اساسى | | رسالہ عمليہ | باب روزہ
باب روزہ

شارك استفتاء

 روزےکےدیگرمسائل:

مسئلہ 344:روزہ مستحبات مؤکدہ میں سے ہے،روایات میں آیاہے کہ روزہ جہنم کی آگ کے سامنے ڈھال ہے،روزہ بدن کی زکات ہے،روزہ کے وسیلہ سے بندہ جنت میں داخل ہوگا،روزے دار کاروزہ عبادت ہےاورسانس وخاموشی تسبیح ہے اور عمل قبول  ہوتاہے اور دعا مستجاب ہوتی ہے اورروزہ دار کے  منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے بہتر ہے اور اس کے لیےافطار تک فرشتے دعاکرتے رہتے ہیں ،اس کے لیے دوخوشیاں  ہوتی ہیں، ایک افطار کے وقت اورایک خوشی اس وقت ملے گی جب اللہ تعالی سے ملاقات کرئےگا۔

مسئلہ345:حرام روزے:

1۔عیدالفطر کے دن کاروزہ، جو ہرسال کی یکم شوال ہے۔

2۔عیدقربان کےدن کاروزہ ،جو ہرسال دس ذی الحجہ کادن ہے۔ 

مسئلہ346:احوط ہےکہ بیوی شوہرکی اجازت کے بغیر خوشی بخوشی والاروزہ نہ رکھے،اگرچہ اس کے لیے ایساروزہ رکھناجائزہے، جب شوہر کواس کے حق سے منع نہ کرئے اور احتیاط کوترک نہ کرئے،جب اسے اس کا شوہر ایساروزہ رکھنے سے منع کر دے تووہ روزہ کوترک کردے۔

 

شارك استفتاء

ماہ رمضان کے قضاء روزوں کے احکام :

مسئلہ337:جب  کسی سے ایک ماہ کے کئی دنوں کےروزے فوت ہوجائیں تواس پر ان کی تعیین کرنا اور ترتیب دینا واجب نہیں ہے ۔

مسئلہ338:جب کسی سے بیماری کی وجہ سے  پورےماہ رمضان  کے روزے یا اس کے کچھ روزے فوت ہوجائیں ،اور وہ اگلے ماہ رمضان تک بیمار ہی رہے ،تو ہر دن کے بدلے ایک مد(چودہ چھٹانک )فدیہ دے،اس سے قضاء ساقط ہوجائےگی۔

مسئلہ339:جب کوئی شخص جان بوجھ کر ماہ رمضان میں کچھ روزے یاسارے روزے چھوڑ دے اور اگلے ماہ رمضان تک جان بوجھ کر قضاء بجانہ لائے تو فدیہ کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا۔

مسئلہ340:ایک ماہ  یا کئی مہینوں کے متعدد دنوں کافدیہ ایک شخص کودینا جائز ہے۔

مسئلہ341:سنتی روزے کو غروب تک افطار کردیناجائز ہے،اور ماہ رمضان کے اپنے قضاء شدہ روزے کی  قضاء  کو زوال کے بعد افطار کردیناجائز نہیں ہے،بلکہ گزر چکا ہے کہ اس پر کفارہ بھی واجب ہوجائے گا،البتہ ایسے روزے کو زوال سے قبل افطار کرسکتاہے۔

مسئلہ342:کفارہ جمع میں اور کفارہ تخییر میں ،  دوماہ پےدرپے روزے رکھنا واجب ہوتے ہیں، اس کے حصول میں ماہ اول کے سارے روزے اور ماہ دوم کاایک دن کاروزہ پےدرپےرکھنے سے  پےدرپےکاحکم حاصل ہوجاتاہے ،بشرطیکہ  بقیہ روزوں کو پےدرپے نہ رکھ سکنے میں عرف کی نظر میں قابل قبول عذررکھتا ہو۔

مسئلہ343:جب کسی شخص پر پے درپے روزے رکھنے واجب ہوں تواس کے لیے جائز نہیں ہے کہ انہیں ایسے زمانے میں شروع کرئے جس میں جانتاہوکہ بیچ میں روزے کی بابت  حرام دن آجائے گا مثل عید کادن یا جس دن افطارکرناواجب ہوجاتاہےمثل زیارت کے سفر کےلیے نذر معین کادن۔

 

شارك استفتاء

ثبوت ہلال:

متعدد طرق سے چاند ثابت ہوتاہے:

اول۔خود چانددیکھے،اگرچہ دوسروں کےنزدیک چاند ثابت نہ ہو۔

دوم۔اس کے مرجع تقلید کے نزدیک چاندثابت ہو۔

سوم۔دوعادل مرد چاند کے دیکھنے کی گواہی دیں۔

چہارم۔سابقہ ماہ کے تیس دن پورے ہوجائیں،اگر سابقہ ماہ شعبان ہو تو رمضان کا چاند ثابت ہوجائے گا،اوراگر سابقہ ماہ رمضان ہو تو شوال کا چاند ثابت ہوجائے گا ۔

مسئلہ336:جب  زمین کے ایک ملک یاعلاقہ  میں چاند نظر آجائے،جس  میں  آئمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں ،اسلامی حکومت کی تشکیل دی جاچکی تھی ،اور وہ علاقہ مشرق کی جانب سے چین سے لےکر اندلس تک ہے اور مغرب کی جانب سے غرب تک ہے تو دوسرے ملک میں چاند کاثبوت کافی ہوگا،چشم پوشی کرتے ہوئے   ،اس سے کہ ان دونوں ملکوں کاافق ایک ہویا ان کاافق ایک نہ ہو ،یاایک ملک دوسرے کاشرق ہویا غرب ہو۔

جب غیرمسلم ممالک میں چاند دکھائی دے جیسے امریکہ اور غرب  ،توجس ملک میں چاند نظر آئے ، اس کے ہم افق ملک میں چانداورماہ ثابت ہوگا،اوردوسرے ملکوں میں چاند اور ماہ ثابت نہیں ہوگا ،جب تک کہ اس ملک میں چاند نظر نہ آئے۔

 

شارك استفتاء

جن موارد میں روزہ کے نارکھنے میں رخصت ہے:

چند قسم کے اشخاص کےلیے روزہ نہ رکھنے کی رخصت اور اجازت ہے:

1۔ بوڑھا،بوڑھی ،پیاس کامریض ،جب ان کےلیے روزہ رکھنا دشوار ہو یاحرج کا باعث ہو ،ان پر بناء بر احتیاط ، ہردن کے بدلے میں ایک مد کھانا فدیہ دینا واجب ہے ،  افضل ہےکہ فدیہ گندم سے دیاجائے،بلکہ فدیہ دومد ہو ،بلکہ یہی احتیاط مستحب ہے  اورظاہراً، ان پر  قضاء کاواجب نہ ہونا ہے۔

2۔حاملہ عورت جس کاحمل  بچہ جننے کےقریب ہو،جو اس حالت میں روزہ رکھے تو ماں یا بچے کو نقصان ہوتاہو،اور دودھ پلانے والی جس کادودھ کم ہو ،روزہ رکھے تو ماں کویابچے کو نقصان ہوتاہو توان پر عذر ختم ہونےکےبعد قضاء واجب ہے ،جس طرح  اگر ماں پر یا بچےپر نقصان ہوتاہوتو حاملہ اور دودھ پلانے والی  پر قضاء کے ساتھ فدیہ بھی ہے  ،فدیہ میں مدسے سیر کروانا مجزی نہیں ہے ،ان کے موارد کے درمیان  کوئی فرق نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

روزے کی صحت کے شرائط:

روزے کی صحت کے چند شرائط ہیں:

اول۔اسلام۔

دوم۔عقل۔

سوم۔عورت کاسارے دن میں حیض و نفاس سے خالی ہونا۔

چہارم۔طلوع فجر کے وقت جانتے بوجھتے ہوئےجنب کی حالت میں نہ ہو۔

پنجم۔مسافر نہ ہو ،ایسےسفرمیں نہ ہو  جو نماز کے قصر ہونے کا باعث ہوتاہے۔

مسئلہ333: ایسے مسافر کاروزہ رکھنا صحیح ہے جوسفر میں نماز پوری پڑھ رہا ہے ،وہ روزہ واجب ہویا مستحب ہو،جیسےوہ شخص ایک جگہ اقامت کی نیت رکھتاہو ،اور وہ مسافر جس کا سفر معصیت پر ہو ،اور وہ شخص جس کاعمل سفر میں ہو اور اس کے علاؤہ دوسرے لوگ جو سفر میں نمازپوری پڑھتے ہیں ۔ 

