اساسى | | رسالہ عمليہ | نجاسات
نجاسات

شارك استفتاء

نماز میں کتنی نجاسات معاف قراردی گئی ہے:

چند امور ہیں:

اول۔زخموں اور پھوڑوں کا بدن اور لباس پرلگا ہوا خون ،یہاں تک کہ ٹھیک ہوجائے۔

مسئلہ143:جس طرح مذکورہ خون کو معاف قراردیاگیاہے،اُسی طرح  معاف قراردیا گیاہے،متنجس پٹی ،دوائی اورپسینہ جو خون سے ملاہواہو۔

مسئلہ144: جب قریب قریب متعدد زخم اورپھوڑے ہوں،جوعرف میں ایک زخم شمار ہوتاہوتواُس پر ایک زخم کاحکم جاری ہوگا۔

دوم۔جب بدن اور لباس پر لگا ہوا خون،درہم بغلی سے کم ہو،توضروری  ہےکہ وہ خون نجس العین کانہ ہو  اور مردار کاخون نہ ہو،اورحرام گوشت جانورکاخون نہ ہو،اور تین خونوں  (حیض،نفاس،استحاضہ چیزوں )سے بھی  نہ ہو،اور اگر وہ خون ان خونوں میں سے ہوتومعاف نہیں ہوگا۔

مسئلہ145:احتیاط یہ ہےکہ درہم کی مقداراتنی ہوجتنی بڑی انگلی کی گرہ ،اگرچہ ظاہر انگوٹھے کی گرہ ہے۔

سوم۔ وہ لباس کہ جس میں تنہا نماز مکمل نہیں ہوتی ہے،یعنی  وہ لباس جوشرمگاہ  کو نہیں چھپاتاہو،مانند آزاربند،جوراب،رومال اور ٹوپی  خواہ مستقل ملبوس ہویا کسی دوسرے پارچہ کے ضمن میں ہو۔

 

شارك استفتاء

نجاست کے سرایت کرنے کی کیفیت:

مسئلہ140:پاک جسم،نجس جسم کے ساتھ رطوبت کی حالت میں  ملاقات کرئےتو پاک جسم نجس ہوجاتاہے،نجاست تب سرایت کرتی ہےجب دونوں میں سےایک میں تری ہو جو پاک شے تک پہنچ جائے،جب دونوں جسم خشک ہوں تو ایک کی نجاست دوسرے تک سرایت نہیں کرئےگی۔

مسئلہ 141:وہ مائع جوتروتازہ نہیں ہو،جیسے معدنیات جو گھل جاتی ہے ،اور پارہ،یہ نجاست کی ملاقات سے نجس نہیں ہوتا،البتہ بہنے والی معدنیات ،پیٹرول وغیرہ ،یہ نجاست سےملتے ہی نجس ہوجاتی ہیں۔

مسئلہ142:عین نجاست کی ملاقات سے نجس ہونے والی شے،مانند نجس کےہوتی ہے ،سرایت کرنے والی رطوبت کے ساتھ ہوتو نجس ہوجاتی ہے،یہ نجس اول کےنام سے معروف ہےاور یہ اپنے ساتھ ملاقات کرنے والی شے کونجس کردیتی ہے،جورطوبت کےساتھ ہوتو نجس دوم کے نام سے معروف ہے،لیکن نجس دوم نجس نہیں ہوتی ہے۔

وضاحت:فرض کریں،بچہ زمین پر پیشاب کرئے اور زمین عین نجاست کوپی جائے،زمین نجس اول ہوگی،اب اگر زمین کےاُس حصے پر پانی گرے ،پھر ایک قطرہ کسی ایک  شےپر پڑے تویہ قطرہ نجس دوم ہوگا ،جس پر گراہے اسے نجس نہیں کرئےگا ،اب اگر کسی ایک کارطوبت والاقدم اُس جگہ سے مس ہو اوروہ اسے قالین پر رکھے ،توقدم نجس دوم ہوجائے گا ،جس سے اسے نماز سے پہلے پاک کرناواجب ہے،لیکن جس نے اسےمس کیاہےاسے نجس نہیں کرئےگا جیسے قالین ہے۔

یہاں ملاحظہ کیا جائے گا ،واجب ہےکہ نجس اول حامل نجاست نہ ہو ،تاکہ وہ بھی اسی کی طرح ہوجائے،جب وہ حامل نجاست ہوگا تو اس سے ملاقات کرنے والانجس اول ہوجائے گا،کیونکہ وہ عنقریب عین نجاست کی ملاقات کرئےگا ،جسے اس میں حمل کیا گیاہے،مثلاً اگر پیشاب  پر پانی کاقطرہ گرے تووہ عین کےلیے حامل ہوگا اور عنقریب اس سے ملاقات کرنے والا نجس اول ہوگا۔

یہ مسئلہ مہم ،اور ضروری ہے،کیونکہ یہ آسان ہے،اُن سے جواس کےساتھ معاملہ کرتے ہیں جو نجاست کاخیال نہیں رکھتے ہیں۔  

 

شارك استفتاء

ششم۔خشکی والاکتا۔

ہفتم ۔خشکی والاسور۔

کتااور سور جو خشکی پر رہنے والے ہوں،ان کے تمام اجزاء فضلہ جات اور رطوبتیں نجس ہیں ،البتہ سمندری کتااور سور نجس نہیں ہیں۔

ہشتم۔مائع نشہ دینے والی شے جو اصل میں مائع ہو نجس ہے ،اور جو اصل میں جامد ہو وہ نجس نہیں ہے جیسے حشیش ،اگرچہ جوش کھائے اور عارضی طورپر پانی کی آمیزش سے مائع ہوجائے،کیونکہ مائع پر عرفاً شراب کانام صادق آتاہے،جب  کہ اسے بنانے کامنشاء مائع ہی ہوتاہے۔

مسئلہ137:اسپرٹ،جو لکڑیوں کو رنگنے میں کام آتاہے،اور اس کے علاؤہ چند دیگر امور میں بھی استعمال ہوتاہے،اسی طرح الکحل جو دوائیوں ،عطریات وغیرہ میں استعمال ہوتاہے،پاک ہے۔

مسئلہ138:انگوراورکھجور کاسرکہ،نجس نہیں ہے اور آگ سے جوش کھانے سے حرام نہیں ہوتاہے،چہ جائیکہ وہ ہوجس پر جوش کھانا صادق نہ آئے،پس کھجور، انگور اور کشمش کاکھانوں میں ڈالناجائز ہے ،جیسے شوربہ اور پکوان وغیرہ ،اور یہی حکم کھجور کی تمام اقسام کے آئل کاہے۔

نہم۔فقاع،یہ جو کی مخصوص شراب ہے،اطباء جو آبِ جو تیارکرتے ہیں،وہ  اس سے نہیں ہے،اس کے غیر سے تیارکرنےوالاشربت پاک ہے سوائے اس کےکہ اس پر عرفاً شراب کانام صادق آئے۔

دہم۔احتیاط واجب کی بناء پر کافر نجس ہے ،یعنی جو بے دین ہو یا اسلام کے علاؤہ کوئی دین رکھتاہو،یا مسلمان ہولیکن ضروریات دین اسلام کاانکار کرتاہو۔

مسئلہ139:کافرکتابی ،جو یہود و عیسائی ہیں،خاص طہارت ذاتیہ سے محکوم ہیں۔ کافرکتابی  جوخود پاک قراردیاگیاہے اس کا جوٹھ بھی پاک ہے،اس کابنایاہوا کھاناکھانا جائزہے،اس میں استصحاب طہارت جاری ہوتاہے،یہاں تک کہ عرفاً ہمیں نجاست کاعلم ہو۔

یازدہم۔ گندگی خوراونٹ اوردوسرے جانوروں کا پسینہ، نجس ہے۔

 

شارك استفتاء

نجاسات

نجس العین چیزوں کی تعدادیعنی نجاسات کتنی اور کونسی ہیں

نجاسات گیارہ  ہیں:

اول ۔پیشاب۔

دوم ۔پاخانہ۔

پیشاب اور پاخانہ ،جوانسان کاہو ،اور ہر خشکی والے یا سمندری (حرام گوشت ) حیوان کاہو،خواہ قُبل سے نکلے یادُبر سے نکلے یا ان دونوں جگہوں کے علاؤہ کسی اور مقام سے  عادی صورت میں نکلے یاغیرعادی صورت میں نکلے،تین قسم کے حیوانات  کے پیشاب و پاخانہ کااس حکم سے استثناء کیا گیاہے:

1۔ وہ حیوان جو شرعاً ماکول اللحم ہو ،یعنی جس حیوان کاگوشت کھاناحلال ہو،خواہ پرندے ہوں یا باقی تمام قسم کے جانور،جیسےبھیڑ و بکری و گائے و اونٹ و گھوڑا و خچر و مرغی وغیرہ ،بشرطیکہ وہ انسان کا پاخانہ نہیں کھاتے ہوں۔

 اور جو حلال گوشت جانور انسانی فضلہ کھاتےہوں، اُن کا گوشت کھاناحرام ہوجاتاہے،ایسے جانور کو جلال کہتے ہیں،جب تک ایسے جانور پر جلال کاعنوان صادق اور ثابت رہےگا اُس  کا فضلہ نجس ہوگا ،یہی حکم اُس جانور کاہے جس کے ساتھ انسان وطی(بدفعلی) کرلیتاہے۔

2۔ تمام قسم کے پرندے ،ماکول اللحم ہوں یاغیرماکول اللحم ہوں،ان کا پیشاب و پاخانہ    پاک ہے،غیرماکول اللحم پرندے کے فضلات کی نجاست پر بناء رکھنے میں احتیاط حسن ہے۔

3۔ وہ جانور جس کے لیے نفس سائلہ نہ ہو (یعنی جس کے ذبح کے وقت خون دھارمارکے نہ نکلے)اس کا فضلہ پاک ہے۔

مسئلہ 129:نفس سائلہ سے مراد،جس کے ذبح کے وقت خون دھار مار کے نکلے ،اسے خون جہندہ رکھنے والا جانور کہتے ہیں،اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو،اور جس کاخون قطرے قطرے کرکے نکلے وہ جانور نفس سائلہ نہیں ہوگا،چہ جائیکہ وہ جانور جس کی رگیں ہی نہ ہوں،جیسے اکثر حشرات الارض ،کیڑے مکوڑے ،زمین پر رینگنے والے جانور جیسے کچھوہ اور ٹڈی اور سمندری جانور ،چہ جائیکہ وہ جانور جس کا بالکل خون نہ ہو یا جس کاعرفاً گوشت نہ ہو،جیسے چھلکا اور حشرات وغیرہ۔

سوم۔ منی،ہر خون جہندہ رکھنے والے جانور کی منی نجس ہے،اگرچہ وہ حلال گوشت ہو،البتہ خون جہندہ نہ رکھنے والے جانور کی منی پاک ہے،منی نسل بڑھانے کا مادہ ہے،اگرچہ انسانی منی کی شکل پرنہ ہو ،مثلاً اُس سے خفیف یارقیق ہو،اسے یہ حکم احتیاط کی بناء پر شامل ہے۔

چہارم۔خون جہندہ رکھنے والے جانور کا مردار،اگرچہ حلال گوشت ہو،یہی حکم مردار کے اُن اجزاء کاہے جو مردارسے الگ کیے جاتے ہوں،اگرچہ چھوٹے اجزاء ہی کیوں نہ ہوں،مردار سے مراد ہو وہ جانور ہے جوشرعی طریقہ سے ذبح نہ کیاگیا ہو،خواہ طبیعی موت مرےیاقتل کیاگیاہویاگلاگھونٹ دیا گیاہو یا غیرشرعی طریقہ سے ذبح کیا گیاہو۔

مسئلہ130:مردارکے اجزاء ذاتی طور پر نجس نہیں ہوتے ہیں،جب وہ اجزاء ایسے ہوں کہ جن میں زندگی حلول نہیں کرتی ہے تو وہ پاک ہوتے ہیں،اور وہ اجزاء جن میں زندگی حلول نہیں کرتی ،وہ ان کی اون ،بال ،پشم ،ریش ،انڈہ ہے جب اس کا اوپر والا چھلکا سخت ہو ،اگرچہ اُس میں گودا موجود نہ ہو۔

مسئلہ131:مردارسے لیاگیا بچہ ،اس کے ظاہری وجود کو دھونے کے بعد پاک ہوجاتاہے،کیونکہ وہ مردارکے نجس اجزاء کے ساتھ متصل رہاہے،یعنی بکری کا بچہ جب تک کچھ نہ کھائےاور صرف دودھ پیئےتو اس کی آنت کو انفحہ  کہتے ہیں،اور جب وہ کھانے لگے تو اسے کرش کہتے ہیں۔

مسئلہ132:ایسامردارجوخون جہندہ نہ رکھتاہو پاک ہےجیسے چھپکلی ،بچھو اور مچھلی۔

مسئلہ133:جوشے گوشت ،چربی،کھال مسلمان کے ہاتھ سے یا مسلمانوں کے بازار سے لی جائے،اوراُس حیوان کے تذکیہ (شرعی طریقہ سے ذبح ہونے کے بارے میں ) شک ہوتو،اُس پر پاک ہونے کا اور ظاہراً حلال ہونے کا حکم لگایاجائے گا۔

مسئلہ134:روح پڑنے سے ساقط شدہ بچہ ناپاک ہے،جب اس پر عرفاً گوشت اور ہڈیاں ہوں،ان دونوں چیزوں میں احتیاط واجب ہے ،یہی حکم انڈے میں بچے کاہے۔

پنجم۔خون جہندہ رکھنے والے جانور کا خون نجس ہوتاہے ،لیکن خون جہندہ نہ رکھنے والے جانور کا خون پاک ہے جیسے مچھلی ،چہ جائیکہ وہ جاندار جس کے لیے عرفاً خون نہیں ہو جیسے حشرات وغیرہ۔

مسئلہ135:خون،جو انڈے میں ہوتاہے، اظہر قول کے مطابق پاک ہے،لیکن اس کا کھاناجائزنہیں ہے،پس اس سے اجتناب کرناواجب ہے،اگرچہ سفیدی کو زردی  سے جدا کردیاگیاہو ،جب تک کہ وہ خون اس میں مکس نہ ہوگیاہو۔

مسئلہ136:جانور کو ذبح کرنے کے بعد ،یا صحیح تذکیہ ہوجانے کے بعد،خون جہندہ نکل جائے تو جانور کے اندر باقی رہ جانے والا خون پاک ہوتاہے،مگر یہ کہ وہ کسی خارجی نجاست سے نجس ہوجائے،جیسے چھری جس سے ذبح کیاہے یا باہر پڑا ہوا خون جہندہ سے مکس ہوجائے۔

 

المجموع: 4 | عرض: 1 - 4

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف