احکام اجارہ
احکام اجارہ
مسئلہ125:کوئی شے کرایہ پر دینے والے اور کرایہ پر لینے والے کے لیے معتبر ہےکہ بالغ اور عاقل ہوں ،اور کرایہ لینے یاکرایہ دینےکاکام اپنے اختیار سے انجام دیں ،اور یہ بھی ضروری ہےکہ اپنےمال میں تصرف کا حق رکھتے ہوں ،پس جس مال پر مالک مفلسی وغیرہ کی وجہ سے تصرف کاحق نہیں رکھتا،اسے کرایہ پر دیناصحیح نہیں ہے،لیکن ممنوع التصرف خودکوکرایہ پر دے سکتاہے۔
مسئلہ126:انسان دوسرے کی طرف سے کسی کے مال کو کرایہ پر نہیں دے سکتا ہے مگر جب وہ مالک کی طرف سے وکیل ہویامالک کاولی ہو تو وہ اس کی شے کرایہ پر دے سکتاہے،اجنبی کی جانب سے کسی شے کو کرایہ پردیاجاسکتاہے،بشرطیکہ یہ اجارہ کے بعد میں ہو۔
مسئلہ127:اگر بچے کاولی اس کامال ایک مدت کےلیے کرائے پردے اور وہ اس مدت کے دوران بالغ ہوجائےتوبچہ بالغ ہونے کے بعد باقیماندہ اجارہ فسخ کر سکتا ہے ،یہاں تک کہ اگر بچے کے بالغ ہونے کی مدت کی کچھ مقدار کواجارہ کی مدت کا حصہ نہ بنایاجاتا تویہ بچے کےلیے قرین مصلحت نہ ہوتا،کیونکہ اب یہ اپنے مال کاولی ہو گیا ہے،اگر ولی بچے کو اس کے شایان شان کام کے لیے اجیر بنائےجیسے علمائے کرام کے گھر میں ایک مدت کےلیےنوکری پررکھوائےتاکہ وہ ان سے علمی فائدہ بھی حاصل کرلےگا اور وہ اس مدت کے دوران بالغ ہوجائے تو وہ مطلق طور پر اجارہ کو فسخ کر سکتا ہے۔
مسئلہ128:جس بچے کاولی نہ ہو اسے مجتہد عادل یااس کے وکیل کی اجازت کے بغیر اجارہ پررکھوانا جائز نہیں ہے اور اگر مجتہدیااس کے وکیل تک رسائی ممکن نہ ہو تو عادل مؤمنین کی ایک جماعت کی اجازت سے اسے اجارہ رکھوایاجاسکتاہے۔
مسئلہ129: اجارہ کے صیغہ میں عربیت معتبر نہیں ہے ،بلکہ اس کی صحت میں خاص لفظ بھی معتبر نہیں ہے،پس اگر کرایہ پردینے والااپنامال کرایہ پر لینےوالے کو دے اور اس کاقصد اجارہ کاہو اور کرایہ دار اسے اجارہ کے قصد سے لےلے تواجارہ صحیح ہے۔
مسئلہ 130:جوشخص بول نہیں سکتا ،اگروہ اشارے سے سمجھادے کہ اس نے کوئی شے کرایہ پر دی ہےیاکرایہ پر لی ہے تو اس سے اجارہ صحیح ہے ۔
مسئلہ131:اگرکوئی شخص مکان یادکان یاکمرہ کرایہ پر لے،اوراس جائیدادکامالک یہ شرط لگائےکہ صرف وہ خود اس سے استفادہ کرسکتاہےتو کرایہ دار اسے کسی دوسرے کو استعمال کےلیے کرایہ پر نہیں دے سکتا،سوائے اس کےکہ وہ نیااجارہ اس طرح ہوکہ اس کی منفعت بھی خود پہلے کرایہ دار سے مخصوص ہو،جیسے ایک عورت ایک مکان یاکمرہ کرایہ پر لے اور بعد میں شادی کرلےاور کمرہ یامکان اپنی رہائش کےلیےکرایہ پر اپنے شوہرکودےدے۔
مسئلہ132:اگر کوئی شخص مکان یادکان یا کمرہ کرایہ پر لے،اور اس جائیداد کامالک شرط نہ لگائےکہ صرف وہ خود اس سے استفادہ کرسکتاہے،اورنہ ہی عرف صرف اسی کے استعمال کا کہتی ہوتوکرایہ دار اسے کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دے سکتا ہے ، اور اسے اس کام کےلیے مالک سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ اسے معلوم ہےکہ مالک اس کام سے ناراض نہیں ہے ،بلکہ وہ اس سے راضی ہے ، لیکن اگروہ چاہےکہ جتنے کرایہ پر لیاہے اُس سے زیادہ مقدار کےلیے کرایہ پر دے توضروری ہے کہ اس کی مرمت اور سفیدی کروائےیااس جنس کےبدلے کرایہ پر دے جس پر اس نے خود اسے کرائے پر لیاہے ،مثلاً اگر روپےکےبدلے کرایہ پر لیا ہے تو گندم یاکسی اور شے کےبدلےکرایہ پر دے اور بنابراحتیاط مکان ،دکان اور گھر کے علاؤہ کوئی دوسری شے کےلیےبھی وہی حکم ہےجو مکان کےلیے ہے ۔
مسئلہ133:اگراجیر مستاجرسے شرط طے کرئےکہ وہ صرف اسی کاکام کرئےگا تواس اجیرکوکسی دوسرے شخص کوبطور اجارہ نہیں دیاجاسکتا،اوراگراجیر ایسی کوئی شرط نہ لگائےاور مستاجر اسےاسی چیز پر اجارہ پردے سکتاہےجواس کی اجرت قرارپائی ہے ، مگر یہ کہ مستاجر اسے زیادہ چیزپر اجارہ نہیں دے سکتا،جب دونوں اجرتیں ایک جنس سے ہوں ،اوراگر دونوں اجرتوں کی جنس مختلف ہوتو زیادہ کاکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ 134:جب کوئی شخص کسی کام کےلیے خود کسی کااجیر بن جائے،جس میں یہ قید نہ ہوکہ وہ کام میں خود ہی کروں گاتو اس کےلیےجائز نہیں ہےکہ اس کام کے لیے کسی دوسرے شخص کوکم اجرت پررکھ لے،ہاں!
جب دونوں اجرتیں دو جنس سے ہوں توکوئی حرج نہیں ہے یا اس نے کام کی کچھ مقدار خودسرانجام دی ہوتوپھر دوسرے کو کم اجرت پربھی رکھ سکتاہے۔
مسئلہ135:اگرکوئی شخص مکان ایک سال کےلیےمعین مبلغ پر کرایہ پرلے تواس کاآدھا حصہ خود استعمال کرئےاور دوسراحصہ اتنے ہی مبلغ پر کرائےپر چڑھا سکتا ہے ،لیکن اگر وہ چاہے کہ مکان کاآدھاحصہ اس سے زیادہ پر چڑھا دے جس پراس نے خود وہ مکان کرایہ پر لیاہےتوجائز نہیں ہے مگریہ کہ وہ اس میں مرمت وغیرہ کاکام سر انجام دے۔
مسئلہ136:جو مال اجارہ پردیاجائےاس میں چند چیزیں معتبر ہیں:
1۔وہ مال معلوم اور معین ہو،لہذا کوئی شخص کہے کہ میں نے تجھے اپنے مکانوں میں سے ایک کرائے پر دیا توبنابراحتیاط کے ایسا اجارہ درست نہیں ہے۔
2۔مستاجریعنی کرایہ پر لینےوالے کے نزدیک مال معلوم ہواور وہ اسے جانتاہو مثلاً مستاجر کرایہ پر لینےوالے مال کو دیکھ لےیااجارےپردینےوالاشخص اپنے مال کی خصوصیات اس طرح بیان کرئےکہ اس کے بارے میں پوری اطلاع حاصل ہو جائے
3۔ اجارہ پردیئے جانےوالے مال کو دوسرے فریق کے سپرد کرنا یعنی قبضہ دیناممکن ہوپس غصبی گھر یاچوری شدہ گاڑی کو اجارہ پر دینا درست نہیں ہے،مگر جب مستاجر اس سے نفع حاصل کرسکتاہو مثلاً اس کے مالک کی طرف رجوع کرسکتاہو۔
4۔اس سے استفادہ کرنا اس کےختم یاکالعدم ہوجانےپر موقوف نہ ہو پس روٹی ، پھل اور دوسری خوردنی اشیاء کاکرائے پر دینادرست نہیں ہے،یا روپے کو اجارہ پر دینا جیساکہ بعض سے نقل ہواہے۔
5۔مال سے وہ فائدہ اٹھاناممکن ہوجس کے حصول کےلیے اسے کرایہ پر دیاجائےپس ایسی زمین کا کرائے پردینا جس کےلیے بارش کاپانی کافی نہ ہواور وہ نہر کے پانی سے سیراب نہ ہوتی ہوتوصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ137:جس درخت پر ابھی میوہ نہیں لگاہے اور کچھ دنوں کے بعد وہ پھلدار ہو جائے گا ،اس کے پھل سے نفع اٹھانے کےلیے اسے اجارہ پردینادرست ہے ، جانور سے دودھ کا نفع اور کنوئیں سے سیرابی کا نفع حاصل کرنے کےلیے اجارہ پر دینے کایہی حکم ہے۔
مسئلہ138:عورت کسی بچے کو دودھ پلانےکےلیے خود کو اجارہ پرقراردےسکتی ہے اور اس کام کے لیے اپنے شوہر سے اجازت مانگنے کی ضرورت بھی نہیں ہے،ہاں اگر اس کام سے شوہر کاحق ضایع ہوتاہوتو اس کے اجارہ کی صحت شوہر کی اجازت پر موقوف ہے۔