ششم۔بیمار نہ ہو،ایسی بیماری جس کے ہوتے ہوئے انسان روزہ نہ رکھ سکتاہو اگرچہ اس کا قابل پرواہ احتمال ہو۔

ہفتم۔روزے سے عسروحرج لازم نہ آئے،جیسےروزہ  رکھنے سے سخت بیمار پڑھ جائے گا۔

مسئلہ334:جب طبیب کےقول سے گمان پیداہو کہ مریض  روزہ رکھے گاتو اسے ضرر پہنچے گا  یا اس کا خوف ہو تو اس صورت میں مریض کےلیے روزے کاافطار کرنا واجب ہے۔

مسئلہ335: جب مریض زوال سےقبل صحتیاب ہوجائےاور روزہ کو باطل کرنے والے امور میں سے کوئی کام نہ کیاہو تواحوط ہےکہ  روزہ کے لیے تجدیدنیت کرئےاور رجائے مطلوبیت کی نیت سے روزہ کوجاری رکھےاور اس دن کے روزے کی قضاء بھی کرئے۔

ہشتم۔بالغ ہو،بالغ ہونےسے قبل بچے پر روزہ رکھناواجب نہیں ہے ،اگرچہ وہ ممیز ہی کیوں نہ ہو ،اگر روزہ رکھے گاتو اس کاروزہ صحیح ہوگا جس طرح دوسری عبادات ممیز بچے کی صحیح ہوتی ہیں۔

 

شارك استفتاء

جن موارد میں صرف قضاء واجب ہے:

مسئلہ 332:چند موارد میں صرف  قضاء واجب ہے:

اول۔مجنب شخص جو  سویارہے یہاں تک کہ صبح ہوجائے،اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔

دوم۔جب  کوئی شخص اپنے روزے کو نیت میں خلل ڈالنے کی وجہ سے باطل کردے اور روزہ کو باطل کرنے والے امور میں سے کسی کواستعمال نہ کرئے۔

سوم۔احتیاط واجب کی بناء پر ،جب کوئی شخص غسل جنابت کو بھول جائے اور ایک دن یاکئی دن گزر جائیں۔

چہارم۔جب طلوع فجر کے بعد طلوع کی بابت مراعات اور حجت کا خیال کئے بغیر روزہ کوباطل کرنے والے امور میں سے کسی کواستعمال کرئے ،لیکن اگر طلوع فجر پر حجت قائم ہوجائے تو قضاء اور کفارہ دونوں واجب ہوگا۔

پنجم۔رات کے داخل ہونے سے قبل افطار کرنا ،یہ اندھیرے کی وجہ سے ہو جس سے گمان کرئے کہ رات ہوگئی ہےاورآسمان میں بادل نہ ہوں۔

ششم۔کلی وغیرہ سے پانی کامنہ میں داخل کرنا،یہ استحباب شرعی ہے یا کسی اور غرض سے ایساکرئےاور پانی پیٹ کے اندر چلاجائے،یہ قضاء کاموجب ہے ،اس پر کفارہ نہیں ہے ۔

ہفتم۔ملاعبت(بیوی سے بوس و کنارکرنے) سے منی کا خارج  ہونا ،اگر وہ منی کے نکلنے کاقصد نہ رکھتاہو اور ناہی اس کی یہ عادت ہوکہ ایسے کام سے منی خارج ہو جاتی ہو۔

 

شارك استفتاء

ماہ رمضان کے قضاء روزے کوزوال کے بعدتوڑنے کاکفارہ:

دس مسکینوں کو کھاناکھلانا ،اور ہر مسکین کو ایک مد کی مقدار کھانا دیاجائے،اگر اس پر قدرت نہ رکھتا ہو تو تین دن روزے رکھے۔

نذر معین کے روزہ کوتوڑنے کاکفارہ:

قسم کا کفارہ ہے۔

 

قسم کاکفارہ:

 غلام آزاد کرنا،یا دس مسکینوں کو ایک ایک مد کھاناکھلانا ،یا دس مسکینوں کو لباس پہنانا،اس سے عاجز ہو تو تین دن روزے رکھنا ۔

مُد کے بدلے میں ایک وقت کاپیٹ بھر کھانا کھایا جاسکتاہے۔

مسئلہ325:موجب کفارہ کے تکرارسے کفارہ متکرر ہوجاتاہے،دودن میں تکرار کیاجائے نہ کہ ایک دن کاتکرار مگر احتیاط مستحب کی بناء پر جماع اور استمناء میں ،ان دونوں کے تکرارسے کفارہ کا تکرارہوگا۔

(استمناء: یعنی ایساکام کرناجس سے منی خارج ہوجائے)اور جوشخص تینوں کفاروں کو اداکرنے سے عاجز ہو اس کے لیے احتیاط واجب  ہےکہ پشیمانی کی حالت میں استغفار کرئے اور پختہ عزم وارادہ کرئے کہ آیندہ روزے کو نہیں توڑے گااور حسب طاقت صدقہ دے اور جب کفارہ  دینے کی حیثیت ہوجائے تو احوط ہےکہ کفارہ بھی اداکرئے،مگر یہاں احتیاط کے واجب ہونے میں اشکال ہے۔

مسئلہ326:اگر حرام  شےکے ذریعہ روزہ توڑے مانند شراب ،سور کا گوشت ، زنا،حرام استمناء(مشت زنی) تو بناء بر احتیاط کے ،گزشتہ بیان کردہ تینوں کفارے اکٹھے دے۔

مسئلہ327:جب جان بوجھ کر روزہ توڑدے اور پھر زوال سے قبل سفر اختیار کرئے خواہ روزہ توڑتے وقت سفر کاارادہ رکھتاتھایا روزہ توڑتے وقت سفر کاارادہ نہیں رکھتاتھا ،اُس پر کفارہ واجب ہوگا۔

مسئلہ328:کھلانے والے کفارہ کامصرف فقراء ہیں ،یا اُنہیں بلاکر پیٹ بھر کے کھانا کھلایاجائے یا اُنہیں کھانادےدیاجائے جو اُن کے ایک وقت کےلیےکافی ہو رہے یااُس کی قیمت اُنہیں دے دی جائے،اوراُن سے شرط اور قید لگائے کہ ان پیسوں  کو کھانے ہی میں استعمال کیاجائے۔

مستحق کفارہ پر واجب نہیں ہے کہ وہ کھانا کھائے بلکہ وہ اسے فروخت کرکے اس سے حاصل شدہ پیسوں کو اپنی شخصی ضروریات میں استعمال کرسکتاہے۔  

مسئلہ329:ہاشمی  اور غیر ہاشمی ،ہاشمی اور غیرہاشمی کوکفارہ اور فدیہ دےسکتے ہیں۔

مسئلہ330:اگر کئی شخص میسر ہوں تو ایک ہی شخص کو دومرتبہ یازیادہ مرتبہ کھاناکھلانامجزی نہیں ہے یاایک ہی شخص کو دومُد یازیادہ دینامجزی نہیں ہے ،بلکہ ساٹھ لوگوں  کوہی  دینااور کھلانا ضروری ہے مگر جب ساٹھ مسکین تلاش کرنے مشکل ہو تو تکرار جائز ہے(یعنی اس صورت میں ایک ہی شخص کودویااس سے زیادہ مقدار دی جاسکتی ہے)۔

مسئلہ331:شریعت کی روسے فقیر وہ ہے جواپنااور اپنے عیال کا سال بھر کا خرچہ نہ رکھتا ہو ،نہ قوۃ ً اور نہ ہی فعلاً ،خواہ اس کے عیال واجب النفقہ ہوں یا واجب النفقہ نہ ہوں ،اس حیثیت سے کہ اس کےلیے اُنہیں چھوڑدینا یا دوسروں کی طرف دھکیل دینامناسب نہ ہو۔

شارك استفتاء

روزے کاکفارہ

کفارہ ،تب واجب ہوتاہےجب روزہ کوباطل کرنے والےامورمیں سے کسی ایک کو جان بوجھ کر انجام دیاجائے،جب روزہ ایساہوکہ جس میں کفارہ واجب ہو جاتا ہے ،جیسے ماہ رمضان  اوراس کی قضاء کا زوال کے بعد روزہ،اور نذر معین کاروزہ۔

مسئلہ324:ماہ رمضان  کےروزہ کوتوڑنے کاکفارہ:

غلام آزاد کرنایا دوماہ پےدرپےروزے رکھنایاساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلانا۔

ہر ایک مسکین کو ایک مد طعام دےجو تین پاؤ سے کم ہے یعنی سیر کے حساب سے چودہ چھٹانک ،آٹا اور کھجور دی جائےپس جب یہ مقداراداکردے تو کافی ہوگااور کفارہ اداہوجائے گا۔

 

شارك استفتاء

جن چیزوں سے روزہ باطل ہوجاتاہے

 چند چیزوں سے روزہ باطل ہوجاتاہے:

اول ۔  ہرشےکھانا۔

دوم۔ہرشے کاپینا۔

اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو،یاایسی شےہو جو عادۃ ً کھائی،پی  نہ جاتی ہوجیسے مٹی اور کاغذ۔

سوم ۔جماع ،انزال ہویاانزال نہ ہو،قُبل میں ہویادُبر میں ہو ،فاعل ہویا مفعول ہو ،زندہ ہویا مردہ ہو ،یہاں تک کہ بناء بر احتیاط واجب کے اگرچہ چوپاہاہو۔

چہارم۔جھوٹ،اللہ تعالی اور رسول خداﷺ یاآئمہ طاہرین علیہم السلام ،اگرچہ ان میں سے کسی ایک پر جھوٹ باندھے،چہ جائیکہ زیادہ ہستیوں پر جھوٹ بولے ، بلکہ احوط ہےکہ ان حضرات کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو ملحق کیاجائے۔

مسئلہ308:ماہ رمضان  ،قرآن مجید کی بہار ہے،مؤمنین کےلیے سزاوار نہیں ہےکہ وہ اس ماہ میں  قرآن مجید کی تلاوت میں کوتاہی کریں ، اگر اس کی قرائت دقیق قواعد کے مطابق نہ کی جائے ،تو یہ  اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ  پر جھوٹ نہیں ہوگا ، جب تک کہ   قرائت کی یہ  مقدارحُسنِ قرائت سے ہو،اور جان بوجھ کر خطاء کی اللہ تعالی کی طرف نسبت نہ دی جائےاوراس  خطاء سے معنی تبدیل بھی نہ ہو۔

پنجم۔سارے سر کا پانی میں ڈبونا ،اگرچہ گردن کے  بغیر ہو،اس میں فرق نہیں ہے کہ ایک ہی دفعہ ڈبوئے یاتھوڑا تھوڑا کرکے ڈبوئے۔

مسئلہ309:جب روزہ دار جان بوجھ کر غسل کی نیت سے پانی میں غوطہ لگائے ، اگر بھول گیاہوکہ میں روزے سے ہوں تو اس کاروزہ اور غسل دونوں صحیح ہوں گے ، اوراگر اسے یاد ہوکہ میں روزے سے ہوں اور روزے کی حالت میں غوطہ لگانا حرام  ہے ،اگر ایسا ماہ رمضان میں ہوتواس کا روزہ اور غسل دونوں باطل ہوں گے۔

ششم۔جان بوجھ کر غلیظ غبار کا حلق سے  پیٹ کی طرف پہنچانا ،بلکہ احوط ہےکہ جو غبار  غلیظ نہ ہو اور ا س کی پرواہ کی جاتی ہو ، اسے بھی پیٹ کی طرف پہنچایا نہ جائے ، اس میں فرق نہیں ہے وہ خاک ہو یاکوئی اور شے ،جس کے اجزاء سخت ہوں،جیسے آٹے کی چکی کاغبار اور لکڑی کے آرے کاخاکہ۔

مسئلہ310:احتیاط مستحب ہے کہ اس کے ساتھ دُھوئیں اور بخارات کو ملحق کیا جائے،جب وہ کثیف نہ ہو ں،اور جب صورت حال ایسی ہو جیسی حُقہ والوں کی ہوتی ہے تویہ احتیاط واجب ہوجائے گی۔

ہفتم۔      طلوع فجر تک جان بوجھ کے جنابت پر باقی رہنا ،ماہ رمضان  اور اس کی قضاء ۔

مسئلہ311:اگر طلوع فجر تک جان بوجھ کے جنابت پرباقی نہ رہے جیسے سویارہ گیا یابھول گیایا مجبورکیاگیاتو اقوی ہےکہ اس کاروزہ باطل نہیں ہے ،یہ رمضان کاروزہ ہویا کوئی دوسرامعین واجب روزہ ہو ۔

ماہ رمضان کی قضاءمیں،احتیاط مستحب یہ ہے کہ مستحبی روزے اور اس کے غیرکی قضاء کی نیت کی طرف عدول کرئے،  اگر چہ جان بوجھ کر جنب کی حالت میں صبح نہ کرئے۔

مسئلہ312:روزہ  خواہ واجب ہویامستحب معین  ہویاکوئی اورہو،دن میں احتلام ہوجانے کی صورت میں باطل نہیں ہوتاہے،اگر طلوع فجر تک جان بوجھ کر مس میت کے حدث پر باقی رہے تب بھی روزہ باطل نہیں ہوتاہے،دن میں میت کوعمداً  مس کرنے سےبھی  روزہ باطل نہیں ہوتاہے ۔

مسئلہ313:جب کوئی شخص رات میں  ایسے وقت ،جان بوجھ کر مجنب ہو جائے ،جس میں غسل یاتیمم کرکے روزہ نہ رکھ سکتاہو،یعنی وقت وسیع نہ ہو ،تو ایساشخص جان بوجھ کر جنابت پر باقی ہوگا (جس کاحکم پہلے بیان کردیاہے)،ایساشخص تیمم کرکے روزہ رکھ سکتاہوتواُس پر واجب ہے کہ تیمم کرکے روزہ رکھے،اس کاروزہ صحیح ہوگا، اور اگر عمداً تیمم نہ کرئے تواس پر قضاء اور کفارہ واجب ہے۔

مسئلہ314:احوط ہے کہ حیض اور نفاس کاحدث، جنابت کی مانند ہےیعنی جان بوجھ کر ان پر باقی رہناروزے کوباطل کرتاہےاور اگر خون ایسے وقت میں بند ہو جس میں غسل یاتیمم کرکے روزہ نہ رکھ سکتی ہو یااسے خون کے بند ہونے کاعلم طلوع فجر کے بعد ہوتو ان کاروزہ  تجدید نیت کے ساتھ صحیح ہوگا ۔

مسئلہ315:جب رات میں غسل جنابت کرنا بھول جائے،اور ایک دن یاماہ رمضان کے کئی دن گزر جائیں تواُن دنوں کےروزوں کی قضاء کرئے،اس پر کفارہ واجب  نہیں ہوگا۔

مسئلہ316:جب مجنب غسل کرنے پر مرض وغیرہ کی وجہ سے قادر نہ ہو،تواس پر فجر سے پہلے تیمم کرناواجب ہے،اور اگر تیمم نہیں کرئےگاتو اس کاروزہ باطل ہو جائے  گا۔

مسئلہ317:مستحاضہ کثیرہ،کے روزہ کی صحت کےلیےنمازصبح کےلیے غسل کرناشرط ہے،یہی حکم ظہرین کے لیے ہے بلکہ گزشتہ رات کے لیے بھی یہی حکم ہے۔

ہشتم۔دن میں  کسی فعل سے منی کاانزال (نکالنا)یعنی ایساکام کرناجس سے منی نکل آئےیاایساکام کرنا جو عادۃ ً منی کے  خارج ہونے کاسبب ہو،اور ایساکرتے وقت معتدبہ  احتمال ہوکہ اس سے منی خارج ہوجائے گی،بلکہ بناء بر احتیاط کے یہ حکم ہرحال میں جاری ہوگا۔

نہم۔مائع سے شیاف لینا،جامد سے شیاف لیاجاسکتاہے،جیسے بخاریادرد کوکم کرنے   کےلیے کیپسول کی طرح کاشیاف رکھاجاتاہے،ایسی شے کا پیٹ میں داخل کرنا جس پر کھانے پینے کانام صادق نہ آئے،کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ318:سوئی سے معدہ میں کھانے اور دوا کاداخل کرنا روزے کوباطل کر دیتاہے،لیکن سوئی سے ہاتھ میں یا چتڑوں میں یاان کی مثل جگہ میں کھانے اور دواکاداخل کرنا،اگر غذا کی قسم سے شمار ہوتو احتیاط مستحب کی بناء پر روزہ باطل ہو جائے  گااور اگر دواکی قسم سے شمار ہوتو اس کاکوئی حرج نہیں ہے ،یہی حکم ہے آنکھ اور کان میں قطروں والی دوا کے ڈالنے کا۔

مسئلہ319:سپرے جو بہنے والاہواوراسے ناک میں کیا جائے اور وہ غذا والی نالی سے معدہ کی طرف منتقل ہوجائے تواس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ،لیکن جب اطمینان  ہوکہ وہ معدہ تک نہیں پہنچے گا توروزہ باطل نہیں ہوگا، علاج کی غرض سے ناک میں ہواوالی نالی میں سپرے کرنے کاکوئی حرج نہیں ہے، البتہ آکسیجن جو سانس لینے میں مدد دیتاہے ،اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

دہم۔جان بوجھ کر قئی کرنا ،اگرچہ   ضرورت کےتحت  ہویعنی کسی مرض کے  علاج کے لیے ہو اور جان بوجھ کر  قئی  نہ کی جائے تواس کا کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ320:جب متلی کے ساتھ کوئی شے معدہ سے خارج ہو اور بلااختیارکے نیچے اتر جائے توروزہ باطل نہیں ہوگا،اورجب منہ کے اندر متلی آئے اوروہ اسے اپنے اختیار سےچاٹ لےتواس کاروزہ باطل ہوجائے گا اور بناء بر احتیاط کے اس پر کفارہ  واجب ہوگا۔

مسئلہ321: روزہ کو باطل کرنے والے مذکورہ امور سے روزہ باطل ہو جاتا ہے جب انہیں جان بوجھ کراپنی مرضی سے انجام دیاجائے۔

مسئلہ322:جوشخص واجب نماز کے وضوکےلیے سنت نبویہ پر عمل کرتے ہوئے کلی کرئے ،اوربغیر قصد کے پانی پیٹ کی طرف چلاجائے تو اس پر کوئی شے نہیں ہے یعنی  اس کاروزہ صحیح ہوگا۔

مسئلہ323:جب روزے دار پر پیاس کاغلبہ ہو اور صبرکرنے کی صورت میں ضرر  کا خوف ہویا کوئی حرج پیداہونے کاڈر ہو تو اس کے لیے بقدر ضرورت پانی کا پیناجائز ہے،اور اس پر واجب ہےکہ دن کےباقی حصہ میں روزے کوباطل کرنے والے امور سے رکےاور روزے کی رجائے مطلوبیت والی نیت کرئے اور اس کے بعد اس روزے کی قضاء کرئے،یہ  حکم ماہ رمضان میں ہے ۔

جب روزہ ماہ رمضان کانہ ہو خواہ واجب موسع  والاہو یا واجب معین والا ہو تو روزے کوباطل کرنے والےامور سے رکناواجب نہیں ہے۔  

 

شارك استفتاء

روزہ کی نیت:

مسئلہ303:دوسری عبادات کی طرح روزے کی صحت میں قربت کی نیت شرط ہے،یہاں نیت سے مراد روزے کے بجالانے کاقصد  ہے،یہاں تک کہ اگر وہ نیت کرنے سے غفلت برتے لیکن جب اُس سے پوچھاجائے کہ کھا،پی کیوں نہیں رہے ہوتووہ کہے کہ میں روزہ میں ہوں،تو یہی کافی ہے،اور صرف  روزہ کو باطل کرنے والے امور سے رکنا کافی نہیں ہے ۔ 

مسئلہ304:وہ روزہ جوواجب ہو اور اس کے بجالانے کاوقت معین ہو جیسے ماہ رمضان کاروزہ یا کسی عارض کی وجہ سے معین دن میں روزہ رکھنا واجب ہو جیسے نذر کاروزہ ،ان کی نیت کاوقت :طلوع فجر صادق ہے۔

اس حیثیت سے کہ روزے کو نیت کے ساتھ رکھے ،البتہ وہ روزہ جو واجب ہو لیکن اسے انجام دینے کاوقت معین نہ ہو ،اس کی نیت کاوقت:اس دن کے  زوال تک ہے، یعنی جب صبح بیدارہواتو روزے کی نیت نہیں تھی ،پھر زوال تک کوئی ایساکام انجام نہیں دیاجس سے روزہ باطل ہوجاتاہے ،اب اگر روزے کی نیت کرلیتا ہے تو اس کاروزہ شمار ہوجائےگااور اگر زوال کے بعد روزے کی نیت کرئے تواس کا روزہ  شمار نہیں ہوگا۔

سنتی روزہ میں نیت کاوقت  بڑھ جاتاہےیہاں تک کہ دن سے اتناوقت باقی رہ جائے جس میں نیت کی تجدید ممکن ہو ۔   

مسئلہ305:پورے ماہ رمضان کےلیے ایک نیت ہی کافی ہے،ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کے بعد سارے روزوں کی نیت کرئے تویہی کافی ہے،البتہ انسان کےلیے ضروری  ہےکہ تمام رمضان میں روزے رکھنے کا عزم رکھتا ہو ،ہاں اگر یہ عزم  کی نیت سفریامرض کی وجہ سے ٹوٹ جائےتودوبارہ سے نیت کرئے۔ 

مسئلہ306:جب کوئی شخص یوم شک (آخر ماہ شعبان )میں شعبان کے مستحبی روزے یاقضاء روزے یانذر کاروزہ یا رجائے مطلوبیت یا ما فی الذمہ  کی یاواقع ہونے کےقصدکی نیت  سےروزہ رکھے اور ماہ رمضان ظاہر  ہوجائے تواس کا ماہ رمضان کاروزہ مجزی ہوجائے گا ،جب اُس کےلیےزوال سے قبل   یا زوال کے بعدظاہر ہو کہ آج ماہ رمضان ہے اور اس نے کسی بھی نیت سے روزہ رکھاہواہو،تووہ وجوب کی نیت کی تجدید کرلے،اگر رمضان کی  حتمی اور قطعی نیت سے روزہ رکھے اور اُس کے پاس اس کے رمضان سے ہونے کی دلیل موجود نہ ہو تواس کاروزہ باطل ہوگا،اوراگر وہ اس لیے روزہ رکھےکہ اگر شعبان سے ہواتو مستحبی ہوگا اور اگر رمضان سے ہواتو واجبی ہوگا تو ظاہریہ ہے کہ وہ روزہ باطل ہوگا۔(1)

    مسئلہ307:جب یوم شک   کی صبح میں افطار کی نیت سے ہو،اورروزے کوباطل قراردینے والے امور کو انجام نہ دیاہواورزوال سے قبل  معلوم  ہوجائےکہ آج رمضان ہے،تو تجدید نیت کرئے ،اس کاروزہ شمار ہوجائے گا ،اگرچہ احوط ہےکہ اس کے ساتھ قضاء کوبھی بجالائے،اور اگر زوال کے بعد معلوم ہو جائے کہ آج رمضان ہے تو اس دن امساک کرئے(امساک یعنی رکنا) اور اس پر اس روزے کی قضاء کرنا لازم ہے،تاکہ مسلمان شبہ میں نہ پڑئےجس سے کہاجائے کہ اس نے یوم الشک روزے کی نیت ہی نہیں کی ہے۔

-------------------

(1)لیکن اگر اس کے برعکس نیت کرئے یعنی واجب روزے کی نیت کرئے اگر رمضان سے ہے اور مستحب روزے کی نیت کرئےاگرشعبان سے ہے تو صحیح ہے کیونکہ دوعنوان کےلیےجامع نیت موجود ہے اور یہ نیت جامع مطلوبیت کی طرف لوٹ جائے گی۔  

1 2
المجموع: 11 | عرض: 1 - 10

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف