اساسى | | رسالہ عمليہ | باب زکات
باب زکات

شارك استفتاء

زکات فطرہ

فطرہ کے وجوب کے شرائط؛

1۔بلوغ،پس بچے پر فطرہ واجب نہیں ہے ۔

2۔غنی(مالدار)،پس فقیر پر فطرہ واجب نہیں ہے، جو سال کاخرچہ قوۃ ً  وبالفعل نہ رکھتاہو ۔

جب مجنون غنی و مالدار ہو تواس کے ولی کےلیےاحوط  یہ ہےکہ اس کی زکات فطرہ ،اسی کے مال سےدے،فطرہ کےوجوب میں شخص کے مغمیٰ نہ ہونے سے مشروط قراردینے میں اشکال ہے،اوراحوط ہےکہ یہ شرط نہیں ہے۔

مشہور ہےکہ عید کی رات غروب آفتاب سے قبل فطرہ کے وجوب کی شرائط کاجمع ہونا معتبر ہے ،اور جب غروب ہوجائے تو فطرہ واجب ہوجاتاہے ،جب غروب آفتاب سےایک لحظہ قبل یا غروب کے ساتھ   بعض شرائط مفقود ہوجائیں ،تو فطرہ واجب نہیں ہوگا،غروب سے مراد سورج کی ٹکیہ کا افق سے سقوط کرجاناہے،یعنی سورج کی ٹکیہ کی آخری جزء افق کے نیچے چلی جائےاور اگر مفقودہ شرائط غروب کے بعد یا رات میں یاعیدکےدن جمع ہوجائیں تو احتیاط مستحب ہے کہ فطرہ نکالے۔  

مسئلہ385:فقیر کے لیے فطرہ نکالنا مستحب ہے ،اورجب اس کے پاس فقط ایک صاع کی گنجائش ہوتو وہ ایک فطرہ گھرکےایک فردکودے اور وہ دوسرے کو دے اور وہ تیسرے کو دے ،اسی طرح دیتے جائیں اور آخری شخص کسی اجنبی مستحق کو دے دے ،اس وظیفہ کے اداکرنے میں ایک صاع یااس کی قیمت سے کم مجزی نہیں ہے ، اورجب اُن میں بچے یامجنون ہوتو اس سے ولی لےکر اس کی طرف سے ادا کر دے ، اوریہ وظیفہ ایک دسترخوان پر کھانے والے خاندان سے مجزی ہوتاہے اوراکثر سے مجزی نہیں ہوتاہے ۔

مسئلہ386:جس میں شرائط جمع ہوں ،اس پر واجب ہےکہ اپنا اور اپنے  عیال کی طرف سے فطرہ نکالے ،عیال واجب النفقہ ہوں یا واجب النفقہ نہ ہوں،قریب ہوں یابعید ہوں ،مسلمان ہوں یاکافر ہوں ،چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں ۔

بلکہ ظاہر فطرہ کاوجوب ہےاگرچہ اس نے کسی ایک کواپنے عیال کے ساتھ تھوڑے سے وقت میں  ملایاہوجیسے مہمان جو چاند نظر آنے سےپہلے آجائےاوراس کےپاس عید کی رات رہے،اوروہ  اس کے پاس کھانا کھاسکتاہو ،اگرچہ اس وقت اس کے پاس  کھانانہ کھائے ،اور جب کسی شخص کوشب عیدافطار کی دعوت  دی جائےتو وہ اس کے عیال سے نہیں ہوگا اور اس کافطرہ دعوت دینے والے پر واجب نہ ہوگا۔

مسئلہ387:فطرہ کی زکات کی جنس میں ضابطہ یہ ہے:جوشے اکثر لوگ کھاتے ہوں،جیسے گندم ،جو،کھجور،انگور،چاول،مکئی،باجرہ۔

مسئلہ388:وہ مقدار جو فطرہ کی زکات میں  ایک فرد کی طرف سے دینا واجب ہے،ایک صاع ہے۔اورایک صاع چار مد کاہوتاہے پس ایک فرد کافطرہ تقریباً تین کلوگرام ہے۔

فطرہ نکالنے کاوقت:

اس زکات کے واجب ہونے کاوقت غروب کے وقت عید کی رات ہے،اور فطرہ دینے کاوقت عیدکےدن طلوع آفتاب سے زوال تک ہے،اگرچہ ظاہرہے کہ فطرہ رات میں  ہی دےدیاجائے تومجزی ہے ،اور احوط ہے کہ اسے نماز عید سے پہلے نکالاجائے یاجداکیاجائے ،اور اگرنماز عید نہ پڑھے تو اس کاوقت زوال تک بڑھ جاتاہےاور احتیاط واجب کی بناء پر اس سے زیادہ تاخیر نہ کرئے ،اورجب اسے جداکردے تو اداکرنے میں تاخیر جائز ہے ،بشرطیکہ تاخیر عقلائی غرض کی بناپر ہو ،جیسے مستحق کاانتظار ہو ،یاکسی تنگی میں ہو جس کے زائل ہوجانے کی امید ہو ۔

اگر فطرہ نہ دے اور اسے جدابھی نہ کرئے یہاں تک کہ  عید الفطر کےدن سورج زوال کرجائے،تو احتیاط لازم ہےکہ اسے قصد رجاء سے بجالائےیا مافی الذمہ کے قصد سے بجالائے یا قربت مطلقہ سے بجالائے،یہ احتیاط عید فطر کے سارے دن کےلیےہے ،بلکہ سارے سال کے لیے ہے ،بلکہ ساری عمر کےلیےہے۔

مسئلہ389:ماہ رمضان میں قرض کے عنوان سے فطرہ کامقدم قراردیناجائز ہے،اور پھر اداکے وقت اسے زکات فطرہ سے حساب کرلیاجائے۔

مسئلہ390:غیرسید کافطرہ سید پر حرام ہےاور سید کافطرہ سیداور غیر سید دونوں کےلیےحلال ہے ،اس میں معتبر مالک کی ہستی ہے جب دےتو مالک کون ہے ،یہ دیکھاجائےگا ،خواہ عائل ہویامعیل ہو۔

مسئلہ391:مالک کےلیےجائزہے کہ وہ خود فقراء کودے ،احوط اورافضل ہےکہ فطرہ مجتہد کودیاجائے ،کیونکہ مجتہدین  زیادہ بصیرت رکھتے ہیں کہ اسے کن مصارف میں صرف کیاجائے۔

مسئلہ392:مستحب ہے کہ اس میں قریبی رشتہ داروں کومقدم قراردیاجائے ،پھر ہمسائیوں کو مقدم قراردیاجائے،ضروری ہے کہ اس میں  صاحب علم ،صاحب دین اور صاحب فضل کوترجیح دی جائے۔

 

شارك استفتاء

مستحقین زکات کے صفات

 چند صفات ہیں:

اول۔ایمان،احتیاطاً     کافر اور مخالف کو فقراء و غیرفقراء کے حصہ سے زکات نہ دی جائے،سوائے مؤلفہ قلوب اورسبیل اللہ  والے حصہ کے ،ان حصص سے زکات لےسکتے ہیں۔

دوم۔گناہگاروں میں سے بھی نہ ہو،کیونکہ اسے زکات دی جائے گی تووہ اسے معاصی میں خرچ کرئےگا،یااسے زکات کادینا     گناہ پر اعانت ہوگی۔

سوم۔اُن لوگوں میں سے بھی نہ ہو جوزکات دینے والے کاواجب النفقہ ہو ، جیسے والدین  واجداد اور ان سے اوپر،اولاد اور ان سے نیچے بچے و بچیاں ،دائمی بیوی جب تک کہ ان کا نان و نفقہ ساقط نہ ہو،متعہ والی بیوی جب تک کہ اس نے نان و نفقہ کی شرط لگائی ہوئی ہو۔

چہارم۔ہاشمی(سید)  نہ ہو، جب زکات غیرسید کی ہو،سید غیرسید کی زکات نہیں لےسکتاہے،لیکن سید غیرسید کو زکات دے سکتاہے،پس سید سادات اور غیر سادات دونوں کو زکات دے سکتاہے۔

مسئلہ384:سادات کےلیے جوغیر سادات کا صدقہ حرام ہے وہ زکات مال اور زکات فطرہ ہے ،لیکن مستحبی صدقات  سادات کےلیےحرام نہیں ہیں،اس کےعلاؤہ چند دیگر واجب صدقات بھی سادات کےلیےحرام نہیں ہیں:

کفارات ،ردمظالم ،مجہول المالک،لقطہ(گمشدہ)،فدیہ،نذری صدقہ،جس کی فقراء یاعلماء نےوصیت کی ہو،چہ جائیکہ  موقوف مال۔

 

شارك استفتاء

مستحقین زکات:

مستحقین زکات کی قسمیں:

مستحقین زکات کی آٹھ قسمیں ہیں:

اول۔فقیر۔

دوم۔مسکین۔

فقیرومسکین وہ ہیں ،جن کے پاس اپنااوراپنےاہل وعیال کااپنے حال کے لایق سال بھر کاخرچہ نہ ہو،عیال سے مقصود صرف زوجہ اور بچے ہی نہیں ہیں ،بلکہ وہ افرادبھی ہیں جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو پس یہ مہمان کو بھی شامل ہے۔

سوم۔عاملون یعنی زکات اکٹھی کرنے والے،وہ لوگ ہیں جن کو زکات کی جمع آوری ،زکات لینے،زکات کاحساب کرکے اسے امام علیہ السلام یاان کے عام نائب یامستحق  تک پہچانے کے لیے مقرر کیاگیاہو،ان کاکام آجکل کے کلٹر کے مشابہے ہے۔

چہارم ۔مؤلفہ قلوب،وہ مسلمان جن کاعقیدہ  اسلامی معارف کی بابت ضعیف ہو،ان کو زکات دی جائے تاکہ یہ اسلام کو اچھی نگاہ سے دیکھیں اور دین پر ثابت قدم رہیں ، یاوہ کفار جن کو زکات دی جائے تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوں،یادفاع میں مسلمانوں  کی حمایت اور معاونت کریں یادوسرے کافروں کےساتھ جہاد میں مسلمانوں  کاساتھ دیں  ۔

پنجم۔غلام آزاد کروانے کےلیے،وہ غلام جس کے ساتھ لکھ پڑھ ہوچکی ہو،اوروہ کتابت مطلقہ یامشروطہ کے اداکرنے سے عاجز ہوپس اسے زکات دی جائےتاکہ وہ لکھا ہوامال ادا کرسکےاور وہ غلام جو سختی میں ہو ،تحت فشارہو اسے خریدکرکے آزاد کر دیا جائے،بلکہ ہر غلام کاآزاد کروانابشرطیکہ دوسراکوئی زکات کامستحق میسر نہ ہو،بلکہ اظہر قول کی بناء پر مطلق طور پر غلام آزاد کروانا۔

ششم۔مقروض،جس کے ذمہ لوگوں کاقرض ہو اور وہ  وقت پر اداکرنے سے عاجز ہو،خواہ اپنے سال کاخرچہ قوۃ ً یا بالفعل رکھتا ہو یا اپنے سال کاخرچہ نہ رکھتا ہو ، بشرطیکہ  اس کاقرض معصیت خدا میں نہ ہو۔

ہفتم۔سبیل اللہ تعالی،یہ ہرقسم کے امور خیریہ کوشامل ہے،جیسے سڑک بنانا،پل بنانا ،مساجدومدارس بنانا،دولوگوں کےدرمیان صلح کروانا،فتنہ وفساد دور کروانااور اس کے علاؤہ دوسری تمام جہات عامہ،بلکہ اظہر ہےکہ یہ ہراُس عمل کوشامل ہے جوانسان کو خداکے قریب کرئے،خواہ  جہات عامہ سے ہویاجہات خاصہ سے ہوجیسے کسی کو حج کی طرف بھیجنا ،جب وہ بغیر زکات حج پر جانے کی قدرت نہ رکھتاہو،یاکسی عالم کےلیے گھر بنانا۔

ہشتم۔مسافر ،جس کےپاس سفر کاخرچہ ختم ہوگیا ہو اور گھر واپس جانے کی قدرت نہ رکھتاہو،اسے بقدر ضرورت زکات دی جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے وطن واپس   جاسکے،بشرطیکہ وہ کسی سے قرض بھی نہ لے سکتاہو،یااپنے شہر میں موجود کسی شے کو فروخت بھی نہ کرسکتاہو،وگرنہ وہ سفر میں صاحب قدرت کے زمرہ میں آئے گا۔

 

شارك استفتاء

اموال تجارت کی زکات

تجارت کے اموال سے مراد،پونجی اور ہرقسم کامملوکہ مال ہے جو معاوضہ کےعقد سے ملکیت قراردیاجاتاہےاور اس میں کسب اور منافع کی غرض ہوتی ہے،یہ سونا چاندی کوشامل نہیں ہے کیونکہ یہ اس دور میں نوٹ کے عنوان میں داخل ہے ۔

مسئلہ 383:اموال تجارت میں زکات کی مقدار دواشاریہ پانچ فیصد ہے،درج ذیل شروط سے واجب ہے:

1۔ سال بھر مال مالک کی ملکیت میں رہے کمائی اور منافع کی غرض سے رہے۔

2۔طول سال میں منافع کاقصد باقی رہے،اگراس قصد  سےعدول کرلے اور دوران سال ذاتی استعمال کی نیت کرلےتو زکات واجب نہیں ہوگی۔

3۔طول سال میں مال متاع یعنی اصل مال  یا اسے بڑھانے کی طلب میں رہے ، لیکن زیادت کو طلب کرنے کی غرض سے اسے فروخت نہ کرئے پس اگر دوران سال کم کو طلب کرئے تواس میں زکات واجب نہیں ہوگی۔

4۔ایک قول کے مطابق شرط ہے کہ یہ مال نصاب کو پہنچ جائےاور وہ  سوناچاندی میں سے ایک کانصاب ہے،جیساکہ گزرچکاہے،مگریہ کہ یہ تام دلیل سے ثابت نہیں ہے ،روایات کے اطلاق کامقتضی ،نصاب کاشرط نہ ہوناہے اور یہ احوط ہے۔

 

شارك استفتاء

غلات کی زکات:

غلوں کی زکات ہرقسم کے دانوں میں واجب ہے ،جن کو ناپا یا تولا جاتاہے ،یہ حکم مشہور کے خلاف ہے ،جنہوں نے زکات کے وجوب کو گندم ،جو،کھجور اور انگور کے ساتھ مخصوص قراردیاہے۔

مسئلہ381:زکات کے وجوب میں دو چیزیں شرط ہیں:

اول۔نصاب ،آج کے متعارف وقت کے مطابق تقریباً  847 گرام ہےیعنی 21من

175گرام۔

دوم۔ملک ،جب جنس کے ساتھ وجوب زکات کاتعلق پیداہو تواس وقت وہ اس کی ملکیت میں ہو ،خواہ ملکیت زراعت کی وجہ سے ہو یا جنس وجوب  زکات کے تعلق کےوقت سے قبل  فصل خرید کی ہو،یا ارث کی وجہ سے ہویا ملک کے دیگر اسباب میں سے کوئی ایک ہو۔

مسئلہ382:چاروں غلوں کی زکات میں مالک پر دسواں حصہ زکات کا نکالناواجب ہے،جب زراعت و درختوں اور کھجوروں کو جاری پانی سے سینچا جائے،جیسے چشمے اور نہروں کا پانی،جوپانی زمین کو لگایاجائے تواس پر زائد خرچہ نہ ہو،مثل   آلات سے پانی کالگانایا بارش کے پانی سےیا زمین میں پائپ سے  فصل سیراب ہوتی ہو ،جوبعض ملکوں میں پانی لگانے کی روش ہے ،اور اگر فصل کو ڈول وغیرہ سے اور جدید طریقوں  سے مانند ٹیوب ویل ،ٹربائن سے سیراب کیا گیاہو تو بیسواں حصہ زکات کانکالناواجب ہے۔

دوسرابیان:فصل کوسیراب کرنے کی چندصورتیں ہیں:

اول۔طبیعی ہو ، بارش سے ہو یا زمین میں لگائے گئے پائپ سے ہو،چشمہ سے ہو،نہر سے ہو،چشمہ خودروہویا لوگوں کا بنایا ہوا ہو۔

دوم۔آلات سے ہو جیسے ٹربائن وغیرہ۔

ان دونوں صورتوں سے مشترک تیار کردہ فصل سےپندرواں حصہ زکات دیناواجب ہے۔

 

شارك استفتاء

انعام ثلاثہ(تین قسم کے جانور)

ان میں زکات کی چند شرطیں ہیں:

شرط اول۔نصاب۔

اونٹ کانصاب:

اونٹ کے بارہ نصاب ہیں:

1۔5اونٹ ،ان میں ایک بکری زکات ہے۔

2۔10اونٹ ،ان میں دو بکریاں زکات ہے۔

3۔15اونٹ ،ان میں تین  بکریاں زکات ہے۔

4۔20اونٹ ،ان میں چار بکریاں  زکات ہے۔

5۔25اونٹ ،ان میں پانچ  بکریاں زکات ہے۔

6۔26اونٹ ،ان میں  بنت مخاض  زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو دوسرے سال میں داخل ہو۔

7۔ 36اونٹ ،ان میں  بنت لبون  زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو تیسرے سال میں داخل ہو۔

8۔ 46اونٹ ،ان میں ایک حقہ زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو چوتھے سال میں داخل ہو۔

9۔ 61اونٹ ،ان میں   ایک جزعہ  زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو پانچویں  سال میں داخل ہو۔

10۔76 اونٹ ،ان میں دو   بنت لبون زکات ہے۔

11۔91اونٹ ،ان میں دو حقہ زکات ہے۔

12۔121اونٹ ،ان میں ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون زکات ہے۔

مسئلہ377:گائے کانصاب:

گائےکے دونصاب ہیں:

1۔30 گائے،اس میں ایک تبیع زکات ہے۔

2۔40گائے،اس میں ایک مسنہ زکات ہے۔

مسئلہ 378:بھیڑ،بکری کانصاب:

بھیڑ ،بکری کے پانچ نصاب ہیں:

1۔40بھیڑبکری،ان میں ایک بکری زکات ہے۔

2۔121بھیڑبکری،ان میں دوبکریاں زکات ہیں۔

3۔201بھیڑ بکری،ان میں تین بکریاں زکات ہیں۔

4۔301بھیڑبکری،ان میں چار بکریاں زکات ہیں۔

5۔400بھیڑبکری یااس سے زائد،ان میں ہرسومیں ایک بکری زکات ہے ،جنتی بڑھتی جائیں ،ہرسو میں ایک بکری دیتے جائیں۔

 نصاب اول سے کم میں کوئی زکات نہیں ہے اور دونصابوں کے درمیان جانوروں میں بھی زکات نہیں ہے۔

شرط دوم۔طول سال میں مالک کے مال سے کوئی شے نہ کھائیں۔

تینوں قسم کے جانوروں کے لیے شرط ہےکہ  وہ باہر سے طبیعی جگہوں سے گھاس ،چارا کھائیں اور مالک کے مال سے کچھ نہ کھائیں ،صبح کھول دیا اور شام کو باندھ دیاجائےاسے فقہی اصطلاح میں سائمہ کہتے ہیں،ان میں زکات ہے اورجن کے لیے مالک گھاس ،دانے کاانتظام کرئےاور کھلائے تووہ جانور معلوفہ کہلاتے ہیں ،جن میں زکات نہیں ہے۔

شرط سوم۔جانوروں سے کام کاج میں مدد نہ لی جائے۔

سال بھر ان جانوروں سے کام نہ لیا جائے اور اگر سال کاکچھ حصہ ان سے کام لے لیا تو ان میں زکات  واجب نہیں ہوگی،یہ مشہور کاقول ہے ،اورصحیح قول یہ ہےکہ یہ شرط معتبر نہیں ہےجن جانوروں سے کام لیاجاتاہے وہ دوسرے جانوروں کی مثل ہیں جن میں زکات واجب ہے،ان میں زکات تب واجب نہیں ہوگی جب یہ معلوفہ ہوں یعنی مالک کے مال کو کھائیں ،اور یہ گزشتہ شرط میں بیان ہوچکا ہے۔

شرط چہارم۔ان جانوروں کومالک کی ملکیت میں رہتے ہوئے سال گزر جائے۔

ایک سال قمری مالک کی ملکیت میں رہیں۔ 

سونا،چاندی کی زکات

زکات ،قدیم زمانے میں سونا ،چاندی کے سکے ہوتے تھے،دینار سونے کااوردرہم چاندی کاہوتاتھا،زکات ان کے ساتھ مختص نہیں ہے ،اب سونے چاندی کے سکوں سے معاملہ نہیں ہوتابلکہ کاغذ کے درہم ودینار ڈالر و یورو وغیرہ سے ہوتاہے ،اگر یہ نوٹ سال بھر کسی کےپاس پڑے رہیں ،اور نصاب کی حد تک پہنچ جائیں توان میں زکات ہوگی۔

مسئلہ379:زکات ،استعمال کی جانے والی امانتوں میں واجب نہیں ہے،اگرچہ بقدر نصاب ہوں ،اوراُن پر  سال بھر گزر جائے،کیونکہ یہاں بعض وجوب کی شرطوں میں خلل واقع ہوجاتاہے،اور وہ ہےکہ سال نفس عین مال پر گزرے ، اس پر مراقب  اور مواظب رہناکافی نہیں ہے۔

مسئلہ380:سوناچاندی کی زکات کے شرائط:

اول۔نصاب،سونا کانصاب، بیس دینارہے،اس میں نصف دینار زکات ہے اور دینار صرافی مثقال کے تین ربع  کاہوتاہے جو 3اشاریہ 45 گرام ہے۔

چاندی کانصاب ،دوسودرہم ہے،اس میں پانچ درہم زکات ہے،پھر چالیس درہم ہےاوراس میں ایک درہم زکات ہے ،اسی طرح جو چالیس درہم بڑھتے جائیں تو اس میں ایک درہم زکات کاہوتاجائے گا۔

دوم۔ درہم چاندی کاہو اور دینار سونے کاہو اور معاملہ کئے جانے والے رائج الوقت سکہ ہوں ۔

سوم۔سال،اس میں زکات کے وجوب میں بارویں مہینے کاداخل ہوجاناہے ،جب بارواں مہینہ داخل ہوجائےتو سال مکمل ہوجائےگااور اس میں زکات واجب ہو جائےگی،ضروری ہے کہ پوراسال زکات کے وجوب کی شروط عامہ  موجود رہیں۔

 

شارك استفتاء

باب زکات

زکات:اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے،اس کاوجوب ضروریات دین میں سے ہے ،اوراس  کے وجوب کامنکر کافر ہے ،کیونکہ  اس سے رسالت کی تکذیب ہوتی ہے ۔

وجوب زکات کے شرائط عامہ:

اول۔بلوغ۔

دوم۔عقل۔

سوم۔تمکن(مال کے صرف کرنے پر قدرت رکھنا)۔

چہارم۔  ملکیت۔

جن چیزوں میں زکات واجب ہے:

مشہور ہے کہ نو چیزوں میں زکات واجب ہے:

سونا،چاندی،گندم،جو،انگور،کھجور،بھیڑ بکری،گائے،اونٹ۔

سوناوچاندی سکہ میں ہوں اور اُن سے لین ودین ہوتاہو۔

لیکن صحیح وہ ہے جس کا اہل بیت عصمت علیہم السلام سے استفادہ ہوتاہے ،یہ ہےکہ زکات کاوجوب وسیع پیمانے پر واجب ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے:

1۔ہر قسم کے دانے جو ناپے ،تولے جاتے ہیں ،جو زمین سے اگتے ہیں،جیسے چاول،مسور،ماش  ،لیکن جس شے کی ان دانوں میں سے تجارت کی جاتی ہے وہ شمارہ تین میں داخل ہے۔

2۔دینار،ڈالر ،یورو،روپے وغیرہ جب انہیں سال بھر محفوظ رکھاجائے اور استعمال نہ کیا جائے۔

3۔تجاری پونجی اور عین مال جن کو محفوظ کرکے رکھاجاتاہےتاکہ اُن کی قیمت بڑھ جائے اور سال  بھرپڑی رہیں،دوران سال قیمت خرید سے موجود مال کی قیمت زیادہ ہوجائےاوروہ اسے فروخت نہ کرئے،جس کامقصد یہ ہوکہ قیمت مذید بڑھ جائے گی،تو بیچوں گا۔

المجموع: 7 | عرض: 1 - 7

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف