شروط غسل
شروط غسل
مسئلہ76:جو شخص غسل دے رہاہے ،اُس پر واجب ہے کہ سب سے پہلے غسل دینے کی نیت کرئےیعنی قربۃ ً الی اللہ تعالی کاقصد کرئے اور اس نیت میں اخلاص کو مدنظر رکھے،یعنی اس کام میں ریاکاری وغیرہ موجود نہ ہو اور جوافعال انجام دے رہاہے اُن کی طرف متوجہ بھی ہو ،اگر ایسی مجبوری ہوکہ غسل دینے کےلیے کوئی ایک بھی مسلمان مہیا نہ ہو تو جو مسلمان غسل کروا رہاہے وہی میت کوغسل دے۔
مسئلہ77:واجب ہے کہ غسل کاپانی پاک اور مباح ہو ،سدراور کافور مباح ہو ،بلکہ احوط ہےکہ جس جگہ پر غسل دیاجارہاہے وہ بھی مباح ہو۔
مسئلہ78:جب سدر اور کافور کاملنامشکل ہوتو اقوی ہے کہ تینوں غسل آب خالص سے دیئے جائیں،پہلے دوغسل میں، غسل سدراورکافور سے بدلیت کی نیت کرئے،احتیاط مستحب ہے کہ ان دوغسل کے ساتھ تیمم بھی دیاجائے،اس سے واضح ہوگیاکہ ان دو میں سے ایک کے تعذر اور مشکل ہونے کاحکم دیاگیاہے۔
مسئلہ79:سدر اور کافور میں معتبر ہے کہ اتنا زیادہ مقدار میں نہ ہو کہ جب پانی میں ڈالا جائے تو اس سے آب خالص کانام سلب ہوکر آب مضاف ہوجائے،اور اتنی کم مقدار میں بھی نہ ہوکہ اس پانی پر سدراورکافور کے مخلوط ہونے کانام صادق نہ آئے۔
آب خالص میں معتبر ہےکہ اس پر صادق آئے کہ یہ پانی سدراور کافور سے خالی ہے،ہاں اگراس میں ان کے کچھ ذرات باقی رہ گئے ہوں توکوئی حرج نہیں ہے ، بشرطیکہ اس پر ان کامخلوط ہوناصادق نہ آئے،سدر میں سبز اور خشک پتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ،جوبھی ملے مخلوط کی جاسکتی ہے۔
مسئلہ80:پانی کاملنا مشکل ہو یا پانی موجود ہو لیکن میت کے جسم پرڈالنے سے اس کے گوشت کے خراب ہونے کاخطرہ ہو ،اگرچہ کم ہی مقدار میں ہو تو احتیاط واجب کی بناپر اسےتین دفعہ تیمم کروایاجائے،ہرایک میں مافی الذمہ یارجائے مطلوبیت کی نیت کی جائے،پہلے تیمم میں پہلے غسل کی بدلیت کی نیت کرئےاور دوسرے تیمم میں دوسرے غسل کی بدلیت کی نیت کرئےاور تیسرے تیمم میں تیسرے غسل کی بدلیت کی نیت کرئے،احتیاط واجب ہےکہ ہوسکےتوتیمم میت کے ہاتھ سےہی کروایاجائے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو زندہ اپنے ہاتھ سے تیمم کروائے۔
مسئلہ81:تیمم کی طرف منتقل ہونے میں انتظار کرنا شرط ہے ،جب احتمال ہوکہ غسل پر قدرت حاصل ہوجائے گی،جب پانی کے حاصل ہونے سے مایوس ہوجائیں تو تیمم کرواناجائز ہوجائے گا،لیکن اگر دفن سے پہلے پانی پر قدرت حاصل ہوجائے تو غسل دیناواجب ہے۔
یہی حکم ہے جب پانی پر قدرت میت کوقبر میں رکھنے کے بعد حاصل ہوجائے،اور اگر میت کو دفن کرنے کے بعد پانی پر قدرت حاصل ہوجائے تو غسل دیناواجب نہیں ہے ،سدراور کافور کے متعذراور میسر نہ ہونے کایہی حکم ہے۔
مسئلہ82:جب میت کابدن اسےغسل دیئے جانے کے بعد نجس ہوجائے،یا میت کاجسم اثنائے غسل میں خارجی نجاست کی وجہ سے یا اس کی اپنی نجاست کی وجہ سے نجس ہوجائےتو اسے پاک کرنا واجب ہے ،اگر چہ ایسا اسے قبر میں رکھنے کے بعد میں ہو،البتہ دفن کے بعد میں ایساہوتو اسے پاک کرناواجب نہیں ہے۔
مسئلہ83: جب میت سے پیشاب یامنی خارج ہو تواسے دوبارہ سے غسل دینا واجب نہیں ہے ،اگرچہ ایسا میت کوقبر میں رکھنے سےقبل ہو،البتہ اسےپاک کرنا لازمی امرہے ،جیساکہ ہم نے اسے سابقہ مسئلہ میں ذکر کیاہے ،اگر اثنائے غسل میں پیشاب وغیرہ نکلے تو احتیاط مستحب ہےکہ غسل دوبارہ کروایاجائےاور احوط ہےکہ اس غسل کو مکمل کیاجائےاور دوبارہ بھی غسل دیاجائے۔