ماہ رمضان کے قضاء روزوں کے احکام
ماہ رمضان کے قضاء روزوں کے احکام :
مسئلہ337:جب کسی سے ایک ماہ کے کئی دنوں کےروزے فوت ہوجائیں تواس پر ان کی تعیین کرنا اور ترتیب دینا واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ338:جب کسی سے بیماری کی وجہ سے پورےماہ رمضان کے روزے یا اس کے کچھ روزے فوت ہوجائیں ،اور وہ اگلے ماہ رمضان تک بیمار ہی رہے ،تو ہر دن کے بدلے ایک مد(چودہ چھٹانک )فدیہ دے،اس سے قضاء ساقط ہوجائےگی۔
مسئلہ339:جب کوئی شخص جان بوجھ کر ماہ رمضان میں کچھ روزے یاسارے روزے چھوڑ دے اور اگلے ماہ رمضان تک جان بوجھ کر قضاء بجانہ لائے تو فدیہ کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا۔
مسئلہ340:ایک ماہ یا کئی مہینوں کے متعدد دنوں کافدیہ ایک شخص کودینا جائز ہے۔
مسئلہ341:سنتی روزے کو غروب تک افطار کردیناجائز ہے،اور ماہ رمضان کے اپنے قضاء شدہ روزے کی قضاء کو زوال کے بعد افطار کردیناجائز نہیں ہے،بلکہ گزر چکا ہے کہ اس پر کفارہ بھی واجب ہوجائے گا،البتہ ایسے روزے کو زوال سے قبل افطار کرسکتاہے۔
مسئلہ342:کفارہ جمع میں اور کفارہ تخییر میں ، دوماہ پےدرپے روزے رکھنا واجب ہوتے ہیں، اس کے حصول میں ماہ اول کے سارے روزے اور ماہ دوم کاایک دن کاروزہ پےدرپےرکھنے سے پےدرپےکاحکم حاصل ہوجاتاہے ،بشرطیکہ بقیہ روزوں کو پےدرپے نہ رکھ سکنے میں عرف کی نظر میں قابل قبول عذررکھتا ہو۔
مسئلہ343:جب کسی شخص پر پے درپے روزے رکھنے واجب ہوں تواس کے لیے جائز نہیں ہے کہ انہیں ایسے زمانے میں شروع کرئے جس میں جانتاہوکہ بیچ میں روزے کی بابت حرام دن آجائے گا مثل عید کادن یا جس دن افطارکرناواجب ہوجاتاہےمثل زیارت کے سفر کےلیے نذر معین کادن۔