اساسى | | رسالہ عمليہ | احکام تجارت
احکام تجارت

شارك استفتاء

احکام مساقات

مسئلہ196:مساقات یعنی انسان اس قسم کامعاملہ کرئے کہ  میوہ دار درختوں جن کا پھل خوداس کامال ہو یااس پھل پراس کااختیار ہو ایک مقرر مدت کےلیے کسی دوسرے شخص کے سپرد کردےتاکہ وہ ان کی نگہداشت کرئےاورانہیں پانی دے اور جتنی مقداروہ آپس  میں طے کریں ،اس کے مطابق وہ ان درختوں کاپھل لےلے ،ایسامعاملہ مساقات ہے۔

مسئلہ197:جو درخت پھل نہیں دیتے جیسے بید اور چنار ،ان کے بارے میں مساقات  کاعقد جاری کرنادرست نہیں ہے، اور جن درختوں کے پتوں سے استفادہ کیا جاتا ہےجیسے مہندی کادرخت ان کے بارے میں مساقات کامعاملہ کرنے میں اشکال  ہے۔

مسئلہ198:مساقات کے معاملہ میں صیغہ پڑھناضروری نہیں ہے بلکہ اگردرخت کامالک مساقات کی نیت سے اسےکسی کے سپرد کردے اور جس  شخص کو کام کرنا ہو وہ بھی اسی نیت سے کام میں مشغول ہوجائے تومعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ199:درختوں کامالک اور جوشخص درختوں کی نگہداشت کی ذمہ داری لے ، دونوں بالغ اورعاقل ہوں اور یہ بھی ضروری ہےکہ کسی نے انہیں معاملہ کرنے پر مجبور نہ کیا ہو اور لازم ہے کہ سفیہ نہ ہوں یعنی اپنامال بیہودہ کاموں صرف نہ کرتے ہوں۔

مسئلہ200:مساقات کی مدت متعین ہونی چاہیے،اگر فریقین اس مدت کی ابتداء مقرر کردیں اور اس کااختتام اس وقت کوقراردیں جب اس سے پھل دستیاب ہو تومعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ201:ہرفریق کاحصہ نصف یاایک تہائی وغیرہ ہونا چاہیے اگر معاہدہ کریں کہ دس من میوہ مالک کااور باقی کام کرنے والے کاہوگاتو مساقات باطل ہوجائے گی۔

 

شارك استفتاء

احکام مضاربہ

مسئلہ190:مضاربہ یعنی انسان کسی دوسرے کو تجارت کےلیے مال دےتاکہ منافع ان کے درمیان نصف یا ایک تہائی تقسیم ہو۔

مضاربہ میں چندامور معتبر ہیں:

1۔ایجاب وقبول،ان میں  لفظ  یا کوئی اور شے جو ایجاب وقبول پر دلالت کرئے کافی ہے،ان میں عربی اور ماضی  معتبر نہیں ہے۔

2۔مالک اور عامل میں سے ہرایک بالغ ، عاقل ہوں  اور اپنے اختیار سے معاہدہ طے کریں،اور بیہودہ کام میں مال صرف کرنے کی وجہ یامفلسی کی وجہ سے مال میں تصرف کرنے سے روک نہ دیاگیاہویہ مالک میں معتبر ہے اور عامل میں معتبر نہیں ہے۔

3۔دونوں میں سے ہرایک کے حصہ کو نصف یا ایک تہائی معین کیاجائے مگر جہاں معمول کے مطابق حصہ چلتاہو جس کی طرف اطلاق کاانصراف ہوتاہو۔

4۔ منافع دونوں کے درمیان بانٹاجائےگا،اگر کسی اجنبی کےلیے اُس سے کچھ مقدار شرط کی گئی ہو تومضاربہ صحیح نہیں ہوگا مگر جب اس اجنبی سے تجارت کے متعلق کام کی شرط لگائی گئی ہو۔

5۔عامل تجارت کرنے کی قدرت رکھتا ہو جس میں خود کا کام کرنامقصود ہواور اگر وہ تجارت کرنے سے عاجز ہوتو مضاربہ صحیح نہیں ہوگا۔

یہ اس وقت ہے جب قید لگائی گئی ہوکہ عامل خود کام کرئے گا،لیکن جب اسے شرط نہ کیاگیاہوتو مضاربہ باطل نہیں ہوگا، اگر شرط کی خلاف ورزی کی جائے تو مالک کو معاملہ کے فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔

لیکن جب نہ یہ صورت  ہو اور نہ ہی وہ صورت ہو،اورعامل تجارت کرنے سے عاجز ہو،یہاں تک کہ کسی دوسرے کی  مدد سے بھی تجارت نہ کرسکتاہو تومضاربہ باطل ہوجاتاہے ،خواہ وہ پہلے سے عاجز ہو یا بعد میں عاجز ہواہو ،پس عاجز ہوتے ہی مضاربہ باطل ہوجائے گا۔

6۔جو مال مضاربہ کے لیےدیاجائے وہ علاقائی کرنسی ہویا انٹرنیشنل کرنسی ہو ،صحیح نہیں ہےکہ جمع پونجی کو مال قراردے کر مضاربہ کےلیے دیاجائےیا قرض کو مضاربہ   کےلیے دیاجائےجو عامل کے ذمہ میں ہو،یہاں تک کہ قرض کوپہلے وصول کرئےاور پھر اسے مضاربہ کےلیےمال قراردےکردے۔

مسئلہ190:اگرعامل کاروبار میں کوتاہی نہ کرئے اور نقصان ہوجائے تو نقصان کی بھرپائی عامل پر نہیں ہوگی اورجب مالک عقد کے ضمن میں عامل پر شرط لگائے کہ منافع کی طرح ،نقصان  کی بھرپائی دونوں پرہوگی،توظاہریہ ہےکہ یہ شرط باطل ہے ،ہاں اگرمالک پر شرط عائدکرئےکہ وہ اپنے کاروبار سے نقصان کی بھرپائی کرئےگا اور یہ صورت پیداہوجائے تو صحیح ہے اور اس کاکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ191:مضاربہ کاعقد طرفین کی جانب سے جائزہے،کیونکہ یہ اذن والے عقود میں سے ہے،دونوں اسے فسخ کرسکتے ہیں ،کام شروع کرنے سےقبل ہویا کام شروع کرنے کے بعد ہو ،فائدہ حاصل ہونے سے قبل ہویافائدہ حاصل ہونے کےبعد ہو ،مطلق ہویا خاص مدت کے ساتھ مقید ہو۔

مسئلہ192:جب مضاربہ کا عقد مطلق ہوتو عامل ،بائع اور مشتری کی حیثیت سے، اس کی مصلحت کےمطابق ،اُس میں تصرف کرسکتاہے ،جنس کی نوع کی بابت کسی قسم کی کوتاہی نہ کرئےیا لاپرواہی نہ کرےیا نامناسب حرکت نہ کرئے،ہاں وہ مال کو لے کر مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شہر نہیں جاسکتاہے،مگرجب وہاں ایسا ہوتاہو اوراس کی طرف اطلاق منصرف ہو پس اگرمالک کی مخالفت کرئےاور سفر پر چلائے اور مال تلف ہوجائے تووہ اس مال کا ضامن ہوگا۔

مسئلہ193:مالک اور عامل میں سے ہرایک کی موت سے مضاربہ باطل ہو جاتا ہے ، مالک کی موت کی وجہ سے اس لیے کہ اُس کے مرنےسے مال اس کے ورثاء کی طرف  منتقل ہوجاتا ہے،اب اگر مال عامل کے ہاتھ میں رہے تواس کے لیے نئے مضاربہ کی نیاز ہوگی ،اگر ورثاء اجازت دےدیں تو صحیح ہوگا۔

مسئلہ194:آج کل کےدور میں ہےکہ ایک شخص کوکام کرنے کےلیے مال دیا جاتا ہے اور ہر معین مدت میں محدود مبلغ دیاجاتاہے ،یہ مضاربہ نہیں ہے کیونکہ اس میں  گزشتہ تیسری شرط کی محتاجی رہتی ہے ،لیکن یہ معاملہ تین شرطوں سے صحیح ہو سکتاہے :

1۔محدود مبلغ کو دیئے جانے والے مال کےلیے متعارف منافع قراردیاجائے۔

2۔عامل مال سے کام کرئے ،پس اگر اسے اپنی ضروریات میں خرچ کردے تو صاحب مال محدد لہ مبلغ کامستحق نہیں ہوگا۔

3۔ مال دینے والا  ،محدد لہ مبلغ کامستحق نہیں ہوتاہے مگر عامل کےلیے منافع کے ظاہر ہونے کے بعد اس کامستحق بنتاہے،پس اگر نقصان ہوجائے یا اس مدت میں بازار بند ہوجائےتووہ کسی شے کامطالبہ نہیں کرسکتاہے۔

مسئلہ195:مضاربہ کے مال پر جو خسارہ عائد ہوتاہے یا تلف ہوجاتاہے(جل جاتا ہے یا چوری وغیرہ ہوجاتاہے)اس کی منافع سےبھرپائی کی جائے ،جب تک کہ مضاربہ  باقی ہے ،منافع پہلے والاہویابعد میں ملے ،پس عامل  کے حصہ کی پہلے والے ، منافع کی بابت   ملکیت ساری یاکچھ متزلزل ہوتی ہے کیونکہ اسے خسارہ پڑا ہے یا بعد میں مال تلف ہو جائے ،استقرار ملکیت مضاربہ کی مدت کےختم ہونے یا معاملہ کے فسخ ہونےکےساتھ حاصل ہوتاہے،ہاں جب عامل عقد کے ضمن میں مالک پرشرط لگائے کہ منافع سے خسارہ یاتلف کے نقصان کوپورا نہیں کیاجائےگا ،خواہ خسارہ اورتلف منافع سے پہلے ہوں یااس سے بعد میں ہوں تو شرط صحیح ہے اور اس کے مطابق عمل کیاجائے گا۔

یادونوں کا معین مدت کے شروع میں حساب کیاجائے ،پس اگر دونوں کوفائدہ ہو اور وہ مدت کے شروع میں حساب کریں توہرایک کامنافع اپنے صاحب کےلیے مال مملوک  ہوجائے گااوروہ شرکت کامال نہیں رہےگا پس اس سے بعد میں ہونے والے خسارہ کی بھرپائی نہیں کی جائے گی ،کیونکہ ہرمدت کے آخر میں کام ،اذن والاجدید عقد ہوگا۔

 

شارك استفتاء

زراعت یعنی کھتی باڑی کے احکام

مسئلہ 180:مزارعت یعنی  زرعی زمین کامالک کاشتکار سے اس قسم کامعاہدہ کرئےکہ اپنی زمین اس کے اختیار میں دے دے تاکہ وہ اس میں کاشت کرئے اور پیداوار کی کچھ مقدار مالک کو دے دے۔

مسئلہ181:مزارعت میں چند امور معتبر ہیں:

1۔مالک کی طرف سے ایجاب ہو،مالک کاشتکار سے کہے:میں نےتجھے زمین دی تاکہ تو اسے کاشت کرے،اور کاشتکار کہے : میں نے قبول کیا،یا مالک اپنی زمین کاشتکار کو بیجنے کےلیے دے اور کاشتکار اسے  کچھ کہے بغیر قبول کرلے۔

2۔دونوں بالغ ،عاقل ،اور مزارعہ کا معاہدہ اپنےقصد اور اختیار سے انجام دیں اور اپنامال بیہودہ کاموں میں صرف نہ کریں کہ جس کی وجہ سے انہیں مال میں تصرف کرنے سے روک دیاجائے۔

3۔دونوں اپنا حصہ زمین کی پیداوار سے قراردیں پس اگریہ شرط کریں کہ جو پیداوار پہلے یا آخر میں حاصل ہوگی وہ ان میں سے کسی ایک کامال ہے تو مزارعت باطل ہوگی ،مگر یہ کہ چوتھی شرط کے منافی نہ ہو۔

4۔دونوں میں سے ہرایک کاحصہ  پیداوار کا نصف یا ایک تہائی ہو ،پس اگر مالک کہے:کاشت کر واور مجھے جوچاہے دے دینا،تومزارعت صحیح نہیں ہوگی ،اسی طرح اگرمالک یا کاشتکار کے لیے مقدار معین کردی جائے جیسے دس من تو  مزارعت درست نہیں ہے۔

5۔کاشت کی مدت   معین کرنا ،جس  میں کاشتکاری کاحصول ممکن ہو اور اگرمدت کی ابتداءایک مخصوص دن اور مدت کااختتام فصل کے حاصل ہونےکو مقرر کردیں تو کافی ہے۔

6۔زمین کاشت کے قابل ہو اگراس  میں کاشت ممکن نہ ہو لیکن ایسا کام کیاجائے جس سے کاشتکاری کاکام کیا جاسکتاہو جیسے  سپرے وغیرہ  تو مزارعہ صحیح ہوگا۔

7۔زراعت کا معین کرنا جب کہ ان دونوں کی رائے مختلف ہو،اور اگر ان دونوں کی خاص رائے نہ ہو ،یاان دونوں کی رائے ایک ہو توتعیین ضروری نہیں ہے۔

8۔زمین کامعین کرنا،اگر مالک کی زمین مختلف جگہ پر ہو اور وہ کسی ایک جگہ کو معین نہ کرئےتو مزارعت باطل ہوگی۔

9۔اخراجات کی تعیین،جو خرچ ہر ایک کو کرنا ہو اس کاعلم ہوتو پھر اس کا معین کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ182:اگرمالک کاشتکار سے طے کرئےکہ پیداوار کی کچھ مقدار مالک کی ہوگی اور جو باقی بچے گی ،اسے آپس میں تقسیم کرلیں گے تواگر انہیں علم ہو کہ اس مقدار کو علیحدہ کرنے کے بعد کچھ نہ کچھ باقی بچ جائے گاتو مزارعہ صحیح ہے۔

مسئلہ183:اگر مزارعہ کی مدت ختم ہوجائے جو پانچویں شرط کے محقق ہونے کے لیے کافی ہو اور پیداوار ابھی دستیاب نہ ہوتو اگرمالک زمین اس بات پر راضی ہوکہ اجرت پریا بغیر اجرت کے فصل اس کی زمین میں کھڑی رہے اورکاشتکار بھی راضی ہوتو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر مالک راضی نہ ہو تووہ کاشتکار کومجبور کرسکتاہےکہ فصل زمین میں سے کاٹ لے اور اگر فصل کاٹ لینے سے کاشتکار کو کوئی نقصان پہنچے تو مالک کےلیےضروری نہیں ہے کہ اسے اس کاعوض دے لیکن اگرکاشتکار مالک کوکوئی شے دینے پر راضی ہو تب بھی وہ مالک کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ فصل اپنی زمین پر رہنے دے۔

لیکن جب عقد میں طے کی گئی مدت موضوعیت کے عنوان سے نہ ہو بلکہ طریقیت کے عنوان سے ہو یعنی مطلوبہ مدت کو فصل حاصل کرنے کےلیے معتبر قراردیاگیاہو تو مالک پر واجب ہےکہ مدت کو فصل کاٹنے کے وقت تک بڑھادیاجائے۔

مسئلہ184:اگرکوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ زمین میں کھیتی باڑی کرنا ممکن نہ ہو مثلاً زمین سے پانی منقطع ہوجائے تو مزارعہ ختم ہوجاتاہے ،اور اگر کاشتکار بلاوجہ کھیتی باڑی نہ کرئے تواگر زمین اس کے تصرف میں رہی ہو اور مالک کااس میں کوئی تصرف نہ رہاہو توکاشتکار کوچاہیے کہ عام شرح پراس مدت کی اجرت مالک کو دے۔

مسئلہ185:اگر مالک زمین اور کاشتکار صیغہ پڑھ چکے ہوں توایک دوسرے کی رضا مندی کے بغیر مزارعہ منسوخ نہیں کرسکتے اور بعید نہیں ہےکہ اگر مالک مزارعہ کے ارادے سے زمین کسی شخص کودےدے تب بھی ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر وہ معاملہ فسخ نہ کرسکیں گے ۔

لیکن اگر مزارعہ کے معاہدے کے سلسلے میں انہوں شرط کی ہوکہ ان میں سے دونوں کو یاکسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کاحق حاصل ہوگا تو جو معاہدہ انہوں نے کررکھاہو اس کے مطابق معاملہ فسخ کرسکتے ہیں۔

مسئلہ186:اگرمزارعہ کے معاہدہ کے بعد مالک زمین یا کاشتکار مر جائے تومزارعہ منسوخ نہیں ہوجاتا اوران کے وارث ان کی جگہ لےلیتے ہیں لیکن اگر کاشتکار مر جائے  اور اس نے معاہدہ کررکھاہو کہ خود کاشت کرئے گا ،تومزارعہ منسوخ ہوجاتاہے اوراگر زراعت نمایاں ہوچکی ہوتو اس کاحصہ اس کے ورثاء کودے دیناچاہیے اورجو دوسرے حقوق کاشتکار کوحاصل ہوں وہ بھی اس کے ورثاء کومیراث میں مل جاتے ہیں لیکن وہ مالک کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتے کہ فصل اس کی زمین میں کھڑی رہے۔

مسئلہ187:اگرکاشت کے بعد پتہ چلے کہ مزارعہ باطل تھا تو جو بیج ڈالاگیاہو وہ مالک کامال ہو تو جوفصل ہاتھ آئےگی وہ بھی اسی کا مال ہوگی اور اسے چاہیےکہ کاشتکار کی اجرت اورجو کچھ اس نے خرچ کیاہو اور کاشتکار کی مملوکہ جن بیلوں اور دوسرے جانوروں نے زمین پر کام کیاہو ان کاکرایہ کاشتکار کودے اور بیج کاشتکار کامال ہو توفصل بھی اسی کامال ہےاوراسے چاہیےکہ زمین کاکرایہ اورجوکچھ مالک نے خرچ کیاہو اور ان بیلوں اور جانوروں کاکرایہ جومالک کےہوں اور جنہوں نے اس زراعت پر کام کیاہو مالک کودے دے ۔

مسئلہ188:اگربیج کاشتکار کامال ہو اورکاشت کےبعد فریقین کوپتہ چلےکہ مزارعہ باطل  تھا تواگر مالک اورکاشتکار رضامند ہوں کہ اجرت پر یابلااجرت فصل زمین میں کھڑی رہے توجائز ہے ،اگر مالک راضی نہ ہو توفصل پکنے سے پہلے ہی وہ کاشتکار کو مجبور  کرسکتاہے کہ اسے کاٹ لے،کاشتکار کوحق حاصل نہیں ہے کہ مالک کو زراعت کے زمیں میں کھڑے رہنےپر مجبور کرئے اگرچہ ایسا اجرت کےذریعہ سے ہی ہو  ، مالک  بھی کاشتکار کو مجبور نہیں کرسکتا کہ فصل کو زمین میں کھڑی رہنے دے و لو مفت ہی ہو۔

مسئلہ189:اگرفصل کی جمع آوری اورمزارعہ کی میعاد ختم ہونے کےبعد زراعت کی جڑیں زمین میں رہ جائیں اوردوسرے سال فصل دیں تو اگر مالک نے کاشتکار کے ساتھ  زراعت کی جڑوں میں اشتراک کامعاہدہ نہ کیاہو تو دوسرے سال کی فصل مالک زمین کامال ہے۔

 

شارك استفتاء

احکام جعالہ

مسئلہ 171:جعالہ یعنی انسان وعدہ کرئےکہ اگراس کے لیے یہ کام کیاجائےگاتومیں اس کےبدلے ایک معین مال دوں گا،مثلاً یہ کہے کہ جواس کی گمشدہ شے برآمد کر دے گا وہ اسے دس روپے دےگا اورجوشخص اس قسم کااعلان کرئے اسے جاعل اور جوشخص وہ کام انجام دےاسے عامل کہتے ہیں ،اور اس کام کو جعل یاجعالہ کہتے ہیں ، جعالہ اور اجارہ کےدرمیان فرق یہ ہےکہ اجارہ میں صیغہ پڑھنے کےبعد اجیرکو کام انجام دیناچاہیے اورجس نے اسے اجیر بنایاہو وہ اجرت کےلیے اس کامقروض ہو جاتا ہے  لیکن جعالہ میں اگرچہ عامل ایک معین شخص ہو،تاہم ہوسکتاہےکہ وہ کام میں مشغول نہ ہو اورجب تک وہ کام انجام نہ دے توجاعل اس کامقروض نہیں ہوتا۔

مسئلہ172:جاعل میں معتبر ہےکہ بالغ اور عاقل ہو اور جعالہ کااعلان اپنےارادے اور اختیار سے کرئے اورشرعاً اپنے مال میں تصرف کرسکتاہو ،پس جوشخص اپنا مال بیہودہ کاموں میں صرف کرتاہو اس کاجعالہ صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ173:جعالہ میں معتبر ہےکہ   جاعل جو کام کرواناچاہتاہو ،وہ کام حرام یا بے فائدہ  نہ ہو،پس  جعالہ میں شراب کے پینے کو  یا  رات کےوقت ایک تاریک جگہ پر جانےکو  یازیادہ دیر تپتی دھوپ  میں  کھڑے رہنے کوعوض قراردینا جس کی کوئی عقلائی غرض نہ ہو صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ174:جعالہ میں عوض کامعین کرنا  معتبر ہے، اس طرح کہ جس میں عامل کا حق معین ہو ،جیسے کوئی کہےجومیراگھر بیچے گااسے قیمت کا ایک فیصد دیاجائےگا۔

مسئلہ175:جب جعالہ میں عوض مبہم  اور غیر معین ہوتوعامل کے لیے اجرت المثل  ہوگی۔

مسئلہ176:جب عامل کام  سے پہلےیا کام  کے بعد تبرکاً    کام انجام دے تو عامل کسی شے کامستحق نہیں ہوگا۔

مسئلہ177:جاعل کام میں شروع ہونے سے قبل جعالہ کو فسخ کرسکتاہے لیکن کام میں  شروع ہونے کے بعد،اس کافسخ کرنا مشکل ہوجائے گا۔

مسئلہ178:عامل پر کام کا مکمل کرناواجب نہیں ہے،مگرجب اس کاترک جاعل کے ضرر اور نقصان کاباعث ہو،جیسے وہ کہے:جوبھی میری آنکھ کاعلاج کرئےگااسے یہ یہ دیاجائے گا،اور ڈاکٹر اس کی آنکھ کی سرجری شروع کردے تواسے مکمل کرنا واجب ہے۔

مسئلہ179:اگرعامل کام ادھورا چھوڑ دے اور وہ ایساکام ہوجیسے گھوڑا تلاش کرنا کہ جس کے مکمل کیے بغیر جاعل کوکوئی فائدہ نہ ہو توعامل جاعل سے کسی شے کامطالبہ نہیں کرسکتا اور جاعل اجرت کو کام مکمل کرنے سے مشروط کردے تب بھی یہی حکم ہے مثلاً جب وہ کہے کہ جوکوئی میرا لباس سیئے گا میں اسے دس روپے دوں گا، لیکن اگر اس کی مراد یہ ہوکہ جتنی مقدار میں کام کیاجائے گا اتنی مقدارکےلیے اجرت دے گا توپھر جاعل کو چاہیے کہ جتنی مقدار میں کام ہواہو اتنی مقدار کی اجرت عامل کو دے دے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ دونوں مصالحت کے طور پر ایک دوسرے کوراضی کرلیں۔

 

شارك استفتاء

اجارہ کی بابت مسائل:

مسئلہ 146:امام حسین علیہ السلام اوردیگر آئمہ طاہرین علیہم السلام کے فضائل و مصائب   اور مجالس وعظ و نصیحت اور اس کی مثل خطابات پر اجرت وصول کرنے کا کوئی حرج نہیں ہے اور اسے غرض قرار دینا ایک مرجوح اخلاقی امرہے۔

مسئلہ 147:زندہ شخص کی واجب عبادات کی طرف سے واجب عبادات اجرت پر اداکرنااورادا کرواناجائز نہیں ہے سوائے حج کے،کیونکہ اگر کسی شخص پر استطاعت کی وجہ سے حج واجب ہو اور وہ خود حج اداکرنے سے عاجز ہوتو کسی کو نائب بنا کر حج کراسکتاہے۔

کسی دوسرے کی مستحب عبادات  اجرت پر ادا کرناجائزہے مگر کسی کے مستحب نماز ، روزےکے جواز میں اشکال ہے ،اوراگر ان کو رجاء کی نیت سے یا اجارہ کے علاؤہ بجا لایا جائے توکوئی حرج نہیں ہے جیسے کسی کی طرف سے ان عبادات کو بجالایاجائے اور ان کاثواب زندہ کو ہدیہ کیاجائے ۔

میت کی طرف سے اس کی واجب اورمستحب عبادات کااجرت پراداکرنا جائز ہے۔

مسئلہ148:حلال وحرام کے مسائل کی تعلیم دینےپر اجرت لیناجائز نہیں ہے ، واجبات کی تعلیم مثل نماز روزہ وغیرہ  جو بنابراحتیاط محل ابتلاء ہوتے ہیں،بلکہ ان کے غیر میں بھی اشکال ہے،اموات کوغسل وکفن اوردفن کرنے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔

ہاں! ان امور میں واجب مقدار سے زائد خصوصیات کے انجام دینے پر اجرت لی جاسکتی ہے۔

مسئلہ149:اجرت میں معتبرہے کہ معلوم ہو پس اگر یہ ناپ یاتول سے ہو تب بھی معلوم ہو اور اگر شمارسے ہوجیسےروپے تب بھی معلوم ہو اور ایسی شے سے ہو جس کومعاملات میں دیکھ کر سودا کیاجاتاہے توضروری کہ اجرت لینے والااسے دیکھ لے ، یا دینے والا اس کی خصوصیات کوبیان کردے۔

مسئلہ150:عقد اجارہ  کے واقع ہوتے ہی اجیر اجرت کا مالک اور کام کرنے کا پابند ہوجاتاہے،حق کامطالبہ ان شاء اللہ اگلے مسئلہ میں بیان ہوگا ،اس مسئلہ پر بعض ثمرات اور نتایج مترتب ہوتے ہیں جو مسئلہ 163میں بیان کیےگئے ہیں۔

مسئلہ151:عین مستاجرہ کاقبضہ دینے سے قبل موجر اجرت کامطالبہ نہیں کرسکتا،اسی طرح اجیر کام انجام دینے سےقبل اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا،مگر جب ایساہوکہ اجرت سے کام چلتاہو یا اجرت کے پہلے دینے کا رواج ہو جس سے کام کی تیاری ہوجاتی ہوجیسے حج کی اجرت یا عقدمیں پیشگی اجرت کی شرط لگائی گئی ہو۔

مسئلہ152:جب موجر عین مستاجرہ میں تصرف کرنے کی قدرت رکھتاہو تو مستاجر پر اجرت کا تسلیم کرناواجب ہے،اگرچہ عین مستاجرہ کو  سپرد نہ کیا جائےیا اس سے کچھ مدت  یاتمام مدت میں استفادہ نہ کیا جائے۔

مسئلہ153:جب کوئی خود کو کسی کام کےلیے اجیربنائے اور خود کو مستاجرکےقبضے میں کام کرنے کےلیے دےتو وہ اجرت کامستحق بن جاتاہے،اگرچہ اس نے پوراکام انجام نہ دیاہو،مثلاً درزی مقررہ  دن میں کپڑے سیلائی کرنے کےلیے خود کواجیر قراردے،اوراُس دن میں کام کےلیےحاضرہوجائےتو مستاجرپر واجب ہےکہ درزی کو اجرت دے ،اگرچہ سیلائی کےلیے کپڑا درزی کےحوالے نہ کیاہو،اس دن اجیر فارغ ہو یااپنے یاکسی دوسرے کے کام میں مصروف ہو۔

مسئلہ154:اگراجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد پتہ چلے کہ اجارہ توباطل تھا ، تو مستاجر پر اجرت المثل کادینا واجب ہے ،پس اگر ایک سوروپے میں گھر اجارہ پردیا جائے اوراجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد  پتہ چلےکہ اجارہ باطل ہے ،اگراس کی متعارف اجرت پچاس روپے ہو تو مستاجر پر پچاس روپے سے زائد دیناواجب نہیں ہے،اوراگر اس کی متعارف اجرت دوسو روپےہواور موجر مالک ہو یااس کاوکیل ہوتو اسے اجرت مسمی سے زائدوصول کرنےکاحق نہیں ہے(اوروہ اجرت مسمی ایک سو روپے ہے)اگر مدت کےدوران پتہ چلےکہ اجارہ باطل ہے تو اس کاحکم گزرے ہوئے  وقت کی نسبت وہی ہے جو ساری مدت کےبعد باطل کےپتہ چلنے کاہے۔ 

مسئلہ155:جب  عین مستاجرہ تلف ہوجائےاورمستاجر نے جان بوجھ کراسےتلف نہ کیاہواور اس کی حفاظت میں کوئی کوتاہی بھی نہ کی ہوتووہ  اس کا ضامن نہیں ہو گا ، یہی حال ہےجب اجیرکےپاس سے مال تلف ہوجائے جیسے درزی ،وہ کپڑے کے تلف ہوجانے پر ضامن نہیں ہوگا بشرطیکہ اس نے کسی قسم کی زیادتی یا کوتاہی نہ کی ہو۔

مسئلہ156:جب قصاب بغیر شرعی طریقہ کے جانور کو ذبح کرئےتو وہ اس کاضامن ہوگا،خواہ اجیر ہویا خوشی بخوشی ذبح کیاہو۔

مسئلہ157:جب معلوم مقدار  سامان لوڈ کرنے کےلیے گاڑی کرایہ پرلی جائےاور اس پر اس مقدارسے زیادہ مال لاد دیاجائے جس سے گاڑی خراب یاعیب دار ہو جائے  تووہ اس کاضامن ہوگا۔

یہی حکم ہے جب مقدار معین نہ کی گئی ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ مال لاد دیا جائے ، دونوں فرض کے مطابق اس پر واجب ہےکہ زیادہ والے مال کی اجرت دے۔

مسئلہ158:اگر شیشہ اٹھانے کے لیے جانور کرایہ پر لیاجائے اور وہ کودے جس سے شیشہ ٹوٹ جائے تو وہ ضامن نہیں ہوگا مگر جب وہ  اسے مارے اور وہ اس کی وجہ سے کودپڑے۔

مسئلہ159:بچے کا ختنہ کرنے والابچے کاختنہ کرئےاوراسے نقصان پہنچ جائےیہاں تک کہ اس سے اُس کی موت واقع ہوجائے ،اب اگر وہ تجربہ کار اور اہل خبر میں سے ہو اور اپنے کام میں کوتاہی نہ کرئے توضامن نہیں ہوگا،جیسے اس وقت اس کے پاس کفایت کرنےوالے لوازمات موجود نہ ہوں یا بچے کی بابت  ختنے کی قابلیت  مشخص  نہ ہوئی ہو،اگریہ امر اسی کی طرف موکول ہو اور اسے فقط ختنہ کرنےکی تکلیف نہ دی گئی ہو،اور اس نے تجاوز نہ کیاہوجیسے معمول والی حد سے زیادہ گوشت نہ کاٹا ہو اور اپنے علم میں کوتاہی نہ کی ہو ،جس سے نقصان پہنچ سکتاہو۔

مسئلہ160:اگرڈاکٹر کسی مریض کا خود علاج کرئےیا اس کی سرجری کرئے،جواپنے پیشہ میں مہارت رکھتا ہو،اور پوری کوشش کرکے درست تشخیص کرئےاور دقت سے آپریشن کرئے ،لیکن اتفاقاً مریض کو نقصان پہنچ جائے ،یامریض کی موت واقع ہوجائے،تو ڈاکٹر اس کا ضامن نہیں ہوگا،ڈاکٹر کےلیے احوط ہے کہ آپریشن  اور علاج سے قبل لکھوالےکہ نقصان کی صورت میں ڈاکٹر ذمہ دار نہیں ہوگا۔

مسئلہ161:جس شخص نے کوئی شے اجارے پر دی ہو وہ اور مستاجر ایک دوسرے کی  رضایت سے اجارہ کو فسخ کردیں تواجارہ فسخ ہوجاتاہے ،اسی طرح اگر اجارے میں شرط   عائد کریں کہ وہ دونوں یاان میں سےایک معاملے کو فسخ کرنے کا حق رکھتاہے تو معاہدے کے مطابق اجارہ فسخ کرسکتے ہیں۔

مسئلہ162:اگر مال اجارہ پر دینےوالے یامستاجر کوپتہ چلےکہ وہ گھاٹے میں رہاہے ،اگر اجارہ کرنے کے وقت وہ اس امر کی جانب متوجہ نہ تھا کہ وہ گھاٹے میں ہے تو وہ اجارہ فسخ کرسکتاہے ،لیکن اگراجارے کے صیغے میں یہ شرط عائد کی جائےکہ اگران میں سے کوئی گھاٹے میں بھی رہے گا تواسے اجارہ کے فسخ کرنے کا حق نہیں ہو گا تو پھر وہ اجارہ فسخ نہیں کرسکتا۔

مسئلہ163:اگرکوئی شخص کوئی شے اجارے پردےاوراس سے بیشتر کہ اس کاقبضہ مستاجرکودے کوئی اور شخص اس شے کوغصب کرلے تومستاجر اجارہ فسخ کرسکتاہے اور جوشےاس نے اجارہ پر دینے والےکودی ہو اسے واپس لے سکتاہےیایہ بھی کر سکتاہےکہ اجارہ فسخ نہ کرئےاور جتنی مدت وہ شے غاصب کے پاس رہی ہو اس کی عام طور پر جتنی اجرت بنتی ہو ، وہ غاصب سے طلب کرلے ،لہذااگر مستاجر ایک جانور کا ایک مہینہ کا اجارہ دس روپے کےعوض کرئےاورکوئی شخص اس جانورکو دس دن کےلیے غصب کرلے اورعام طور پر اس کا دس دن کااجارہ پندرہ روپے ہو تو مستاجر پندرہ روپے غاصب سے لے سکتاہے۔

مسئلہ164:اگرمستاجر اجارہ والی شے کو اپنی تحویل میں لے چکاہو اور اس کے بعد کوئی مانع پیداہوجائے تو وہ اجارہ کو فسخ نہیں کرسکتا ،مثلاً کوئی اسے غصب کر لے تو صرف اتناکرسکتاہے کہ  اس شے کاعام طور پر جتنا کرایہ بنتاہے وہ غاصب سے حاصل کرلے۔

مسئلہ165:اگرموجر اجارہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے اجارہ شدہ شے کو فروخت کردے تواجارہ باطل نہیں ہوگا،وہ مستاجرپر فروخت کرئے یا کسی اور پر فروخت کرئے ۔

مسئلہ166:اگر اجارہ شدہ شے قابل استفادہ نہ رہے یا اس سے مقصود استفادہ حاصل نہ کیاسکتا ہوتواجارہ باطل ہوجاتاہے،جب کوئی ایک سال کے لیے گھر اجارہ پرلے اور سال شروع ہونے سے پہلے مکان گرجائےتواجارہ باطل ہوجائے گا،اور اگر سال کے دوران مکان گرجائےتو باقیماندہ مدت کےلیے اجارہ باطل ہو جائے گا ، مستاجر گزشتہ مدت کی نسبت اجارہ فسخ کرسکتاہے،اورجب اجارہ باطل کرئےگاتو اس گزشتہ مدت کی اجرت المثل دےگا،اور اگراجارہ کوفسخ نہ کرئےتو اجارہ کےمبلغ کو باقی  اور گزشتہ مدت پرتقسیم کیاجائےگا،اور مالک گزشتہ مدت کے کرایہ لینے کا مستحق  ہوگا۔

مسئلہ167:اگرکوئی شخص ایسامکان کرایہ پردے جس کے دوکمرے ہوں اوران میں سے ایک کمرہ خراب ہوجائے لیکن وہ فوراً اس کی مرمت کرادے اوراس سےجوفائدہ اٹھایاجاسکتا ہواس میں کوئی فرق نہ پڑے تواجارہ باطل نہیں ہوتا،اور مستاجر بھی اسے  فسخ نہیں کرسکتا ،لیکن اگر اس کمرے کی مرمت میں اتناوقت لگ جائے کہ مستاجر  کواس سے جواستفادہ کرناہو اس کی کچھ مقدارضایع ہوجائے تواس مقدارکی حد تک اجارہ باطل ہوجائےگا اورمستاجرساری مدت کےلیے اجارہ فسخ کرسکتاہے اورجتنے دن استفادہ کیا ہو اس کی اجرت المثل دے سکتاہے۔

مسئلہ168:اگر مال اجارہ پر دینے والا یامستاجر مرجائے تواجارہ باطل نہیں ہوتا،ہاں اگر اجارہ پردینے والےکامکان اپنانہ ہو مثلاً کسی دوسرے شخص نے وصیت کی ہوکہ جب تک وہ (اجارہ پر دینےوالا)زندہ ہے مکان کی آمدنی اس کامال ہوگا تو اگر وہ مکان کرایہ پر دےدے اوراجارہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے مرجائےتو اس کے مرنے کے وقت سے اجارہ باطل ہوگا ۔

مسئلہ169:اگرکوئی کام کرانے والاشخص کسی کو اس مقصد سے وکیل بنائےکہ وہ اس کے لیےکاری گر مہیا کردے تو اگر کاری گر نے جوکچھ اس شخص سے لیا ہے کاری گر کو اس سے کم دے توزائد اس پرحرام ہے اوراسے چاہیے کہ وہ رقم مالک کو واپس دےدے۔

مسئلہ170:جب کوئی کسی کو کام کےلیےاجیر بنائے کہ اس کام کواس مخصوص طریقہ سے کرناہے یا فلاں وقت میں کرناہے یافلاں مکان میں کرناہے اور اجیر اس کی مخالفت کرئے تواجیر کسی اجرت کامستحق نہیں ہوگا،اور  اگر وہ اپنے کیےکاتدارک نہ کرسکے تو  جونقصان کیا ہے اس کاضامن ہوگا ،اور اگر اس کے لیے تدارک ممکن ہوتو جیسامالک چاہتاہے ویساکرے۔

 

شارك استفتاء

اجارہ سے حاصل ہونے والی منفعت مقصودہ کے شرائط:

مسئلہ 139:جس استفادہ کے لیے مال اجارہ پر دیاجاتاہے اس میں  چار امور معتبر ہیں:

1۔اس سے استفادہ کرناحلال ہو ،دکان کو شراب کی بیع کےلیے یااس کو سٹور کرنے کےلیے کرایہ پر لینا ،دینا درست نہیں ہے ،یعنی یہ تب ہے جب عقد اجارہ اسی استفادہ پر واقع ہو،یا شراب اٹھانے کے لیے جانور اجارہ کرنا جائز نہیں ہے،ہاں اگر اجارہ کے عقد میں اسے شرط قرارنہ دیاجائے اور اجارہ پر دی جانے والی شے سے حرام کام میں استفادہ نہ کیاجائے ،بلکہ اس سے دوسرے حلال منافع حاصل کیے جانے ہوں توایسا اجارہ کاعقد صحیح ہوگا۔

2۔بنابراحتیاط اجارہ کے مقابلےمیں مال کاخرچ کرنا عقلاء کی نظر میں بیوقوفی نہ ہو۔

3۔جوچیزکرائےپردی جائےاگر اس سے کئی فائدے اٹھائے جاسکتے ہوں توجوفائدہ اٹھانے کی مستاجرکو اجازت ہو اسے معین  کرناچاہیے،مثلاً ایک گاڑی کرائے پردی جائے،جس پر سواری بھی کی جاسکتی ہواور سامان بھی لادا جاسکتاہو تواسے کرایہ پردیتے وقت معین کیا جائے کہ آیا مستاجر اسے سواری کےلیےیا سامان اٹھانے کےلیے یادونوں کاموں کےلیے استعمال کرئے گا اور مستاجر کےحق کی تعیین بھی واجب ہے۔

4۔استفادہ کرنےکی مقدار کاتعین،اور یہ ہر عقد کااپناحساب ہوتاہے،گاہے مدت کا تعین کیاجاتاہے جیسے گھر ،دکان کا اجارہ،اورگاہےکام کاتعین کیاجاتاہےجیسےایک لباس کا مخصوص کیفیت اور ڈیزائن پر سلائی کرنا،گاہے مسافت کا تعین کیا جاتاہےجیسے گاڑی کا ایک شہر سے دوسرے  شہر لےجانے کے لیے کرائے پر لینا۔

مسئلہ140:احتیاط واجب کی بنا پر ،اختیاری طور پراور بغیر عذر شرعی کے  داڑھی کا مونڈوانا حرام ہے،پس  حجام کےلیےاس پر اجرت لینابھی جائز نہیں ہے،ہاں،جب کسی عذر کی وجہ سے داڑھی کا مونڈوانا جائز ہوجائے تو حجام اس پر اجرت لے سکتا ہے

مسئلہ141:ضروری ہے کہ اجارہ کی مدت معین کی جائے،خصوصاً جب مدت کو عقد   میں دخل حاصل ہو،اگر اجارہ کی مدت کے شروع ہونے کا تعین نہ کیا جائے تو اس کے شروع ہونے کاوقت اجارہ کاصیغہ پڑھنے کے بعد سے ہوگا،اگرمدت کوعقد میں دخل حاصل نہ ہو جیسے کپڑے کی سیلائی تو اسے معین ہی کیا جائےگا۔

مسئلہ142:اگرایک مکان ایک سال کےلیے کرائے پر دیاجائےاور معاہدے کی ابتداء کاوقت صیغہ پڑھنےسے ایک مہینے بعد سے مقرر کیاجائے،تواجارہ صحیح ہو گا ، اگرچہ جب صیغہ پڑھاجارہاہووہ مکان کسی دوسرے کے پاس کرائےپرہو۔

مسئلہ143:اگراجارے کی مدت کاتعین نہ کیاجائے تو اجارہ صحیح نہیں ہوگا،پس اگر مکان کامالک مستاجر سےکہے کہ میں نے آپ کو یہ مکان ایک ماہ یادوماہ کے لیے اجارے پردیا،تویہ اجارہ درست نہیں ہوگا۔

 جب مکان کا مالک  کہےکہ میں نے یہ مکان آپ کو ماہانہ ایک ہزار روپے کرایہ پردیا اوراس کے بعد بھی تم جتنی مدت اس میں رہوگے اس کاکرایہ ایک  ہزار روپے ماہانہ ہوگاجس سے اجارے کاشروع کرنامقصود ہویا وہ اپنامکان ایک ہزار روپے  کےبدلے ایک معین ماہ کرایہ پر دے اور کہےکہ اس کے بعد جتنارہوگے اس کا حساب اپناہوگا تواس صورت میں جب اجارے کی مدت کی ابتداء کاتعین کرلیاجائے یااس کی ابتداء کاعلم ہو پہلے مہینے کااجارہ صحیح  ہے۔

اور بعد والے ماہ میں مستاجر اجرت مسمی پر استفادہ کرسکتاہے لیکن یہ معاملہ غیرلازمہ ہوگا ،مالک جب چاہے اپنی جگہ خالی کرواسکتاہے۔ 

مسئلہ144:جو گھر مسافروں اور زائرین کے لیے بنائے جاتے ہیں ،جب اس میں لوگوں کے ٹھہرنے کی مدت کی مقدار معلوم نہ ہو ،اگروہ مالک مکان سے طے کرلیں کہ مثلاً ایک رات کا اتنا کرایہ دیں گے اور مالک اس پر راضی ہوجائے تواس جگہ سے استفادہ کرناجائز  ہے لیکن جب اجارہ کی مدت معلوم  نہ ہو تو اجارہ صحیح نہیں ہوگا اور مالک مکان پہلی رات کےبعد جب بھی چاہے انہیں نکال سکتاہے،جیساکہ سابقہ مسئلہ میں بیان کیا گیاہے۔

مسئلہ145:کوئی شخص خود کو کسی کام کے لیے اجیر قراردے ،اور خود کام کوانجام دینے کی قید نہ لگائے تو وہ کسی دوسرے کو خود سے کم اجرت پر  کام نہیں دے سکتا ، مثلاً کوئی کام 150 روپےمیں لےکرکسی سے 100روپے میں وہی کام نہیں کروا سکتا،اوراگر دونوں اجرتیں دوجنس سے ہوں یا خود کچھ کام کرچکاہو اور پھر باقیماندہ کام کسی دوسرے سے کم اجرت میں کروائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

احکام اجارہ

مسئلہ125:کوئی شے کرایہ پر دینے والے اور کرایہ پر لینے والے کے لیے معتبر ہےکہ بالغ اور عاقل ہوں ،اور کرایہ لینے یاکرایہ دینےکاکام اپنے اختیار سے انجام دیں ،اور یہ بھی ضروری ہےکہ اپنےمال میں تصرف کا حق رکھتے ہوں ،پس جس مال پر مالک  مفلسی وغیرہ کی وجہ سے تصرف کاحق نہیں رکھتا،اسے کرایہ پر دیناصحیح نہیں ہے،لیکن ممنوع التصرف خودکوکرایہ پر دے سکتاہے۔

مسئلہ126:انسان دوسرے کی طرف  سے کسی کے مال کو کرایہ پر نہیں دے سکتا ہے  مگر جب وہ  مالک کی طرف سے وکیل ہویامالک کاولی ہو تو وہ  اس کی شے کرایہ پر دے سکتاہے،اجنبی کی جانب سے  کسی شے کو کرایہ پردیاجاسکتاہے،بشرطیکہ یہ اجارہ کے بعد میں ہو۔

مسئلہ127:اگر بچے کاولی اس کامال ایک مدت کےلیے کرائے پردے اور وہ اس مدت کے دوران بالغ ہوجائےتوبچہ بالغ ہونے کے بعد باقیماندہ اجارہ فسخ کر سکتا ہے ،یہاں تک کہ اگر بچے کے بالغ ہونے کی مدت کی کچھ مقدار کواجارہ کی مدت کا حصہ نہ بنایاجاتا تویہ بچے کےلیے قرین مصلحت نہ ہوتا،کیونکہ اب یہ اپنے مال کاولی ہو گیا ہے،اگر ولی بچے کو اس کے شایان شان کام کے لیے اجیر بنائےجیسے علمائے کرام کے گھر میں ایک مدت کےلیےنوکری پررکھوائےتاکہ وہ ان سے علمی فائدہ بھی حاصل کرلےگا اور وہ اس مدت کے دوران بالغ ہوجائے تو وہ مطلق طور پر اجارہ کو فسخ کر سکتا ہے۔

مسئلہ128:جس بچے کاولی نہ ہو اسے مجتہد عادل یااس کے وکیل کی اجازت کے بغیر اجارہ پررکھوانا جائز نہیں ہے اور اگر مجتہدیااس کے وکیل تک رسائی ممکن نہ ہو تو عادل  مؤمنین کی ایک جماعت کی اجازت سے اسے اجارہ رکھوایاجاسکتاہے۔

مسئلہ129: اجارہ کے صیغہ میں عربیت معتبر نہیں ہے ،بلکہ اس کی صحت میں خاص لفظ بھی معتبر نہیں ہے،پس اگر کرایہ پردینے والااپنامال کرایہ پر لینےوالے کو دے اور اس کاقصد اجارہ کاہو اور کرایہ دار اسے اجارہ کے قصد سے لےلے تواجارہ صحیح ہے۔

مسئلہ 130:جوشخص بول نہیں سکتا ،اگروہ اشارے سے سمجھادے کہ اس نے کوئی شے کرایہ پر دی ہےیاکرایہ پر لی ہے تو اس سے  اجارہ  صحیح ہے ۔

مسئلہ131:اگرکوئی شخص مکان یادکان یاکمرہ کرایہ پر لے،اوراس جائیدادکامالک یہ شرط   لگائےکہ صرف وہ خود اس سے استفادہ کرسکتاہےتو کرایہ دار اسے کسی دوسرے   کو استعمال کےلیے کرایہ پر نہیں دے سکتا،سوائے اس کےکہ وہ نیااجارہ اس طرح ہوکہ اس کی منفعت بھی خود پہلے کرایہ دار سے مخصوص ہو،جیسے ایک عورت ایک مکان یاکمرہ کرایہ پر لے اور بعد میں شادی کرلےاور کمرہ یامکان اپنی رہائش کےلیےکرایہ پر اپنے شوہرکودےدے۔ 

مسئلہ132:اگر کوئی شخص مکان یادکان یا کمرہ کرایہ پر لے،اور اس جائیداد کامالک شرط نہ لگائےکہ صرف وہ خود اس سے استفادہ کرسکتاہے،اورنہ ہی عرف صرف اسی کے استعمال کا کہتی ہوتوکرایہ دار اسے کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دے سکتا ہے ، اور  اسے اس کام کےلیے مالک سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ اسے معلوم ہےکہ مالک اس کام سے ناراض نہیں ہے ،بلکہ وہ اس سے راضی ہے ، لیکن اگروہ چاہےکہ جتنے کرایہ پر لیاہے اُس سے زیادہ مقدار کےلیے کرایہ پر دے توضروری ہے کہ اس کی مرمت اور سفیدی کروائےیااس جنس کےبدلے کرایہ پر دے  جس پر اس نے خود اسے کرائے پر لیاہے ،مثلاً اگر روپےکےبدلے کرایہ پر لیا ہے  تو گندم یاکسی اور شے کےبدلےکرایہ پر دے اور بنابراحتیاط مکان ،دکان اور گھر کے علاؤہ کوئی دوسری شے کےلیےبھی وہی حکم ہےجو مکان کےلیے ہے ۔

مسئلہ133:اگراجیر مستاجرسے شرط طے کرئےکہ وہ صرف اسی کاکام کرئےگا تواس اجیرکوکسی دوسرے شخص کوبطور اجارہ نہیں دیاجاسکتا،اوراگراجیر ایسی کوئی شرط  نہ لگائےاور مستاجر اسےاسی چیز  پر اجارہ پردے سکتاہےجواس کی اجرت قرارپائی ہے ، مگر  یہ کہ مستاجر اسے زیادہ چیزپر اجارہ نہیں دے سکتا،جب دونوں اجرتیں ایک جنس سے ہوں ،اوراگر دونوں اجرتوں کی جنس مختلف ہوتو زیادہ کاکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 134:جب  کوئی شخص  کسی کام کےلیے خود کسی کااجیر بن جائے،جس میں یہ قید نہ ہوکہ وہ کام میں خود ہی کروں گاتو اس کےلیےجائز نہیں ہےکہ اس کام کے لیے کسی دوسرے شخص کوکم اجرت پررکھ لے،ہاں!

جب دونوں اجرتیں دو جنس سے ہوں توکوئی حرج نہیں ہے یا اس نے کام کی کچھ مقدار  خودسرانجام دی ہوتوپھر دوسرے کو کم اجرت پربھی رکھ سکتاہے۔

مسئلہ135:اگرکوئی شخص مکان  ایک سال کےلیےمعین مبلغ  پر کرایہ پرلے تواس کاآدھا حصہ خود استعمال کرئےاور  دوسراحصہ اتنے ہی مبلغ پر  کرائےپر چڑھا سکتا ہے ،لیکن اگر وہ چاہے کہ مکان  کاآدھاحصہ اس سے زیادہ پر چڑھا دے جس پراس نے خود وہ مکان  کرایہ پر لیاہےتوجائز نہیں ہے مگریہ کہ وہ  اس میں مرمت وغیرہ کاکام سر انجام دے۔

مسئلہ136:جو مال اجارہ پردیاجائےاس میں چند چیزیں معتبر ہیں:

1۔وہ مال معلوم اور معین ہو،لہذا کوئی شخص کہے کہ میں نے تجھے اپنے مکانوں میں سے ایک کرائے پر دیا توبنابراحتیاط کے ایسا اجارہ درست نہیں  ہے۔

2۔مستاجریعنی کرایہ پر لینےوالے کے نزدیک مال معلوم ہواور وہ اسے جانتاہو مثلاً مستاجر کرایہ پر لینےوالے مال کو دیکھ لےیااجارےپردینےوالاشخص اپنے مال کی خصوصیات اس طرح بیان کرئےکہ اس کے بارے میں پوری اطلاع حاصل ہو جائے

3۔ اجارہ پردیئے جانےوالے مال کو دوسرے فریق کے سپرد کرنا یعنی قبضہ دیناممکن ہوپس  غصبی گھر یاچوری شدہ گاڑی کو اجارہ پر دینا درست نہیں ہے،مگر جب مستاجر اس سے نفع حاصل کرسکتاہو مثلاً اس کے مالک کی طرف رجوع کرسکتاہو۔

4۔اس سے استفادہ کرنا اس کےختم یاکالعدم ہوجانےپر موقوف نہ ہو پس روٹی ، پھل  اور دوسری خوردنی اشیاء کاکرائے پر دینادرست نہیں ہے،یا روپے کو اجارہ پر دینا جیساکہ بعض سے نقل ہواہے۔

5۔مال سے وہ فائدہ اٹھاناممکن ہوجس کے حصول کےلیے اسے کرایہ پر دیاجائےپس ایسی زمین کا کرائے پردینا جس کےلیے بارش کاپانی کافی نہ ہواور وہ  نہر کے پانی سے سیراب  نہ ہوتی ہوتوصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ137:جس درخت  پر ابھی میوہ نہیں لگاہے اور کچھ دنوں کے بعد وہ پھلدار ہو جائے گا ،اس کے پھل سے نفع اٹھانے کےلیے اسے اجارہ پردینادرست ہے ، جانور سے دودھ کا نفع اور کنوئیں سے سیرابی کا نفع حاصل کرنے  کےلیے اجارہ پر دینے کایہی حکم ہے۔

مسئلہ138:عورت کسی بچے کو دودھ پلانےکےلیے خود کو اجارہ پرقراردےسکتی ہے اور اس کام کے لیے اپنے شوہر سے اجازت مانگنے کی ضرورت بھی نہیں ہے،ہاں اگر اس کام سے شوہر کاحق ضایع ہوتاہوتو اس کے اجارہ کی صحت شوہر کی اجازت پر موقوف ہے۔

 

شارك استفتاء

احکام صلح

مسئلہ112:صلح یعنی انسان کسی دوسرے کے ساتھ اس بات پراتفاق کرئےکہ اپنے مال سے یااپنے مال کے منافع سے کچھ دوسرے کودےدے یااپناحق یاقرض چھوڑ دے  اوردوسرابھی اس کے عوض اپنے مال یامنافع کی کچھ مقدار اسے دےدے یا قرض  چھوڑ دے بلکہ اگرکوئی شخص عوض لیے بغیر اپنامال یامال کامنافع دوسرے کو دےدے یاقرض یااپناحق چھوڑ دے ۔

مسئلہ113:مصالحت کرنے والوں میں چند امور معتبر قرارددیئے گئے ہیں:

بلوغ،عقل،اختیار۔قصد ،ممنوع التصرف نہ ہونا۔

مسئلہ114:صلح میں خاص صیغہ معتبر نہیں ہے ،بلکہ اس میں ہر لفظ کافی ہے جو اس مطلب کواداکردے،یا جوفعل اس مطلب پر دلالت کرئے ۔

مسئلہ115:اپنے حق  یاقرض کوچھوڑ دینا،طرف مقابل کی جانب سے قبول کامحتاج نہیں ہے،البتہ اس پر مصالحت کرنے میں قبول کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ116:صلح میں اس کی مصلحتوں کی بابت آگاہی کاہونا ضروری نہیں ہے پس جب دواشخاص میں سے ایک کامال دوسرے شخص کے مال کے ساتھ ملاہواہو توان کےلیےجائز ہےکہ وہ برابری کی بنیاد پر یا مختلف بنیاد پر کاروبار میں شرکت اختیار کر لیں،جیساکہ ان کے لیے جائزہے کہ وہ کسی دوسرے معین مال میں مصالحت کریں ، اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں اموال کے درمیان تمیز مشکل ہو یا تمیز کرنا مشکل نہ ہو۔

مسئلہ117:اگر مقروض  اپنے  قرض کی مقدار جانتا ہو اور قرض  خواہ   کو قرض کی مقدار  معلوم نہ ہو،اور قرض خواہ کو جوکچھ لیناہو اُس سے کم پر مصالحت کرلے توباقی ماندہ رقم مقروض پرحلال نہیں ہےسوائےاس صورت کےکہ جوکچھ اس نے دینا ہو اس کی بابت خود قرض خواہ کو بتائےاور اسے راضی کرلے یاصورت ایسی ہو کہ اگر قرض خواہ کوقرضے کی مقدار کاعلم بھی ہوتاتب بھی اسی مقدار یعنی کم مقدار پر صلح کرلیتا۔

مسئلہ118:اگردواشخاص ایسی چیزوں سے جوایک ہی جنس سے ہوں  اور جن کے وزن یا پیمائش  معلوم ہوں اور معلوم ہو کہ ایک کاوزن یا پیمائش زیادہ ہے  آپس میں صلح کرلیں تواحتیاط یہ ہے کہ ایسی مصالحت جائز نہیں ہے ،کیونکہ اس مورد کو سود کی حرمت شامل ہے،اوراگران کاوزن معلوم نہ ہو ں اور اس بات کااحتمال ہو کہ ایک کاوزن دوسری سے زیادہ ہےاور وہ صلح کرلیں تو صلح صحیح ہے،اگرچہ احوط اس کاترک ہے۔

البتہ ایسے معاملہ کی تصحیح کی جاسکتی ہے،اس طرح کہ  مصالحت کاموضوع ان دو مالوں کے علاؤہ کسی اور شے  کو قراردیاجائے ،جیسے دونوں  یوں مصالحت کریں کہ اُن میں سے ہرایک اپنے مال کو جودوسرے کے ذمہ میں ہے ہبہ کردے یا  ایک دوسرے کے ذمہ کو بری قراردیتے ہوئے  مصالحت کریں ۔

مسئلہ119:اگر ایک شخص نے دو لوگوں کایادوشخصوں  نے دو لوگوں کا قرض دینا ہو ، اور اس سے سود لازم نہ آتاہو توایسے دوقرض کے مبادلہ پر مصالحت ہوسکتی ہے،جیسے وہ دونوں قرض پیمائش یاوزن والی شے سے نہ ہوں یادونوں ایک جنس سے نہ ہوں  یا دونوں پیمائش  یاوزن میں مساوی ہوں ،اوراگردونوں قرض   پیمائش یاوزن سے ہوں  اور ایک ہی جنس سے ہوں تو ان کے مبادلہ پر ایک کے زائد ہونے کی صورت میں صلح  جائزنہیں ہے،جیساکہ سابقہ مسئلہ میں گزر چکاہے۔

مسئلہ120:اگر کسی شخص کو کسی دوسرے سے اپناقرضہ کچھ مدت کے بعد واپس لینا ہو جس کاتعلق پیمائش یاوزن کے ساتھ ہوجس میں سود داخل ہوسکتاہو ، تو ایسے معاملہ کی تصحیح کرلینا ضروری ہے، اور وہ اس طرح کہ  مقروض کےساتھ مقررہ مدت سے پہلے مقدار معین سے کم پر صلح کرلے جس سے  اس کامقصد یہ ہوکہ کچھ حصہ چھوڑ دے اور باقی ماندہ مقدار نقد لےلے،اس کے علاؤہ کوئی دوسری صورت(جیسے آج کے دور میں کاغذی کرنسی جو پیسہ شمار کی جاتی ہے)اس سے  مقدار معین سے کم پر بیع اور صلح  جائز ہے،یہ مقروض سے ہو یاکسی اور سے ہو،بنابراس کے قرض خواہ کے لیے جائزہےکہ خرچ وغیرہ میں بل (پرائزبونڈ) کو دے دےجوہمارے زمانے میں رائج ہے کیونکہ موجودہ استعمال ہونے والی نقدی ناوزن میں آتی ہے اور ناہی پیمائش میں آتی ہے۔

مسئلہ121:اگردواشخاص کسی چیز پر آپس میں صلح کرلیں توایک دوسرے کی رضا مندی  سے اس صلح کوفسخ کرسکتے ہیں ،نیز اگر سودے کے سلسلے میں دونوں کویا کسی ایک کو سودافسخ کرنے کا حق دیاگیاہوتوجوشخص وہ حق رکھتاہو وہ صلح فسخ کرسکتاہے۔

مسئلہ122:صلح میں چند خیار جاری  نہیں ہوتے ہیں:

1۔خیار مجلس،یعنی  جب تک خریداراور بیچنے والااُس مجلس سے جدا نہ ہوگئے ہوں جس  میں سوداطے پایاہے ۔

2۔خیار حیوان،یعنی اگرخریدار ایک جانور کو خریدے توتین دن تک سودافسخ کرنے کاحق رکھتاہے ۔

  3۔ خیار تاخیر،یعنی اگرایک خریدار خریدی ہوئی جنس کی قیمت تین دن تک نہ دے اورجنس کواپنی تحویل میں نہ لے ۔

ہاں!

   اگرصلح کادوسرافریق مصالحت کامال دینے میں غیرمعمولی تاخیر کرئےیا یہ شرط رکھی گئی ہو کہ مصالحت کامال نقد دیاجائےاور دوسرافریق اس شرط پر عمل نہ کرئےتواس صورت میں صلح فسخ کی جاسکتی ہےاور باقی آٹھ خیارات جن کاذکر خریدوفروخت کے احکام میں آیاہے ،وہ  صلح میں جاری ہوتے ہیں،خیارغبن چند موارد میں جاری نہیں ہوتاہے،جیسے دونوں ایسے مخلوط مال پر مصالحت کریں جس کو جدانہ کیاہواور اس میں  تمیز کرنامتعذرنہ ہو پھر مصالحت کےبعد اسے تمیز دیں ،اور اس میں دونوں میں سے کسی ایک کے لیے غبن (دھوکہ)ہو۔

مسئلہ123:اگرصلح والےمال میں عیب ظاہرہوجائےتو سودے کوفسخ کیاجاسکتاہے ،لیکن متعلقہ شخص بے عیب اور عیب دارکے درمیان قیمت کافرق لیناچاہےتواس میں  اشکال ہے۔

مسئلہ124:اگرکوئی شخص اپنےمال کے ذریعہ دوسرے سے صلح کرے اوراس کے ساتھ شرط ٹھہرائےکہ جس چیز پرمیں نے آپ سے صلح کی ہے میرے مرنے کے بعد تواسے وقف کردے گا اوردوسرا شخص بھی اس کو قبول کرلے تواسے چاہئے کہ اس شرط پر عمل کرئے،اور اگر مصالحت کرنےوالے کی موت کے بعد اس کا وارث نہ ہو تو شرط پوری کرنے کی بابت  حاکم شرعی کی طرف رجوع کرنالازم ہے ،اور اگر اس کا وارث ہوتواس سے اجازت لیناواجب ہے۔

 

شارك استفتاء

احکام شفعہ

جب کوئی ایک شریک اپناحصہ کسی تیسرے شخص پر فروخت کردے تواس کے شریک کو حق حاصل ہے کہ وہ بیچے ہوئے مال کواسی قیمت پرلےلے جو بیع میں مقرر کی گئی ہے ،اس حق کوشفعہ کہتے ہیں ۔

مسئلہ 103: غیر منقول مال کی بیع میں شفعہ تب ثابت ہوتاہے جب وہ مال تقسیم کو قبول کرتاہو جیسے اراضی ،مکانات،باغات اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

کیا شفعہ   منقول مال میں ثابت ہوتا ہے جیسے آلات ،کپڑے ،حیوان؟اور کیا شفعہ ایسے مال میں ثابت ہوتاہے جو غیرمنقول ہولیکن تقسیم کو قبول نہ کرتاہو؟یہاں دوقول ہیں:

اول ۔ثابت ہوتاہے۔

دوم ۔ثابت نہیں ہوتاہے۔

ان میں سے اقوی پہلا قول ہے،احوط ہےکہ  شفعہ کی بابت شریک خریدار کی رضایت لےلے،اور خریدار شریک کی مانگ کو قبول کرئے،اسی طرح ان دونوں کے لیے یہ چند چیزوں میں احوط ہے :کشتی،نہر،راستہ ،حمام اور چکی۔ 

مسئلہ 104:غیر مسکن  اوراراضی میں شفعہ بیع کے ساتھ مختص ہے ،جب مشترک جزء ہبہ معوضہ یا مصالحت یاان کے علاؤہ کسی شے سے منتقل ہو تو شریک شفعہ نہیں کرسکتا،مسکن اور زمین  میں شفعہ  کابیع کےساتھ مختص ہونا محل اشکال ہے،زیادہ مناسب احتیاط کےمقتضیات کی رعایت ہے۔ 

مسئلہ105:جب وقف کو ایسے مورد میں فروخت کیا جائے جس میں اس کا بیچناجائز ہو ،یہاں شریک کے لیے شفعہ کاحق ثابت ہے۔

مسئلہ 106:شفعہ کے ثبوت میں شرط ہے کہ  جوشے بیچی گئی ہے وہ دولوگوں کے درمیان مشترک ہو ،اگر تین لوگوں یااس سے زیادہ کے درمیان مشترک ہو اوراُن میں سے ایک شخص فروخت کردے تو کسی  ایک کو شفعہ کاحق نہیں ہے،اوراگر سوائے  ایک شخص کے باقی سب لوگ فروخت کردیں توکیااس ایک کو شفعہ کاحق ہے یا نہیں ؟اس میں اشکال ہے بلکہ یہ شفعہ  ممنوع ہے۔

مسئلہ107:شفعہ میں معتبر ہے کہ شفعہ کرنے والا مسلمان ہو،جب خریدار مسلمان ہو تو کافر کو مسلمان پر شفعہ کرنے کاحق نہیں ہے،اگرچہ اس نے کافر سے خرید کیا ہو ،مسلمان کےلیے کافر پر شفعہ ثابت ہے اور کافر کےلیے کافر پر شفعہ ثابت ہے۔

مسئلہ108:شفعہ کرنے والے میں شرط ہےکہ وہ قیمت ادا کرنے پرقادر ہو ،پس عاجز شخص کے لیے شفعہ ثابت نہیں ہے اگرچہ رہن کوخرچ کرئےیا کوئی اس کی ضمانت دینے والاہو،مگریہ کہ اس پر خریدارراضی ہوجائے۔

ہاں، اگر کہے کہ میرے پیسے دوسرے شہر میں ہیں تواسے وہاں سے پیسے منگوانے کےلیے مہلت دی جائے گی،اور تین دن زیادہ کئے جائیں گے اگر مہلت پوری ہو جائےاور پیسے نہ ملیں تو وہ شفعہ نہیں کرسکتاہے،اس کی ابتداء شفعہ لینے کاوقت ہے ،بیع کاوقت نہیں ہے۔

مسئلہ109:شفعہ کرنےوالا قیمت ہی  کو شفعہ میں قراردے، اس سے کم وزیادہ  نہیں ،اور بنابر قدرت کے عین قیمت کالین دین لازمی نہیں ہے،بلکہ اگر قیمت مثلی ہوتو اس کی مثل دےسکتاہے ۔

مسئلہ110:ثمن قیمی میں ،شفعہ کےثبوت میں ،مبیع کواس کی قیمت کےساتھ اخذ کرنےمیں دوقول ہیں:

مبیع کو اس کی قیمت کے ساتھ اخذ کرئے۔

مبیع کواس کی قیمت کے ساتھ اخذ نہ کرئے،یہی قول اقوی ہے۔

مسئلہ111:اقوی ہےکہ شفعہ کواخذ کرنےمیں جلدی سے کام لے ٹال مٹول اور بغیرعذر کے تاخیر کرئےگاتوشفعہ ساقط ہوجائے گا،اور اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر کرئےتو شفعہ ساقط نہیں ہوگا،جیسے اسے بیع کاپتہ نہیں تھایا اسے پتہ نہیں تھا کہ شفعہ کرسکتاہوں یانہیں؟یااسے گمان تھا کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اب اسے پتہ چلےکہ قیمت تو کم ہے،یایہ سمجھتاہوکہ زیدنے خرید کیاہے اور پتہ کہ اسے تو عمرو نے خریدکیاہے یااس نے اسے اپنے لیے خریدکیاہو اور پتہ چلےکہ اس نے کسی کےلیے خریدا ہےیااس کے برعکس ہو،یایہ ایک ہے اور دو ظاہر ہوں ،یااس کے برعکس ہو ، یا مبیع پچاس کی ہے اور پتہ چلے کہ چوتھائی پچاس کی ہے یا قیمت سونے میں ہے اور پتہ چلے کہ چاندی میں ہے،یااس لیے کہ وہ نا حق  قیدہےیا ایسے حق کی وجہ سے قید ہے جسے اداکرنے سے عاجز ہے اور اس قسم کے دیگرعذر۔

 

شارك استفتاء

قاعدہ(امین ضامن ہوتاہے)

مسئلہ97:اصل مال میں کام کرنے والا شریک اس مال پر امین ہوتاہے،پس اگر اس کی کوتاہی کے بغیر سارا مال یاکچھ مال تلف ہوجائےتو مال کے تلف کرنے والا ضامن نہیں ہوگا۔

مسئلہ98:اگرکام کرنےوالا شرکت کے مال کے تلف ہوجانے کادعوی ٰ کرئےاور حاکم شرع کےسامنے قسم کھائے تواس کی تصدیق کی جائے گی۔

مسئلہ99:اگردونوں شریک اس اجازت سے جوانہوں نےایک دوسرے کو مال میں تصرف کےلیے دےرکھی ہو،پھرجائیں تو ان میں سے کوئی بھی شرکت کے مال میں  تصرف نہیں کرسکتاہے اوراگر ان میں سے ایک اپنی دی ہوئی اجازت سے پھر جائےتودوسرے شریک  کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہے،لیکن جوشخص اپنی دی ہوئی اجازت سے پھر گیاہووہ شرکت کے مال میں تصرف کرسکتاہے۔

مسئلہ100:جب  دو شریکوں  میں سے کوئی ایک تقاضا کرئےکہ شرکت کامال تقسیم کردیاجائے تودوسرے پر اس کی بات کاقبول کرنا واجب ہے،بشرطیکہ اس تقسیم سے شرکت کو ناقابل برداشت ضرر نہ ہوتاہو،یاتقسیم  میں حصوں کو ترتیب دیں جس سے اضافی مال مانگاجائے اور اس کی مثل تاکہ اس معاہدہ میں ترمیم کی جائے ،اگرچہ شرکت کی مدت معین کی گئی ہو مگریہ کہ شرکت معاوضہ پر ہو یعنی شراکت دار  میں سےہرایک مال کی بابت  اس کے پھل پر معاہدہ کرئے تو اس کی بات کاقبول کرنا واجب  نہیں ہےاور نہ مدت ختم ہونےسےقبل شرکت کو فسخ کیا جاسکتاہے۔

مسئلہ101:جب شرکاء میں سے کوئی مرجائےتودوسرے کےلیے شرکت کےمال میں تصرف کرناجائز نہیں ہے ،اور یہی حال جنون،اغماء اور سفیہ میں ہے۔

مسئلہ102:جب ایک شریک شرکت کے مال میں تجارت کرئےپھر شرکت کے عقد کابطلان ظاہر ہوجائے،اگر تصرف کااذن شرکت کی صحت کے ساتھ مقید نہ ہو تومعاملہ صحیح ہوگا،اوراس کامنافع دونوں کو ملے گا۔

 اگر تصرف کااذن عقد  کی صحت کے ساتھ مقید ہوتودوسرے کی نسبت عقد فضولی ہوجائےگا،پس اگراس نے اجازت دے دی تو معاملہ صحیح ہوگااوراگر اس نے اجازت نہ دی تو معاملہ باطل ہوگا۔

 

1 2 3
المجموع: 28 | عرض: 1 - 10

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف