میت پر نماز
ہر مسلمان میت پر نماز میت پڑھناواجب کفائی ہے،وہ میت مردکی ہویاعورت کی ہو ،مؤمن کی ہو یا غیر مؤمن کی ہو ،عادل کی ہو یا فاسق کی ہو۔
چھ سال سے کم عمر کے مسلمان بچے پر نماز میت پڑھناواجب نہیں ہے ،البتہ چھ سال یااس سے زائد عمر کے مسلمان بچے پر نماز میت پڑھناواجب ہے،چھ سال سے کم عمر مسلمان بچے پرنماز میت پڑھنا مستحب ہے،جو زندہ پیداہواہو۔
مسئلہ90:میت کو غسل وکفن دینے کے بعد اس پر نماز میت پڑھی جائے،پس غسل وکفن سےپہلے نماز میت پڑھنا مجزی وکافی نہیں ہوتی ہے،اور اگر غسل وکفن متعذر ہو تو نماز میت ساقط نہیں ہوتی،جیساکہ نمازمیت دفن کے متعذر ہونے کی صورت میں بھی ساقط نہیں ہوتی ہے۔
مسئلہ91:میت پرنماز پڑھنے میں اولویت ،اسے حاصل ہے جو میت کی میراث پانے میں اولویت رکھتاہے،اگروہ خود نماز پڑھناچاہیے تو کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مزاحمت کرئے،وہ خود پڑھے یاکسی شخص کو معین کرئے،بلکہ احتیاط واجب ہےکہ نمازمیت کی صحت مطلق طور پرولی کے اذن پر موقوف ہے،بشرطیکہ اُس سے اذن حاصل کرنا ممکن ہو۔
مسئلہ92:نماز میت کے طریقہ میں احتیاط واجب یہ ہے :
اللہ اکبر کہے اور اَشْھَدُاَنْ لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاْشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ پڑھے۔
پھراللہ اکبر کہے اور اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ سَلِمْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ ارْحَمْ مُحَمَّداً وَ آلَ مُحَمَّدٍ کَاَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ وَ بَارَکْتَ وَ سَلَّمْتَ وَ تَرَحَمْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ آلَ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ پڑھے۔
پھراللہ اکبر کہےاور اَللَّھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ پڑھے۔
پھر اللہ اکبر کہے ،اگر میت مرد کی ہو تو اَللَّھُمَّ اِنَّ ھَذَا عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ وَ ابْنُ اَمَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَ اَنْتَ خَیْرُ مَنْزُوْلٍ بِہٖ اَللَّھُمَّ اِنَّالَاْنَعْلَمُ مِنْہُ اِلَّا خَیْراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنَّا ،اَللَّھُمَّ اِنْ کَانَ مُحْسِناً فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِہٖ وَ اِنْ کَانَ مُسِیْئاً وَ مُذْنِباً فَتَجَاوَزْ عَنْہُ وَ اغْفِرْہُ وَ اجْعَلْہُ عِنْدَکَ فِیْ اَعْلیٰ عِلِّیِیْنَ وَ اخْلُفْہُ فِیْ اَھْلِہٖ وَ احْشُرْہُ مَعَ النَّبِیِّ وَ عِتْرَتِہٖ الْمَعْصُوْمِیْنَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ پڑھے۔
اگر میت عورت کی ہو تو اَللَّھُمَّ اِنَّ ھَذِہٖ اَمْتُکَ وَ ابْنَۃُ عَبْدِکَ وَ ابْنَۃُ اَمَتِکَ نَزَلَتْ بِکَ وَ اَنْتَ خَیْرُ مَنْزُوْلٍ بِھَا اَللَّھُمَّ اِنَّالَاْنَعْلَمُ مِنْھَا اِلَّا خَیْراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِھَا مِنَّا ،اَللَّھُمَّ اِنْ کَانَتْ مُحْسِنَۃً فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِھَا وَ اِنْ کَانَتْ مُسِیْئَۃً وَ مُذْنِبۃً فَتَجَاوَزْ عَنْھَا وَ اغْفِرْھَا وَ اجْعَلْھَا عِنْدَکَ فِیْ اَعْلیٰ عِلِّیِیْنَ وَ اخْلُفْھَا فِیْ اَھْلِھَا وَ احْشُرْھَا مَعَ النَّبِیِّ وَ عِتْرَتِہٖ الْمَعْصُوْمِیْنَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ پڑھے۔
پھر اللہ اکبر کہہ کر نماز میت کو ختم کردے۔
اس نماز میں کسی سورہ کی قرائت ،رکوع،سجوداور سلام نہیں ہے۔
مسئلہ93:نماز میت میں چند امور واجب ہیں:
1۔ نیت۔
2۔میت کاسامنے موجود ہونا،پس میت کےلیے غائبانہ نماز نہیں ہے۔
3۔نمازی کامنہ قبلہ کی طرف ہو ۔
4۔میت کاسر نماز پڑھنےوالے کی دائیں طرف اوراس کے پیر بائیں طرف ہوں۔
5۔احتیاط مستحب کی بناپر میت چت لیٹا ہواہو۔
6۔میت نمازی اور قبلہ کے درمیان میں ہو۔
7۔نمازی میت کے بالمقابل کھڑا ہو،مگر یہ کہ وہ ماموم ہواور صف لمبی ہو جس سے میت اس کے سامنے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
8۔نمازی میت سے دور نہ ہو ،جس سے میت کے پاس کھڑا ہوناصادق نہ آئے ، مگر یہ کہ نمازمیت باجماعت ہو اور صفوں میں اتصال ہو۔
9۔نمازی اور میت کے درمیان پردہ یادیوار حائل نہ ہو،البتہ تابوت وغیرہ کےحائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
10۔نمازی کھڑا ہو ،اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والامیسر ہوتو بیٹھے ہوئے شخص سے نماز نہ پڑھائی جائے اوراگر کھڑے ہوکر نماز پڑھانے والاشخص میسر نہ ہوتو بیٹھ کرنماز میت پڑھائی جاسکتی ہے۔
11۔تکبیروں اور دعاؤں کے درمیان موالات ہو جسے عرف میں کہاجائے کہ دعائیں اور تکبیریں پے در پے انجام دی گئی ہیں۔
12۔نماز میت ،اسے غسل و حنوط و کفن دینے کے بعد اور دفن سے پہلے ادا کی جائے۔
13۔میت کی شرمگاہ چھپی ہوئی ہو۔
14۔احتیاط واجب کی بناپر نمازی کامکان مباح ہو۔
15۔ولی کااذن ہو،مگرجب میت نے وصیت کی ہو کہ فلاں معین شخص اس کی نماز جنازہ پڑھائے ،اب اگرولی اجازت بھی نہ دے توموصی بغیرولی کےاذن کے بھی نمازمیت پڑھاسکتاہے ۔