غسل میت
غسل میت
احتیاط واجب ہے کہ میت کو غسل دینے سے پہلے اُس کے جسم سے ،ہرقسم کی نجاست کودورکیا جائے ،اقوی ہےکہ ہر عضو میں شروع ہونے سے پہلے نجاست کادور کرنا کافی ہے،البتہ غسل سے نجاست کادور کرنا کافی نہیں ہے۔
مسئلہ73:میت کوتین غسل دیئےجائیں:
اول۔آب سدر(بیری)۔
دوم۔آب کافور۔
سوم۔آب خالص۔
ان میں سے ہرایک کے کرنے کاطریقہ وہی ہے جو غسل جنابت ترتیبی کا ہے ، غسل میں ضروری ہےکہ پہلے میت کی دائیں طرف دھوئی جائے اور پھر بائیں طرف دھوئی جائے اور غسل سے پہلے نیت کی جائے ،جیساکہ نیت کی بابت آپ وضومیں جان چکے ہیں۔
مسئلہ 74:اگر میت کاولی اسے خود غسل نہ دے تو جو اسے غسل دے اس کے لیے ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو میت کے ولی سے اذن لے،اس حیثت سے کہ اذن لینے میں زیادہ دیر نہ ہوجائے ،جس سے میت کا بدن خراب ہوجائے یا میت کی نامناسب تذلیل ہوجائے،بیوی کاولی اس کاشوہر ہوتاہے،پھر میراث کا طبقہ اول اور والدین و اولاد ہے ،پھر میراث کا دوسرا طبقہ جو اجداد اور بہن بھائی ہیں ،پھر میراث کا تیسراطبقہ جو چاچے اور ماموں ہیں،پھر آزاد شدہ کا آقا،پھر ضامن جریرہ،پھر حاکم شرع ولی ہے ،یہ حکم احتیاط واجب کی بناپر ہے۔
(ضامن جریرہ:ایسا عقد ہے جس کی وجہ سے عقد کی طرفین میں سے ایک دوسرے کی ایسی جنایات کی ذمہ داری لیتاہے جن سے دیت دینی پڑتی ہے،اس شرط پرکہ وہ اس سے ارث پائے گا،لغت میں جریرہ گناہ اور جنایت کے معنی میں استعمال ہوا ہے)۔
مسئلہ75:جب ولی سے اذن لینا متعذر اور مشکل ہو ،مثلاً وہ موجود نہ ہو یا وہ اذن نہ دے رہاہو یا غسل دینے سے منع کررہاہو تو دوسروں پر میت کو غسل دیناواجب ہے اگرچہ بلااذن کے ہی کیوں نہ ہو۔