نجس العین چیزوں کی تعدادیعنی نجاسات کتنی اور کونسی ہیں
نجاسات
نجس العین چیزوں کی تعدادیعنی نجاسات کتنی اور کونسی ہیں
نجاسات گیارہ ہیں:
اول ۔پیشاب۔
دوم ۔پاخانہ۔
پیشاب اور پاخانہ ،جوانسان کاہو ،اور ہر خشکی والے یا سمندری (حرام گوشت ) حیوان کاہو،خواہ قُبل سے نکلے یادُبر سے نکلے یا ان دونوں جگہوں کے علاؤہ کسی اور مقام سے عادی صورت میں نکلے یاغیرعادی صورت میں نکلے،تین قسم کے حیوانات کے پیشاب و پاخانہ کااس حکم سے استثناء کیا گیاہے:
1۔ وہ حیوان جو شرعاً ماکول اللحم ہو ،یعنی جس حیوان کاگوشت کھاناحلال ہو،خواہ پرندے ہوں یا باقی تمام قسم کے جانور،جیسےبھیڑ و بکری و گائے و اونٹ و گھوڑا و خچر و مرغی وغیرہ ،بشرطیکہ وہ انسان کا پاخانہ نہیں کھاتے ہوں۔
اور جو حلال گوشت جانور انسانی فضلہ کھاتےہوں، اُن کا گوشت کھاناحرام ہوجاتاہے،ایسے جانور کو جلال کہتے ہیں،جب تک ایسے جانور پر جلال کاعنوان صادق اور ثابت رہےگا اُس کا فضلہ نجس ہوگا ،یہی حکم اُس جانور کاہے جس کے ساتھ انسان وطی(بدفعلی) کرلیتاہے۔
2۔ تمام قسم کے پرندے ،ماکول اللحم ہوں یاغیرماکول اللحم ہوں،ان کا پیشاب و پاخانہ پاک ہے،غیرماکول اللحم پرندے کے فضلات کی نجاست پر بناء رکھنے میں احتیاط حسن ہے۔
3۔ وہ جانور جس کے لیے نفس سائلہ نہ ہو (یعنی جس کے ذبح کے وقت خون دھارمارکے نہ نکلے)اس کا فضلہ پاک ہے۔
مسئلہ 129:نفس سائلہ سے مراد،جس کے ذبح کے وقت خون دھار مار کے نکلے ،اسے خون جہندہ رکھنے والا جانور کہتے ہیں،اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو،اور جس کاخون قطرے قطرے کرکے نکلے وہ جانور نفس سائلہ نہیں ہوگا،چہ جائیکہ وہ جانور جس کی رگیں ہی نہ ہوں،جیسے اکثر حشرات الارض ،کیڑے مکوڑے ،زمین پر رینگنے والے جانور جیسے کچھوہ اور ٹڈی اور سمندری جانور ،چہ جائیکہ وہ جانور جس کا بالکل خون نہ ہو یا جس کاعرفاً گوشت نہ ہو،جیسے چھلکا اور حشرات وغیرہ۔
سوم۔ منی،ہر خون جہندہ رکھنے والے جانور کی منی نجس ہے،اگرچہ وہ حلال گوشت ہو،البتہ خون جہندہ نہ رکھنے والے جانور کی منی پاک ہے،منی نسل بڑھانے کا مادہ ہے،اگرچہ انسانی منی کی شکل پرنہ ہو ،مثلاً اُس سے خفیف یارقیق ہو،اسے یہ حکم احتیاط کی بناء پر شامل ہے۔
چہارم۔خون جہندہ رکھنے والے جانور کا مردار،اگرچہ حلال گوشت ہو،یہی حکم مردار کے اُن اجزاء کاہے جو مردارسے الگ کیے جاتے ہوں،اگرچہ چھوٹے اجزاء ہی کیوں نہ ہوں،مردار سے مراد ہو وہ جانور ہے جوشرعی طریقہ سے ذبح نہ کیاگیا ہو،خواہ طبیعی موت مرےیاقتل کیاگیاہویاگلاگھونٹ دیا گیاہو یا غیرشرعی طریقہ سے ذبح کیا گیاہو۔
مسئلہ130:مردارکے اجزاء ذاتی طور پر نجس نہیں ہوتے ہیں،جب وہ اجزاء ایسے ہوں کہ جن میں زندگی حلول نہیں کرتی ہے تو وہ پاک ہوتے ہیں،اور وہ اجزاء جن میں زندگی حلول نہیں کرتی ،وہ ان کی اون ،بال ،پشم ،ریش ،انڈہ ہے جب اس کا اوپر والا چھلکا سخت ہو ،اگرچہ اُس میں گودا موجود نہ ہو۔
مسئلہ131:مردارسے لیاگیا بچہ ،اس کے ظاہری وجود کو دھونے کے بعد پاک ہوجاتاہے،کیونکہ وہ مردارکے نجس اجزاء کے ساتھ متصل رہاہے،یعنی بکری کا بچہ جب تک کچھ نہ کھائےاور صرف دودھ پیئےتو اس کی آنت کو انفحہ کہتے ہیں،اور جب وہ کھانے لگے تو اسے کرش کہتے ہیں۔
مسئلہ132:ایسامردارجوخون جہندہ نہ رکھتاہو پاک ہےجیسے چھپکلی ،بچھو اور مچھلی۔
مسئلہ133:جوشے گوشت ،چربی،کھال مسلمان کے ہاتھ سے یا مسلمانوں کے بازار سے لی جائے،اوراُس حیوان کے تذکیہ (شرعی طریقہ سے ذبح ہونے کے بارے میں ) شک ہوتو،اُس پر پاک ہونے کا اور ظاہراً حلال ہونے کا حکم لگایاجائے گا۔
مسئلہ134:روح پڑنے سے ساقط شدہ بچہ ناپاک ہے،جب اس پر عرفاً گوشت اور ہڈیاں ہوں،ان دونوں چیزوں میں احتیاط واجب ہے ،یہی حکم انڈے میں بچے کاہے۔
پنجم۔خون جہندہ رکھنے والے جانور کا خون نجس ہوتاہے ،لیکن خون جہندہ نہ رکھنے والے جانور کا خون پاک ہے جیسے مچھلی ،چہ جائیکہ وہ جاندار جس کے لیے عرفاً خون نہیں ہو جیسے حشرات وغیرہ۔
مسئلہ135:خون،جو انڈے میں ہوتاہے، اظہر قول کے مطابق پاک ہے،لیکن اس کا کھاناجائزنہیں ہے،پس اس سے اجتناب کرناواجب ہے،اگرچہ سفیدی کو زردی سے جدا کردیاگیاہو ،جب تک کہ وہ خون اس میں مکس نہ ہوگیاہو۔
مسئلہ136:جانور کو ذبح کرنے کے بعد ،یا صحیح تذکیہ ہوجانے کے بعد،خون جہندہ نکل جائے تو جانور کے اندر باقی رہ جانے والا خون پاک ہوتاہے،مگر یہ کہ وہ کسی خارجی نجاست سے نجس ہوجائے،جیسے چھری جس سے ذبح کیاہے یا باہر پڑا ہوا خون جہندہ سے مکس ہوجائے۔