دفن

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

 دفن

معاشرے اور سوسائٹی کے لوگوں پرمسلمان میت  اور جو مسلمان میت کے حکم میں ہو،کادفن کرناواجب ہے ۔

دفن یعنی اسے زمین میں گڑھا کھود کر چھپانا،اس حیثیت سے کہ اس کے جسم کو درندوں سے امان رہے اور لوگوں کو اس کی بو سے امان رہے،اسے کسی کمرے کےاندر یاتابوت کے اندر رکھ دیناکافی نہیں ہے ۔

مسئلہ94:میت کاقبر میں  دائیں طرف رو بقبلہ رکھنا واجب ہے،اتنی مقدار قبلہ کی طرف رخ ہو جتنی مقدار نماز میں واجب ہے۔

مسئلہ95:مسلمان کو  چند جگہ پر دفن کرناجائز نہیں ہے:

الف۔ جہاں دفن سے اس کی توہین لازم آتی ہو جیسے کوڑا ڈالنے کی جگہ اور گٹر۔

ب۔ غصبی مکان میں ۔

ت۔جوزمین  دفن کےعلاؤہ کسی اور مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو جیسے مدارس ،مساجد،امام بارگاہیں جوہمارے دور میں موجود ہیں،اورخانکاہیں جو  دفن کے علاؤہ دوسرے امور کے لیےوقف ہوں،اگرچہ اس کا ولی اذن دے۔

مسئلہ96:ایک میت کے اپنی قبر میں بوسیدہ ہوکر خاک ہوجانے سے قبل اس کی قبر میں کسی میت کودفن کرناجائزنہیں ہے،ہاں اگر کوئی قبر پھٹ گئی ہواوراس سے میت زائل ہوگیاہو تواقوی قول کی بناپر ،اس میں کسی میت کودفن کرنا جائز ہے ، بشرطیکہ قبر کی زمین کسی کی ملکیت نہ ہو۔

مسئلہ97:ظاہرہے،وہ شےجائزہے، جس پر ہمارے دور کے قبر بنانے والوں کی سیرت ہے یعنی  ایک جانب بڑے سرداب کی صورت میں لحد کھودتے ہیں،جو سطح زمین کے نیچے ہوتاہے،جس سے اس کی چھت زمین  کے ساتھ وصل ہوتی ہے یا وصل نہیں ہوتی ہے۔

مسئلہ98:میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ ہے ،مگرمشاہد مشرفہ اور مقامات محترمہ کی طرف منتقل کرسکتے ہیں،جب تک دفن نہ کیاگیا ہو،یہ مستحب ہے،خصوصاً نجف اشرف اور کربلا ۔

بعض روایات میں ہے کہ نجف اشرف کے خواص میں سے ہےکہ یہاں دفن ہونے والے سے قبرکاعذاب  اور منکر و نکیر کا حساب ساقط ہوجاتاہے۔

مسئلہ99:نبش قبر اور اس سے میت کو نکال کر مشاہد مشرفہ کی طرف منتقل کرکےدفن کرنا جائزنہیں ہے ،چہ جائیکہ کسی اور جگہ پر اسے دفن کیاجائے،یہاں تک کہ اگر یہ ولی کی اجازت سے ہو اور اس سے  میت کی توہین بھی نہ ہوتی ہو ،تب بھی جائز نہیں ہے۔

مگر تب جائز ہے جب اس کی مرنے والے نے وصیت کررکھی ہو،یا جب میت کاجسم زمین سے سیلاب یازلزلہ کی وجہ سے قبر سے ظاہر ہوجائےتواسے اسی قبر میں دوبارہ دفن کرناواجب نہیں ہے ،پس اسے دوسری جگہ منتقل کرناجائز ہے،بشرطیکہ اس سے میت کی  بزرگی کی بابت ،اس کی توہین لازم نہ آئے۔

مسئلہ100:  جب میت کا کچھ حصہ ملے جس میں سینہ ہو،تواسے غسل و حنوط و کفن دے کر نماز میت پڑھ کر دفن کردیاجائے۔

یہی حکم ہے اگر تنہا سینہ ملے ،جس پر صادق آئے کہ یہ میت کابدن ہے،لیکن اس کا سر و ہاتھ پیر کٹے ہوئےہیں،یامیت کاکچھ حصہ ملے جس پر سینہ صادق آئےیا جو موجود ہو وہ بغیرگوشت کے ہڈیوں کامجموعہ ہو ،بشرطیکہ اس میں سینے کی ہڈیاں ہو ں ،یہ حکم احتیاط واجب کی بناپرہے۔

سینے کے موجود ہونے کی حالت میں یا سینے کے کچھ حصے کے موجود ہونے کی حالت میں،کفن میں کفنی اور بڑی چادر پر اقتصار کیاجائے گا،اگر ایسی جگہ کاٹکڑا ملے جو شرمگاہ ہو توان دوکپڑوں کے ساتھ ایک لنگوٹ کااضافہ کریں ۔

مسئلہ101:اگر سینے کی ہڈی کے علاؤہ کوئی اور ہڈی ملے ،اورہڈی خالی ہویا گوشت پر مشتمل ہو تو اسے غسل دے کرایک کپڑے میں لپیٹ کر بغیر نماز کے دفن کر دیا جائے،اور اس میں حنوط کا حصہ ہو تو بنابراحتیاط کے حنوط کرناواجب ہے اور اگر اس میں ہڈی نہ ہو توواجب ہے، میت کے گوشت کو کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے ۔

مسئلہ102:ساقط شدہ بچہ،اگر چار ماہ کامل کاہو ،تواسے غسل،حنوط اور کفن دے کر دفن کردیاجائےاوراس پر نمازنہ پڑھی جائے۔

اور اگر بچہ چارماہ سے کم کاہو اور اس کی بابت عرف میں کہاجائےکہ اس پر گوشت و ہڈی موجود ہے ،تواحتیاط واجب کی بناپر اسے کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیاجائے،لیکن اگر اس میں روح پڑ چکی ہو ،تو اس صورت میں اقوی نہیں تواحوط ہے کہ اس پر چارماہ والے بچے کے حکم کو جاری کیاجائےگا۔

اور اگر سقط  خون کی صورت میں ہو اور عرف کہے کہ اس میں گوشت اور ہڈی نہیں ہے تو اس کے بارے میں کوئی شے واجب نہیں ہے۔