غسل دینے والے کے شرائط

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

غسل دینے والے کے شرائط

مسئلہ84:غسل دینے والے کی بابت واجب ہے کہ ذکوریت و انوثیت میں مماثل ہو،یعنی  میت مرد ہوتواسے مرد غسل دے،میت عورت کی ہو تواسے عورت غسل دے،پس مرد کاعورت کواورعورت کامرد کو غسل دیناجائز نہیں ہے،اس سے چند صورتیں مشتثاء ہیں:

صورت اول۔میت بچہ ہو ،جوچھ سال سے زائد کا نہ ہو۔

صورت دوم۔میت میاں و بیوی میں سے کوئی ایک  ہو،ان میں سے ہرایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں،

صورت سوم۔نسبی یارضاعی محرم ہو۔

مسئلہ85:جب میت کو عمداً یا غلطی سے بغیر غسل کے دفن کردیاجائےتو جائز ہے  بلکہ واجب ہے کہ نبش قبر کی جائے اور اسے غسل یا تیمم دیاجائے،بشرطیکہ اس سے میت کی توہین  لازم نہ آئے یا زندوں کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔

یہی حکم ہے جب اغسال میں سے کسی غسل سے کوئی فعل انجام نہ دیا گیاہو ، اگرچہ ایسا بھول کر ہواہو یا واضح ہوجائے کہ جو غسل دیاگیاہے باطل ہے یا اس میں سے کوئی فعل چھوٹ گیاہے جس کی وجہ سے غسل باطل ہوگیاہے۔

مسئلہ86:جب کوئی شخص حدث اکبر کی حالت میں مر جائےجیسے جنابت یاحیض تو اسےصرف  غسل میت ہی دیناواجب ہوگا۔