انعام ثلاثہ(تین قسم کے جانور)
انعام ثلاثہ(تین قسم کے جانور)
ان میں زکات کی چند شرطیں ہیں:
شرط اول۔نصاب۔
اونٹ کانصاب:
اونٹ کے بارہ نصاب ہیں:
1۔5اونٹ ،ان میں ایک بکری زکات ہے۔
2۔10اونٹ ،ان میں دو بکریاں زکات ہے۔
3۔15اونٹ ،ان میں تین بکریاں زکات ہے۔
4۔20اونٹ ،ان میں چار بکریاں زکات ہے۔
5۔25اونٹ ،ان میں پانچ بکریاں زکات ہے۔
6۔26اونٹ ،ان میں بنت مخاض زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو دوسرے سال میں داخل ہو۔
7۔ 36اونٹ ،ان میں بنت لبون زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو تیسرے سال میں داخل ہو۔
8۔ 46اونٹ ،ان میں ایک حقہ زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو چوتھے سال میں داخل ہو۔
9۔ 61اونٹ ،ان میں ایک جزعہ زکات ہےیعنی اونٹنی کابچہ جو پانچویں سال میں داخل ہو۔
10۔76 اونٹ ،ان میں دو بنت لبون زکات ہے۔
11۔91اونٹ ،ان میں دو حقہ زکات ہے۔
12۔121اونٹ ،ان میں ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون زکات ہے۔
مسئلہ377:گائے کانصاب:
گائےکے دونصاب ہیں:
1۔30 گائے،اس میں ایک تبیع زکات ہے۔
2۔40گائے،اس میں ایک مسنہ زکات ہے۔
مسئلہ 378:بھیڑ،بکری کانصاب:
بھیڑ ،بکری کے پانچ نصاب ہیں:
1۔40بھیڑبکری،ان میں ایک بکری زکات ہے۔
2۔121بھیڑبکری،ان میں دوبکریاں زکات ہیں۔
3۔201بھیڑ بکری،ان میں تین بکریاں زکات ہیں۔
4۔301بھیڑبکری،ان میں چار بکریاں زکات ہیں۔
5۔400بھیڑبکری یااس سے زائد،ان میں ہرسومیں ایک بکری زکات ہے ،جنتی بڑھتی جائیں ،ہرسو میں ایک بکری دیتے جائیں۔
نصاب اول سے کم میں کوئی زکات نہیں ہے اور دونصابوں کے درمیان جانوروں میں بھی زکات نہیں ہے۔
شرط دوم۔طول سال میں مالک کے مال سے کوئی شے نہ کھائیں۔
تینوں قسم کے جانوروں کے لیے شرط ہےکہ وہ باہر سے طبیعی جگہوں سے گھاس ،چارا کھائیں اور مالک کے مال سے کچھ نہ کھائیں ،صبح کھول دیا اور شام کو باندھ دیاجائےاسے فقہی اصطلاح میں سائمہ کہتے ہیں،ان میں زکات ہے اورجن کے لیے مالک گھاس ،دانے کاانتظام کرئےاور کھلائے تووہ جانور معلوفہ کہلاتے ہیں ،جن میں زکات نہیں ہے۔
شرط سوم۔جانوروں سے کام کاج میں مدد نہ لی جائے۔
سال بھر ان جانوروں سے کام نہ لیا جائے اور اگر سال کاکچھ حصہ ان سے کام لے لیا تو ان میں زکات واجب نہیں ہوگی،یہ مشہور کاقول ہے ،اورصحیح قول یہ ہےکہ یہ شرط معتبر نہیں ہےجن جانوروں سے کام لیاجاتاہے وہ دوسرے جانوروں کی مثل ہیں جن میں زکات واجب ہے،ان میں زکات تب واجب نہیں ہوگی جب یہ معلوفہ ہوں یعنی مالک کے مال کو کھائیں ،اور یہ گزشتہ شرط میں بیان ہوچکا ہے۔
شرط چہارم۔ان جانوروں کومالک کی ملکیت میں رہتے ہوئے سال گزر جائے۔
ایک سال قمری مالک کی ملکیت میں رہیں۔
سونا،چاندی کی زکات
زکات ،قدیم زمانے میں سونا ،چاندی کے سکے ہوتے تھے،دینار سونے کااوردرہم چاندی کاہوتاتھا،زکات ان کے ساتھ مختص نہیں ہے ،اب سونے چاندی کے سکوں سے معاملہ نہیں ہوتابلکہ کاغذ کے درہم ودینار ڈالر و یورو وغیرہ سے ہوتاہے ،اگر یہ نوٹ سال بھر کسی کےپاس پڑے رہیں ،اور نصاب کی حد تک پہنچ جائیں توان میں زکات ہوگی۔
مسئلہ379:زکات ،استعمال کی جانے والی امانتوں میں واجب نہیں ہے،اگرچہ بقدر نصاب ہوں ،اوراُن پر سال بھر گزر جائے،کیونکہ یہاں بعض وجوب کی شرطوں میں خلل واقع ہوجاتاہے،اور وہ ہےکہ سال نفس عین مال پر گزرے ، اس پر مراقب اور مواظب رہناکافی نہیں ہے۔
مسئلہ380:سوناچاندی کی زکات کے شرائط:
اول۔نصاب،سونا کانصاب، بیس دینارہے،اس میں نصف دینار زکات ہے اور دینار صرافی مثقال کے تین ربع کاہوتاہے جو 3اشاریہ 45 گرام ہے۔
چاندی کانصاب ،دوسودرہم ہے،اس میں پانچ درہم زکات ہے،پھر چالیس درہم ہےاوراس میں ایک درہم زکات ہے ،اسی طرح جو چالیس درہم بڑھتے جائیں تو اس میں ایک درہم زکات کاہوتاجائے گا۔
دوم۔ درہم چاندی کاہو اور دینار سونے کاہو اور معاملہ کئے جانے والے رائج الوقت سکہ ہوں ۔
سوم۔سال،اس میں زکات کے وجوب میں بارویں مہینے کاداخل ہوجاناہے ،جب بارواں مہینہ داخل ہوجائےتو سال مکمل ہوجائےگااور اس میں زکات واجب ہو جائےگی،ضروری ہے کہ پوراسال زکات کے وجوب کی شروط عامہ موجود رہیں۔