اساسى | | رسالہ عمليہ | باب خمس
باب خمس

شارك استفتاء

مستحقین خمس

خمس کا مصرف

عصر غیبت میں پورا خمس  جامع الشرائط مجتہد کو دیا جائے،کیونکہ وہ امام علیہ السلام کی نیابت عامہ رکھتا ہے،تاکہ وہ اسے مقرر کردہ موارد میں صرف کرئے ،مجتہد پر لازم ہے کہ بنی عبدالمطلب بن ہاشم جد رسول خداﷺ کی ضروریات کو پورا کرئےاور یہ وہ لوگ ہیں جن کا نسب باپ کی طرف سے ہاشم کی طرف ہو ،مجتہد کے لیے احوط ہے کہ آدھاخمس ان حضرات پر صرف کرئے ،کیونکہ آیت (   وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فِاِنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبیٰ وَ الْیَتَامیٰ وَ الْمَسَاکِیْن وَ ابْنِ السَّبِیْلِ)کی تفسیر میں وارد ہواہے ،کہ پہلے تین سہم امام کےلیے ہیں اور دوسرے تین بنی عبدالمطلب کے ان عناوین کے لیے ہیں،بہر حال فقیہ اپنے وظیفہ کو بہتر جانتاہے۔

اس کی روشنی میں ،خمس کو دو معروف حصوں میں تقسیم کرنا،سہم امام اور سہم سادات  ،اگرچہ مشہوریہی ہے ،مگر صحیح وہ ہےجسے ہم نے کہاہے،یعنی  پوراخمس جامع الشرائط مجتہد کودیاجائے،وہی اس کی شرعی تکلیف کوجانتاہے۔

مسئلہ376:مالک کے لیے جائز نہیں ہے کہ  خود آدھاخمس سادات میں تقسیم کرئے ، اس پر واجب ہے کہ خمس حاکم شرعی کو دے یا اس سے مستحق تک پہچانے کی اجازت  لے ،لیکن اگر حاکم شرعی       طلب کرئے تواسے پہچاناواجب ہے ۔

مؤمنین کےلیےخمس کااجازہ عام:

اورہم نے مؤمنین کو اُن کے ذمہ خمس میں سے ایک ثلث خود سے خرچ کرنے کی اجازت دے دی ہے،وہ خود سے محتاج سادات  و غیر سادات کوخمس دے سکتے ہیں۔

شارك استفتاء

منافع کے احکام

مسئلہ366:جب کوئی شخص تجارتی قصد سے کوئی شے خرید کرئےاوراثنائے سال   میں اس کی قیمت زیادہ ہوجائے،لیکن وہ اسے غفلت کی وجہ سے یا زیادہ کی طلب  کی وجہ سے یاکسی اور غرض سے اسے فروخت نہ کرئے،پھر سر سال پہلے والی قیمت ہوجائے،اُس پر اس زائد قیمت کاخمس دینا واجب نہیں ہے،اگر قیمت کی زیادت سال کے آخر تک  باقی رہے تو اس سے خمس نکالنا واجب ہوگا،اگرچہ  اس نے اس مال کو فروخت نہ کیا ،اور اس کے بعد اس کی قیمت نیچے آجائے۔

مسئلہ367:قرض  کو خرچےسے اداکیاجائے،جب  اسے خرچے میں صرف کیا ہو ، خواہ اسے اس قصد سے لیاہویااسےاس قصد سے نہ لیاہو،خواہ قرض منافع کے سال میں لیاہواہو،یا قرض اس سے پہلےوالےسال میں لیاہو،اوراسے  اس سےقبل  ادا کرنے پرقدرت رکھتاہو یاقدرت نہ رکھتاہو۔

ہاں!جب اپنے قرض کوادانہ کرئےیہاں تک کہ سال گزر جائے توخمس دیناواجب ہوگا،یہ قرض ادا کرنے کی مقدار کے استثناء کے بغیرہو،خواہ جلد اداکرنے میں عذر رکھتاہو یا گناہگارہو۔

مسئلہ368:جب خمس دینے میں وجوب کےباوجود، تاخیرکرئےتواس پر متعدد باطل آثار مترتب ہوں گے:

1۔اس کاعین میں تصرف کرنا  حرام ہے،کھانےوالی شے ہو یا پہننے والی ہو یا رہنے والی ہو یا اس کوئی اور شےہو۔

2۔ اپنے ذمہ کواس تصرف کےلیے اجرت مثل کے ذریعہ سے مشغول قراردے ،اُس میں جوخمس کے مقابلے میں ہو۔

3۔وہ معاملات جواعیان یاقیمتوں پر جاری ہوتے ہیں ،وہ اربع اخماس میں جاری ہوتے ہیں ،اسے حق حاصل نہیں ہےکہ اس کے مقابلے میں  پوری قیمت کو لے ،جیسے اسے حق نہیں ہے کہ خمس نکالنے سے قبل مشتری کوعین دے ،جب تک کہ اس کی خبر نہ دےاور اسے وثوق ہو کہ عنقریب اس وظیفہ شرعیہ کو اداکرئےگا۔

4۔خمس کا منافع صاحبان خمس کےلیےہوتاہے،مالک کےلیےنہیں ہوتاہے۔

5۔ جب خمس دینےسے قبل مرجائےتواس کے وارث پر  ترکہ کاخمس  ،ترکہ کو تقسیم کرنے سے قبل ،قرضوں کےساتھ دیناواجب ہے۔ 

مسئلہ369:وہ عورت جو کمائی کرتی ہے،اُس پر خمس واجب ہوتاہے ،اگرچہ اس کاخرچہ شوہر کرتاہو ،اس کے منافع سےمستثناء نہیں ہےجو اس کاشوہر اس پر صرف کرتاہے،بلکہ یہی حکم ہےجب وہ کمائی نہ کرتی ہو،اور وہ شوہر یااس کے غیر کی طرف سے فوائد رکھتی ہو ،تواُس عورت پر سال کے آخر میں اپناخمس نکالناواجب ہے ، ہرمکلف پرواجب ہےکہ اپنے پاس موجود زائد مال کاسال کےآخر میں ارباح مکاسب وغیرہ سے ملاحظہ کرئے ،کم ہویا زیادہ ہو،وہ  اپنے خمس کو نکالے،وہ کاروبار کرنے والاہو یا کاروبار کرنے والانہ ہو۔

مسئلہ370:جب کوئی شخص اپنے مال سے خمس نہ نکالتاہو،اور وہ اپنامال کسی دوسرے شخص کوہبہ کردے ،تو جسے ہبہ کیاہے اس پر اس مال کاخمس نکالناواجب نہیں ہے ،جب موہوب لہ(جسے ہبہ کیاگیاہے) کےلیے خمس کاسال مقرر ہو، اور ہبہ کرنےوالا اسے سال کے منافع سے دے ۔

جب    مالک کے پاس مال  ہو اور اس کاخمس کے ساتھ تعلق ہو،کیونکہ اس پر سال گزر گیاہو اوروہ اسے ہبہ کردے تو جسے ہبہ کیا ہے اس پر اس کاخمس نکالنافوراً     واجب ہےتاکہ ہبہ کرنے والے کا ذمہ بری ہوجائے۔

جب   موہوب لہ اپنے خمس کاحساب نہیں کرتاہو تو وہ اپنے اموال کےساتھ اس کاخمس نکالے کیونکہ اس سارے مال میں خمس واجب ہے۔

مسئلہ371:جس نے سال کی تاریخ مقرر کی ہوئی ہو ،چاہےکہ وہ اپنی تاریخ تبدیل کردےتویہ دوحال سے خالی نہیں ہے یاتو مقررہ تاریخ سے پہلے کی تاریخ مقرر کرئےگایا  مقررہ تاریخ سے بعد کی تاریخ مقرر کرئےگا ،پس اگر تاریخ پہلے کی  مقرر کرنا چاہتاہے تو اس کے مالی حال کا محاسبہ کرناممکن ہوگا اور اس پر مقررہ وقت میں جو خمس ہےاسےاداکرئے جسے وہ مناسب سمجھتا ہے ،اب یہ اس کی جدید مقررکردہ تاریخ بن جائے گی ،اسے حاکم شرع کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے،اور اگر تاریخ بعد کی کرنا چاہتاہےتو اس کےلیے اسے حاکم شرعی کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہوگی،پس اگر وہ اس کے لئے وقت مقرر کردے  اور جو خمس اس کے ذمہ ہے اسے دےدے ،اس حیثیت سے کہ وہ مؤجل مدت کو شامل ہو تو اس کےلیےجدید تاریخ ہی خمس کی تاریخ مقرر ہوجائے گی۔  

