غسل مس میت

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

غسل مس میت

کسی انسان کے مرنے کے بعد اور غسل میت سے پہلے ،مس کرنے سےچھونے والے پر ، غسل مس میت  واجب ہوجاتاہے ،یعنی تینوں غسل مکمل ہوجانے سے قبل،میت مسلمان کی ہویاکافر کی ہو ،یہاں تک کے سقط شدہ میت  کایہی حکم ہےجس میں روح پڑگئی ہو ،اگرچہ بنابر احتیاط کے اس کے چارماہ مکمل نہ ہوئے ہوں۔

مسئلہ103:مس کرنے والے اور مس کئے جانے والے میں  ظاہراور باطن کو مس کرنے کےدرمیان کوئی فرق نہیں ہے،اس عضو میں زندگی حلول رکھتی ہو یااس میں زندگی حلول نہ رکھتی ہو

یہاں تک کہ مس شدہ عضو  کی جانب میں مطلق طور پر بال ،اور مس کرنے والے کی جانب میں جب وہ  عرفاً جلد کے تابع ہو،بلکہ بنابر احتیاط کےمطلق طور پر ،جب تک اس پر مس کاعنوان صادق آئے،اس میں عاقل ، مجنون ، صغیر ، کبیر ، مرد ،عورت،اختیاری مس،اضطراری مس کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

مسئلہ104:میت کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے ،مس کرنے سے غسل مس میت واجب  نہیں ہوتاہے،البتہ مس کرنےوالاعضو نجس ہوجاتاہے ،بشرطیکہ ان دونوں کے درمیان سرایت کرنےوالی رطوبت موجود ہو۔

مسئلہ105:مس میت حدث اکبر نہیں ہے،بلکہ یہ حکم کے اعتبارسے حدث اصغر کی مانند ہے،مگرنماز کے لیے غسل کرناضروری ہےاوراس غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں رہتی ہے،اگر چہ احتیاط مستحب ہےکہ غسل کے بعد نماز کے لیے وضو کرلیاجائے۔

پس یہ شخص غسل مس میت کرنے سے قبل مساجد میں داخل ہو سکتا ہے ،مساجد میں ٹھہر سکتاہے،سجدے والی سورتوں کوپڑھ سکتاہے،ہر وہ کام کر سکتا ہے جو حدث اصغر والا شخص کرسکتاہے ۔

اس پر ہروہ کام حرام ہے جو حدث اصغر والے پر حرام ہے جیسے قرآن مجید کی کتابت کا مس کرنا،ہروہ عمل جس میں طہارت شرط ہے  اسے بغیر غسل کے ادا کرنا مس میت والے کے لیےدرست نہیں ہے۔

مسئلہ106:میت سے جداشدہ ٹکڑے کو مس کرنے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے،بلکہ بنابراحتیاط کے زندہ انسان کےبدن سے جداشدہ  گوشت اور ہڈی کومس کرنے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے،اوراگر زندہ انسان کے بدن سے کوئی ایک شے جداہوئی ہواوراس میں گوشت اور ہڈی میں سے کوئی ایک شے نہ ہو تواسے مس کرنے سے کوئی غسل نہیں ہے،خواہ زندہ سے ہویامیت سے ہو۔

مسئلہ107:اس غسل کاوہی طریقہ ہے جودوسرے غسلوں کا ہے۔