنامدعاثابت کرنا لازم ہے،اورجومال ان دونوں کے درمیان مشترک ہے جیسے گھریلو سازوسامان ،اگر علم ہو یابینہ (گواہ)قائم ہوکہ یہ چیزیں عورت اپنے ساتھ لائی ہے ،تووہ عورت کا مال ہوجائے گا ،اورمردپر زیادہ والے اپنے مدعاکو ثابت کرنا لازم ہے ،اگرگواہوں سے ثابت کرئےتووہ مال اُس کا ہوگا اوراگر ایسانہ کرسکے تواسے حق حاصل ہےکہ بیوی سے قسم مانگے۔

اوراگر کسی کو کسی شے کاعلم نہ ہو تومال دونوں کے درمیان تقسیم کیاجائے گا،اوریہی حال ہے جب دونوں میں سے ہرایک کے ورثاء کا دوسرے کے ساتھ اختلاف ہو یادونوں کے وارثوں کے درمیان اختلاف ہو۔

مسئلہ707    :جب عورت مرجائے اوراس کاباپ دعوی کرئے کہ میری بیٹی کےپاس کچھ چیزیں عاریہ کی ہیں اور یہ احتمال وارد ہو تواظہر ہےکہ اس (باپ) کےدعوی کوقبول کیاجائے ،فریق دوم کو حق حاصل ہے کہ بیوی کے باپ سے حلف لے کہ ان چیزوں کی ملکیت اس کی بیٹی کی طرف منتقل نہیں ہوئی تھی۔

لیکن اگر مدعی مرنے والی کاباپ نہ ہو (جیسے عورت کاشوہر یا اس کے شوہر کاباپ دعوی  کرئے)تواس پر لازم ہے کہ اپنے دعوی کو گواہوں کی گواہی سے ثابت کرئے ، ورنہ وہ مال عورت کے وارث کااس کی قسم کے ساتھ ہوگا۔

ہاں،جب وارث اعتراف کرئےکہ مال مدعی کےلیےہے اوردعوی کرئےکہ اس نے  اپنی مرحومہ بیوی کو ہبہ کردیاہے تواس کادعوی تبدیل ہوجائے گا،وارث پرلازم ہے کہ اپنے دعوی کو بینہ(گواہ) سے یا ہبہ کے منکر سے حلف طلب کرکے ثابت کرئے۔

فصل:میراث کےدعوی کے بارے میں ہے۔

مسئلہ708:جب مسلمان مرجائےاوردو بیٹے چھوڑ جائے جواپنی زندگی کے بعض مراحل میں کافر ہو گئے ہوں ،اورکافر مسلمان سے وراثت نہیں پاتاہے ،اُن دو میں سے ایک باپ کی وفات سے پہلے مسلمان ہواہو اوردوسراباپ کی وفات کے بعد مسلمان  ہو ،اب دونوں اختلاف کریں کہ ان میں سے کون پہلے مسلمان ہواہے ،پس پہل کے دعوی والے پر لازم ہےکہ اپنے دعوی کو ثابت کرئے،ورنہ اس کے بھائی کی بات کو قبول کیا جائے گا۔

لیکن جب صورت حال سے جہالت کا دعوی کرئےتو مدعی تقدم حلف لےسکتاہےکہ مجھے  باپ کی وفات سے پہلےاس کے مسلمان ہونے کاعلم نہیں ہے،بشرطیکہ وہ دعوی رکھتاہوکہ اسے اس بات کا علم ہے۔  

مسئلہ709:اگر میت کاایک بیٹا کافراورایک مسلمان وارث ہو ،اور باپ مرجائے اور بیٹا مسلمان ہوجائے،اور وہ دعوی کرئےکہ میں باپ کی وفات سے پہلے مسلمان ہواہوں اور اس کی اس بات کااس کا مسلمان وارث انکار کرئےتوبیٹے پر واجب ہے کہ ثابت کرئےکہ وہ باپ کی موت سے پہلے مسلمان ہواہے ،اوراگراسے ثابت نہ کرسکے تووارث نہیں ہوگا۔

مسئلہ710:جب کسی شخص کے ہاتھ میں مال ہو ،اوردوسراشخص دعوی کرئےکہ یہ مال اس کے میت مورِث کاہے ،اب اگراس پر بینہ(گواہ) قائم کرئے اور ثابت کرئے کہ میں اس کاوارث ہوں توسارامال اسے دے دیاجائے،اور اگرعلم ہو کہ اس کاایک بھی وارث ہےتواسے اُس کاحصہدیاجائے گا،اور غائب کے حصہ کو محفوظ رکھاجائے گا،اوراسے تلاش کیاجائے گا ،اگر مل گیاتواسے اس کا مال دے دیا جائے اور اگر نہیں ملاتو اس کی بابت مجہول المالک والا معاملہ کیا جائے گا،اگروہ مجہول ہویا ایسامعلوم ہو جس تک مال کا پہچانا ممکن نہیں ہوتاہے ،ورنہ اس کی بابت ایسے مال کا معاملہ کیاجائےگا جس کے مالک کی خبر مفقود ہوتی ہے۔

مسئلہ711:جب کسی عورت کاایک بیٹا ہو اور ماں بیٹے دونوں کے پاس اپنا اپنا مال ہو اور وہ دونوں مرجائیں ،اور عورت کا بھائی دعوی کرئےکہ میرابھانجا ماں سے پہلے مراہے اوراس عورت کاشوہر دعوی کرئےکہ پہلے عورت مری ہے اور پھر بیٹا مراہےتوشوہر کےلیےاپنے حق سے قدر متیقن ہے ،جب فرض یہ ہوکہ بیٹا ماں کی زندگی میں مراہے ،یہ عورت کے بھائی اور اس کے شوہر کے درمیان نزاع اور جھگڑا ہوگا جوعورت کے نصف مال اوربیٹے کے سدس مال میں ہے ۔

البتہ عورت کادوسرانصف مال اور بیٹے کاسدس مال سے پانچواں حصہ دونوں فرض کی بناء پر شوہرکےلیے ہے،اس صورت میں اگردونوں میں سے ہرایک اپنے مدعاپر گواہ پیش کرئے،تودونوں سے حلف لےکر متنازعہ مال  ان دونوں کےلیے آدھا آدھا ہوگا۔

یہی حال ہے جب گواہ موجود نہ ہوں اوردونوں فریق حلف دیں ،اوراگر ان میں سے کوئی ایک بینہ(گواہ) پیش کرئےتو مال اس کےلیے ہے،اوراگر دونوں حلف نہ دیں تو اُن کے درمیان قرعہ ڈالاجائے گا۔

مسئلہ712  :تنازع دور اور ختم کرنے کےلیے حاکم کاحکم مؤثر ہوتاہے اورظاہری طور پر اس کے مطابق آثار مرتب کئے جاتے ہیں،لیکن واقعیت میں اس کا اصلا ً کوئی اثر نہیں  ہے ،پس اگر مدعی کوعلم ہو کہ وہ مدعی علیہ پر کسی شے کا استحقاق نہیں رکھتاہے اوراس کے باوجود حاکم کے حکم کے مطابق وہ مال لے لیتاہےتواس کے لیے اس میں تصرف کرناجائز نہیں ہے ،بلکہ اس پر واجب ہے کہ مال مالک کو واپس کردے۔

اور یہی حکم ہے جب وارث کوعلم ہو کہ مورِث نے مدعی علیہ سے ناحق مال لیاہے ۔

صحیحہ ہشام بن حکم میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا:

انما اقضی بینکم بالبینات والایمان وبعضکم الحن بحجتہ من بعض فایما رجلٍ قطعت لہ من مال اخیہ شیئا ً فانما قطعت لہ بہ قطعۃ من النار۔

میں تمہارے درمیان گواہوں اور ایمان کے ذریعہ سے فیصلہ کرتاہوں،اور آپ لوگ اک دوسرے سے اپنی دلیل کی زبان سے فیصلہ کرتے ہو، پس جس شخص نے اس کے بھائی کے مال سے کوئی شے کاٹتاہوں ،سوائے اس کے نہیں ہے کہ اس کے لیے جہنم کے ایک ٹکڑے کو کاٹ دیتاہوں۔

 

 

شارك استفتاء

فصل :دعواؤں کے احکامات کےبارے میں۔

مسئلہ680:مدعی اسے کہتے ہیں، جو کسی دوسرے شخص پر کسی شے کا دعوی کرئے ،اور وہ عقلاء کے نزدیک اس کو ثابت کرنے کے لیے پابند ہو، جیسے کسی کے خلاف مال یاحق یاان دونوں کے علاؤہ کسی اور شے کادعوی کرئےیا قرض کے ادا کرنے یا عین  مال کے ادا کرنے کادعوی کرئےجو اس پر واجب ہو ۔

اس میں عقل اور بلوغ معتبر ہے مگر جب بچے کےدعوی پر اثر مترتب ہو جیسے تہمت کو مدعی علیہ کی طرف متوجہ کیاجائے،ایک قول ہے کہ اس میں رُشد بھی معتبر ہے ،لیکن اظہر ہےکہ اس میں رشد معتبر نہیں ہے ۔

مسئلہ681:مدعی کے دعوی کے سننے میں ضروری  امور:

۱۔ اس کادعوی اپنے لیے ہو۔

۲۔اس کادعوی  ایسے شخص  کےلیے ہو جس کے پاس اُس کی طرف سے دعوی کرنے کی ولایت اورسرپرستی ہو ۔

پس جس مال کا دوسرےکے لیے دعوی کیاجائے وہ سنا نہیں جائےگامگر جب وہ دوسرے کاولی ہو یا اس کاوکیل ہویا اس کاوصی ہو ۔

۳۔اس کے دعوی  کا تعلق جائزاور مشروع شے کے ساتھ ہو ۔

پس اگر مسلمان دوسرے  مسلمان  کے خلاف شراب یا سور وغیرہ کا دعوی کرئےتو اسے سنا نہیں جائے گا۔

۴۔  اس کے دعوی کاتعلق ایسی شے کے ساتھ ہو جو شرعی اثر رکھتی ہو پس اگر ہبہ یا وقف کابغیر قبض کے دعوی کیاجائے تواسے سنانہیں جائے گا۔

مسئلہ682:جب کسی کے حق کا کوئی دوسراشخص دعوی کرئےجیسے ولی یاوصی یا وکیل ،اگر گواہوں کے ذریعہ سے مدعاکو ثابت کرنے کی قدرت رکھتاہو توٹھیک ہے،اوراگرایسانہ ہوتو اسے اختیار ہے کہ منکرسے حلف مانگے ،اب اگروہ حلف اٹھادے تو دعوی ساقط ہوجائے گا،اوراگر منکر کہے کہ مدعی حلف دے،مدعی کے حلف دینے سے حق ثابت ہوجائے گا،اوراگر وہ حلف نہ دے تو اس کی طرف سے دعوی ساقط ہوجائے گا تو یہ کافی ہے۔

اب صاحب حق اختیار رکھتاہے کہ اس کے بعد دعوی کی تجدید کرئے۔

مقاصہ کے بارے میں  فروع

(مقاصہ یعنی ایک شخص کامال کسی دوسرے شخص نے دینا ہو اور وہ دے نہ رہاہو توصاحب مال اپنے مال کی اس کے مال سے بھرپائی کرئے)

مسئلہ683:جب کسی شخص کامال کسی دوسرے مرد کے پاس ہو تو وہ اس سے اس کی اجازت کے بغیر وصول کر  سکتاہے،لیکن اگر اس کے ذمہ میں قرض ہو اور مدعی علیہ اس کا اعتراف کرئےاور دینے کےلیے تیار ہوتواس کی اجازت کےبغیر وصول کرنا جائز  نہیں ہے،یہی حکم ہے جب وہ امتناع کرئےاور اس کاامتناع حق کی بابت ہو ، جیسے جب علم نہ ہوکہ اس کامال اس کے ذمہ میں ثابت ہے تواس صورت میں مقدمہ  حاکم کےپاس لے جائیں گے ۔

لیکن جب اس کا امتناع از روی ظلم ہو ،خواہ اس کامعترف ہویاانکار کرنے والاہو،جسے تقسیم کاحق ہے وہ اس کے اموال سے اپناحق لےسکتاہے ،ظاہر ہےکہ یہ حاکم شرعی یا اس کے وکیل کے اذن پر موقوف نہیں ہے ،اگرچہ اذن کاحاصل کرنا احوط ہے ، اور اس سے بھی احوط ہےکہ اپناحق لینے کےلیے حاکم کےحضور مقدمہ پیش کیاجائے۔

اگرکسی نے کسی کومال دیاہواہواوروہ اسے دے نہ رہاہوتووہ اپنے شخصی مال کے بدلے میں اس کے اموال سے لےسکتاہے،اگرچہ  اس سے لینے پرقدرت نہ رکھتا ہو 

مسئلہ684:جو مال کسی کے ذمہ میں ہو اس سے اس مال کے علاؤہ دوسری جنس کا مال  وصول کرناجائزہے لیکن اُس کے مال کی اوراِس کے مال کی قیمت مساوی ہو کیونکہ زائد کا وصول کرنا جائز نہیں ہے۔ 

مسئلہ685:اظہر ہےکہ اپنے مال کی بھرپائی امانت سے کی جاسکتی ہے جب امانت اسی مال کی جنس سے ہو البتہ یہ مکروہ ہے اوراگر امانت اور اس کے مال کی جنس ایک نہ ہو تواحوط ہےکہ اپنے مال کی بھرپائی اس کی امانت سے نہ کرئے۔

مسئلہ686:ضروری نہیں ہے کہ اپنے مال کی بھرپائی خود کرئےبلکہ کسی اور کو اس کام میں وکیل بناسکتے ہیں ،بلکہ یہ ولی کےلیےبھی جائز ہے،پس اگر بچے یا پاگل کامال کسی دوسرے کے پاس ہو اور وہ  مال دینے سے انکار کرئےتو ان دونوں کے لیے مال کی بھرپائی کرناجائز ہے،بنابراس کے حاکم شرعی کےلیےجائزہےکہ جولوگ حقوق شرعیہ مانند خمس یا زکات ادا کرنے سے امتناع کریں ،اُن کے اموال سے وصول کر لے ۔

فصل : املاک کے دعوی کے بارے میں۔

مسئلہ687:اگر کوئی شخص ایسے مال کادعوی کرئے جو کسی کے قبضہ میں نہ ہواور وہ اس دعوی کرنے والے کاہوگا،اگرایک گروہ کے پاس بیگ ہو اور اُن میں سے ایک شخص کہے کہ یہ میرا ہے اور دوسرے اس کے بارے میں کچھ نہ کہیں تووہ اسے دے دیاجائے۔

مسئلہ688:ایک مال کی بابت دوشخص جھگڑا کریں تو اس کی چند صورتیں ہوں گی:

اول ۔مال کسی ایک کے ہاتھ میں ہو۔

دوم۔مال دونوں کے قبضے میں ہو۔

سوم۔مال کسی تیسرے شخص کے ہاتھ میں ہو۔

چہارم۔مال کسی کے قبضے میں نہ ہو۔

پہلی صورت: دونوں میں سے ہر ایک کے پاس گواہ ہوں جو گواہی دیں  کہ یہ مال اس کا ہے،دوسری بات یہ ہے کہ دونوں میں سے صرف ایک کے پاس گواہ ہوں کہ یہ مال اس کا ہے،تیسری بات یہ ہے کہ  دونوں میں سے کسی کےپاس کوئی گواہ نہ ہو۔

پہلی بات کے مطابق،جس کے پاس مال ہو وہ دوسرے کے دعوی کاانکار کرئے،اس صورت میں حکم لگایاجائے گا کہ یہ شخص حلف دے تو مال اس کا ہے،لیکن اگروہ انکار نہ کرئےبلکہ کہے کہ مجھے صورت حال کاعلم نہیں ہے،اور مال اسے دوسرے شخص کی طرف سے ارث وغیرہ کے ذریعہ سے ملاہو،اس صورت میں وہ شخص حلف دے جس کے پاس گواہ زیادہ ہوں ،اگرحلف دےتومال اس کا ہوجائے گا،اوراگر ان کے گواہوں کی تعداد مساوی ہو توان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے گا ،جس کے حق مین قرعہ نکلے وہ حلف دے اور مال لےلے۔

ہاں،مدعی جس کے پاس مال ہو وہ تصدیق کرئےکہ دوسرا شخص واقعا ً صورت حال سے ناواقف ہے ،لیکن دعوی کرئےکہ جس شخص کی طرف سے اسے مال ملا ہے ، اُس نے اس مال کو غصب کیاتھا،یااُس کے پاس مال عاریہ کے طور پر تھا، یا اس طرح کی کوئی اور صورت تھی،اس صورت میں اگروہ گواہ پیش کردے تو مال اُس کاہوگا ، اور اگر گواہ پیش نہ کرئےتو مال اُس کا ہوگا جس کے قبضہ میں ہے۔

دوسری بات کے مطابق،اگر گواہ مدعی کے حق میں گواہی دیں تواس کے ذریعہ سے حکم مدعی کے حق میں جاری ہوگا،اوراگر گواہ قبضے والے کے حق میں گواہی دیں تو حلف کے ساتھ حکم اس کے حق میں جاری ہوگا،لیکن بغیر حلف کے اس کے حق میں حکم اشکال رکھتا ہے ،اوراظہر ہے کہ کوئی اشکال نہیں ہے۔

تیسری بات کے مطابق،قبضے والے پر حلف دینا واجب ہے ،اگر حلف دے تو حکم اس کے حق میں جاری ہوگا،اور اگر حلف دینے سے انکار کرئےاور حلف کو مدعی کی طرف  لوٹا دے ،اگر مدعی حلف دےدے تو حکم اس کے حق میں ہوگا،اوراگر مدعی حلف نہ دے تو مال قبضے والے کاہوگا۔     

دوسری صورت:اس میں بھی تین حالتیں پیدا ہوتی ہیں ،دونوں کے پاس گواہ ہوں ،دونوں میں سے ایک کے پاس گواہ ہوں ،بالکل گواہ نہ ہو۔

پہلی حالت کے مطابق، اگر دونون حلف اٹھائیں یادونوں حلف نہ اٹھائیں تومال دونوں  کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوگا،اوراگر ایک شخص حلف دے اور دوسرا شخص حلف نہ دے تو حلف دینے والے کے حق میں حکم لگایاجائےگا۔

دوسری حالت کے مطابق،جس کے پاس گواہ کے ساتھ قسم ہو مال اُس کا ہوگا۔

صرف گواہ کے ساتھ اکتفاء کے جواز میں اشکال ہے ،اور اظہر ہے کہ اشکال نہیں ہے۔

تیسری حالت کے مطابق،دونوں حلف دیں ،اور اگر دونوں حلف دےدیں تو مال آدھا آدھا لیں گے،یہی حال ہے جب دونوں حلف نہ دیں اوراگر ایک حلف دے تو حکم اس کے حق میں ہوگا۔  

تیسری صورت:یہ دعوی کے موضوع کے ،دو میں سے ایک کے ہاتھ میں مال کے نہ ہونے کے لحاظ سے چوتھی صورت کی مانند ہے،اس صورت میں فرق یہ ہےکہ جب وہ شخص کہ جس کے قبضہ میں مال ہے،ان دو میں سے ایک کی تصدیق کرئے یاوہ دونوں کی تصدیق کرئے اور وہ تصدیق کرنے والا عادل ہو تووہ عادل گواہ ہو جائے  گا ،جس کی گواہی مؤثر ہوگی،اور جہاں گواہوں کو ملحوظ رکھاجاتاہے ،اُن کی تعداد میں اضافے کاباعث ہوگا،جیسا کہ پہلے گزر چکاہے،اور اگر وہ دونوں کے مال ہونے کااعتراف نہ کرئے،تو اس کا حکم بلافرق چوتھی صورت والا ہوگا۔ 

چوتھی صورت:اس میں بھی تین حالتین پیدا ہوتی ہیں، دونوں کے پاس گواہ ہوں ،دونوں میں سے ایک کے پاس گواہ ہوں ،بالکل گواہ نہ ہو۔

پہلی حالت کے مطابق ،دونوں حلف دیں یا دونوں حلف سے انکار کریں،تو مال ان کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا ،اگر ایک حلف دے اور دوسرا حلف سے انکار کرئے تو مال حلف والے کاہوگا۔

دوسری حالت کے مطابق،مال اس کاہوگا جس کے پاس گواہ ہوں گے۔

تیسری حالت کے مطابق،اگردو میں سے ایک حلف دے اوردوسرا حلف نہ دے تو مال حلف اٹھانے والے کاہوگا،اور اگر دونوں حلف دیں تو مال آدھا آدھا دونوں کا ہو گا ،اور اگر دونوں حلف نہ دیں تودونوں کے درمیان قرعہ ڈالا جائے گا ۔

اس مسئلہ میں بینہ (گواہ) سے مراد دو عادل گواہ یاایک مرد گواہ اور دوعورتیں گواہ ہیں،لیکن یہاں ایک مرد گواہ کی مدعی کی قسم کے ساتھ گواہی بینہ نہیں ہے ،اگرچہ اس سے بھی حق ثابت ہوجاتاہے،جیساکہ پہلے گزر چکاہے۔

مسئلہ689:جب کوئی شخص ایسے مال کادعوی کرئے جو دوسرے کے پاس ہو ،اور وہ اعتراف کرئے کہ یہ مال کسی اور کاہے تواس سے مخاصمہ (یعنی جھگڑا) برطرف ہوجائے گا ،اس صورت میں اگر مدعی بینہ(گواہ) قائم کرئے کہ یہ مال میراہے تو مال اس کا ہوگا،لیکن دوسرے کی ضمانت میں ہوگا ،جیساکہ پہلے غائب پر دعوی کی بابت گزر چکاہے۔

مسئلہ690:جب کوئی شخص دوسرے کے خلاف مال کا دعوی کرئےاور وہ مال اس وقت اس کے ہاتھ میں ہو ،پس اگر بینہ(گواہ) قائم کرئےکہ یہ مال پہلے سے اس کے قبضہ میں ہے یا یہ مال اس کی ملکیت ہے تواس بینہ کاکوئی اثر نہیں ہے ،اور اس سے ابھی اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی ،بلکہ قبضہ تقاضا کرتاہےکہ مال اُس کاہے جس کے ہاتھ میں ہے ،ہاں مدعی کو حق حاصل ہے کہ اس سے حلف کا مطالبہ کرئے ، اور اگر بینہ قائم ہوکہ اس مال پر جو ہاتھ ہے یہ اس کےلیے امانت کا ہاتھ ہے ،یااس سے اجارہ کا ہاتھ ہے یا اس سے غصب کاہاتھ ہے تو اس کے ذریعہ سے اس پر حکم جاری ہوگا ،اور ید فعلی(اس موجودہ وقت والا ہاتھ) معتبر نہیں رہے گا،ہاں اگر ہاتھ والا شخص بھی بینہ قائم کرئےکہ اس وقت مال اس کاہے تو قسم کے ساتھ اس کے حق میں حکم جاری ہوگا۔

اور اگر ہاتھ والاشخص اقرارکرئےکہ یہ مال پہلے والے مدعی کاتھا،اور دعوی کرئےکہ یہ مال میں نے خرید کرلیاہے ،اب اگر اپنے مدعی پر بینہ قائم کرئے تو ٹھیک ہے ورنہ قسم کے ساتھ ،ہاتھ والے کاقول قبول کیا جائے گا۔  

 

 

شارك استفتاء

قضاوت کی تعریف:

قضاوت:یعنی دوجھگڑئے ہوؤں کے درمیان جھگڑے کافیصلہ کرنااور مدعی کےدعوی کو ثابت کرنا یا کہناکہ یہ مدعی کا مدعی علیہ کےخلاف حق نہیں ہے۔

قضاوت اور فتوی کے درمیان فرق:

فتوی یعنی کلی احکام کابغیر اُن کو ان کے موارد پرتطبیق دیئےبیان کرنا،اورفتوی صرف اس پر حجت  ہوتاہے جس نے اس فتوی دینے والے مفتی کی تقلید کی ہوئی ہوتی ہے اوراس  فتوی کی تطبیق  اُس شخص کی نظر کے مطابق ہوتی ہے،مفتی کی نظر کے مطابق نہیں،یعنی مفتی کاکام فتوی دینااور مقلد کاکام موضوع کی تشخیص کرناہے۔

قضاوت یعنی شخصی قضیہ پر حکم لگانا جو جھگڑنے کے مورد میں ہوپس قاضی حکم صادر کرتاہےکہ فلاں مال زید کاہےیافلاں عورت  فلاں بندے کی بیوی ہےاوراس کی مانند ،اوریہ حکم ہرایک پر نافذ ہوگا ،یہاں تک کہ اگرفریقین میں سےکوئی ایک یا دونوں مجتہد ہی کیوں نہ ہوں۔

ہاں،گاہے مقدمہ دائر کرنے کی وجہ فتوی میں اختلاف ہوتاہے،جیسے وارث زمین کےبارے میں جھگڑا کریں،مرنے والے کی وہ بیوی جو بیٹے کی ماں ہے وہ زمین سے ارث کادعوی کرئےاور باقی وارث کہیں کہ زمین میں اس کا حصہ نہیں ہے تو اس صورت میں قاضی کا حکم فریقین پر نافذ ہوگا اگرچہ  اس کافیصلہ اُس کے فتوی کے مخالف ہو جس نے اس کی طرف رجوع کیاہے اور اس کے خلاف فیصلہ ہواہے۔ 

مسئلہ632:قضاوت اجتماعی واجبات میں سے ہے ،یعنی یہ مجتمع اور معاشرے کے لوگوں  پر واجب ہےجیسے بعض افراد کی عائلی کفالت کرنے والااُن افراد کے درمیان قضاوت کرتاہے اور ان کے جھگڑے نپٹاتاہےاوراگر وہ اس پرعمل نہ کریں گےتوسب گناہگار ہوں گے۔

مسئلہ633:قاضی حاکم شرعی کی طرف سےمعین کیاجاتاہے جو حالات عامہ کے کنٹرول کرنےپر متصدی ہے ،وہی مالی مخصصات کے اجراء کا ضامن ہے اور لوگوں کو گزارنے کےلیے اچھی زندگی مہیا کرتاہے،تاکہ کمزور لوگوں سے رشوت کوروکے پس امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زمانے میں مالک اشتر اور بیشتر قاضیوں کے ساتھ اچھا ، رویہ اوراُن خرچ کیاگیا ،  جس سے وہ لوگوں کے نیازمند نہ رہے اوردرست فیصلے کیے گئے۔

مسئلہ634:قضاوت پر رشوت دینااور لینادونوں حرام ہیں۔

مسئلہ635:قاضی کی دوقسمیں ہیں:حاکم شرعی کی طرف سے مقررکردہ قاضی اور ثالثی قاضی۔

مسئلہ636:ثالثی کےلیےجس قاضی کی طرف فریقین فیصلے کے لیے جاتے ہیں ،اُس کی تعیین فریقین کی رضایت پر موقوف ہے،لیکن اگر حاکم شرع کی طرف سے مقرر قاضی کے پاس مقدمہ لےجائیں تواس کی تعیین مشہورقول کے مطابق مدعی کے ہاتھ میں ہے ،اوراگرقاضی فریقین کےتقلید میں اختلاف کی رعایت کرئےتوکوئی حرج نہیں ہےیا حاکم شرع کی طرف رجوع کرلے۔

یہی حکم ہے جب فریقین دعوی کریں اور قاضی کی بابت اختلاف کریں جس کی طرف مقدمہ لے گئے ہوں۔ 

مسئلہ637:قاضی کے شرائط:

بلوغ،عقل،مرد،مؤمن،حلال زادہ،عدالت،رشد،مقرر کردہ قاضی مجتہد ہو۔

مسئلہ638:جس طرح حاکم کےلیے جائزہےکہ فریقین کے درمیان گواہ،اقرار اورقسم کے ذریعہ سے فیصلہ کرئے اسی طرح اسے حق حاصل ہےکہ فریقین کے درمیان  اپنے علم اور معلومات کے مطابق فیصلہ کرئے،بشرطیکہ اس پر فریقین راضی ہوں تاکہ تہمت اور شک کو روکاجائے۔اس میں کوئی فرق نہیں ہےکہ وہ مقدمہ حقوق  اللہ کے بارے میں ہویا حقوق الناس کے بارے میں ہو۔

مسئلہ639:دعوی کے سننے میں شرط ہےکہ اسے جزم کے طور پرسناجائےاوراگر گمان  یااحتمال کے طور پرہوتوایسے دعوی کوسناہی نہ جائے۔

مسئلہ640:اگرکوئی شخص کسی کے خلاف مال کادعوی کرئےتو وہ شخص یا تواس مال کا اعتراف کرئےگایااس کا انکار کرئےگایاخاموشی اختیار کرئے گا،خاموشی کا مطلب یہ ہےکہ نہ اعتراف کیاہےاورنہ ہی انکار کیاہے،یہاں تین صورتیں بنتی ہیں:

اول۔اس پر جس چیز کادعوی کیا گیاہے اس کا اعتراف کرلےتوحاکم اس کے مطابق حکم صادر کرئےگااور اس کا مؤاخذہ کرئےگا۔

دوم۔اس پر جس چیز کادعوی کیاگیاہے اس کاانکار کردے تو مدعی سے گواہ طلب کیے جائیں گےاور اگر گواہ گواہی دےدیں تو حاکم ان کی گواہی کے مطابق حکم صادر کرئے گا اور اگر وہ گواہی نہ دلواسکےتو منکر قسم کھائےگا،اگر منکر نے قسم کھادی تودعوی ساقط ہوجائےگا،حاکم کے حکم کے بعد مدعی کوحق حاصل نہیں ہےکہ قسم اٹھانےوالے کے مال سے حصہ مانگے ،ہاں اگرقسم اٹھانے والے اپنے آپ کو جھٹلائیں  تومدعی  اپنے مال کا اس سے مطالبہ کرسکتاہےاوراس صورت میں اگر دوسرافریق اسے مال نہ دے تو   مدعی کے لیے اس مال سے حصہ لیناجائزہے۔

سوم۔اس پر جس چیز کادعوی کیاگیاہے وہ اس کے سامنے خاموش ہوجائےتو مدعی سے گواہ طلب کیے جائیں گے اور اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکےتو حاکم کہے گاکہ حلف دو ، بشرطیکہ  مدعی اس سے حلف لینے پر راضی ہو ،اب اگر وہ حلف دے دے تو ٹھیک ، ورنہ حاکم مدعی سے حلف مانگے گا۔

لیکن اگرمدعی علیہ دعوی کی بابت کہے کہ مجھے اس کے بارے کچھ پتہ نہیں ہے اور مدعی اسےنہ جھٹلائےتواسے اس سے حلف لینے کاحق نہیں ہے کہ وہ حلف دے کہ مجھے اس کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔ 

مسئلہ641:منکر کے حلف  اور حاکم کے حکم کے بعد مدعی کے بینہ کو اس کے دعوی پر سنا نہیں جائے گا ۔

مسئلہ642:اگرمنکر حلف سے انکارکرئےاورمدعی کو حلف کاکہے،اب اگر مدعی حلف دےدےتو اس کامدعا ثابت ہوجائےگااور اگر مدعی حلف سے انکار کردےتو دعوی ساقط ہوجائے گا۔

مسئلہ643:اگر منکر حلف اٹھانے سے انکار کردے اور مدعی کو حلف کا نہ کہے،تو حاکم مدعی کو حلف کاکہے گا،اب اگر مدعی حلف دےدےتو فیصلہ مدعی کے حق میں ہوجائےگا۔

مسئلہ644:حاکم کے لیے جائز نہیں ہے کہ مدعی سے بینہ قائم ہوجانے کے بعد حلف لےمگرجب اس کا دعوی میت کے خلاف ہو ،اس صورت میں حاکم مدعی سے بینہ کے علاؤہ حلف کامطالبہ کرسکتاہےتاکہ اس کاحق اس کے ذمہ میں باقی رہے۔

مسئلہ645:ظاہریہ ہےکہ مذکورہ حکم قرض کے ساتھ مخصوص نہیں ہے،بلکہ ہر   مورد میں جاری ہوتاہےجہاں اس کا گمان کیا جاسکتاہو،کیونکہ اس کی علت عبد الرحمن  بن ابی عبداللہ کی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی روایت میں ہے:پس اگر ایساہوتو اس کا حق نہیں ہوگاکیونکہ ہم نہیں جانتے ہوسکتاہے اس نےاسے ایسے بینہ کے ذریعہ پورا کیاہوجس کے مقام کا ہمیں علم نہیں ہے یا موت سے پہلے بغیر بینہ دیئےہوئے ہو۔

مسئلہ646:میت کےخلاف دعوی میں کوئی فرق نہیں ہے کہ مدعی قرض کادعوی اپنے لیےکرئےیا اپنے مؤکل کےلئے کرئےیااس کے لیےکرئے جس پر وہ ولی قرار دیاگیاہے،ان تمام صورتوں میں دعوی کے ثبوت میں قسم اور بینہ کوضم کرنا ضروری  ہے ،جیساکہ کوئی فرق نہیں ہےکہ مدعی وارث ہویا وصی ہویاکوئی اور شخص  ہو۔

مسئلہ647:اگر میت کاقرض بغیر بینہ کے ثابت ہوجائے،جیسے اس کےورثاء اعتراف کرلیں،یاوہ حاکم کے علم اور معلومات سے ثابت ہوجائے یا سب لوگ جانتے ہوں جس سے علم حاصل ہوجائے ا ور احتمال دیاجائے کہ میت نے اپناقرض چکادیا ہے تو کیااس قسم کے مورد میں حلف کے ضم کرنے کی نیاز ہے یانہیں؟

دووجہیں ہیں :

۱۔حلف کے ضم کرنے کی نیاز ہے۔

۲۔حلف کے ضم کرنے کی نیاز نہیں ہے۔

اقرب پہلی وجہ ہے۔

مسئلہ648:اگر مدعی میت کے خلاف ایک گواہ اور حلف کو قائم کرئےتو معروف ہے کہ اس سے قرض ثابت ہوجائے گا،اب کیا اس میں دوسری قسم اٹھانے کی محتاجی ہوگی یانہیں ؟

اس میں اختلاف ہے ،ایک قول ہےکہ اس کی ضرورت نہیں ہے ، ایک  قول ہےکہ یہ لازمی ہے ،لیکن  دوسراقول اصح ہے۔

مسئلہ649:اگر بچے یا پاگل یاغائب شخص پر قرض کابینہ قائم ہو،کیا اس بینہ کے ساتھ قسم کی محتاجی ہے یانہیں؟

اس میں تردد اور اختلاف ہے،اور اظہر یہ ہے کہ یہ سابقہ مسئلہ کی طرح ہے کیونکہ علت عام ہے بشرطیکہ  وفا کااحتمال وارد ہو۔

مسئلہ650:ایک حاکم کے فیصلے کے بعد دوسرے کے پاس وہی مقدمہ لے جانا جائز نہیں ہے،اور دوسرے حاکم کے لیے جائزنہیں کہ وہ پہلےوالے کے حکم کو کالعدم قراردےدےمگر جب پہلاحاکم واجد شرائط نہ  ہویااس کاحکم کتاب وسنت کے قطعی حکم کے مخالف ہو یاایسی ادلہ مل جائیں جن سے پہلے حکم کی خطاء ثابت ہوجائے۔

مسئلہ651:اگرمدعی اپنے حق کامطالبہ کرئےاور مدعی علیہ غائب ہو،اوراسےاس وقت حاضر نہ کیاجاسکتاہوتواس صورت میں ،اگر وہ اپنے مدعاپر گواہ پیش کردے تو حاکم اس کے گواہوں کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ دے گااوراس کاحق مدعی علیہ کے اموال سے لےکرمدعی کودےدےگااور مدعی سے مال کا ضامن لے گااور جب غائب واپس آجائےگاتووہ اپنی صفائی دے گااگر ثابت کردےکہ مدعی کا مجھ پر کوئی حق نہیں بنتاہے توحاکم مدعی سے مال لے کر مدعی علیہ کو دےدےگا،اور اصل مال کے مفقود ہونے کی صورت میں مدعی اس کابدل دے گا۔

مسئلہ652:اگر مؤکل غائب ہو اور اس کا وکیل مدیون  سے مطالبہ کرئے کہ اس پرجوحق اقراریابینہ سے ثابت ہوچکاہے ،اُسے اداکرئےاورمدیون  دعوی کرئےکہ میں نے مؤکل کو دےدیاہے یامیں اس سے بری الذمہ ہوچکا ہوں ،اگر اس پر بینہ قائم کردے توٹھیک ہے اور اگر بینہ قائم نہ کرسکے تو اس پرلازم ہے کہ وکیل کودے اورحاکم کوحق نہیں ہےکہ وکیل سے حق کے باقی ہونےپر حلف لے۔

مگر جب مدیون  دعوی کرئےکہ وکیل کوپتہ تھاکہ میں نے قرض دےدیاہے یااس سے بری الذمہ ہوگیاہوں۔

مسئلہ653:جب حاکم کسی شخص پر قرض کے ثبوت کاحکم لگائے،اور محکوم علیہ کہےکہ میں قرض نہیں دوں گا ،حاکم اسے قید میں ڈال کر  قرض اداکرنےپرمجبورکر سکتاہے۔

ہاں اگر محکوم علیہ تنگدست ہو تواسے قید کرناجائز نہیں ہے،بلکہ حاکم اسے مہلت دے  یہاں تک کہ وہ قرض اداکرنے پر قادر ہوجائے۔

قسم کےاحکام

مسئلہ654:حلف صحیح نہیں ہوتا مگرجب لفظ جلالت اللہ کے اور اللہ تعالی دیگر اسماء کے ذریعہ سے ہو،اس کاعربی لفظ کے ذریعہ سے ہونا ضروری نہیں ہے ،بلکہ اس کے اسماء کے  ترجمہ سے بھی صحیح ہے۔

مسئلہ655:حاکم اہل کتاب سے ہراس شے کے ذریعہ سے حلف لے سکتاہے جس کاوہ عقیدہ رکھتے ہیں،انہیں اللہ تعالی کے خاص اسماء سے حلف اٹھانے پر مجبور کرنا واجب نہیں ہے۔

مسئلہ656:کیاحلف اٹھانے میں ضروری ہے کہ وہ خود حلف اٹھائےیا کسی دوسرے سے بھی حلف دلواسکتاہے،جس سے اس کی نیابت میں اس کاوکیل حلف دے؟ظاہر ہے کہ اس کے خودکا حلف اٹھانامعتبر ہے۔

مسئلہ657:جب معلوم ہوجائے کہ حلف اٹھانے والے نے حلف میں توریہ اختیار کیاہےاوراس سے قصد کسی دوسری شے کا کیاہےتو ظاہریہ ہے کہ اس کا یہ حلف کافی نہیں ہے۔

مسئلہ658:اگر منکر ، کافر غیرکتابی ہو ، جس کا مال محترم ہو ،جیسے کافرحربی یامشرک یاملحداور اس کی مثل  ، پس بعض نے ذکر کیاہےکہ گزشتہ اختلاف کے مطابق ، ان سے اللہ کی قسم طلب کی جائے اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ  وہ جس شے کا عقیدہ رکھتے ہیں ،ان سے اسی کی قسم طلب کی جائے ، لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان سے کسی شے کی قسم طلب نہ کی جائے پس جب مسلمان کا ان پر حق ثابت ہوجائےتو مسلمان کے حق میں حکم جاری کیا جائے گااور اس مدعی علیہ کے انکار کو سنا نہیں جائے گا۔

مسئلہ659:مشہور یہ ہے کہ حاکم کا کسی ایک سے بھی حلف لینا جائز نہیں ہے مگر قضاوت کی مجلس میں حلف لے سکتاہے،لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ،پس اظہر اس کا جائز ہوناہے، لیکن قسم مدمقابل کے سامنے لی جائے یا اس کے نائب کے سامنے لی جائے یا دو عادل گواہوں کے سامنے لی جائےتاکہ شک اور اختلاف پیدا نہ ہو۔

مسئلہ660:اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کبھی قسم نہیں کھائے گا،لیکن ایسے حالات پیداہوجائیں کہ اس کے حق کااثبات حلف پر موقوف ہو تو اس کے لیے قسم اٹھاناجائز ہے، اور قسم ختم نہیں ہوگی پس احتیاط کی بناء پر وہ  قسم توڑنے کاکفارہ دے ،ہاں جب نذر کرنےوالا  عدم حلف کو اخذ کرئے حتی اس مورد کی مثل میں اور جواس کے تابع ہے  جس سے اس کاحق ضایع ہورہاہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنے لیے اپنے عزم کو لازم قراردے۔

مسئلہ661:جب کوئی شخص میت کےخلاف مال کادعوی کرئے،اگردعوی کرئے کہ اس بات  کا اس کے وارث کوعلم ہے اوراس کاوارث اس بات کاانکار کرئےتو اسے اختیار ہے کہ وارث سے قسم لےکہ اسے اس کا علم نہیں ہے ورنہ حلف وارث کی طرف  متوجہ نہیں ہوگا۔

مسئلہ662:جب کوئی شخص میت کے خلاف مال کا دعوی کرئے،اور دعوی کرئے کہ اس کے وارث کو اس کی موت  اور ترکے کاعلم ہے، پس اگر وارث اس بات کااعتراف کرلے تو اس کے لیے مدعی کو مال دینا ضروری ہے، اوراگر اس بات کااعتراف نہ کرئےتوحلف دے کہ مجھے اس کی موت کاعلم نہیں ہے یا میت کا ہمارے پاس کوئی مال،ترکہ نہیں ہے۔

مسئلہ663:حدود میں دعوی بینہ یااقرار کے بغیر ثابت نہیں ہوتاہے،اس میں قسم منکر کی طرف متوجہ نہیں ہوگی۔

مسئلہ664:دو حق جو چوری پر مترتب ہوتے ہیں،ان کے اثبات میں کوئی ملازمہ نہیں ہے ، اور وہ دو حق یہ ہیں،حد کی بابت اللہ تعالی کاحق اور قرض  کی بابت لوگوں  کا حق ، پس جب چوری کے منکرکے پاس گواہ نہ ہو اور وہ  حلف اٹھائےتواس کا قرض ساقط ہوجائے گا،اور اگر مدعی گواہ پیش کرئے اور حلف دےتو منکر مدیون ہو جاتا ہے ،لیکن حد بغیر گواہ یااقرارکے ثابت نہیں ہوتی ہے،اور حلف سے ساقط نہیں ہوتی  ہے،جب حلف کے بعد گواہ  کواہی دیں،تواس پر حد جاری کردی جاتی ہے۔

مسئلہ665:جب میت پر قرض ہو ،اور قرض خواہ دعوی کرئےکہ کسی دوسرے شخص نے میت کاقرض دیناہے اس حیثیت سے کہ میت مدعی کامقروض ہے اور دوسرے شخص کا قرض خواہ ہے ،اگر قرض ترکہ سے زیادہ ہو ،توقرض خواہ مدعی علیہ کی طرف رجوع کرئےگا،اوراس سے قرض کا مطالبہ کرئے،اگروہ اس پر گواہ پیش کردے توٹھیک ہے اور اگر گواہ پیش نہ کرسکے تومدعی علیہ حلف دے گا،اور اگر قرض ترکہ سے زیادہ نہ ہو ،اب اگر ورثاء کےپاس میت کا مال ہوجو اُس مال کے علاؤہ ہو جس کادعوی کیاگیاہےاوروہ کسی اور کے پاس ہو،تو قرض خواہ ورثاء کی طرف رجوع کرئے اوراُن سے اپنے قرض کامطالبہ کرئے۔

 پس اگر وہ گواہ پیش کرئےیاورثاء میت کےقرض کااقرارکرلیں تووہ اسے اس کاقرض دےدیں،اوراگر ورثاء میت کے قرض کااقرارنہ کریں تو ورثاء حلف دیں کہ انہیں اس قرض کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے ۔

اوراگر ورثاء کےپاس میت کامال نہ ہو ،نہ عین مال ہواور نہ ہی اس کابدل ہو جسے وہ ترکہ قراردےکر تصرف کرسکتے ہو تو یہ دوحال سے خالی نہیں ہے:

۱۔ورثاء کہیں کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ میت کاکوئی مال کسی کے پاس موجود ہے۔

۲۔ورثاء کہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ میت کا مال کسی کے پاس موجود ہے۔

پہلی صورت میں قرض  خواہ مدعی علیہ کی طرف رجوع کرئےاگر بینہ قائم کرئے یاورثاء اقرارکرلیں توٹھیک ہے،ورنہ مدعی علیہ حلف دے۔

  دوسری صورت میں قرض خواہ ورثاء کی طرف رجوع کرئےاورورثاء مدعی علیہ کی طرف رجوع کریں ،اوراس سے میت کے قرض کامطالبہ کریں،اگر گواہ پیش کردیں یا وہ اقرارکرلیں تو اُن کے حق میں حکم جاری ہوگا،ورنہ مدعی علیہ  کا حلف دیناواجب ہے ، ہاں اگر ورثاء اُس کی طرف رجوع کرنے سے امتناع کریں تو قرض خواہ کو اختیار ہے کہ ان کی طرف رجوع کرئے اور قرض کامطالبہ کرئے،جیساکہ آپ جان چکے ہیں۔

مسئلہ666:اموال میں دعوی ایک عادل گواہ اورمدعی کی قسم سے ثابت ہو جاتا ہے

،مشہور ہےکہ اس میں معتبر ہےکہ گواہی پہلے اور قسم بعد میں دی جائے،پس اگر اس  کااُلٹ کیا گیاتودعوی ثابت نہیں ہوگا۔

یعنی احوط ہے کہ عادل شخص کی گواہی کے بعد قسم کااعادہ کیاجائے،یہ اس وقت ہے جب دعوی میت کے علاؤہ زندہ لوگوں پر کیاگیاہو ،لیکن اگردعوی میت پر کیاگیاہو تو اس کے بارے میں حکم بیان ہوچکا ہے۔

مسئلہ667:ظاہر ہےکہ مدعا بہ مال  مطلق طور پر، ایک عادل گواہ  اورمدعی کی قسم سے ثابت ہوتاہے، وہ عین مال ہو یا قرض ہو اوراقرب ہےکہ مال کے علاؤہ دوسرے  حقوق ان دونوں کے ساتھ ثابت نہیں ہوتے ہیں۔

مسئلہ668:جب جماعت مال کا اُن کے مورث کے لیے دعوی کریں اورایک گواہ گواہی دے ،اب اگر سارے لوگ حلف اٹھائیں،تو ہرایک کی نسبت سے اُن کے درمیان مال تقسیم کیاجائے گا،اوراگر کچھ لوگ حلف دیں اوردوسرےکچھ امتناع کریں تو حلف اٹھانے والے کاحق ثابت ہوجائےگااور امتناع کرنےوالے کا حق ثابت نہیں ہوگا۔

اگر مدعا بہ  مال قرض ہو تو حلف اٹھانے والا اپناحصہ لےگاجس میں دوسراکوئی شریک  نہیں ہوگااوراگر مدعا بہ عین مال ہو تواس  عین مال میں مدعی علیہ اپنی نسبت کے ساتھ شریک ہوگا،احوط ہےکہ مدعی علیہ دوسرے ورثاء کےساتھ ان کے حصوں کی نسبت مصالحت کرلے،یہی حال ہے مال کی ایک جماعت کی بابت وصیت کا،جب وہ  ایک گواہ قائم کریں تو حلف اٹھانے والے کا حق ثابت ہوگااور جو حلف نہیں اٹھائےگا اسے حق نہیں ملےگا۔  

مسئلہ669:اگر مدعیوں کی جماعت کے درمیان اُن کے صغیر مورث کے لیے مال ہو ،مشہور ہےکہ اس کے ولی کے لیے اس کے حق کو ثابت کرنے کےلیےحلف نہیں ہے ،بلکہ اُس کا حصہ اس کے بالغ ہونے تک باقی رہے گا،اوراگر بچہ بالغ ہونے سے پہلے مرجائےتواس کاوارث اس کاقائم مقام ہوگا،اگرحلف دے توٹھیک ،نہیں تو اس کاکوئی حق نہیں ہوگا۔

اس مسئلہ کے فرض میں اشکال ہے،کیونکہ اگر اس کاولی اس کے حق کوجانتاہوتویہ گواہ ہے اوردوسرے گواہ کی گواہی سے حق ثابت ہوجائے گا،اگر اس کاولی اس کے حق کو نہ جانتاہو تواس کے لیےحلف اٹھانا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ670:جب کچھ وارث دعوی کریں  کہ میت نے ان پر اپنے گھر کووقف کیاہوا ہےجو نسل در نسل وقف چلے گا،اور اس کادوسرے وارث انکار کریں،اگر مدعی حضرات بینہ قائم کریں تووقفیت ثابت ہوجائے گی،یہی حکم ہے  جب ان کاایک گواہ ہواور سارے حلف اٹھائیں۔

اوراگر سارے لوگ حلف سے امتناع کریں تووقفیت ثابت نہیں ہوگی اور مدعا بہ مال قرض اور وصیت نکالنے کےبعد تقسیم کردیاجائےگا،اگر میت پرقرض ہویااس نے وصیت کی ہوئی ہو،اوراس کےبعد اس کے اقرارپرعمل کرتے ہوئے  مدعی وقفیت کے حصہ کی وقفیت کاحکم لگایاجائےگا۔

اگربعض مدعی حلف اٹھائیں،توحلف اٹھانے والے کو اس کاوقف والاحصہ مل جائے گا،پس اگر میت نے وصیت کی ہویااس پر قرض ہوتو وقف کو باقی  مال سے نکالاجائے گاپھراسے سارےورثاء میں تقسیم کردیاجائےگا۔

مسئلہ671:جب کوئی وارث حلف سے امتناع کرئےاورپھر حاکم کے حکم سے پہلے مرجائےتواس کاوارث اس کاقائم مقام ہوگا،اگراس نےحلف دیاتو اس کے حصہ میں وقف ثابت ہوگا،اوراگرحلف نہ اٹھائےتو وقف ثابت نہیں ہوگا۔

مسئلہ672:جواعیان مشترکہ ایسی ہوں جن کے اجزاء مساوی ہوتے ہیں ،ان میں تقسیم جاری ہوتی ہے،اور شریک کو حق حاصل ہے کہ اپنے شریک سے عین مال کی تقسیم کامطالبہ کرئے ،اوراسے شریک روکےتواسے تقسیم پر مجبور کیاجائے گا۔

مسئلہ673:ایسی اعیان جن کے اجزاء مساوی نہیں ہوتے ہیں ،اُن میں تقسیم کی تین صورتیں ہیں:

۱۔اس سے سب کونقصان ہوتاہو۔

۲۔اس سے کچھ کو نقصان ہوتاہو۔

۳۔اس سے کسی کو نقصان نہ ہوتاہو۔

پہلی صورت میں:جبرا ً تقسیم کرناجائز نہیں ہےاور یہ سب کی رضایت سے جائزہے۔

دوسری صورت میں:اگرنقصان اٹھانے والاتقسیم پرراضی ہوجائے توٹھیک ہے ، ورنہ اسے اس پر مجبور نہیں کیاجائے گا۔

تیسری صورت میں: تقسیم سے منع کرنے والے کوتقسیم پر مجبور کیاجائےگا۔

مسئلہ674:جب  دو میں سے ایک شریک تقسیم کاکہےتو دوسرے پر قبول کرنا ضروری  ہے،خواہ تقسیم افرازی ہویاتعدیلی ہو۔

اول۔تقسیم افرازی یعنی جب عین مشترکہ  قیمت کے لحاظ سے مساوی  اجزاء رکھتی  ہو،جیسے دانے،تیل،نقدی اوران کے ہمشکل۔

دوم ۔تقسیم تعدیلی یعنی جب   عین مشترکہ قیمت کے لحاظ سے مساوی اجزاء نہ رکھتی ہو جیسے کپڑے،گھر،دوکانیں ،باغات،حیوانات اور ان جیسے،ان میں اولا ً ضروری ہے کہ قیمت کےلحاظ سے حصوں کودرست کیاجائےمثال کےطورپر ایک کپڑا دینار کے مساوی ہواور دوکپڑے ہوں جن میں سے ہرایک کی قیمت نصف دینارہو تو پہلے کپڑے  کو سہم اول قراردیاجائےاور دوسرے دوکپڑوں کو سہم دوم قراردیاجائےپھر انہیں دو شریک آپس میں تقسیم کرلیں ۔

لیکن اگر تقسیم سوائے رد کرنے کے ممکن نہ ہوجیسے دولوگوں کے درمیان دو کاریں ہوں،ایک ہزاردینار کی ہواور دوسری ایک ہزارپانچ سودینار کی ہو،اس کی تقسیم سوائے رد کے نہیں ہوگی یعنی ان دونوں میں سے جو مہنگی کار رکھےگاوہ دوسرے کو دوسوپچاس دینار  واپس کرئےگا،اگر دونوں اس تقسیم پر راضی ہوں توٹھیک ہے ،اور اگر راضی نہ ہوں ،یعنی ان میں سے ہر مہنگی والی کاررکھناچاہے تو قرعہ کے ذریعہ سے مشکل حل کی جائے گی۔

مسئلہ675:اگردوشخصوں کے درمیان مشترک مال خارج میں تقسیم کےقابل نہ ہو ،اور اُن میں سے ایک تقسیم کا مطالبہ کرئےاوردونوں اس بات پر راضی نہ ہوں کہ ایک مال رکھ لےاوردوسرا قیمت دے دے،انہیں دو  کاموں میں سےایک پر مجبور کیاجائے گا:

۱۔قرعہ یعنی قرعہ ڈالاجائےکہ کون مال رکھےاور کون قیمت۔

۲۔مال فروخت کرکے قیمت آپس میں بانٹ لیں۔

مسئلہ676:اگرمال تقسیم افرازی یا تقسیم تعدیلی سے تقسیم کے قابل نہ ہو ، اور دو شریکوں میں سے ایک رد کے ذریعہ سے تقسیم کامطالبہ کرئے اور دوسرا شریک اس کی بات کو ماننے کے لیےتیار نہ ہو تواس دوسرے شریک کو مجبور کیا جائے گاکہ قرعہ ڈالاجائےتاکہ معین ہوجائے کہ عین مال کس نے رکھناہےاور قیمت کس نے لینی ہےاوراگر اس بات پرمجبور نہ کر سکتے ہوں توانہیں  فروخت کرنے پر مجبور  کیا جائے گا ، اوراس مال کی قیمت ان کے درمیان تقسیم کردی جائے گی،اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو حاکم شرعی یااس کاوکیل اس مال کو فروخت کرکے پیسے دونوں کے درمیان تقسیم کرئے گا۔

مسئلہ677:تقسیم عقد لازم ہے ،پس دو شریکوں میں سے کسی ایک کے لیے اس عقد کافسخ کرنا جائز نہیں ہے ،اگرچہ وہ دعوی کرئےکہ اس میں غلطی اوراشتباہ ہواہے ،اگر یہ بات بینہ سے ثابت کرئےتو ٹھیک ہے ،اور اسے ثابت نہ کرسکے تو اس کے دعوی کو سناہی نہیں جائے گا،ہاں اگر وہ دعوی کرئےکہ اس غلطی کا میرے شریک  کو بھی پتہ ہے،تواسے اختیارہے کہ شریک سے حلف لے کہ مجھے اس کاپتہ نہیں تھا۔

مسئلہ678:جب  مال کے تقسیم کرنے کے بعد پتہ چلےکہ کچھ مال کسی دوسرے شخص کاہے،اگروہ مال کسی ایک کے حصہ میں ہو تو تقسیم باطل ہوجائےگی ،اوراگر دونوں کے حصہ میں ہو اور مساوی ہو توتقسیم درست ہوگی اور اُن میں سے ہرایک کے پاس جس کا مال ہو وہ اسےواپس دےدے،اور اگراس کامال ان دونوں کےپاس مساوی صورت میں نہ ہو ،جیسے ایک کےحصہ میں دوثلث ہو اور دوسرے کے حصہ میں ایک ثلث ہو توبھی تقسیم باطل ہوجائےگی۔

مسئلہ679:جب وارث میت کے ترکہ کو آپس میں تقسیم کرلیں پھر پتہ چلے کہ میت پر کسی کاقرض ہے،پس اگر ورثاء  اس کے خاص اموال سے اس کے قرض کو اداکردیں یااسے قرض خواہ معاف کردےیاکوئی خوشی سے میت کا قرض چکتاکردےتو اُن کی تقسیم درست ہوجائے گی،اوراگرایسانہ ہوتو تقسیم باطل ہوجائےگی۔

پس اولا ً ضروری ہے کہ اس ترکہ سے میت کا قرض ادا کریں،پھر باقی کو تقسیم کریں ، اور وارث ایسا بھی کرسکتے ہیں کہ سابقہ تقسیم کو جائز قراردیں اور حساب کرکے اپنے اپنے حصوں سے میت کا قرض ادا کردیں۔

 

شارك استفتاء

باب قضاوت

مسئلہ632:قضاوت بہت بڑا الٰہی وظیفہ ہے،انبیاء و آئمہ طاہرین علیہم السلام کی میراث ہے ،امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

حکومت سے ڈرو کیونکہ حکومت امام کےلیے ہے جو قضاوت کو جانتاہے،جو مسلمانوں کے درمیان عدل کرتاہے،یہ نبی یا نبی کے وصی کاکام ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے قاضی شریح سےفرمایا:

اے شریح!تم ایسی جگہ پر بیٹھے ہوجہاں سوائے نبی یا نبی کےوصی یا بدبخت کے کوئی نہیں بیٹھتا ۔

عادل کی قضاوت سے لوگوں کے حقوق کاتحفظ ہوتاہے،لوگوں سے ظلم دور رہتاہے ،لوگوں کے درمیان امن امان پھیلتاہے،رعایا مطمئن رہتی ہےاورسلطنت صحیح چلتی ہے۔

نااہل قضاوت کرنے والوں کو بہت زیادہ ڈرایا گیاہے جو مجتہد جامع الشرائط کی مدد کے بغیر فیصلے کرتے ہیں کیونکہ مجتہد ہی امت کے امور کی سرپرستی کا متصدی ہوتا ہے۔

ہشام بن سالم کی صحیحہ روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام مروی ہے:

جب امیر المؤمنین علیہ السلام نے شریح کو قاضی بنایاتواس پر شرط لگائی کہ وہ فیصلہ کرنے میں جلد بازی نہ کرئےیہاں تک کہ اسے اس پر پیش کرئے۔

سالم بن مکرم جمال سے مروی ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

ایک دوسرے کامحاکمہ اہل ظلم و  جورکی طرف مت لے جاؤ،بلکہ  اپنوں میں سے کسی شخص کودیکھو جو ہمارے قول کے مطابق قضاوت جانتاہو،اسے اپنے درمیان قاضی قراردو،پس میں اسے تمہارے لیے قاضی قراردیتاہوں ،اپنا مقدمہ اس کے پاس لے جاؤ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

 حکم دو قسم کاہوتاہے:اللہ عزوجل کا حکم ،اور جاہلیت کاحکم ،پس جو اللہ کے حکم میں خطاء  کرتاہے وہ جاہلیت والا حکم صادر کرتاہے۔

اس مناسبت سے ہم ہراس شخص کوڈراتے ہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلہ  کرنے کےلیے متصدی بنتاہے،خواہ عدالت میں جج ہو یا پنچائتی فیصلہ کرنے والاہو،یا جو بازار میں تاجروں کے فیصلے کرتاہو۔

ہاں، ان کے فیصلوں کی تصحیح کی جاسکتی ہے،فیصلہ سنانے سے پہلے،ان کےسامنے شرعی  دینی جہت کو پیش کیاجائے،جیساکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شریح کےلیے شرط میں  بیان ہوچکاہے۔

 

 

شارك استفتاء

باب حدود و تعزیرات

حد:وہ سزاہے جس کی شریعت نے حدود مقرر کی ہےاوراسے اللہ تعالی نے  اس شخص  پر فرض قراردیاہے جو معین جرم کاارتکاب کرتاہےجیسے زنا ،شراب پینا،چوری کرنا،مرد کی مرد سے بدفعلی کرنا۔

اس کے مقابلے میں تعزیرہے،یعنی ایسی سزاجس کی شریعت نے حدبندی نہ کی ہو ، اس کی مقدار کا مقرر کرنا حاکم شرع پرچھوڑ دیاگیاہےجو حد کی مقدار تک نہ پہنچےاور اس کا تعلق جرائم  اور گناہ کے ساتھ ہوجو اُس سزا  کاغیرہے جس کے فاعل پر حد کی سزا دی جاتی ہے۔

شارع مقدس نے حدود جاری کرنے کااہتمام کیاہے اوراس کی بابت سستی کرنے والوں اور انہیں جاری کرنےکی قدرت رکھنے کےباوجود ترک کرنے والے کی مذمت کی ہے ۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اللہ عزوجل کےفرمان:یحیئ الارض بعد موتھا (سورہ روم آیت ۱۹) کی تفسیر میں روایت کی ہے:وہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتاہے،یہ بارش سے زمین کازندہ کرنانہیں ہے،بلکہ اللہ ایسے مرد بھیجے گاجو عدل و انصاف کو پسند کریں گے،جس کے زندہ کرنے سے زمین زندہ ہوگی اللہ کے لیے حدود کاقائم کرنا چالیس صبح بارشوں سے زیادہ سودمند ہے۔

رسول خداﷺ نے فرمایا:عادل امام سے استفادہ کی ایک گھڑی ،سترسال کی عبادت سے افضل ہے،وہ حد جسے اللہ کے لیےزمین میں قائم کیاجاتاہےچالیس صبح کی بارشوں سے افضل ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام سے مروی ہے:اےخدا! آپ نے اپنے نبی ﷺسے فرمایاہے،جس میں اپنے دین کے بارے میں خبر دی ہے،اے محمدﷺ جومیری حدود میں سے کسی حد کو معطل کرتاہے،اس نے مجھ سے دشمنی کی ،اور میری ضد اورشریک کو طلب کیا۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی شے کو نہیں چھوڑا جس کی امت قیامت تک نیاز رکھتی ہے ، مگراسے اپنی کتاب میں نازل کیاہے اوراپنے نبیﷺ کےلیے بیان کیاہے،اور ہرشےکےلیے حد کوقراردیاہے اوراس پر دلالت کرنے والی دلیل قراردی ہے ، اور حدود خدا سے تجاوز کرنے والوں پرحد کوقراردیاہے۔

شریعت میں حدود و تعزیرات کی سزاؤں کی تشریع کی حکمت اور فلسفہ یہ ہے کہ لوگ سےجرائم اور دشمنیوں کی روک تھام ہو،کیونکہ لوگ قانون کی طاقت سے ڈرتے ہیں ، عدل وانصاف اورلوگوں کے حقوق بچانے ،  پُر امن زندگی گزارنے کے قیام کےلیے حدود بنائی ہیں،اللہ تعالی نےفرمایا:اے صاحبان عقل تمہارے لیے قصاص میں زندگی  ہے(سورہ بقرہ آیت ۱۷۹)۔

جب یہ حدود وتعزیرات اورسارے اجتماعی احکام،مانند قضاوت اور امورامت کی ولایت  ،اس لیےتشریع نہیں ہوئےکہ کاغذ سیاہی سے کالے کیے جانے سے بچائے جائیں اور احکام چھٹی کرجائیں،دلیل یہ ہےکہ مناسب گواہ موجود نہ ہوں ، شارع مقدس نے حدود کے قائم کرنےکےلیے اس اہتمام کو دلیلوں میں سےایک دلیل قراردیاہے،جس سے دینی مجتہدین کےلیے لازم ہے جو معصوم ﷺ کی نیابت میں وظائف شرعیہ کوقائم کرتے ہیں،تاکہ ایسی وضع قائم کریں جو حدود کے اجراء میں مساعد و مددگار ہو،اسلامی حکومت کاقائم کرنا،اگر اس کی کامیابی کے مقومات پورے ہوجائیں،یا قائم حکومتوں کے اندر مؤثر قوت ایجاد کی جائےاوراس کے علاؤہ دوسرے طور طریقے ،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے لطف سے موفق فرمائے،جیساکہ اس کی بابت  مختلف  ادوار میں ہمارے علمائے عاملین قیام کیاہے۔   

مسئلہ631:حدود وتعزیرات اور تمام اجتماعی احکام کاقائم کرنا جامع الشرائط مجتہد کے وظائف میں سے ہے جو امور عامہ کا متولی ومتصدی ہوتاہے۔

دوسرےکسی کواس کی اجازت اور امر کے بغیر ، ان کے جاری کرنے کاحق نہیں ہے،سوائے خاص موارد کے !

 

شارك استفتاء

وراثت کے مختلف مسائل

مسئلہ623:وہ چیزیں جو مرنےوالے کے بڑے بیٹے کو ترکہ سے مفت دی جاتی ہیں، جن کو حبوہ کہتے ہیں:

۱۔باپ کاقرآن۔

۲۔باپ کی انگشتر۔

۳۔باپ کی تلوار۔

۴۔باپ کےبدن پر زیب تن کیے ہوئے کپڑے۔

لیکن جوکپڑے باپ نے تجارت اورکاروبار کےلیےرکھے ہوتے ہیں ،وہ بڑے بیٹے کےلیےمخصوص نہیں ہیں۔

اگرمرنے والے کے کپڑوں کےعلاؤہ دوسری چیزیں زیادہ ہوں،جیسے دو انگوٹھیاں ہوں توان سب چیزوں کے حبوہ ہونے میں اشکال ہے۔

اسی طرح رحل قرآن،بندوق ،خنجراوراسلحہ وغیرہ کے حبوہ ہونے میں اشکال ہے ، پس دوسرے ورثاء کےمقابلےمیں بڑے بیٹےکی مصالحت کی بابت احتیاط کو ترک نہ کیاجائے۔

مسئلہ624 :اگر میت پر قرضہ ہو،اور اس کاقرض اس کے مال کے برابر یااس سے زیادہ ہو تو   جو بڑے بیٹے کامخصوص مال ہے اور جس  کاذکر پہلےحبوہ کے عنوان میں  کیا گیاہے اس کے قرض کی ادائیگی کےلیے دےدینا، بڑے بیٹے پر واجب ہے۔

 اورجب اس کا قرض اس کے مال سے کم ہو،اگر  تزاحم کی صورت ہوتوبڑے بیٹے کے لیےضروری ہےکہ اپنے مخصوص مال سے قرضے کی نسبت سے ادائیگی کرئے ، اور اگر  تزاحم کی صورت نہ ہوتو بڑے بیٹے کے لیے احتیاط واجب یہ ہے کہ اپنے مخصوص مال سے قرضے کی نسبت ادائیگی کرئے،اوراگر میت کاقرض مجموع ترکہ کے نصف کے  مساوی ہو تو اُن مخصوص چیزوں کے نصف کو اس راہ میں صرف کرئے۔

میت کا کفن ،اور تجہیز کا خرچ جسے اصل ترکہ سے نکالاجاتاہے مذکورہ امور میں قرض کے حکم میں ہے۔

مسئلہ625:مرنے والامسلمان ہوتو ارث پانے میں وارث کامسلمان ہونا ضروری ہے،پس کافر مسلمان سے ارث نہیں پاتاہے،اگرچہ مسلمان کافرکاوارث ہوتاہے۔

اگر وارث اپنے مورِث کو جان بوجھ کر از روی ظلم قتل کرئے تو اس کی ارث نہیں پائے  گا،اوراگر یہ قتل خطائے محض ہو(جیسے شکاری پرندے کو پتھر مارے اوروہ اس کے مورِث کوجالگےجس سے وہ مرجائے)یا یہ قتل  خطائےشبیہ عمد کےہو(جیسے عام مار کوٹ کے ارادے سے اپنے مورث کو پیٹے جس سے وہ قتل ہوجائے)تویہ صورتیں  ارث پانے سے مانع اور رکاوٹ نہیں ہیں،ہاں  وہ اس کی دیت کاوارث نہیں ہوتاہے۔

مسئلہ626:جب کسی میت کے ہاں بچہ پیداہونے والاہو اگر زندہ پیداہوا تو میراث کاحق دار ہوگا،اس کی پیدایش سے پہلے ترکہ دوسرے وارثوں پر تقسیم کیاجاسکتاہے، لیکن اگر اطمینان نہ ہو کہ پیداہونے والا مولود لڑکی ہے تواحتیاط واجب ہے کہ ایک لڑکے یادولڑکوں بلکہ زیادہ لڑکوں کاحصہ جداکردیں،جب متعدد بچوں کے پیداہونے کا قابل اعتناء و پرواہ  احتمال ہو ،پس اگر بچہ پیداہواور جو ترکہ چھوڑا تھاوہ اس کے حصے سے زائد ہوتو جو مال اس سے زائد ہو وہ آپس میں اپنے حصوں کے مطابق  تقسیم کر لیں ۔

مسئلہ627:حرام زادہ  اور اس کے زانی ماں باپ کے درمیان وراثت نہیں ہے ، اور جو اِن دونوں کے قریبی ہوں ،ان کے درمیان وراثت نہیں ہے،پس یہ ان کا اوروہ اس  کے وارث نہیں ہیں۔

البتہ حرام زادہ اور اس کے وہ رشتہ دار جو زناکے رشتہ دار نہ ہو ،ان کے درمیان وراثت  ہوتی ہےجیسے اس کی اولاد اور پوتے ،نواسے۔

حرامی اور اس کی بیوی کے درمیان وراثت ہوتی ہےاور اگر بغیروارث کے مرجائےتو اس کی ارث امام علیہ السلام کےلیےہے۔

مسئلہ628:امام علیہ السلام اس کاوارث ہے جس کا نسبی یاسببی وارث نہ ہو ،اس سے ارث پانےکی سبیل خمس والےسہم امام علیہ السلام کی سبیل ہے،اس کا معاملہ امام علیہ السلام کی غیبت کےدور میں حاکم شرعی کے ہاتھ میں ہے،احتیاط لازم یہ ہےکہ اس کی بابت مرجع اعظم کی طرف رجوع کیاجائے جو جہات عامہ پر اطلاع رکھتاہے۔

مسئلہ629:اگر کوئی شخص ایک عرصہ تک غائب ہوجائے اور کسی کواس کی زندگی موت تک کاعلم نہ ہو ،پس اس کے اموال کاحکم یہ ہےکہ چار سال تک اس کاانتظار کیا جائےاور ان سالوں میں اسےحاکم شرعی کے اذن سے  تلاش کیاجائے،اور جب اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملے تواس کامال اس کے اُن وارثوں کےدرمیان تقسیم کر دیاجائے،جواس وقت اس سے رواثت پاتے،جب وہ انتظار کی مدت ختم ہونے کے وقت مرتا،اور اس کے ان وارثوں کے درمیان تقسیم نہیں کیاجائے گا جواس وقت اس سے وراثت پاتے ،جب وہ انتظار کی مدت ختم ہونے کے بعد مرتا۔

اگر ایساشخص اپنے مورث کاوارث بنے گاجو انتظار کی مدت کے ختم ہونے سے پہلے مرجائے اور ایساشخص اپنے مورث کاوارث نہیں بنے گاجو انتظار کی مدت کے ختم ہونے کے بعد مر جائے۔

نیز اس کے اموال کو اس کے لاپتہ ہونے سے دس سال بعد تقسیم کیاجاسکتاہے جس کےلیےاسے تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ630:جب وارث اور مورث مرجائیں اور دونوں کی موت کے بارے میں پہلے ،بعد میں ،ساتھ ساتھ کااحتمال ہویاپہلے کاعلم ہو اورپہلے والےکی بابت جہل ہوتو دونوں میں سے ہرایک دوسرے کاوارث بنےگا۔

اس کاطریقہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہرایک کو زندہ قراردیاجائےجس وقت دوسرے کی موت واقع ہو اور وہ جس شے کاموت کے وقت مالک ہواسے   وراثت سے قراردیاجائے  ،اوراسے وراثت سے قرارنہ دیاجائےجسے وہ دوسرے سے وراثت پائے گا۔

 

شارك استفتاء

بیوی اور شوہر کی میراث

مسئلہ617:اگرکوئی عورت مرجائےاوراس کی کوئی اولاد نہ ہو،تواس کے سارے مال کانصف حصہ اس کے شوہر کو اورباقی ماندہ اس کے دوسرے ورثاء کو ملتاہے اور اگراس عورت کی اس شوہر سے یاکسی اور شوہر سے اولاد ہوتوسارے مال کا چوتھائی حصہ شوہر کو اوربقیہ دوسرے ورثاء کوملتاہے۔

عورت کے لیے ارث میں خاص حکم ہے ،اس لیے کہ عورت کچھ اموال میں بالکل حصہ دار نہیں ہوتی ہے ،انہیں ارث میں نہیں پاتی ہے،اور نہ ہی اس مال کی قیمت لے سکتی ہے،اور وہ زمین ہے ،گھر کی زمین اور کھیتی باڑی والی زمین اور جوکچھ ان میں ہو،جیسے کھال وغیرہ ،اور کچھ  اموال ایسے ہیں جن کی عین ارث نہیں پاتی لیکن اس کی قیمت لیتی ہے یعنی خود مال لینے میں حق نہیں رکھتی ،اس کا اس کی مالیت میں حصہ ہوتاہے،اور وہ زمین میں لگے درخت ،کھیت اورگھر وغیرہ کے اندر کی عمارت ہے ، ان  اموال کی قیمت لگائی جائے اوراس سے بیوہ کوحصہ دیاجائے،اورقیمت حصہ دینے والے وقت کی معتبر ہے۔

اگر وارث قیمت دینے کی بجائے عین مال دےدیں،توبیوہ پر قبول کرناواجب ہے ، اس سے وہ عین مال میں وارث کے ساتھ شریک ہوجائے گی۔

اس کے علاؤہ ترکہ کی اقسام سے دوسرے اموال ،ان سے بیوہ دوسرے ورثاء کی طرح حصہ لےگی۔

جہاں بیوہ قیمت لیتی ہے ،قیمت لگانے میں جو معمول کےمطابق قیمت چل رہی ہو وہ اداکی جائے ،جیسے گھر اور باغ کی قیمت ان کی قیمت گزاری کرنے والے سے لگوائی جائے ،اور اسے دی جائے۔

مسئلہ618:تمام ورثاء کےلیے بیوہ کی وراثت میں اُس کی اجازت کے بغیر تصرف کرناجائز نہیں ہے،یہاں تک کہ قیمت والے حصہ میں بھی تصرف نہیں کرسکتےجیسے درخت اور مکان کی قیمت۔

مسئلہ619:اگر میت کی کئی بیویاں ہوں تو اُن پر ربع مال یاثمن مال تقسیم کیاجائے گا، اگرچہ اس نے اُن سب کے ساتھ یا کچھ کے ساتھ دخول نہ کیا ہو ،ہاں جس کے ساتھ  دخول نہ کیا ہو اور اس سے اپنی موت والی مرض میں شادی کی ہوتواس کانکاح باطل ہے،وہ عورت مہر اور ارث نہیں لےگی ،لیکن اگر کوئی شخص کسی عورت سے اس کی موت والی بیماری میں شادی کرئےتو شوہر اس سے وراثت پائے گااگرچہ اس نے دخول نہ کیا ہو۔

مسئلہ620:اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے دے تو عدت کےدوران ایک دوسرے کے وارث رہتے ہیں اور جیسےہی عدت ختم ہوجاتی ہے تو پھر وارث نہیں رہتے ہیں ،اسی طرح طلاق بائن میں ان کےدرمیاں وراثت نہیں ہوتی۔

مسئلہ621:اگرشوہر اپنی بیوی کو بیماری کی حالت میں طلاق دے دے اور سال(یعنی قمری بارہ مہینے )ختم ہونے سے پہلے مرجائےتو تین شرطوں کےپوراہونے سے بیوی شوہر کی وارث ہوجاتی ہے:

۱۔سال کے اثناء میں ،اس کے مرنے سے پہلے ،وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرئے۔

۲۔طلاق بیوی کےامر اوررضایت سے نہ ہوئی ہو خواہ عوض کے ذریعہ سے ہویابغیر عوض  کےہو۔

۳۔شوہر اس مرض میں مرےاوراس کی موت کا یہی مرض سبب بنےیااس کی موت  کاسبب کوئی اورشے ہو تواس کی بیوی اس کی وراثت نہیں پائے گی۔

مسئلہ622:وہ لباس اور دیگرچیزیں جوبیوی اپنے شوہر کی اجازت سےاستعمال کرتی ہے وہ بغیر تملیک کے بیوی کامال ہوتاہے،اوروہ ترکہ کاجزء ہے،سارے ورثاء اُس سے وراثت پاتے ہیں ،وہ بیوی کے لیےمخصوص نہیں ہیںْ۔

 

شارك استفتاء

تیسرے طبقے کی میراث

یہ طبقہ چند افراد پر مشتمل ہے:

چچا،پھوپھی،ماموں ،خالہ اور ان کی اولاد ،یعنی باپ یا ماں کے چچا اور پھوپھیاں ،اور ان کی خالائیں یاان سے سلسلہ نیچے چلاجائے جیسے چاچاؤں ،پھوپھیوں ماموؤں اور خالاؤں کی اولاد ،اس میں قاعدہ: قریب تر ،دورتر کےسامنے ر کاوٹ بنتاہے،کی رعایت کی جائے،اور اس طبقہ میں کچھ اور بھی خاص قواعد ہیں:

۱۔والدین کے چاچے اور پھوپھیاں ،فقط باپ کی طرف سے چاچے اور پھوپھیوں کے حاجب ہوتے ہیں ،فقط ماں کی طرف سے چاچے اور پھوپھیوں کے حاجب نہیں ہوتے  ہیں۔

۲۔والدین کے چاچے اور پھوپھیاں،اپنے حصوں کو یوں تقسیم کریں کہ مرد عورت سے دوگنا حصہ پائے،جب کہ ماموں، خالہ کی طرف سے برابر حصہ لیتی ہےاور یہ مسائل وضاحت کےلیے تطبیقی ہیں۔

۳۔جب  ماموں ،خالہ اورچچا، پھوپھی کاعنوان جمع ہوجائے توان کے افراد سے چشم پوشی کرتے ہوئے ،ماموں ،خالہ کے لیے ثلث ہےاورچچا، پھوپھی کےلیے دوثلث ہے ،اس کی تفصیل ان شاء اللہ آئے گی۔

مسئلہ613:چچا،پھوپھی کی طرف کی میراث کی صورتیں:

۱۔میت کاوارث ایک چچا یا ایک پھوپھی میں منحصر ہو پس سارا مال چچااور پھوپھی کے لیے ہے خواہ دونوں میت کے باپ کےساتھ باپ اور ماں میں مشترک ہوں (یعنی والدین کی طرف سے چچا اور پھوپھی)یا فقط باپ میں مشترک ہوں(یعنی باپ کی طرف سے چچااور پھوپھی)یا فقط ماں میں مشترک ہوں(یعنی ماں کی طرف سے چچااور پھوپھی)۔

۲۔ایک شخص مرجائے اور چاچے یا پھوپھیاں چھوڑ جائے،اور سب کےسب باپ کی طرف سے چاچے یا پھوپھیاں ہوں،یا ماں کی طرف سے یا ماں باپ دونوں کی طرف سے ہوں تو ان پر مال برابر تقسیم ہوگا۔

۳۔ایک شخص مرجائے اور چچا اور پھوپھی چھوڑ جائے ،جودونوں پدری ہوں یا دونوں  پدری مادری ہوں تو چچا پھوپھی سے دوگناحصہ پائےگا ،اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ چچا یا پھوپھی ایک ہو یاایک سے زیادہ ہوں۔

۴۔ایک شخص مرجائے اور مادری چاچے اور پھوپھیاں چھوڑ جائے،تواس صورت میں بھی دونوں کو مصالحت کی نصیحت کریں گے،تاکہ ان کے درمیان یوں تقسیم ہو کہ  مردعورت سے دوگنا حصہ پائے گا یا برابر تقسیم ہوگی۔ 

۵۔ایک شخص مرجائے اور چاچے ،پھوپھیاں چھوڑجائے،جن میں سے کچھ پدری مادری ہوں اور کچھ پدری ہوں  اور کچھ مادری ہوں تو پدری چاچے اور پھوپھیاں ارث نہیں پائیں گے،باقی ارث پائیں گے،جب میت کا ایک مادری چچا یا ایک پھوپھی  ہو تواسے سدس مال دیاجائے اور باقی پدری مادری چاچے پھوپھیاں ارث لیں گی،ان میں مرد عورت کادوگنا حصہ پائےگ۔

اورجب میت کا مادری چچاہو اور اس کے ساتھ مادری پھوپھی ہو ،تو ان دونوں کے لیے ثلث مال حصہ ہے ،ان کے درمیان تقسیم میں احتیاط کی رعایت کی جائےجس کی ہم نے ابھی نصیحت کی ہے۔

۶۔ایک شخص مرجائے اور چاچے،پھوپھیاں چھوڑ جائے،جن میں سے کچھ پدری ہوں اور کچھ مادری ہوں تو اس صورت میں باپ کا قریبی ماں باپ کے قریبی کا سابقہ  صورت میں قائم مقام ہوگا۔ 

مسئلہ614:تیسرے طبقے سے مامے اور خالائیں (جیساکہ گزرچکاہے)تو  اکیلا ماموں سارامال پائے گا اور دو ماموں اور ان سے زیادہ کےدرمیان  ترکہ برابر تقسیم کیاجائے گا، اور اکیلی خالہ سارا مال لے گی،یہی حکم ہے جب  دو خالہ اور کئی خالائیں ہوں ،اور جب مرداور عورتیں جمع ہوں جیسے میت کاایک یا زیادہ ماموں ہوں اور ایک  خالہ یازیادہ خالائیں ہوں (خواہ  پدری مادری ہوں یا پدری ہوں یا مادری ہوں)ان کےدرمیان ارث کےمساوی تقسیم ہونے ، یامردعورت سے دوگنا حصہ لینے میں اشکال ہےپس زیادہ میں مصالحت کی بابت احتیاط کوترک نہ کیاجائے،اور جب ان میں سے پدری قریبی اور مادری قریبی اور پدری مادری قریبی جمع ہوجائیں تو پدری قریبی کے سقوط (یعنی وہ ماموں جو میت کی ماں کے ساتھ فقط باپ میں متحد ہو )اور ارث کے باقیوں میں منحصر ہونے میں اشکال ہےپس مصالحت کےذریعہ سے  احتیاط کو ترک نہ کیاجائے،بہرحال مرد اورعورت کے مختلف ہونے میں گزشتہ  اشکال جاری ہوگاکہ تقسیم مساوی ہو یا مردعورت سے دوگناہ حصہ پائے،پس  مصالحت کےذریعہ سے احتیاط کو ترک نہ کیاجا ئے۔

مسئلہ615:جب چاچے ،پھوپھیاں ، ایک ہوں یازیادہ ہوں، ایک یازیادہ مامؤوں اور خالاؤں کے ساتھ جمع ہوں تو ترکہ تین حصوں میں تقسیم کیاجائے گا،ایک حصہ ماموں،خالہ کےلیے اوردوحصے چچا،ماموں کےلیے ہے اورجب میت کے چاچے اور مامے نہ ہوں توان کی ذریت ان کی قائم مقام ہوگی ،جیساکہ ہم نے بھائیوں کے بارے  میں ذکر کیاہے۔

مسئلہ616:جب میت کے ورثاء اس کے باپ کے چاچے اور پھوپھیاں اور ماموں اور خالائیں ہوں،اس کی ماں کے چاچے ،پھوپھیاں،ماموں،خالائیں ہوں تو ماں کے قریبی لوگوں کو ثلث مال دیاجائے گااور ان میں مساوی تقسیم ہوگی ، مردکے عورت سےدوگنا حصہ پانے میں اشکال ہےپس مصالحت کےذریعہ سے احتیاط کو ترک نہ کیاجا ئے۔

اور باقی ثلث باپ کے ماموں اوراس کی خالہ کو دیاجائےاور ان کے درمیان مساوی تقسیم کی جائےگی،اور باقی ماندہ باپ کے چچا اور اس کی پھوپھی کےلیےہے اور ان کے درمیان مساوی تقسیم یا مردکے عورت سے دوگنا حصہ پانے میں اشکال ہے ،پس مصالحت کےذریعہ سے احتیاط کو ترک نہ کیاجا ئے۔

اوراگر میت کے ان رشتہ داروں میں سے کوئی نہ ہو تو ارث ان کی ذریت کے لیے ہوگی ،اوراس میں اقرب فالاقرب کی رعایت کی جائے گی۔

بہترہےکہ اس مورد اور دیگر سارے مواردمیں حاکم شرع کی طرف رجوع  کیا جائے ،جن میں ہم نےہر وارث کے استحقاق میں احتیاط بتائی ہے۔

 

شارك استفتاء

بھائیوں اور اجداد کا اکٹھا ہونا

مسئلہ611:جب بھائی یا بہن یا کئی بھائی اور کئی بہنیں ،جد و جدہ یا اجدات اور جدات کےساتھ اکٹھے ہوجائیں تو اس کی میراث کی بابت چند صورتیں ہیں:

اول۔نانا یانانی ،بھائی یا بہن ماں کی طرف سے ہوں اس صورت میں ان کے درمیان  مال برابر تقسیم ہوتاہےاگرچہ یہ مذکر اور مؤنث کی حیثیت سے مختلف ہوں۔

دوم۔سب  کے سب باپ کی طرف سے ہوں توان کے درمیان مال مرد اور عورت کے مختلف ہونے کی صورت میں یوں تقسیم ہوگاکہ مرد عورت سے دوگناحصہ پائے گا،اوراگر سب مرد یاسب عورتیں ہوں تو ان میں مال برابر تقسیم ہوگا۔

سوم۔دادا یا دادی کےساتھ بھائی یابہن ماں باپ دونوں کی طرف سے ہوں تواس صورت میں وہی حکم ہے جو گزشتہ صورت میں بیان کیاہے،یعنی سگے بہن ،بھائی دادا دادی کے حاجب قرارنہیں پاتے اور اس کے عکس کابھی یہی حکم ہے اور یہ حکم خلاف ہے اُس کے جو پہلے گزر چکاہے یعنی جب میت کافقط پدری بھائی یا بہن ہو تواس کے لیے  ارث نہیں ہے جب اس کے ساتھ پدری مادری بھائی یا بہن ہو۔

چہارم۔دادےیادادیاں اور نانے نانیاں ہوں ،خواہ سب مرد ہوں یا سب عورتیں ہوں یامختلف ہوں  اور اسی طرح مادری و پدری بھائی اور بہنیں ہوں،اس صورت میں  مادری رشتہ دارترکے میں ایک تہائی حصہ پائیں گےجن کےدرمیان مال برابر تقسیم ہوتاہے،خواہ وہ مرداورعورت ہونے کی حیثیت سے مختلف ہوں  اور ان میں سے پدری رشتہ داردوتہائی حصہ پائیں گے،جن میں مرد عورت سے دوگناحصہ پاتے ہیں،اوراگر سب کے سب جنس میں مختلف نہ ہوں یعنی سب مرد یاسب عورتیں ہوں توان میں مال برابر تقسیم ہوگا۔

پنجم۔دادا یادادی ماں کی طرف سے بھائی،بہن کے ساتھ جمع ہوں تو اگر بہن یا بھائی ایک ہو تو بھائی یا بہن کو سدس مال حصہ ملےگا اوراگر زیادہ ہوں تو تیسراحصہ ان کے درمیان برابر تقسیم ہوتاہے اورجو باقی بچے وہ دادے یا دادی کا مال ہے،یہ ایک ہو یا متعدد ہوں  اوراگر دادا اور دادی دونوں ہوں تودادا  دادی کے مقابلے میں دوگنا حصہ پاتاہے،ایسا نہ ہو تو ان کے درمیان مال برابر تقسیم کردیاجائے ۔

ششم۔نانا نانی باپ کی طرف سے بھائی کے ساتھ جمع ہوں تو نانا نانی ایک ہو یا متعدد ہوں ان  کا ثلث حصہ ہے ،جو برابر تقسیم ہوگا، اور دوثلث بھائی کاحصہ ہےخواہ وہ ایک  ہی ہو،اور اگر زیادہ ہوں توان کے درمیان مال برابر تقسیم ہوتاہے ۔

اور  مردوعورت ہونے میں مختلف ہوں تو مرد عورت سے دوگناحصہ پائے گا۔

اوراگراس نانا یا نانی کے ساتھ باپ کی طرف سے  بہن ہواور اگر بہنیں دویازیادہ ہوں توان  کےلیے دوثلث  حصہ ہےاوراگربہن ایک ہی ہوتواس کے لیے نصف ہے اور  ہردو صورت میں دادےیادادی کاحصہ ثلث ہی ہےپس آخری صورت میں سب کے حصے دےکرترکے  کا سدس حصہ فریضہ سے زائد بچ جائے جس میں  احتیاط مصالحت  میں ہے۔

ہفتم۔دادے یادایاں ہوں  اور کچھ نانے اور نانیاں ہوں اور ان کے ساتھ پدری بھائی یا بہن ہو خواہ وہ ایک ہی ہو یا زیادہ ہوں تواس صورت میں ترکہ یوں تقسیم ہوگا:

 نانے یانانی کاحصہ ایک ثلث ہے اوراگر وہ زیادہ ہوں تویہ ان کےدرمیان برابر تقسیم ہوگا خواہ وہ مرد اورعورت کے لحاظ سے مختلف ہی ہوں اور باقی دوثلث دادے یادادی اور پدری بھائی یا بہن کا حصہ ہے اوراگر وہ مرداورعورت کے لحاظ سے مختلف ہوں تو فرق کے ساتھ اوراگر مختلف نہ ہوں تو ان میں برابر تقسیم کیاجائے گا۔

اوراگران دادوں ،نانیوں  یا دادیوں ،نانیوں کےساتھ مادری بھائی یا بہن ہوں تو نانا یا نانی کاحصہ مادری بھائی یا بہن کے ساتھ ایک ثلث ہے جوان میں برابر تقسیم ہوتا ہے،اگرچہ وہ مرد وعورت ہونے میں مختلف ہوں اوردادا یا دادی کاحصہ دوتہائی ہے جو ان کے درمیان مرد اور عورت کے اختلاف کی صورت میں فرق کے ساتھ ورنہ برابر تقسیم ہوتاہے۔

ہشتم۔ متفرق بھائی یا بہنوں کے ساتھ دادایادادی ہو تواس صورت میں مادری بھائی یا بہن اگر ایک ہوتواس  کے لیے سدس ہے،اوراگر زیادہ ہوں تو ثلث ہے ،اسے ان کے درمیان برابر تقسیم کیاجائے گا۔

اگرپدری بھائی یا بہن ،دادا یادادی کے ساتھ جمع ہوتوباقی مال اس کےلیےہوگاجومرد وعورت کے مختلف ہونے کی صورت میں مرد عورت سے دوگناحصہ پائےگااور اگر سب مرد ہوں یاسب عورتیں ہوں توان میں برابر تقسیم ہوگا،اوراگران کے ساتھ نانا یانانی ہوتو نانا یا نانی کے لیےثلث ہے جو بھائی یابہن کے ساتھ جمع ہو،ان کے درمیان مال برابر تقسیم ہوگا اورباقی پدری بھائی یابہن کےلیےہےان کے درمیاں ایک جیسے ہونے کی صورت میں برابر تقسیم ہوتاہے اور ایک جیسے نہ ہونے کی صورت  میں مرد عورت سے دوگناحصہ پائے گا۔

مسئلہ612:بھائی کی اولاد بھائی کے ساتھ کوئی شے ارث نہیں لیتے،پس سگے بھائی کا بیٹابھائی یا بہن کے ساتھ ہوتوارث نہیں پاتاہےاگرچہ وہ باپ کی طرف سے ہو یا فقط ماں کی طرف سے ہو،یہ تزاحم کی صورت میں ہوتاہے اوراگر تزاحم کی صورت نہ ہو جیسے مرنے والانانااورماں کی طرف سے بھائی کا بیٹا اورباپ کی طرف سے بھائی کو چھوڑ جائےتواس صورت میں بھائی کابیٹا ثلث میں نانے کےساتھ شریک ہوگااور بھائی کو دوثلث دیئے جائیں گے۔

 

شارك استفتاء

دادا ،دادی  اور ان سے اوپر کاسلسلہ،کی میراث

نانا ،نانی کے لیے ثلث ارث ہےاگر منفرد ہوں ،البتہ دادا،دادی کےلیے فرض نہیں ہے ،ماں کی طرف سے ترکہ کی تقسیم ان کے درمیان برابر ہوتی ہے اور باپ کی طرف  سے ترکہ کی تقسیم تفاضل کے ذریعہ سے ہوتی ہے یعنی مرد کے لیے عورت کی نسبت دوگناحصہ ہوتاہے۔

مسئلہ608:دادا،دادی  ارث کے دوسرے طبقہ سے ہیں،لیکن دادا،دادی کے ہوتے ہوئےپردادا،پردادی ارث نہیں لےسکتے ،دادا اوردادی کی ارث کی چند صورتیں ہیں ،ان میں سے کچھ کوذکرکرتے ہیں:

۱۔ مرنے والے کا دادا دادی یا نانا نانی کے علاؤہ کوئی وارث نہ ہو،توسارا مال دادا دادی یا نانا نانی  کاہوگا۔

۲۔مرنے والے کاوارث دادا دادی ہوں تو دادا کےلیے دوثلث اور دادی کے لیے ثلث ہے۔

۳۔مرنے والے کاوارث نانا نانی ہوں تو دونوں کےدرمیان مال برابر تقسیم ہوگا۔

۴۔مرنےوالے کاوارث دادا  دادی میں سے کوئی ایک اور نانا نانی میں سے کوئی ایک ہو،تونانایانانی کےلیےثلث ہے اورباقی دادا یا دادی  کےلیے ہے۔ 

۵۔ مرنے والے کاوارث دادا دادی اور نانانانی ہوں  تو دادا دادی کے لیے دوثلث ہے ،جس میں سے دادا دادی سے دوگنا حصہ پاتاہے،اورنانا نانی کےلیے ثلث ہے جو دونوں  کےدرمیان برابر تقسیم ہوگا۔

مسئلہ609:اگر مرد مر جائے اور اس کی بیوہ اور دادا دادی اور نانانانی ہو،تو نانا نانی کےلیےثلث ارث ہےجودونوں کےدرمیان برابر تقسیم ہوتی ہے،اور بیوہ اپناحصہ پائے گی ،اس تفصیل کے مطابق جو بیان ہوگی،اور باقی مال دادا دادی کے لیےہے ،دادادادی سے دوگناحصہ پائے گا۔

مسئلہ610:اگر عورت مرجائےاور شوہر و جد وجدہ کوچھوڑ جائےتونصف مال شوہرکےلیےہے اور باقی جد و جدہ کا اپنی صنف کے اعتبار سے ہوگا،اگروہ دادا دادی ہوں یا نانا نانی ہوں تو سابقہ تفصیلات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

 

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف