بیوی اور شوہر کی میراث
بیوی اور شوہر کی میراث
مسئلہ617:اگرکوئی عورت مرجائےاوراس کی کوئی اولاد نہ ہو،تواس کے سارے مال کانصف حصہ اس کے شوہر کو اورباقی ماندہ اس کے دوسرے ورثاء کو ملتاہے اور اگراس عورت کی اس شوہر سے یاکسی اور شوہر سے اولاد ہوتوسارے مال کا چوتھائی حصہ شوہر کو اوربقیہ دوسرے ورثاء کوملتاہے۔
عورت کے لیے ارث میں خاص حکم ہے ،اس لیے کہ عورت کچھ اموال میں بالکل حصہ دار نہیں ہوتی ہے ،انہیں ارث میں نہیں پاتی ہے،اور نہ ہی اس مال کی قیمت لے سکتی ہے،اور وہ زمین ہے ،گھر کی زمین اور کھیتی باڑی والی زمین اور جوکچھ ان میں ہو،جیسے کھال وغیرہ ،اور کچھ اموال ایسے ہیں جن کی عین ارث نہیں پاتی لیکن اس کی قیمت لیتی ہے یعنی خود مال لینے میں حق نہیں رکھتی ،اس کا اس کی مالیت میں حصہ ہوتاہے،اور وہ زمین میں لگے درخت ،کھیت اورگھر وغیرہ کے اندر کی عمارت ہے ، ان اموال کی قیمت لگائی جائے اوراس سے بیوہ کوحصہ دیاجائے،اورقیمت حصہ دینے والے وقت کی معتبر ہے۔
اگر وارث قیمت دینے کی بجائے عین مال دےدیں،توبیوہ پر قبول کرناواجب ہے ، اس سے وہ عین مال میں وارث کے ساتھ شریک ہوجائے گی۔
اس کے علاؤہ ترکہ کی اقسام سے دوسرے اموال ،ان سے بیوہ دوسرے ورثاء کی طرح حصہ لےگی۔
جہاں بیوہ قیمت لیتی ہے ،قیمت لگانے میں جو معمول کےمطابق قیمت چل رہی ہو وہ اداکی جائے ،جیسے گھر اور باغ کی قیمت ان کی قیمت گزاری کرنے والے سے لگوائی جائے ،اور اسے دی جائے۔
مسئلہ618:تمام ورثاء کےلیے بیوہ کی وراثت میں اُس کی اجازت کے بغیر تصرف کرناجائز نہیں ہے،یہاں تک کہ قیمت والے حصہ میں بھی تصرف نہیں کرسکتےجیسے درخت اور مکان کی قیمت۔
مسئلہ619:اگر میت کی کئی بیویاں ہوں تو اُن پر ربع مال یاثمن مال تقسیم کیاجائے گا، اگرچہ اس نے اُن سب کے ساتھ یا کچھ کے ساتھ دخول نہ کیا ہو ،ہاں جس کے ساتھ دخول نہ کیا ہو اور اس سے اپنی موت والی مرض میں شادی کی ہوتواس کانکاح باطل ہے،وہ عورت مہر اور ارث نہیں لےگی ،لیکن اگر کوئی شخص کسی عورت سے اس کی موت والی بیماری میں شادی کرئےتو شوہر اس سے وراثت پائے گااگرچہ اس نے دخول نہ کیا ہو۔
مسئلہ620:اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے دے تو عدت کےدوران ایک دوسرے کے وارث رہتے ہیں اور جیسےہی عدت ختم ہوجاتی ہے تو پھر وارث نہیں رہتے ہیں ،اسی طرح طلاق بائن میں ان کےدرمیاں وراثت نہیں ہوتی۔
مسئلہ621:اگرشوہر اپنی بیوی کو بیماری کی حالت میں طلاق دے دے اور سال(یعنی قمری بارہ مہینے )ختم ہونے سے پہلے مرجائےتو تین شرطوں کےپوراہونے سے بیوی شوہر کی وارث ہوجاتی ہے:
۱۔سال کے اثناء میں ،اس کے مرنے سے پہلے ،وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرئے۔
۲۔طلاق بیوی کےامر اوررضایت سے نہ ہوئی ہو خواہ عوض کے ذریعہ سے ہویابغیر عوض کےہو۔
۳۔شوہر اس مرض میں مرےاوراس کی موت کا یہی مرض سبب بنےیااس کی موت کاسبب کوئی اورشے ہو تواس کی بیوی اس کی وراثت نہیں پائے گی۔
مسئلہ622:وہ لباس اور دیگرچیزیں جوبیوی اپنے شوہر کی اجازت سےاستعمال کرتی ہے وہ بغیر تملیک کے بیوی کامال ہوتاہے،اوروہ ترکہ کاجزء ہے،سارے ورثاء اُس سے وراثت پاتے ہیں ،وہ بیوی کے لیےمخصوص نہیں ہیںْ۔