منافع کے احکام
منافع کے احکام
مسئلہ366:جب کوئی شخص تجارتی قصد سے کوئی شے خرید کرئےاوراثنائے سال میں اس کی قیمت زیادہ ہوجائے،لیکن وہ اسے غفلت کی وجہ سے یا زیادہ کی طلب کی وجہ سے یاکسی اور غرض سے اسے فروخت نہ کرئے،پھر سر سال پہلے والی قیمت ہوجائے،اُس پر اس زائد قیمت کاخمس دینا واجب نہیں ہے،اگر قیمت کی زیادت سال کے آخر تک باقی رہے تو اس سے خمس نکالنا واجب ہوگا،اگرچہ اس نے اس مال کو فروخت نہ کیا ،اور اس کے بعد اس کی قیمت نیچے آجائے۔
مسئلہ367:قرض کو خرچےسے اداکیاجائے،جب اسے خرچے میں صرف کیا ہو ، خواہ اسے اس قصد سے لیاہویااسےاس قصد سے نہ لیاہو،خواہ قرض منافع کے سال میں لیاہواہو،یا قرض اس سے پہلےوالےسال میں لیاہو،اوراسے اس سےقبل ادا کرنے پرقدرت رکھتاہو یاقدرت نہ رکھتاہو۔
ہاں!جب اپنے قرض کوادانہ کرئےیہاں تک کہ سال گزر جائے توخمس دیناواجب ہوگا،یہ قرض ادا کرنے کی مقدار کے استثناء کے بغیرہو،خواہ جلد اداکرنے میں عذر رکھتاہو یا گناہگارہو۔
مسئلہ368:جب خمس دینے میں وجوب کےباوجود، تاخیرکرئےتواس پر متعدد باطل آثار مترتب ہوں گے:
1۔اس کاعین میں تصرف کرنا حرام ہے،کھانےوالی شے ہو یا پہننے والی ہو یا رہنے والی ہو یا اس کوئی اور شےہو۔
2۔ اپنے ذمہ کواس تصرف کےلیے اجرت مثل کے ذریعہ سے مشغول قراردے ،اُس میں جوخمس کے مقابلے میں ہو۔
3۔وہ معاملات جواعیان یاقیمتوں پر جاری ہوتے ہیں ،وہ اربع اخماس میں جاری ہوتے ہیں ،اسے حق حاصل نہیں ہےکہ اس کے مقابلے میں پوری قیمت کو لے ،جیسے اسے حق نہیں ہے کہ خمس نکالنے سے قبل مشتری کوعین دے ،جب تک کہ اس کی خبر نہ دےاور اسے وثوق ہو کہ عنقریب اس وظیفہ شرعیہ کو اداکرئےگا۔
4۔خمس کا منافع صاحبان خمس کےلیےہوتاہے،مالک کےلیےنہیں ہوتاہے۔
5۔ جب خمس دینےسے قبل مرجائےتواس کے وارث پر ترکہ کاخمس ،ترکہ کو تقسیم کرنے سے قبل ،قرضوں کےساتھ دیناواجب ہے۔
مسئلہ369:وہ عورت جو کمائی کرتی ہے،اُس پر خمس واجب ہوتاہے ،اگرچہ اس کاخرچہ شوہر کرتاہو ،اس کے منافع سےمستثناء نہیں ہےجو اس کاشوہر اس پر صرف کرتاہے،بلکہ یہی حکم ہےجب وہ کمائی نہ کرتی ہو،اور وہ شوہر یااس کے غیر کی طرف سے فوائد رکھتی ہو ،تواُس عورت پر سال کے آخر میں اپناخمس نکالناواجب ہے ، ہرمکلف پرواجب ہےکہ اپنے پاس موجود زائد مال کاسال کےآخر میں ارباح مکاسب وغیرہ سے ملاحظہ کرئے ،کم ہویا زیادہ ہو،وہ اپنے خمس کو نکالے،وہ کاروبار کرنے والاہو یا کاروبار کرنے والانہ ہو۔
مسئلہ370:جب کوئی شخص اپنے مال سے خمس نہ نکالتاہو،اور وہ اپنامال کسی دوسرے شخص کوہبہ کردے ،تو جسے ہبہ کیاہے اس پر اس مال کاخمس نکالناواجب نہیں ہے ،جب موہوب لہ(جسے ہبہ کیاگیاہے) کےلیے خمس کاسال مقرر ہو، اور ہبہ کرنےوالا اسے سال کے منافع سے دے ۔
جب مالک کے پاس مال ہو اور اس کاخمس کے ساتھ تعلق ہو،کیونکہ اس پر سال گزر گیاہو اوروہ اسے ہبہ کردے تو جسے ہبہ کیا ہے اس پر اس کاخمس نکالنافوراً واجب ہےتاکہ ہبہ کرنے والے کا ذمہ بری ہوجائے۔
جب موہوب لہ اپنے خمس کاحساب نہیں کرتاہو تو وہ اپنے اموال کےساتھ اس کاخمس نکالے کیونکہ اس سارے مال میں خمس واجب ہے۔
مسئلہ371:جس نے سال کی تاریخ مقرر کی ہوئی ہو ،چاہےکہ وہ اپنی تاریخ تبدیل کردےتویہ دوحال سے خالی نہیں ہے یاتو مقررہ تاریخ سے پہلے کی تاریخ مقرر کرئےگایا مقررہ تاریخ سے بعد کی تاریخ مقرر کرئےگا ،پس اگر تاریخ پہلے کی مقرر کرنا چاہتاہے تو اس کے مالی حال کا محاسبہ کرناممکن ہوگا اور اس پر مقررہ وقت میں جو خمس ہےاسےاداکرئے جسے وہ مناسب سمجھتا ہے ،اب یہ اس کی جدید مقررکردہ تاریخ بن جائے گی ،اسے حاکم شرع کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے،اور اگر تاریخ بعد کی کرنا چاہتاہےتو اس کےلیے اسے حاکم شرعی کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہوگی،پس اگر وہ اس کے لئے وقت مقرر کردے اور جو خمس اس کے ذمہ ہے اسے دےدے ،اس حیثیت سے کہ وہ مؤجل مدت کو شامل ہو تو اس کےلیےجدید تاریخ ہی خمس کی تاریخ مقرر ہوجائے گی۔
مسئلہ372:ہرمکلف پر واجب ہے کہ سال کے آخر میں اپنےاخراجات سے بچ جانے والے خرچہ سے خمس نکالے،یعنی اس نے جومال گھر میں سٹور کیاہواہے ،اس کا حساب کرکے اس سے خمس نکالے مثلا چاول ،آٹا،گندم،جو،چینی،چاے ،تیل ، لکڑیاں ،گھی ،حلوا،اور گھر کاسامان جسے خرچہ کےلیےتیار کیا ہواہے اوراسے تاریخ والےدن تک استعمال نہیں کیاہے،اس میں زیور اور ضرورت سے زائد کتب ،کپڑے ،کارپٹ،ضرورت سےزائد برتن ،شامل ہیں۔
مسئلہ373:مؤمنوں کےلیے کوئی حرج نہیں ہےکہ وہ کسی ایسے شخص سے مضاربہ کے طور پر مال لیں،جوخمس نہ نکالتاہو،یہی حکم ہے جب ایسے شخص سے قرض لیا جائے جو خمس نہیں نکالتاہے،پس اُس مضاربہ لینے والے اور قرض لینے والے پر خمس نکالناواجب نہیں ہے،یہ حکم اس شخص کے بارے میں جاری ہوتاہےجس پر معاشرہ خرچ کرتاہے اس اعتبار سے کہ وہ ہر ماہ یاہرہفتے ایک رقم پر اتفاق کرتے ہیں ،اور پیسے جمع کرکے قرعہ نکال کر ہرماہ ایک شخص کودیتے ہیں ،جیسےکمیٹی سسٹم ہوتاہے ، ہاں ،جب ملنےوالے مال کے ساتھ خمس کاتعلق ہو کیونکہ وہ خرچہ سے زائد ہے اورسال گزرگیاہو تواس سے خمس نکالنا اور دینے والے کی طرف رجوع کرناواجب ہوگا۔
مسئلہ374:جب گھر کاسربراہ خمس نہ نکالتاہو یا اس کے پاس مال مجہول المالک والاہو اور وہ شرعی لحاظ سے قبض نہ کرئے،اگرخاندان میں سےکوئی ایک فرد اپنے آپ پر مال خرچ کرسکتاہو تو یہ اس کےلیےبہتر ہے اوراگر وہ بقاء کےلیے مجبور ہوتو حاکم شرعی کی طرف رجوع کرناواجب ہےتاکہ اس مال کے تصرفات اور مصرف کو حلال قراردے سکے،اور جو ہمیں قبول کرئے تو ہم اسے اس مال سے استفادہ کی اجازت دیتے ہیں جومال اس پر اس کی متعارف ضروریات کی حدود میں ،گھر کاسربراہ کرتا ہے،پس اس کے مال اور اس کابوجھ اس کے غیر پر ہوگا،وہ ہدایت ،ارشاد اور موعظہ کی بابت اپنے وظیفہ کوترک نہ کرئے۔
مسئلہ375:زمین کا ٹکڑا جس کاحجم یا وسعت ہو وہ صاحب ید(قبضےوالے)کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خالی ہے اور اس پر کوئی کام نہیں ہواہے،اگرچہ وہ عرف اور کاغذوں کے اعتبار سے اس کی ملک ہوتاہے،اس کے مقابلے میں جورقم خرچ کی ہے اس کاخمس واجب ہے،بشرطیکہ وہ بعینہ مخمس مال سے خرید نہ کیاہو،اور کافی نہیں ہے کہ اس شخص کےلیےخمس کی تاریخ مقرر ہے ،اس کے متعدد نتائج ہوتے ہیں:
1۔اس سے خمس کادینا واجب نہیں ہے۔
2۔ یہ ارث کودورنہیں کرئے گی۔
3۔اس کی بیع،ہبہ وغیرہ کامعاملہ باطل ہوگا،سوائےاس کےکہ اس کی عرفی قیمت لی جائےگی ،جس کی فقہی توجیہ ہوسکتی ہو۔