مسئلہ372:ہرمکلف پر واجب ہے کہ سال کے آخر میں اپنےاخراجات سے بچ جانے والے خرچہ سے خمس نکالے،یعنی اس نے جومال گھر میں سٹور کیاہواہے ،اس کا حساب  کرکے اس سے خمس نکالے مثلا چاول ،آٹا،گندم،جو،چینی،چاے ،تیل ، لکڑیاں ،گھی ،حلوا،اور گھر کاسامان جسے خرچہ کےلیےتیار کیا ہواہے اوراسے تاریخ والےدن تک استعمال نہیں کیاہے،اس میں زیور اور ضرورت سے زائد کتب ،کپڑے ،کارپٹ،ضرورت سےزائد برتن ،شامل ہیں۔

مسئلہ373:مؤمنوں کےلیے کوئی حرج نہیں ہےکہ وہ کسی   ایسے شخص سے مضاربہ کے طور پر مال لیں،جوخمس نہ نکالتاہو،یہی حکم ہے جب ایسے شخص سے قرض لیا جائے  جو خمس نہیں نکالتاہے،پس اُس مضاربہ لینے والے اور قرض لینے والے پر خمس نکالناواجب نہیں ہے،یہ حکم اس شخص کے بارے میں جاری ہوتاہےجس پر معاشرہ  خرچ کرتاہے اس اعتبار سے کہ وہ ہر ماہ یاہرہفتے ایک رقم پر اتفاق کرتے ہیں ،اور پیسے جمع کرکے قرعہ نکال کر ہرماہ ایک شخص کودیتے ہیں ،جیسےکمیٹی سسٹم ہوتاہے ، ہاں ،جب ملنےوالے مال کے ساتھ خمس کاتعلق ہو کیونکہ وہ خرچہ سے زائد ہے اورسال گزرگیاہو تواس سے خمس نکالنا اور دینے والے کی طرف رجوع کرناواجب ہوگا۔ 

مسئلہ374:جب گھر کاسربراہ خمس نہ نکالتاہو یا اس کے پاس مال مجہول المالک والاہو اور وہ شرعی لحاظ سے قبض نہ کرئے،اگرخاندان میں سےکوئی  ایک فرد   اپنے آپ پر مال خرچ کرسکتاہو تو یہ اس کےلیےبہتر ہے اوراگر وہ  بقاء کےلیے مجبور  ہوتو حاکم شرعی کی طرف رجوع کرناواجب ہےتاکہ اس مال کے تصرفات اور مصرف کو حلال قراردے سکے،اور جو ہمیں قبول کرئے تو ہم اسے اس مال سے استفادہ کی اجازت دیتے ہیں جومال اس پر اس کی متعارف ضروریات کی حدود میں ،گھر کاسربراہ کرتا ہے،پس اس کے مال اور اس کابوجھ اس کے غیر پر ہوگا،وہ ہدایت ،ارشاد اور موعظہ کی بابت اپنے وظیفہ کوترک نہ کرئے۔ 

مسئلہ375:زمین کا ٹکڑا جس کاحجم یا وسعت ہو وہ صاحب ید(قبضےوالے)کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خالی ہے اور اس پر کوئی کام نہیں ہواہے،اگرچہ وہ عرف اور کاغذوں کے اعتبار سے اس کی ملک ہوتاہے،اس کے مقابلے میں جورقم خرچ کی ہے اس کاخمس واجب ہے،بشرطیکہ وہ بعینہ مخمس مال سے خرید نہ کیاہو،اور کافی نہیں ہے کہ اس شخص کےلیےخمس کی تاریخ مقرر ہے ،اس کے متعدد نتائج ہوتے ہیں:

1۔اس سے خمس کادینا واجب نہیں ہے۔

2۔ یہ ارث کودورنہیں کرئے گی۔

3۔اس کی بیع،ہبہ وغیرہ کامعاملہ باطل ہوگا،سوائےاس کےکہ اس کی عرفی قیمت لی جائےگی ،جس کی فقہی توجیہ ہوسکتی ہو۔

 

شارك استفتاء

سال کےخرچہ کی بابت مسائل:

مسئلہ356: مستثناء خرچہ کاتعلق ارباح مکاسب سے ہےاور جس میں خمس واجب نہیں ہے،دو امر ہیں:

امراول۔منافع حاصل کرنےکاخرچہ ،ہروہ مال جس کو انسان منافع کے حاصل کرنے میں صرف کرتاہے جیسے مال منتقل کرنے کی مزدوری ،دلال وکاتب وگارڈو دوکان  و گورنمنٹ کی پرچی وغیرہ کاخرچہ،یہ سب منافع سے نکالے جائیں گےپھر باقی سے خمس نکالاجائےگا۔

مسئلہ357:ہر وہ مال جو منافع کے حاصل کرنے میں صرف ہوتاہے،وہ ارباح مکاسب سے مستثناء ہے،اس میں فرق نہیں ہےخرچ والے سال منافع حاصل ہو یا منافع بعد میں حاصل ہو۔

امردوم۔اہل وعیال کاخرچہ،ہروہ مال جسے شایان شان اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے صرف کیاجاتاہے،جوصدقات دیتے ہیں اور زیارت کےلیےجانےمیں رقم خرچ ہوتی ہےاور جو ہدیئے دیتے ہیں اور جومناسب انعامات دیتے ہیں ،اور جو مہمان نوازی میں پیسہ خرچ کرتے ہیں ،اگرچہ کچھ اپنی حیثیت سے زائد خرچ کردیئے جائیں ،جب اُن کاوجود اُس کےسبب سے نہ ہو،اور اُن کے حال کے مناسب مقدار،اس میں سے خمس نکالنا معتبر نہیں ہے۔

مسئلہ358:خرچ صادق نہیں آتامگر اُس میں  جس کو فعلاً مال سے خرچ کرتا ہے ،خرچے کےلیے جمع کیے ہوئے مال پر خرچ صادق نہیں آتاہے ،اس سے سال بھر کے مخارج کے بعد خمس نکالناواجب ہےاگرچہ باقی مال کو خرچے کے لیے جمع کرلیاجائے۔

مسئلہ359:واجب ہےکہ خرچہ اپنی شان کے مطابق کیاجائےجس کی بابت عرف   اور معاشرہ کہےکہ اس نے اپنے حال کے مناسب خرچہ کیاہے،جب اس سے زیادہ خرچہ کرئےگاتواس زائد سے خمس نکالناواجب ہوگا،یہی حکم ہے جب فضول خرچی کرئےیا بیوقوفانہ خرچ کرئے۔

لیکن جب اپنی شان سے کم خرچ کرئےتو سارےزائدمال  میں خمس واجب ہوگا۔

مسئلہ360:جس نے مالی سال مقرر نہ کیاہواہو ،اس کےلیے سر سال ،کام کاپہلادن ہے،اس کےلیے منافع ظاہر ہونے والے دن سے خرچہ کاحساب کیا جا سکتا ہے،راجح ہے بلکہ واجب ہےکہ اس ناحیہ سے فرد خود کو مہمل قرارنہ دے،پس وہ اپنے لیے سرسال کو اپنی عملی زندگی کے پہلے دن سے قراردے،پس جب    تجارتی ،صنعتی،کاشتکاری،تعلیمی،طبی یا کوئی بھی حلال عمل کوشروع کرئےتووہ اس کے شرعی مالی سال کی ابتداء ہوگی،ممکن ہے جیساکہ ہم نے کہاہے،حساب میں جلدی کی جائےاور اس دن کیا جائے جس دن میں منافع ملے یا تنخواہ ملے ،جب اس روٹین پر سال گزر جائےاوروہ اس  میں اپنی اوقات اور شان کے مطابق خرچہ کرچکاہو ،اب کم وزیاد جو مال و پیسہ بچا ہے اس میں خمس واجب ہوگا،خواہ وہ ثمن ہویا منقولہ و غیر منقولہ مال ہو۔

مسئلہ361:مہم یہ ہےکہ عرف کے لحاظ سے سال کاعنوان صادق آئےاور وہ سال جس تقویم سے ہی کیوں نہ ہو ،ہجری ہویامیلادی ہو یاکوئی اور یابغیرتقویم کےہو مہینوں  کو گناہواہویاہفتوں کو گناہواہو۔

مسئلہ362:جب کسی شخص کے پاس کام کاج نہ ہو،،یعنی وہ کسی دوسرے کے سہارے پر زندگی بسر کررہاہو، جیسے اپنے باپ کے یااپنے بیٹےکے یادوسروں کے خوشی سے اس پرخرچ کرنے کے یاوجوہ شرعیہ کے سہارے گزر کر رہاہوتو اس کاسرسال وہ پہلادن ہوگاجس دن میں اسے پہلی دفعہ مال ملا ،اور اس کے لیےسرسال معین نہ ہو تواس کےلیےسرسال وہ دن ہے جس دن میں اسے پہلی دفعہ خمس ملاہے۔

اگراس کے پاس زیادہ مال نہ ہوکہ جسے خمس میں دےتو اس کاسرسال نہیں ہو گا ،یہاں تک کہ اسے زیادہ مال نہ  مل  جائےاور جب اسے زیادہ مال میسر ہوجائے تو خمس دینے میں جلد اقدام کرناواجب ہوجائے گا،زیادہ مال کے میسرنہ ہونے کی صورت میں اُس کے لیے مستحب ہے کہ ایک معین دن کومقرر کرئے،تاکہ اسے اپنے لیےحاکم شرع کے ساتھ اتفاق کرکے  سرسال  قراردے ۔

مسئلہ363:جب کوئی شخص کئی سال تک خمس کاکوئی حساب و کتاب نہ کرئے،یہ اس کی کوتاہی کی وجہ سے ہو یا کوتاہی کی وجہ سے نہ ہو،اوراس نے ان سالوں میں منافع کمایاہو اور بہت زیادہ مال کااستفادہ کیاہو،مال اسباب جمع کیاہو ،بنک بیلنس بنایاہو،گھروں کو آباد کرتارہاہو،پھر متوجہ ہواکہ ان منقولہ وغیر منقولہ اموال سے خمس نکالناواجب تھا،وہ اپنے پاس موجود تمام اموال کاخمس نکالے،جن کواس نے خرید کیا ،آباد کیا،اگایاجو خرچہ سے شمار نہیں ہوتے تھے۔

ان امور میں سے ،جسے اس نے خرچہ کےلیے قراردیاہوجیسے سکونت کاگھر ، گاڑی ،ضروری سامان ،اس پر خمس نہیں ہے ،اگر اس  نےانہیں سال کے منافع سے لیا ہو ، اس میں دوحالتوں میں خمس واجب ہے:

1۔جو مال اس نے ان چیزوں کے خرید کرنے کے لیے دیا،اسے ایک سال سے زیادہ کےعرصہ میں جمع کیا تھااور وہ اس کی سال بھرکی بچت تھی،پس اس نے خرید کے سال سے پہلے والے سال میں جمع شدہ مال  سے جو کچھ  لیا،اس سے خمس دے۔

2۔ جب خریدی ہوئی عین باقی پڑی ہو اور خریدکےبعد  بچت میں ہو،یہاں تک کہ اس کے خرچہ میں داخل ہونےسے قبل ،اُس پر سال گزر جائے۔ 

مسئلہ364:سال کے خرچہ میں داخل ہے،جس  کااستعمال تام ہو اور جس کا استعمال  تام نہ ہو لیکن اس کی ملکیت اس کے اجتماعی حال کے مناسب  ہوجیسے عورت کے لیے زیور اوردینی  یا ثقافتی مردکےلیےکتب ، یاسینریاں وغیرہ ،یہی حکم ہے آلات وغیرہ جن کو ضرورت کے تحت خرید کیاہو،اگرچہ ان سے ابھی استفادہ نہیں کیا ہے ، جیسے آگ بجھانے والے آلات،دریاں ،مہمان نوازی والےبرتن،مہمانوں کوان کی منزل تک پہنچانے کے لیےگاڑی،ان کے بیٹھنےکےلیے خیمے،بچوں کوسکول یا بازار  پک و ڈراپ کےلیے وین ، یادیگر مناسب کام کےلیےکوئی شے خریدکی ہو ،یہ سب خرچہ میں داخل ہیں،اگرچہ انہیں استعمال نہ کیاہو۔

اگر ذخیرہ کردہ مال ،اس کے معاشرتی حال سے زائد کاہویااس کی ضرورت کے احتمال سے زائد ہو تو اس میں خمس واجب ہوتاہے۔

مسئلہ365:جب کوئی شخص خرچے کے لیے ضرورت سے زائد گندم ، جو ، گھی ، چینی،چائے وغیرہ خرید کرئےتواس پر اس کاخمس نکالناواجب ہے۔

خرچہ ،جس کی محتاجی ہوتی ہے اور عین بھی باقی رہتی ہے،جب اس سے بےنیاز ہوتو ظاہرہےکہ اس میں خمس واجب نہیں ہے،بشرطیکہ اس سے بےنیازی سال کے بعد حاصل ہو ،اس لیےکہ اگرچہ یہ خرچہ سے بچ گیاہے مگر اس پر صادق نہیں آتا ہے کہ یہ سال کے ارباح میں سے ہے،جس طرح عورتوں کے زیورات میں ہے جن  سے بڑھاپےکی عمر میں عورت بے نیاز ہوجاتی ہے اور جیسے کپڑے جو شخص کے حال کے مناسب شمار نہ ہوتے ہوں،یااس کے جسم کے مناسب نہ ہوں،اور سال کے دوران بے نیازی حاصل ہوجائے،پس اگر خرچہ ایسی شے سے ہو جس کا آیندہ سالوں کےلیے شمارکرنا متعارف ہوتاہے،جیسے سردی و گرمی کے ان کے موسم کی انتہاء پر کپڑے ،یا کارپٹ اور مہمانوں کے لیے معین موسموں میں تیار کردہ آلات ،جیسے امام حسین علیہ السلام کے زائرین ،پس ظاہر ہےکہ ان میں بھی خمس واجب نہیں ہے اور ایسی صورت حال نہ ہوتو بناء بر احتیاط کے خمس کاادا کرناواجب ہوگا۔  

 

شارك استفتاء

باب خمس

جن چیزوں میں خمس واجب ہے:

  اور یہ چندچیزیں ہیں:

اول۔غنائم،امام معصوم علیہ السلام کے اذن سے کفار کے ساتھ جنگ کی جائے ،جن کے ساتھ جنگ کرنا حلال ہو اور فتح  کی صورت میں اُن کاجومال ہاتھ آتاہے،وہ  مال غنیمت  ہے ،یہی حکم ہے جب کفارکے ساتھ غزوہ کی صورت میں ہواور امام علیہ السلام کے اذن کے بغیر ہو،یعنی مسلمان انہیں اسلام کی دعوت دیں اور وہ جنگ کرنے نکل آئیں یاوہ مسلمانوں پر حملہ کریں اورجنگ دفاعی ہو ۔

دوم۔معدن،جیسےسونا،چاندی،تانبہ،سلور،عقیق،فیروزہ،یاقوت،الکحل،نمک،تیل وغیرہ،مہم معدن کاصدق ہےخواہ بہنے والی ہویاجامدہو،زمین کی سطح پر ہو یا زمین  کےاندر ہو،ارض مملوکہ سے اٹھائےیا مباح زمین سے اٹھائے،احتیاط واجب ہےکہ چونہ اور نورہ یعنی ان دونوں کی تراب کو معدن کےساتھ ملحق قرار دیا جائے ، اگرچہ یہ ان کے جلانے اور پختہ کرنے سے پہلے ہواور چکی کاپتھراور دھونے والی مٹی وغیرہ جس پر زمین کانام صادق آئےاوراُس میں فائدہ دینے کی خصوصیت ہو۔

سوم۔خزانہ،وہ مال جو ایک جگہ ذخیرہ شدہ ہو،زمیں میں ہویادیوارمیں ہو یاکسی اور جگہ میں ہو ، جسے ملے ،یہ اس کےلیے ہےاور اس پر اس کاخمس دینا واجب ہے مگر یہ کہ وہ جانتاہوکہ یہ کسی مسلمان کی ملکیت ہے۔

اس صورت میں اُس پرواجب ہے وہ مال اُس کے مالک کوتلاش کر کے دے ، مالک موجود نہ ہوتواس کے وارثوں کو دے اور اس کامالک یا اس کے ورثہ نہ ملیں تو اُس کاوارث امام علیہ السلام  یاآپ کا خاص یا عام  وکیل ہے۔ 

چہارم۔غوطہ،وہ مال ہےجو سمندر میں غوطہ لگاکر نکالاجاتاہے،جیسے جواہرات ، مثل لؤلؤ کےاور اس کی مثل کےجوحیوان نہ ہو۔

پنجم۔وہ زمین جوکافر ذمی مسلمان سے خرید کرتاہے،اس میں بناء براحتیاط کے خمس واجب ہے،زمین میں فرق نہیں ہے خالی اور مملوکہ ہو ،کاشتکاری والی زمین ہو،گھروالی زمین ہووغیرہ۔

ششم۔جوحلال مال حرام مال کے ساتھ مکس ہوگیاہو،اور اس میں تمیز نہ کی سکتی ہو اوراس کی مقداربھی معلوم نہ ہواور اس کے مالکان کابھی پتہ نہ ہو ،اس سے خمس نکال کراسے حلال کیاجاسکتا ہےاور اسے خمس کی نیت سے حاکم شرع کو دیا جا سکتا ہے

احتیاط مستحب ہےکہ ردمظالم اور خمس کاقصد کیاجائے،تاکہ حاکم شرع اسے ایسے شخص پرخرچ کرئےجس پر یہ دونوں عنوان منطبق ہوتے ہوں اوروہ ان دونوں عناوین  کامستحق ہو۔

اگر مال کی مقدار معلوم ہواور مالک کاپتہ نہ ہوتواس پر لازم ہے کہ اسے مالک کی طرف سے صدقہ کردے ،خواہ حرام مال خمس کی مقدارکاہو یااس سے کم ہو یااس سے  زیادہ ہو ۔

احتیاط واجب ہےکہ یہ کام حاکم شرعی کی اجازت سے ہو،مصلحت ہوتواسے اختیار ہےکہ اسے دے یا کچھ معاف کردے ،اگر مالک کی بابت علم ہواور مقدار سے جاہل ہوتو دونوں کوصلح کے ذریعہ سے راضی کرئےگا،اوراگر مالک صلح کے ذریعہ سے راضی  نہ ہو تواس کی طرف  اقل کو دفع کرنا جائزہے،اور احتیاط مستحب ہےکہ اکثر المحتملات کواس کی طرف دفع کیاجائے۔

احوط ہےکہ اس کے ساتھ حاکم شرعی کی طرف رجوع کرئے تاکہ جھگڑا ختم ہو اوراگر مکلف مالک اور مقدارکوجانتاہو تواسےمال دینا واجب ہے،اس کی تعیین قرعہ یا دونوں کےدرمیان رضایت سے ہو۔

مسئلہ350:اگرمعلوم ہوکہ مالک بہت زیادہ  اوربےشمار افراد میں کوئی ایک ہے تو اُس کی طرف سے صدقہ کردے،احتیاط واجب ہےکہ یہ کام حاکم شرع کی اجازت سےکیاجائے۔

مسئلہ351:جب  مال رد مظالم میں دےدینے یاصدقہ کردینے کے بعد مالک ظاہرہوجائے،تواگراُس نے یہ کام حاکم شرع کی اجازت سے کیاتھاتواس  کے ضامن نہ ہونے کے بارے میں  کوئی اشکال نہیں ہے،اوراگر اُس نے یہ کام حاکم شرع کی اجازت سے نہیں کیاتھاتواحتیاط اس میں ہے کہ مالک کو صورت حال سے آگاہ کرکے راضی کرئے،اگرچہ احتیاط واجب ہےکہ مالک معاف کردے۔ 

مسئلہ352:جب حلال مال حرام مال سے مخلوط ایساہوکہ جس کاتعلق خمس سے ہو،تواس سے دودفعہ خمس نکالناواجب ہے،حلال مال کاخمس پہلے دے اور پھر دوسرا خمس نکالے۔

مسئلہ353:جب خمس نکالنے سے قبل حرام سے مکس مال میں تصرف کرلےتو خمس ساقط نہیں ہوگا،بلکہ اس کے ذمہ میں ہے کہ وہ اس خمس کو خمس کے مستحق کی طرف  پہنچائے،یہی حال مجہول المالک مال کاہے ،جس میں  تصرف کرلیاگیاہو ،وہ مال اس کے ذمہ میں رہتاہے،جیسے ردمظالم ،اگر اس کی مقدار کوجانتاہوتواسے اداکرئےاور اگراس کی مقدار کونہ جانتاہو تواسے حق حاصل ہے کہ اقل مقدار پر اقتصار کرئے،اور باقی کادینااحتیاط مستحب کی بناپر ہوگا۔

ہفتم۔جومال اُس کے سال بھر کے خرچہ سے بچ جائے،جسے اُس نے اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لیے خرچ کرناہوتاہے ،جس کاتعلق صنعت ،زراعت،تجارت،اجارہ ،مال مباح  کے منافع سے ہوتاہے۔

بلکہ احوط  و اقوی یہ ہے کہ اس کاتعلق ہر منافع کےساتھ ہے جو اس کی ملکیت قرارپاتاہےجیسے ہبہ، ہدیہ ،انعام ،وصیت شدہ مال،وقف  خاص وعام کا فائدہ ، میراث  جس کی توقع اور گمان نہیں ہوتا،خلع کاعوض ۔

 قبض کے ذریعہ سے ملک کے فرض  کی بناپر ،ان عناوین میں خمس واجب ہوتا ہے ، متوقع میراث جیسے پہلے طبقہ کی میراث ،زوجہ کا مہریہ ،اعضاء کی دیت ،جنایات کی چٹی  ان سب  میں خمس کےوجوب میں تردد ہے،اس لیے کہ ان پر غنیمت اور منافع کے عنوان کے صدق میں شک ہے خصوصاً    آخری عنوان میں  شک حاصل ہوتاہے کہ آیا اسے امام کے قول،،فی کل ماافادالناس من قلیل او کثیر،،کاعموم شامل ہے یاشامل نہیں ہے ،اس میں اصالۃ البرائت جاری ہوگی مگر احتیاط اس سے خمس نکالنے کاتقاضا کرتی ہےیا   دو اعلمیت کے محتملات میں سے ایک کی طرف رکوع کیاجائےلیکن مشہور کہتے ہیں کہ اس سے خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔

 مسئلہ354:ظاہرہے کہ ایک تاریخ مقرر کرکے اسے سال کا آغاز قراردینا،مکلف کے لیےولایت کے عنوان کےمطابق   مصلحت ہے،سال سے زائد کرناجائزنہیں ہے ، یعنی خمس کے دینے میں جلدی کرنا بیشتر ہےسوائے ولی کی اجازت کے،اس سے پہلے خمس کادینا،اس سے کوئی مانع نہیں ہے۔

مسئلہ355:مال موروث میں دوشرطوں سے خمس واجب نہیں ہے:

شرط اول۔اس کا متعلق خمس کےلیے مورِث کی زندگی میں نہ ہوجیسے اُس کاخمس دیاہواہویاوہ مال ارث ہویامہریہ ہو تو اس کاخمس نکالنا واجب نہیں ہے۔

شرط دوم۔وہ   شوہر یابیوی کے ساتھ ،پہلے طبقہ کی میراث میں سے ہو۔  

المجموع: 4 | عرض: 1 - 4

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف