اساسى | | رسالہ عمليہ | احکام اموات
احکام اموات

شارك استفتاء

غسل مس میت

کسی انسان کے مرنے کے بعد اور غسل میت سے پہلے ،مس کرنے سےچھونے والے پر ، غسل مس میت  واجب ہوجاتاہے ،یعنی تینوں غسل مکمل ہوجانے سے قبل،میت مسلمان کی ہویاکافر کی ہو ،یہاں تک کے سقط شدہ میت  کایہی حکم ہےجس میں روح پڑگئی ہو ،اگرچہ بنابر احتیاط کے اس کے چارماہ مکمل نہ ہوئے ہوں۔

مسئلہ103:مس کرنے والے اور مس کئے جانے والے میں  ظاہراور باطن کو مس کرنے کےدرمیان کوئی فرق نہیں ہے،اس عضو میں زندگی حلول رکھتی ہو یااس میں زندگی حلول نہ رکھتی ہو

یہاں تک کہ مس شدہ عضو  کی جانب میں مطلق طور پر بال ،اور مس کرنے والے کی جانب میں جب وہ  عرفاً جلد کے تابع ہو،بلکہ بنابر احتیاط کےمطلق طور پر ،جب تک اس پر مس کاعنوان صادق آئے،اس میں عاقل ، مجنون ، صغیر ، کبیر ، مرد ،عورت،اختیاری مس،اضطراری مس کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

مسئلہ104:میت کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے ،مس کرنے سے غسل مس میت واجب  نہیں ہوتاہے،البتہ مس کرنےوالاعضو نجس ہوجاتاہے ،بشرطیکہ ان دونوں کے درمیان سرایت کرنےوالی رطوبت موجود ہو۔

مسئلہ105:مس میت حدث اکبر نہیں ہے،بلکہ یہ حکم کے اعتبارسے حدث اصغر کی مانند ہے،مگرنماز کے لیے غسل کرناضروری ہےاوراس غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں رہتی ہے،اگر چہ احتیاط مستحب ہےکہ غسل کے بعد نماز کے لیے وضو کرلیاجائے۔

پس یہ شخص غسل مس میت کرنے سے قبل مساجد میں داخل ہو سکتا ہے ،مساجد میں ٹھہر سکتاہے،سجدے والی سورتوں کوپڑھ سکتاہے،ہر وہ کام کر سکتا ہے جو حدث اصغر والا شخص کرسکتاہے ۔

اس پر ہروہ کام حرام ہے جو حدث اصغر والے پر حرام ہے جیسے قرآن مجید کی کتابت کا مس کرنا،ہروہ عمل جس میں طہارت شرط ہے  اسے بغیر غسل کے ادا کرنا مس میت والے کے لیےدرست نہیں ہے۔

مسئلہ106:میت سے جداشدہ ٹکڑے کو مس کرنے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے،بلکہ بنابراحتیاط کے زندہ انسان کےبدن سے جداشدہ  گوشت اور ہڈی کومس کرنے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے،اوراگر زندہ انسان کے بدن سے کوئی ایک شے جداہوئی ہواوراس میں گوشت اور ہڈی میں سے کوئی ایک شے نہ ہو تواسے مس کرنے سے کوئی غسل نہیں ہے،خواہ زندہ سے ہویامیت سے ہو۔

مسئلہ107:اس غسل کاوہی طریقہ ہے جودوسرے غسلوں کا ہے۔

 

شارك استفتاء

 دفن

معاشرے اور سوسائٹی کے لوگوں پرمسلمان میت  اور جو مسلمان میت کے حکم میں ہو،کادفن کرناواجب ہے ۔

دفن یعنی اسے زمین میں گڑھا کھود کر چھپانا،اس حیثیت سے کہ اس کے جسم کو درندوں سے امان رہے اور لوگوں کو اس کی بو سے امان رہے،اسے کسی کمرے کےاندر یاتابوت کے اندر رکھ دیناکافی نہیں ہے ۔

مسئلہ94:میت کاقبر میں  دائیں طرف رو بقبلہ رکھنا واجب ہے،اتنی مقدار قبلہ کی طرف رخ ہو جتنی مقدار نماز میں واجب ہے۔

مسئلہ95:مسلمان کو  چند جگہ پر دفن کرناجائز نہیں ہے:

الف۔ جہاں دفن سے اس کی توہین لازم آتی ہو جیسے کوڑا ڈالنے کی جگہ اور گٹر۔

ب۔ غصبی مکان میں ۔

ت۔جوزمین  دفن کےعلاؤہ کسی اور مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو جیسے مدارس ،مساجد،امام بارگاہیں جوہمارے دور میں موجود ہیں،اورخانکاہیں جو  دفن کے علاؤہ دوسرے امور کے لیےوقف ہوں،اگرچہ اس کا ولی اذن دے۔

مسئلہ96:ایک میت کے اپنی قبر میں بوسیدہ ہوکر خاک ہوجانے سے قبل اس کی قبر میں کسی میت کودفن کرناجائزنہیں ہے،ہاں اگر کوئی قبر پھٹ گئی ہواوراس سے میت زائل ہوگیاہو تواقوی قول کی بناپر ،اس میں کسی میت کودفن کرنا جائز ہے ، بشرطیکہ قبر کی زمین کسی کی ملکیت نہ ہو۔

مسئلہ97:ظاہرہے،وہ شےجائزہے، جس پر ہمارے دور کے قبر بنانے والوں کی سیرت ہے یعنی  ایک جانب بڑے سرداب کی صورت میں لحد کھودتے ہیں،جو سطح زمین کے نیچے ہوتاہے،جس سے اس کی چھت زمین  کے ساتھ وصل ہوتی ہے یا وصل نہیں ہوتی ہے۔

مسئلہ98:میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ ہے ،مگرمشاہد مشرفہ اور مقامات محترمہ کی طرف منتقل کرسکتے ہیں،جب تک دفن نہ کیاگیا ہو،یہ مستحب ہے،خصوصاً نجف اشرف اور کربلا ۔

بعض روایات میں ہے کہ نجف اشرف کے خواص میں سے ہےکہ یہاں دفن ہونے والے سے قبرکاعذاب  اور منکر و نکیر کا حساب ساقط ہوجاتاہے۔

مسئلہ99:نبش قبر اور اس سے میت کو نکال کر مشاہد مشرفہ کی طرف منتقل کرکےدفن کرنا جائزنہیں ہے ،چہ جائیکہ کسی اور جگہ پر اسے دفن کیاجائے،یہاں تک کہ اگر یہ ولی کی اجازت سے ہو اور اس سے  میت کی توہین بھی نہ ہوتی ہو ،تب بھی جائز نہیں ہے۔

مگر تب جائز ہے جب اس کی مرنے والے نے وصیت کررکھی ہو،یا جب میت کاجسم زمین سے سیلاب یازلزلہ کی وجہ سے قبر سے ظاہر ہوجائےتواسے اسی قبر میں دوبارہ دفن کرناواجب نہیں ہے ،پس اسے دوسری جگہ منتقل کرناجائز ہے،بشرطیکہ اس سے میت کی  بزرگی کی بابت ،اس کی توہین لازم نہ آئے۔

مسئلہ100:  جب میت کا کچھ حصہ ملے جس میں سینہ ہو،تواسے غسل و حنوط و کفن دے کر نماز میت پڑھ کر دفن کردیاجائے۔

یہی حکم ہے اگر تنہا سینہ ملے ،جس پر صادق آئے کہ یہ میت کابدن ہے،لیکن اس کا سر و ہاتھ پیر کٹے ہوئےہیں،یامیت کاکچھ حصہ ملے جس پر سینہ صادق آئےیا جو موجود ہو وہ بغیرگوشت کے ہڈیوں کامجموعہ ہو ،بشرطیکہ اس میں سینے کی ہڈیاں ہو ں ،یہ حکم احتیاط واجب کی بناپرہے۔

سینے کے موجود ہونے کی حالت میں یا سینے کے کچھ حصے کے موجود ہونے کی حالت میں،کفن میں کفنی اور بڑی چادر پر اقتصار کیاجائے گا،اگر ایسی جگہ کاٹکڑا ملے جو شرمگاہ ہو توان دوکپڑوں کے ساتھ ایک لنگوٹ کااضافہ کریں ۔

مسئلہ101:اگر سینے کی ہڈی کے علاؤہ کوئی اور ہڈی ملے ،اورہڈی خالی ہویا گوشت پر مشتمل ہو تو اسے غسل دے کرایک کپڑے میں لپیٹ کر بغیر نماز کے دفن کر دیا جائے،اور اس میں حنوط کا حصہ ہو تو بنابراحتیاط کے حنوط کرناواجب ہے اور اگر اس میں ہڈی نہ ہو توواجب ہے، میت کے گوشت کو کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے ۔

مسئلہ102:ساقط شدہ بچہ،اگر چار ماہ کامل کاہو ،تواسے غسل،حنوط اور کفن دے کر دفن کردیاجائےاوراس پر نمازنہ پڑھی جائے۔

اور اگر بچہ چارماہ سے کم کاہو اور اس کی بابت عرف میں کہاجائےکہ اس پر گوشت و ہڈی موجود ہے ،تواحتیاط واجب کی بناپر اسے کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیاجائے،لیکن اگر اس میں روح پڑ چکی ہو ،تو اس صورت میں اقوی نہیں تواحوط ہے کہ اس پر چارماہ والے بچے کے حکم کو جاری کیاجائےگا۔

اور اگر سقط  خون کی صورت میں ہو اور عرف کہے کہ اس میں گوشت اور ہڈی نہیں ہے تو اس کے بارے میں کوئی شے واجب نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

میت پر نماز

ہر مسلمان میت پر نماز میت پڑھناواجب کفائی ہے،وہ میت مردکی ہویاعورت کی  ہو ،مؤمن کی  ہو یا غیر مؤمن  کی ہو ،عادل کی ہو یا فاسق کی ہو۔

چھ سال سے کم عمر کے مسلمان بچے پر نماز میت پڑھناواجب نہیں ہے ،البتہ چھ سال یااس سے زائد عمر کے مسلمان بچے پر نماز میت پڑھناواجب ہے،چھ سال سے کم عمر مسلمان بچے پرنماز میت پڑھنا مستحب ہے،جو زندہ پیداہواہو۔

مسئلہ90:میت کو غسل وکفن دینے کے بعد اس پر نماز میت پڑھی جائے،پس غسل وکفن سےپہلے نماز میت پڑھنا مجزی وکافی نہیں ہوتی ہے،اور اگر غسل وکفن متعذر ہو تو نماز میت ساقط نہیں ہوتی،جیساکہ نمازمیت دفن کے متعذر ہونے کی صورت میں بھی ساقط نہیں ہوتی ہے۔

مسئلہ91:میت پرنماز پڑھنے  میں اولویت ،اسے حاصل ہے جو میت کی میراث پانے میں اولویت رکھتاہے،اگروہ خود نماز پڑھناچاہیے تو کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مزاحمت کرئے،وہ خود پڑھے یاکسی شخص کو معین کرئے،بلکہ احتیاط واجب ہےکہ  نمازمیت کی صحت مطلق طور پرولی کے اذن پر موقوف ہے،بشرطیکہ اُس سے اذن حاصل کرنا ممکن ہو۔

مسئلہ92:نماز میت کے طریقہ میں احتیاط واجب یہ ہے :

اللہ اکبر کہے اور اَشْھَدُاَنْ لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاْشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ پڑھے۔

پھراللہ اکبر کہے اور اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ سَلِمْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ ارْحَمْ مُحَمَّداً وَ آلَ مُحَمَّدٍ کَاَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ وَ بَارَکْتَ وَ سَلَّمْتَ وَ تَرَحَمْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ آلَ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ   پڑھے۔

پھراللہ اکبر کہےاور اَللَّھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ پڑھے۔

پھر اللہ اکبر کہے ،اگر میت مرد کی ہو تو اَللَّھُمَّ اِنَّ ھَذَا عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ وَ ابْنُ اَمَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَ اَنْتَ خَیْرُ مَنْزُوْلٍ بِہٖ اَللَّھُمَّ اِنَّالَاْنَعْلَمُ مِنْہُ اِلَّا خَیْراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنَّا ،اَللَّھُمَّ اِنْ کَانَ مُحْسِناً فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِہٖ وَ اِنْ کَانَ مُسِیْئاً وَ مُذْنِباً فَتَجَاوَزْ عَنْہُ وَ اغْفِرْہُ وَ اجْعَلْہُ عِنْدَکَ فِیْ اَعْلیٰ عِلِّیِیْنَ وَ اخْلُفْہُ فِیْ اَھْلِہٖ وَ احْشُرْہُ مَعَ النَّبِیِّ وَ عِتْرَتِہٖ الْمَعْصُوْمِیْنَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ  پڑھے۔

اگر میت عورت کی ہو تو اَللَّھُمَّ اِنَّ ھَذِہٖ اَمْتُکَ وَ ابْنَۃُ عَبْدِکَ وَ ابْنَۃُ اَمَتِکَ نَزَلَتْ بِکَ وَ اَنْتَ خَیْرُ مَنْزُوْلٍ بِھَا اَللَّھُمَّ اِنَّالَاْنَعْلَمُ مِنْھَا اِلَّا خَیْراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِھَا مِنَّا ،اَللَّھُمَّ اِنْ کَانَتْ مُحْسِنَۃً فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِھَا وَ اِنْ کَانَتْ مُسِیْئَۃً وَ مُذْنِبۃً فَتَجَاوَزْ عَنْھَا وَ اغْفِرْھَا وَ اجْعَلْھَا عِنْدَکَ فِیْ اَعْلیٰ عِلِّیِیْنَ وَ اخْلُفْھَا فِیْ اَھْلِھَا وَ احْشُرْھَا مَعَ النَّبِیِّ وَ عِتْرَتِہٖ الْمَعْصُوْمِیْنَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ پڑھے۔

پھر اللہ اکبر کہہ کر نماز میت کو ختم کردے۔

اس نماز میں کسی سورہ کی قرائت ،رکوع،سجوداور سلام نہیں ہے۔

مسئلہ93:نماز میت میں چند امور واجب ہیں:

1۔ نیت۔

2۔میت کاسامنے موجود ہونا،پس میت کےلیے غائبانہ نماز نہیں ہے۔

3۔نمازی کامنہ قبلہ کی طرف ہو ۔

4۔میت کاسر نماز پڑھنےوالے کی دائیں طرف اوراس کے پیر بائیں طرف ہوں۔

5۔احتیاط مستحب کی بناپر میت چت لیٹا ہواہو۔

6۔میت نمازی اور قبلہ کے درمیان میں ہو۔

7۔نمازی میت کے بالمقابل کھڑا ہو،مگر یہ کہ وہ ماموم ہواور صف لمبی ہو جس سے میت اس کے سامنے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

8۔نمازی میت سے دور نہ ہو ،جس سے میت کے پاس کھڑا ہوناصادق نہ آئے ، مگر یہ کہ نمازمیت باجماعت ہو اور صفوں میں اتصال ہو۔

9۔نمازی اور میت کے درمیان پردہ یادیوار حائل نہ ہو،البتہ تابوت وغیرہ کےحائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

10۔نمازی کھڑا ہو ،اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والامیسر ہوتو بیٹھے ہوئے شخص سے نماز نہ پڑھائی جائے اوراگر کھڑے ہوکر نماز پڑھانے والاشخص میسر نہ ہوتو بیٹھ کرنماز میت پڑھائی جاسکتی ہے۔

11۔تکبیروں اور دعاؤں کے درمیان  موالات ہو جسے عرف میں کہاجائے کہ دعائیں اور تکبیریں پے در پے انجام دی گئی ہیں۔

12۔نماز میت ،اسے غسل و حنوط و کفن دینے کے بعد اور دفن سے پہلے ادا کی جائے۔

13۔میت کی شرمگاہ چھپی ہوئی ہو۔

14۔احتیاط واجب کی بناپر نمازی کامکان مباح ہو۔

   15۔ولی کااذن ہو،مگرجب میت نے وصیت کی ہو کہ فلاں معین شخص اس کی نماز جنازہ پڑھائے ،اب اگرولی اجازت بھی نہ دے توموصی  بغیرولی کےاذن کے بھی نمازمیت پڑھاسکتاہے ۔

 

شارك استفتاء

حنوط

واجب ہے میت کے سجدہ والے سات اعضاء پر کافور ملاجائےاور وہ سات اعضائے سجدہ یہ ہیں:

پیشانی،دونوں ہتھیلیوں کاباطن،دونوں گٹنے،دونوں قدموں کےانگوٹھوں کےسرے۔

اتناکافورلگاناکافی ہے جس سے اس کانام صادق آجائے۔

مسئلہ89:  حنوط غسل یاتیمم کے بعد اورکفن سے پہلےیاکفن کے دوران کریں،ایک قول کے مطابق اسے کفن کے بعد بھی لگایاجاسکتاہے۔

 

شارك استفتاء

تکفین

میت کو تین کپڑوں میں کفن دیناواجب کفائی ہے:

اول۔ چادر،واجب ہے کہ یہ چادر اتنی بڑی ہوجو کمر سے گٹنوں تک کو چھپاڈالے۔

دوم۔  کفنی،واجب ہے کہ یہ کندھوں تا نصف پنڈلی کو چھپاڈالے۔

سوم۔بڑی چادر،واجب ہےکہ یہ سارے بدن کو ڈھانپ ڈالے۔

مسئلہ87:ان تمام کپڑوں میں احتیاط واجب ہےکہ جسم کو چھپادے اور نیچے سے جسم نظر نہیں آئے،اگرچہ تمام کپڑوں سے چھپایاجانا حاصل ہوجائے۔

مسئلہ88:جب کفن ،میت کی نجاست سے یا اس کے غیر کی نجاست سے  نجس ہوجائے ،تو نجاست کادور کرناواجب ہے،اگر قبر میں رکھنے کے بعد نجاست لگے تو اسے دھوئیں یاقینچی سے کاٹ دیں ،یہ اس صورت میں ہےجب نجس جگہ تھوڑی سی ہو اور جس سے بدن دیکھائی نہ دےاوراگر ایساممکن نہ ہوتو ہوسکےتو اس کفن کو  تبدیل کردیاجائے ،یہ اس وقت ہے جب نبش قبرکی نوبت نہ آئے اور اگرنبش قبر کرناپڑے تو یہ عمل واجب نہیں ہوگا،اگرچہ جان بوجھ پاک نہ کیاہو۔

 

شارك استفتاء

غسل دینے والے کے شرائط

مسئلہ84:غسل دینے والے کی بابت واجب ہے کہ ذکوریت و انوثیت میں مماثل ہو،یعنی  میت مرد ہوتواسے مرد غسل دے،میت عورت کی ہو تواسے عورت غسل دے،پس مرد کاعورت کواورعورت کامرد کو غسل دیناجائز نہیں ہے،اس سے چند صورتیں مشتثاء ہیں:

صورت اول۔میت بچہ ہو ،جوچھ سال سے زائد کا نہ ہو۔

صورت دوم۔میت میاں و بیوی میں سے کوئی ایک  ہو،ان میں سے ہرایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں،

صورت سوم۔نسبی یارضاعی محرم ہو۔

مسئلہ85:جب میت کو عمداً یا غلطی سے بغیر غسل کے دفن کردیاجائےتو جائز ہے  بلکہ واجب ہے کہ نبش قبر کی جائے اور اسے غسل یا تیمم دیاجائے،بشرطیکہ اس سے میت کی توہین  لازم نہ آئے یا زندوں کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔

یہی حکم ہے جب اغسال میں سے کسی غسل سے کوئی فعل انجام نہ دیا گیاہو ، اگرچہ ایسا بھول کر ہواہو یا واضح ہوجائے کہ جو غسل دیاگیاہے باطل ہے یا اس میں سے کوئی فعل چھوٹ گیاہے جس کی وجہ سے غسل باطل ہوگیاہے۔

مسئلہ86:جب کوئی شخص حدث اکبر کی حالت میں مر جائےجیسے جنابت یاحیض تو اسےصرف  غسل میت ہی دیناواجب ہوگا۔

 

شارك استفتاء

شروط غسل

مسئلہ76:جو شخص غسل دے رہاہے ،اُس پر واجب ہے کہ سب سے پہلے غسل دینے کی نیت کرئےیعنی قربۃ ً  الی اللہ تعالی کاقصد کرئے اور اس نیت میں اخلاص کو مدنظر رکھے،یعنی اس کام میں ریاکاری وغیرہ موجود نہ ہو اور جوافعال انجام دے رہاہے اُن کی طرف متوجہ بھی ہو ،اگر ایسی مجبوری ہوکہ غسل دینے کےلیے کوئی ایک بھی مسلمان مہیا نہ ہو تو جو مسلمان غسل کروا  رہاہے وہی میت کوغسل دے۔

مسئلہ77:واجب ہے کہ غسل کاپانی پاک اور مباح ہو ،سدراور کافور مباح ہو ،بلکہ احوط ہےکہ جس جگہ پر غسل دیاجارہاہے وہ بھی مباح ہو۔

مسئلہ78:جب سدر اور کافور کاملنامشکل ہوتو اقوی ہے کہ تینوں غسل آب خالص سے دیئے جائیں،پہلے دوغسل میں، غسل سدراورکافور سے بدلیت کی نیت کرئے،احتیاط مستحب ہے کہ ان دوغسل کے ساتھ تیمم بھی دیاجائے،اس سے واضح ہوگیاکہ ان دو میں سے ایک کے تعذر اور مشکل ہونے کاحکم دیاگیاہے۔

مسئلہ79:سدر اور کافور میں معتبر ہے کہ  اتنا زیادہ مقدار میں نہ ہو کہ جب پانی میں ڈالا جائے تو اس سے آب خالص کانام سلب ہوکر آب مضاف ہوجائے،اور اتنی کم مقدار میں بھی نہ ہوکہ اس پانی پر سدراورکافور کے مخلوط ہونے کانام  صادق نہ آئے۔

آب خالص میں معتبر ہےکہ اس پر صادق آئے کہ یہ پانی سدراور کافور سے خالی ہے،ہاں اگراس میں ان کے کچھ ذرات باقی رہ گئے ہوں توکوئی حرج نہیں ہے ، بشرطیکہ  اس پر ان کامخلوط ہوناصادق نہ آئے،سدر میں سبز اور خشک پتوں  کے درمیان  کوئی فرق نہیں ہے ،جوبھی ملے مخلوط کی جاسکتی ہے۔

مسئلہ80:پانی  کاملنا مشکل ہو یا پانی موجود ہو لیکن میت کے جسم پرڈالنے سے اس کے گوشت کے خراب ہونے کاخطرہ ہو ،اگرچہ کم ہی مقدار میں ہو تو احتیاط واجب کی بناپر اسےتین دفعہ تیمم کروایاجائے،ہرایک میں مافی الذمہ یارجائے مطلوبیت کی نیت کی جائے،پہلے تیمم میں پہلے غسل کی بدلیت کی نیت کرئےاور دوسرے تیمم میں دوسرے غسل کی بدلیت کی نیت کرئےاور تیسرے تیمم میں تیسرے غسل کی بدلیت کی نیت کرئے،احتیاط واجب ہےکہ   ہوسکےتوتیمم میت کے ہاتھ سےہی  کروایاجائے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو زندہ اپنے ہاتھ سے تیمم کروائے۔

مسئلہ81:تیمم کی طرف منتقل ہونے میں انتظار کرنا شرط ہے ،جب احتمال ہوکہ غسل پر قدرت حاصل ہوجائے گی،جب پانی کے حاصل ہونے سے مایوس ہوجائیں تو تیمم کرواناجائز ہوجائے گا،لیکن اگر دفن سے پہلے پانی پر قدرت حاصل ہوجائے تو غسل دیناواجب ہے۔

یہی حکم ہے جب پانی پر قدرت میت کوقبر میں رکھنے کے بعد حاصل ہوجائے،اور اگر میت کو دفن کرنے کے بعد پانی پر قدرت حاصل ہوجائے تو غسل دیناواجب نہیں ہے ،سدراور کافور کے متعذراور میسر نہ ہونے کایہی حکم ہے۔

مسئلہ82:جب میت کابدن  اسےغسل دیئے جانے کے بعد نجس ہوجائے،یا میت کاجسم اثنائے غسل میں خارجی نجاست کی وجہ سے یا اس کی اپنی نجاست کی وجہ سے نجس ہوجائےتو اسے پاک کرنا واجب ہے ،اگر چہ ایسا اسے قبر میں رکھنے کے بعد میں ہو،البتہ دفن کے بعد میں ایساہوتو اسے پاک کرناواجب نہیں ہے۔

مسئلہ83: جب میت سے پیشاب یامنی خارج ہو تواسے دوبارہ سے غسل دینا واجب نہیں ہے ،اگرچہ ایسا میت کوقبر میں رکھنے سےقبل ہو،البتہ اسےپاک کرنا لازمی امرہے ،جیساکہ ہم نے اسے سابقہ مسئلہ میں ذکر کیاہے ،اگر اثنائے غسل میں پیشاب وغیرہ نکلے تو احتیاط مستحب ہےکہ غسل دوبارہ کروایاجائےاور احوط ہےکہ اس غسل کو مکمل کیاجائےاور دوبارہ بھی غسل دیاجائے۔

 

شارك استفتاء

غسل میت

احتیاط واجب ہے کہ     میت کو غسل دینے سے پہلے اُس کے جسم سے  ،ہرقسم کی نجاست کودورکیا جائے ،اقوی ہےکہ ہر عضو میں شروع ہونے سے پہلے نجاست کادور کرنا کافی ہے،البتہ غسل سے نجاست کادور کرنا کافی نہیں ہے۔

مسئلہ73:میت کوتین غسل دیئےجائیں:

اول۔آب سدر(بیری)۔

دوم۔آب کافور۔

سوم۔آب خالص۔

ان میں سے ہرایک کے کرنے کاطریقہ وہی ہے جو غسل جنابت ترتیبی کا ہے ، غسل میں ضروری ہےکہ پہلے میت کی دائیں طرف دھوئی جائے اور پھر بائیں طرف دھوئی جائے اور غسل سے پہلے نیت کی جائے ،جیساکہ نیت کی بابت آپ وضومیں جان چکے ہیں۔

مسئلہ 74:اگر میت کاولی اسے خود غسل نہ دے تو جو اسے غسل دے اس کے لیے ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو میت کے ولی سے اذن لے،اس حیثت سے کہ اذن لینے میں  زیادہ  دیر نہ ہوجائے ،جس سے میت کا بدن خراب ہوجائے یا میت کی  نامناسب تذلیل  ہوجائے،بیوی کاولی اس کاشوہر ہوتاہے،پھر میراث کا طبقہ اول اور والدین و اولاد ہے ،پھر  میراث کا دوسرا  طبقہ جو اجداد اور بہن بھائی ہیں ،پھر میراث کا تیسراطبقہ جو چاچے اور ماموں ہیں،پھر آزاد شدہ کا آقا،پھر ضامن جریرہ،پھر حاکم شرع ولی ہے ،یہ حکم احتیاط واجب کی بناپر ہے۔

(ضامن جریرہ:ایسا عقد ہے جس کی وجہ سے عقد کی طرفین میں سے ایک دوسرے کی  ایسی جنایات کی ذمہ داری لیتاہے جن سے دیت دینی پڑتی ہے،اس شرط پرکہ وہ اس سے ارث پائے گا،لغت میں جریرہ گناہ اور جنایت کے معنی میں استعمال ہوا ہے)۔

مسئلہ75:جب ولی سے اذن لینا متعذر اور مشکل ہو ،مثلاً وہ موجود نہ ہو یا وہ اذن نہ دے رہاہو یا غسل دینے سے منع کررہاہو تو دوسروں پر میت کو غسل دیناواجب ہے اگرچہ بلااذن کے ہی کیوں نہ ہو۔

 

شارك استفتاء

احکام اموات

جان کنی کے احکام

مسئلہ72:احتیاط واجب ہےکہ مرنے والے کا منہ قبلہ کی طرف کیاجائے،اس طرح کہ اُسے پشت کے بل سلایا جائےاور اُس کے چہرے اور پیروں کے تلووں کو قبلہ کی طرف قراردیاجائے۔

بلکہ احوط ہےکہ اس شے    کاوجوب خود جان کنی والے شخص پر ہے،بشرطیکہ ایسا کرنا اس کے لیے ممکن ہو،اگر ولی کے علاؤہ کوئی دوسراشخص ان امور کو انجام دے تو ولی سے اذن لینا معتبر ہےاوریہ احتیاط مستحب  کی بناپرہے،جب تک کہ اذن حاصل کرنا فوریت کے منافی نہ ہو ،اور اگر فوریت کے منافی ہوتو اذن ساقط ہوجائے گا۔

 

المجموع: 9 | عرض: 1 - 9

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف