اساسى | | رسالہ عمليہ | احکام تجارت
احکام تجارت

شارك استفتاء

 

عقد بیع

مسئلہ45:بیع کے صیغہ میں عربیت شرط نہیں ہے،بلکہ جس زبان میں چاہیں اسے انشاء اور جاری کرسکتے ہیں،بلکہ   ظاہر اس بیع کی صحت ہے اگر بغیر صیغہ کے لین اور دین کرلیں،اسے بیع معاطات کہتے ہیں ،اس پر صیغہ والی بیع کے تمام آثار مترتب ہوتے ہیں۔

نقداورادھار

مسئلہ46:اگر کسی جنس کو نقد فروخت کیا جائے تو سودااورمعاملہ طے پاجانے کے بعد خریداراور فروخت کرنے والا ایک دوسرے سے جنس اور رقم کامطالبہ کرسکتے ہیں ، اور اسے اپنے قبضہ میں لےسکتے ہیں،اورہرشے کے قبضے کاطریقہ اپنے حساب سے ہوتاہے پس زمین اور مکان کے قبضہ کا یہ طریقہ ہےکہ اسے خریدار کے اختیار میں دے دیاجائےتاکہ وہ اس میں تصرف کرسکے اورفرش ولباس وغیرہ کا قبضہ اس طرح دیاجاسکتاہے کہ چیز کو اس طرح خریدار کے اختیار میں دیاجائےکہ اگر وہ اسے اس جگہ  سے دوسری جگہ لے جاناچاہیے تو فروخت کرنے والا رکاوٹ نہ بنے،مہم یہ ہے کہ مالک کو اس کی ملک میں تصرف کی قدرت دینا۔

مسئلہ47:ادھار کے معاملہ میں معتبرہےکہ مدت ٹھیک ٹھیک معلوم ہو ،پس اگر کوئی شخص مال کو اس طرح فروخت کرئےکہ وہ اس کی قیمت فصل اٹھانے پر لے گاتوچونکہ  اس کی مدت معین نہیں ہے ،اس کا معاملہ صحیح نہیں ہوگا۔

مسئلہ48:اگرکوئی شخص کسی جنس کو ادھار فروخت کرئے توجومدت طے ہوئی ہے اس کے گزرنے سے قبل وہ خریدار سے اس کے عو ض کامطالبہ نہیں کرسکتا،اگر خریدار  مرجائے اور اس کا اپنا کوئی مال ہوتو فروخت کرنےوالا طے شدہ مدت گزرنے  سے پہلے ہی جورقم لینی ہو ،اس کا مطالبہ مرنے والےکے ورثاءسے کر سکتا ہے۔

مسئلہ49:اگرکوئی شخص کوئی جنس ادھار فروخت کرئے توجومدت طے کی گئی ہو ، اُس  کےگزرنے کے بعد خریدار سےاس کی قیمت  کامطالبہ کرناجائز ہے،لیکن اگر خریدار قیمت  ادا نہ کرسکتاہوتو فروخت کرنےوالے  کو اختیار حاصل ہےکہ  اسے مہلت دے یامعاملہ فسخ کردے اور اگر فروخت کردہ جنس موجود پڑی ہوئی ہو تو اسے واپس لےلے،اور اگر فروخت کردہ جنس موجودنہ ہو تو  خریدار اس جنس کا بدل لےلےاور اس کابدل اس کی مثل ہو گا،اگر جنس مثلی ہو اور قیمت ہوگااگر جنس قیمتی ہو۔

مسئلہ50:کوئی مانع نہیں ہے کہ فروخت کرنے والا اپنی جنس کے دوریٹ بتائے،جن میں سے ایک نقدی بیع کاہو اور دوسراادھارکا،جونقدی ریٹ سے زیادہ ہوجیسے کہے جو جنس میں تجھے دے رہاہوں ،اس کی  اس قیمت سے جس پر میں نقد فروخت کرتا ہوں ، ایک پیسہ فی روپیہ زیادہ لوں گا  اور خریدار اس شرط کوقبول کرلے ۔

اورجب امر مردد ہو اور دومیں سے ایک پر  فیصلہ نہ کریں تو بیع باطل ہوگی،اور بیع تب  صحیح ہوجائے گی جب دونوں بعد میں تعیین کےذریعہ سے راضی ہوجائیں یا طرفین  کے نزدیک دومیں سے ایک کی تعیین پر قرینہ پایاجائے جو معلوم ہو۔

 

مسئلہ51:جب کوئی شخص کسی شے کو ادھار فروخت کرئے اورایک مدت گزرنے کے بعد دونوں قیمت کی مقدارکے کم کرنےپرراضی ہوجائیں،اور پیسے نقد لے لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

جنس اوراس کے عوض  کے شرائط:

مسئلہ37:فروخت کی جانے والی جنس اوراس کے بدلے میں دی جانے والی چیزکی پانچ  شرائط ہیں:

1۔دونوں کی مقدار معلوم ہو،جو وزن یا پیمائش یاشماریا مساحت سے فروخت کیا جاتا ہو۔

2۔مال قبض کرنے کی قدرت رکھتے ہوں اگر مال قبض کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں توبیع باطل ہوجاتی ہے،مگریہ کہ اُس کےساتھ ایسی شے کو ملایاجائے جس سے مال لینے والے کے سپرد کیا جاسکتاہو،جس کی طرف عوض منتقل کیاجارہا ہے اُس کا اس پر کنٹرول رکھنے کی قدرت کاہوناہی کافی ہے،جیسے کوئی شخص کھوئی ہوئی گاڑی فروخت کرئےاور مشتری اسے پکڑنے کی قدرت رکھتاہوتو یہ بیع صحیح ہوگی۔

3۔جنس اور اس  کی خصوصیات کی معرفت رکھتے ہوں کیونکہ جنس جنس کی قیمت ہوتی ہے ،ایک شے اعلی قسم کی ہوتو اس کی قیمت اور ہے اور کمتر قسم کی ہوتواس کی قیمت اور ہوجاتی ہے،مقصود اغراض سے بھی قیمت مختلف ہوجاتی ہے۔

4۔اُس شے کے ساتھ کسی دوسرے کے حق کاتعلق نہ ہو جو تقاضا کرئےکہ اس کا مال اس کی ملکیت میں باقی رہے،یہاں کلیہ قاعدہ یہ ہےکہ مال کے غیرکی طرف منتقل ہونے سے مالک کاحق فوت ہوجائے گا،جودرست نہیں ہے،جیسے رہن کاحق ،پس رہن رکھی ہوئی شے کی بیع درست نہیں ہے مگر یہ کہ جس کے پاس رہن رکھی گئی ہے وہ موافقت کرئے یا رہن فک کردی جائے۔

  جس شے کو بیچا جارہاہے وہ عین مال ہو اگرچہ اس کے ذمہ میں ہو ،پس منافع کافروخت کرنا درست نہیں ہے ،پس اگر کوئی گھر کی سال بھر کی منفعت کوفروخت کرئے توصحیح نہیں ہوگا،اگرچہ اس کے امکان کاقول دیاجاسکتاہے،ہاں منفعت کو ثمن اورقیمت قراردینے کاکوئی حرج نہیں ہے،ان امور میں تفاصیل ہیں جواللہ تعالی کے اذن سے آنے والے مسائل میں بیان کی جائیں گی۔

 مسئلہ38:جوشے ایک شہر میں ناپ یا تول سے بیچی جاتی ہواسے اس شہر میں ناپ یاتول سے ہی فروخت کی جائے،البتہ اسے اس شہر میں مشاہدہ سے فروخت جا سکتا ہے جس شہر میں وہ شے مشاہدہ سے بکتی ہو۔

مسئلہ39:جوشے تول کر فروخت کی جاتی ہے،اسے پیمانےسے ناپ کرفروخت کرنا جائز ہے ،جب پیمانہ وزن کے لیے طریق  ہو،یعنی کہاجائےکہ یہ ٹوپا اتنےکلوگرام گندم  کاہے تو جتنے ٹوپے اتنے کلوگرام شمار کیے جائیں گے اور ایسا کرناجائز ہے۔

مسئلہ40:جب ان شرائط میں سے کسی شرط کے مفقود ہوجانے سے معاملہ باطل ہوجائےاور بائع ومشتری ایک دوسرے کے مال میں تصرف کرنے پر راضی ہو جائیں تو ان دونوں کےلیے اس مال میں تصرف کرناجائز ہے جواُن کی طرف منتقل ہواہے۔

مسئلہ41:وقف شدہ مال کی بیع جائز نہیں ہے مگر جب اسے فروخت کرنے کاشرعی جواز موجود ہو،جیسے وقف خراب ہوجائےاور وقف قابل استفادہ نہ رہے،یااس کا فائدہ بہت کم رہ جائے،جو نہ ہونے کے برابر ہو،جیسے مسجد پر چٹائی  کو وقف کیا گیا ہو ، اوروہ گھِس جائے ،پھٹ جائےاور اس سے معتد بہ فائدہ حاصل نہ کیاجاسکتاہو تومتولی اور جو متولی کے حکم میں ہے،اسے فروخت کرسکتاہے۔

اس کی مثل ہے جب وقف پر ایسی شے عارض ہوجائے ،جسے رکھنےسے وہ زیادہ خراب  ہوسکتی ہو ،پھر معتدبہ  استفادہ کے لیے بھی نہ رہ سکے تواسے متولی فروخت کر سکتا ہے،لیکن ضروری ہے کہ اس صورت میں اس کے فروخت  کرنےمیں  دیر کی جائے،اتنی کہ جس وقت تک اس سے استفادہ کیا جاسکے۔

ان تمام صورتوں میں احوط ہے،وقف کی قیمت سے ملک خریدکی جائےاور اسے بھی پہلی وقف کے طریقہ پر وقف کردیاجائے،بلکہ احوط ہےکہ جدید وقف پر ،جہاں تک ممکن ہو وقف اول کا عنوان صادق آئے۔

مسئلہ42:اگر وقف کرنے والوں کے درمیان اختلاف پیداہوجائے،جس سےوقف کواپنے حال پر باقی رکھنے سے   مال یا جان کے تلف ہوجانے کاگمان ہو،تو اس کی بیع جائز ہے اور اسے ایسے مورد میں صرف کیاجائے جو وقف کرنے والے کے مقصود کے زیادہ قریب ہو۔

مسئلہ43:اگروقف کرنےوالا شرط لگائےکہ جب مصلحت اسے فروخت کرنے کاتقاضا کرئے تواسے فروخت کردینا،جیسے اس سے منفعت کم رہ جائے یا ظالم کودور کرناہو تو اس کو فروخت کردیناجائز ہے۔

مسئلہ44:عین مستاجرہ کی بیع مستاجر اور غیر مستاجر سے کرناجائزہے ،جب  بیع غیر مستاجر کے لیےہو تو مشتری کو حق حاصل نہیں ہےکہ وہ مستاجر سے عین  واپس لے ، لیکن اگر وہ صورت حال سے آگاہ نہ ہوتواس کےلیے خیار ثابت ہوگااور یہی حال ہے اگر اسے علم ہوکہ یہ شے اجارہ پردی ہوئی ہے،لیکن اس کاخیال ہوکہ اس کی مدت کم رہ گئی ہے ،اور اس کاخلاف ظاہر ہوجائے ،یعنی اب معلوم ہوکہ اس کی مدت کم نہیں رہتی ہے۔

 

شارك استفتاء

مسئلہ30:بائع اور مشتری کے شرائط:

چھ شرائط ہیں :

1۔بلوغ۔

2۔عقل۔

3۔رشد۔

4۔قصد۔

5۔اختیار۔

6۔عقد کی ملکیت،پس بچے ،مجنون ،بیوقوف ،مزاحی ،مکرَہ (مجبور)،فضولی(کسی کی ملکیت پر عقد کرنے والے)کامعاملہ کرنا صحیح نہیں ہے،ان کی تفصیل آیندہ مسائل میں بیان کی جائے گی۔

مسئلہ31:نابالغ  کےلیےاپنے مال میں معاملہ کرنے کی بابت مستقل ہوناجائز نہیں ہے،اگرچہ اسے ولی اذن دے،بلکہ امور بسیطہ کی بابت نابالغ معاملہ کرسکتاہے،جیسے بعض گھریلواحتیاجات  اور ضروریات ،جن کی بابت لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ایسے کام بچوں سے کرواتے ہیں۔

ہاں! اگرممیز بچہ کسی دوسرے کے مال میں مالک کی اجازت سے معاملہ کرئےتو کوئی مانع نہیں ہے،اوراسے ولی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے،اسی طرح بچہ پیسے یا مبیع مال،بائع یامشتری کی طرف پہنچاسکتاہے۔

مسئلہ32:جب کوئی شخص نابالغ بچے سے اس کے مال سے کوئی شے خرید کرئے (بغیر اُس کے جس کا ہم نے استثاء کیاہے)تو خریدکرنےوالے پرواجب ہےکہ وہ  مال  اُس بچے کے ولی  کوواپس کردے،اور اس مال کا بچے کوواپس کرناجائز نہیں ہے ، اور جب کوئی  نابالغ سے کسی دوسرے کے مال کو مالک کی اجازت کے بغیرخرید کرئے تو واجب ہے کہ  مال مالک کوواپس کیاجائےیامالک کو راضی کیاجائےاور اگر مالک کاپتہ نہ ہو تواس کی طرف سے مال صدقہ کردیاجائے،احتیاط واجب ہےکہ ایساحاکم شرعی کی اجازت سے کیاجائے۔

مسئلہ33:اگر دومعاملہ کرنے والوں میں سے ایک کو معاملہ کرنے پر مجبور کیا گیا ہو ، پھر وہ راضی ہوجائےتویہ معاملہ صحیح ہوجائے گا۔

مسئلہ34:غیرکےمال کی بیع فضولی صحیح نہیں ہے یعنی مالک کی اجازت اوراذن کے بغیر کی جانے والی بیع فضولی ہوتی ہے،اور اگر بعد میں مالک اجازت دے دےتو بیع صحیح ہوجاتی ہے۔

مسئلہ35:بچے کے باپ اور داداکےلیے جائز ہےکہ   اپنے نابالغ بچے اور بالغ مجنون یابیوقوف  کے مال کو فروخت کرئے یااُن کے مال کےذریعہ خریدکرئے،اسی طرح یہ بچے کے باپ ،داداکےوصی کے لیے جائز ہے،لیکن سب پرلازم ہےکہ مولی علیہم کی مصلحت کی رعایت کی جائے،اوراس میں  عدم مفسدہ کافی نہیں ہے۔

اور اگر یہ سب لوگ مفقود ہوں توعادل مجتہد اوراس کے وکیل  کی طرف رجوع کیا جائے ،اورعادل مؤمن کے لیے عادل مجتہد یااس کے وکیل تک دسترس نہ ہونے کی صورت میں جائز ہےکہ ان لوگوں کے اموال کواور غائب شخص کے مال کو فروخت کردیں،یاان کے اموال سے کسی شےکو خرید کرلیں،جب اس کام میں اُن کے لیے مصلحت ہواورمصلحت میں سےہے جب  اس کام کے ترک کرنے میں ،اُن کے لیے مفسدہ ہو۔ 

مسئلہ36:جب غصبی مال کو فروخت کیاجائے،پھر مالک فروخت کی اجازت دے دے تو وہ بیع صحیح ہوگی،مال اور اس کا منافع معاملہ کے وقت سے ہی مشتری کےلیے ہوگا، عوض  اوراس کامنافع اصلی مالک  کےلیے ہوگا،اس میں فرق نہیں ہےکہ غصب  کرنے والابیع اپنے لیے کرئےیابیع مالک کےلیےکرئے۔

 

شارك استفتاء

درج ذیل علامات کے ذریعہ سے گوشت کا تذکیہ شدہ ہوناثابت ہوتاہے:

1۔مسلمان کے ہاتھ سے لینا۔

جوایسی صورت کے ساتھ ملاہواہو جو تقاضا کرئے کہ اس میں ایسا تصرف کیا جا سکتا ہے جو تذکیہ کے مناسب ہے،جیسے وہ مسلمان گوشت کو کھانے کےلیے پیش کرئے اور جلد کو پہننے اور بچھانے کےلیے آمادہ وتیار کرئے۔

2۔مسلمانوں کے بازار سے لینا۔

خواہ مسلمان کے ہاتھ سے لے یا مجہول الحال شخص کے ہاتھ سے لے۔

   مسلمان شہر میں بنایاگیاہو۔

جیسے ڈبہ میں بند گوشت ،اور جلد کی بنی ہوئی مصنوعات ،جیسے جوتے وغیرہ۔

مسئلہ10:جوشے  غیراسلامی ممالک سے درآمد ہوتی ہےاور جوچیزیں کافر کے ہاتھ سے لی جاتی ہیں،مانند گوشت،چربی ،جلد ،ان کی بیع جائزہے ،جب احتمال ہوکہ اسے تذکیہ شدہ حیوان سے لیاگیاہے اور مشتری کو اس کی صورت حال سے آگاہ کیا جائے ( جیسا کہ پہلے گزر چکاہے)۔

لیکن اسے کھانے میں استعمال نہیں کیاجاسکتاہے،جب تک کہ اس کا تذکیہ شدہ ہوناثابت نہ ہو ۔

   جس کافر کے ہاتھ میں ہے وہ خبر دے کہ یہ شرعی طریقہ سے ذبح شدہ حیوان کا گوشت  ہے تو اُس کی اس خبر سے  اُس گوشت کوکھانے میں استعمال نہیں کیاجاسکتا۔

یہی حال اُس گوشت کاہے جسے مسلمان کے ہاتھ سے لیاجائےاور معلوم ہوکہ اس مسلمان نے اسے کافر کے ہاتھ سے لیاہے یعنی وہ اس کے تذکیہ کااعلان نہ کرئے تواس کااستعمال کرناجائز نہیں ہوگا۔

مسئلہ11:غصبی مال کی بیع باطل ہے۔

اس صورت میں بائع پر واجب ہے کہ جو پیسے مشتری سے لیے ہیں،انہیں واپس کردے۔

مسئلہ12: اگر مشتری کا بائع کو پیسے دینے کاارادہ نہ ہو،یااسے پیسے نہ دینے  کا قصد کرئے تواس سے بیع باطل نہیں ہوگی ،جب اُس سے اس کا جدی اور سنجیدہ ارادہ متحقق ہوجائے تو اس کے لیے خرید کے بعد پیسے دینالازم ہوگا،اور یہی حکم  ہے جب اس کا قصد  ہوکہ اس کی قیمت حرام کی کمائی سے دے گا۔

مسئلہ13:حرام آلات لہو کی بیع حرام ہے۔

جیسے موسیقی کے بعض آلات،احتیاط لازم کی بناء پر بچوں کے کھیلنے کے لیے بنائے گئے زبور(سارنگی)کی بیع سے اجتناب کیا جائے،وہ آلات جو حرام میں استعمال ہوتے ہیں اور حلال میں بھی استعمال ہوتے ہیں ،جیسے ریڈیو ،ٹیپ ریکاڈر،ویڈیو ،ٹی وی ، حلال و حرام کے درمیان استعمال ہونے والے  مشترک  سامان کی خریدوفروخت کا کوئی حرج نہیں ہے،جس طرح انہیں گھر میں رکھنے اور حلال کاموں میں استعمال کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

ہاں!

اس کا ایسے شخص کےلیے گھر میں رکھنا جائز نہیں ہے ،جس کے بہکنے کی بابت یا جس کے اہل خانہ کی بابت  گناہ میں پڑنے سے امن نہ ہو۔

وہ اشیاء جن کی منفعت حرام میں منحصر ہو،جیسے بعض تصویریں اورسی ڈیز،ان کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے۔    

مسئلہ14:شراب بنانےکےقصد سے انگور اور کھجور کی خریدوفروخت کرناحرام ہے۔

اور اگر شراب بنانے کاارادہ نہ ہو تو ان کی خرید وفروخت جائز ہے ،اگرچہ بائع احتمال  رکھتا ہوکہ مشتری انہیں شراب میں استعمال کرئےگا۔ 

مسئلہ15:ذی روح کا مجسمہ  بنانا حرام ہے،خواہ انسان کا ہو یا غیر انسان کاہو،جیسے معمول کے مطابق بنائی جانے والی تماثیل جو پتھر ،موم بتی اور آہنی چیزوں سے بنائی جاتی ہیں،اگر اس کے  بنانے سے خالق بننے کاقصد  ہو یا اسے عبادت کےلیے بنایا جائے (بت وغیرہ)۔

احوط یہ ہے کہ بہر صورت ذی روح کا مجسمہ بنانا حرام ہے،مجسمہ کے علاؤہ فوٹو بنانے کاکوئی حرج نہیں ہے،اسی طرح  مجسمہ والی فوٹو کے گھر میں محفوظ کرکے رکھنے ،ان کی خریدوفروخت کرنے کاکوئی حرج نہیں ہے،اگرچہ یہ کام مکروہ ہے۔  

مسئلہ16:جو شے جوئے یاچوری  یا باطل معاملہ سے حاصل کی گئی ہو، اُس کا خرید کرنا جائز نہیں ہے ،اگرمشتری  ایسی شے کوخرید کر لے تواس پر واجب ہے کہ اسے مالک کے حوالے کردے۔

مسئلہ17:فائدہ اور انعام لینے میں کامیابی کے قصد سے ،لاٹری ٹکٹ کا خریدوفروخت کرنا جائز نہیں ہے

اگرپرچی خرید کرتے وقت اور مال صرف کرتے وقت شرعی کام پر اعانت کرنے کاقصد ہوتو اسے خرید کرنےکاکوئی حرج نہیں ہے جیسے مدرسہ بنانا یا پل   بنانا یااس کی مثل کسی اور کام کا کرنا۔

دونوں صورتوں کے پیش نظر اُس شخص کو دیاہوامال جس کے نام کاقرعہ نکلے (جب اس کی متصدی غیراہلی شرکت ہو)یہ مال مجہول المالک شمار کیاجائے گااور اس کے لیے حاکم شرعی کی طرف رجوع کرناپڑے گا،تاکہ یہ کام اصلاح سے انجام پا جائے ، اور اگراس کی متصدی اہلی شرکت ہو تو اس دیئے ہوئے مال میں تصرف کرنے کا کوئی حرج نہیں ہےمگر جب معلوم ہوکہ اس سلسلہ میں دیاہوامال ،مال حرام ہے۔

مسئلہ18:مال میں ملاوٹ  کرنابہر صورت حرام ہے ،معاملہ میں ملاوٹ سے معاملہ فاسد ہوجاتاہے،جب ملاوٹ اس طرح کی ہوکہ شے کو اس کی جنس کے مخالف ظاہر کیاجائے،جیسے کوئی شخص مال کو  سونے کی خرید پر خرچ کرئے،اور بائع اسےایسی شے دے جو سونے کے مشابہے ہو ۔

گاہے معاملہ فاسد نہیں ہوتا،جب ملاوٹ اس طرح کی ہو کہ شے میں اس  کی جنس کے علاؤہ کسی اور جنس کو مخلوط کیا جائے،جیسے گھی میں چربی کا مخلوط کرنا،اس صورت میں بیع شخصی ہو یعنی  بیع کو موجودشے کی ذات پرواقع کیاگیاہو،جیسے کہے:میں نے آپ پر یہ کلوگرام گھی فروخت کیا،تواس میں موجود چربی کی نسبت معاملہ باطل ہوگا،اور بائع نے اس کی جو رقم وصول کی ہے وہ بائع کی ملک میں منتقل نہیں ہوگی،مشتری کو بیع کے فسخ کرنے کااختیار ہوگا۔

اگر بیع کلی ہو ،جیسے اس  سامنے پڑےکلو گرام گھی کوفروخت کرئے ،اور اسے مخلوط گھی دے تو مشتری کو اختیارحاصل ہےکہ وہ گھی واپس کرکے بائع سے خالص گھی کامطالبہ کرئے۔  

مسئلہ19:سود کی دوقسمیں ہیں:

اول۔معاوضی سود،یہ ناپ،تول کے ساتھ مخصوص ہے۔

دوم۔قرضی سود،یہ ہرقسم کے قرض میں جاری ہوتاہے ،جب شرط لگائی گئی ہو کہ اسے زیادہ واپس لوٹایا جائے گا۔

مسئلہ20:ناپ تول والی اشیاء کی زیادہ واپس لینے کی نیت سے خریدوفروخت حرام ہے ، جیسے ایک ٹن گندم دو ٹن گندم کے مقابلے میں  فروخت کرئے ،یہ حکم عام ہے اور شامل ہے ہر اُس شے کو جس میں سے ایک صحیح اور دوسری عیبدار ہویا ایک عمدہ اور دوسری کمترہویا دونوں کی قیمت مختلف ہو ،اگر جوہری سونا دےاور غیرجوہری زیادہ سوناواپس لےتو یہ سود ہوگااور حرام ہوگا۔

مسئلہ21:زیادت میں معتبر نہیں ہے کہ زائد عوض ومعوض کی جنس سے ہو ،پس جب ایک ٹن گندم ایک ٹن گندم اورایک درہم کے مقابلے میں فروخت کرئے تویہ سود اور حرام ہوگا۔

بلکہ اگر زائد کاتعلق کام کاج کے ساتھ ہو ،جیسے بائع اور مشتری میں سے کوئی ایک دوسرے پر شرط لگائےکہ وہ اس کے لیے کام بھی کرئے گا تو یہ سوداورحرام ہوگا،اگر زیادت حکمی ہو تویہی حکم  جاری ہوگا ،جیسے ایک ٹن گندم نقدی ، ایک ٹن ادھار کے بدلےمیں فروخت کرئے۔

مسئلہ22:سود سے خلاصی پانے کےلیے،جب کوئی شخص چاہے کہ ناپ یاتول کی مقدار کا اُس سے زائد ناپ یاتول سےمبادلہ کرئے،جیسے چاہےکہ دوکلوگندم کے فروخت کرئےجو ایسی قسم کی ہو ،جومرغوب نہ ہو ،اور اس کے مقابلےمیں عمدہ  اور مرغوب گندم لے۔

تواولاً معاملہ کو دو طرح سے جاری کرئے،پس دو کلو ایک مبلغ میں فروخت کرئے پھر اسی مبلغ سے دوسرا کلو خریدکرئے ،جس سے مطلوب حاصل ہوجائے گا۔

دوسرایہ کہ    اقل کی طرف کےساتھ کسی شے کی زیادت ،جیسےمذکورہ دوکلو کاایک کلوکےبرابر فروخت کرناجس کے ساتھ رومال یا قلم یا کتاب وغیرہ ہو ۔

یا زیادت طرفین میں ہو اور زیادت متغایر ہو۔

مسئلہ23:ایسی شے کی بیع  جائز ہےجسے طول یا پیمائش یا شمار کے ذریعہ بیچا جاتا ہے ، جیسےکپڑے،کتب اور اخروٹ کی زیادہ کے ساتھ بیع،جیسے دس اخروٹ پندرہ کے برابر  فروخت کیےجائیں ،یہ حکم مطلق ہے نقد ہویا ادھار ہو اور جنس کے اختلاف کے ساتھ ہو،اور اگرجنس کےساتھ اتحادہوتوبہتر ہےکہ ادھار کی صورت میں اس بیع سے  اجتناب کیا جائے ،جیسے کتاب کاسیٹ نقداً اُسی کتاب  اور طبع کےمعین مدت کے بعد ، دو سیٹ کے برابر فروخت کیا جائے۔   

مسئلہ24:اوراق نقدی جو ناپ،تول کےساتھ تعلق نہ رکھتے ہوں  ،اور اُن میں معاوضی سودبھی جاری نہ ہوتاہو،اُن کی ایک دوسرے کےمقابلے میں بیع جائز ہے

بشرطیکہ جنس  کا نقد اور ادھار کے لحاظ سے اختلاف ہو۔

لیکن ہم نے کرنسی کی اس کے غیر کے ساتھ ،ایک مدت تک ،کی بیع میں حد بندی کی ہے کہ نقدی اور مؤجل قیمت میں ماہانہ تین فیصد سے زیادہ فرق نہ پڑے ،جب  ایک ورقہ کاریٹ سو ڈالر بمقابلہ نقد میں ایک لاکھ عراقی دینار ہو ،تواس کی  ایک ماہ بعد مؤجل  بیع کا ریٹ،103ہزار دینار سے زیادہ نہ ہو،ہم نے ان معاملات کی تفصیل خاص استفتاء بعنوان احکام بیع الدولار بالآجل میں تشریح کے ساتھ بیان کردی ہے ، عراقی دینار کی  مثل کی مثل کے ساتھ بیع  ،ذمہ میں زیادت کےساتھ ،جائز نہیں ہے۔

اوراق کی تنزیل نقدی ہوتواس کی بیع کاکوئی حرج نہیں ہے یعنی اس میں مذکور مبلغ ،جب کوئی شخص اس کا واقعی طور پر مقروض ہو تواسے حریف مصارف وغیرہ  میں استعمال کیا جاسکتاہے،یعنی قرض دینے والااسے کم قیمت میں فروخت کردے،جس سے قیمت نقد ہوجائے گی۔ 

مسئلہ25:یہ دیکھنےکےلیےکہ یہ مبیع ناپ سے تعلق رکھتی ہےیا تول سے تعلق رکھتی ہے،اس میں اس ملک میں جاری عرف کو معتبر قراردیاگیاہے۔

پس اگر ایک شے ایک ملک میں ناپ یا تول کےساتھ فروخت ہوتی ہو تو اسےاس ملک میں نقداً زیادہ قیمت میں فروخت کیا جاسکتاہے،جہاں اسے گن کر فروخت کیا جاتاہے۔

ہاں! اگر مبیع اکثر ممالک میں ناپ یا تول سےفروخت ہوتی ہو ،تو اسی حکم کو  دوسرے سب ملکوں میں عمومیت دینا اولی و بہتر ہے ،اور جس مبیع کا حال ملکوں میں مختلف ہو اور اُن میں کوئی حالت غلبہ نہ رکھتی ہو،اس کاحکم ہر ملک میں ،اس کے اپنے حساب سے ہوگا پس اس کی بیع زیادت کے ساتھ ایسے ملک میں جائز نہیں ہے ،جس میں اسے ناپ و تول کے ساتھ بیچا جاتاہے،نقداً بیع جائز ہے جہاں اسے گن کر فروخت کیا جاتاہے،لیکن اگر کسی شے کاحال ایک ہی ملک میں مختلف ہو تو احتیاط واجب ہے کہ اسے اس ملک میں زیادہ قیمت میں فروخت نہ کیاجائے۔

مسئلہ26:اگر عوض اور معوض کی ایک جنس نہ ہو تو زیادہ  قیمت کا لیناجائزہے،جیسے ایک ٹن چاول کو دوٹن گندم کے عوض بیچاجائے۔

مسئلہ27:احتیاط ہےکہ ایک اصل سے لی گئی ،دو چیزوں کے درمیان قیمتی بڑھاؤ جائزنہیں ہے ،جیسے ایک کلو پنیرکو دوکلو دودھ کےبرابر فروخت کرناجائز نہیں ہے ، البتہ تروتازہ پھل کی باسی پھلوں کےبرابر فروخت جائز نہیں ہے،اس کی بابت بعض گزشتہ مسائل میں ذکر کردیاہے۔

مسئلہ28:سود کے باب میں گندم اور جو ایک جنس سے شمار ہوتےہیں،پس ان میں سے ایک ٹن کو دوٹن کے برابر فروخت کرناجائز نہیں ہے،اسی طرح ایک ٹن جو کی نقداً بیع ،ایک ٹن ادھار گندم کے برابر میں جائز نہیں ہے۔

مسئلہ29:سودی معاملہ مطلق  حرام ہے،مسلمان کے ساتھ کیا جائے یا غیرمسلم کے ساتھ کیاجائے،مشہور علماء نے اس سے چند موارد کااستثناء کیاہے:

1۔جومعاملہ مسلمان اور کافر کے درمیان ہو،کافرحربی ہویا کافر ذمی ہو۔

2۔باپ ،بیٹے کے درمیان۔

3۔شوہر اور بیوی کے درمیان۔

ظاہرہےکہ یہ استثناء نہیں ہیں ،بلکہ  خاص عناوین کے تحت ،اضافی رقم وصول کرنے  کے جواز کے موارد میں سے ہیں،پس کافر حربی  اور کافر ذمی سے زیادہ رقم وصول کرنا جائز ہے،کیونکہ ان کے نزدیک یہ معاملہ صحیح ہوتاہے ،لہذا ان کی بابت قاعدہ الزام جاری کیاجائے گا۔

باپ بیٹے کےدرمیان اور شوہر بیوی کے درمیان اس لیے جائز ہے کیونکہ ان کی جیب ایک ہوتی ہے،جیساکہ عامۃ الناس  کی زبان  میں کہاجاتاہے۔

 

شارك استفتاء

حرام معاملات:

مسئلہ5:حرام معاملات چھ ہیں:

1۔نشہ دینے والی مایع  شے کی بیع ،ایسے کتے کی بیع جو شکاری نہ ہو،سور و مردارکی بیع،اور ان  چارکے علاؤہ دوسری نجس العین چیزوں   کی بیع اظہر قول کے مطابق جائز ہے بشرطیکہ اُن سے حلال منفعت مقصود ہو ،جیسے زمین تیارکرنے کے لیے انسانی فضلہ کی کھادڈالنے کے لیے بیع ،اگرچہ احوط اس کاترک ہے۔

ہاں! پیسوں کوانسانی فضلہ سے ہاتھ اٹھالینے کےمقابلے میں لیاجاسکتاہے۔

2۔غصبی  مال کی بیع۔

3۔ایسی شے کی بیع جس کی مالیت نہ ہو جیسے مشہورقول کی بناء پر درندے ،اس کا جواز ظاہر ہے ،جب اُس کےلیے منفعت محللہ مقصودہ ہو ۔

4۔ایسی شے کی بیع ،جس  سے معمولا  حرام میں استفادہ کیا جاتا ہو،جیسے آلات قمار اور لہو۔

5۔سودی معاملہ۔

6۔وہ معاملہ جو ملاوٹ پر مشتمل ہو ،اس کی دوقسمیں ہیں:

اول۔ جس مال کی خرید میں لوگ رغبت رکھتے ہوں ،اُسے بیچتے وقت اس میں مشتری کو بتائے بغیر کسی دوسری پوشیدہ  شے کی ملاوٹ کی جائےجیسے گھی میں چربی کی آمیزش  اور ملاوٹ کرنا۔

دوم۔ فروخت کیے جانے والے مال کو بڑھا چڑھاکر بتانا اوراس کی ایسی خصوصیات بیان کرنا جو واقعا ً  اس میں  موجود نہ ہوں  ،جیسے سبزیوں پر اُنہیں تروتازہ رکھنے کےلیے پانی کا ترکاؤ کرنا۔

حدیث میں ہے: لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِماً اَوْ ضَرَّہٗ اَوْ مَا کَرِہَ۔

مَنْ غَشَّ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ نَزَعَ اللہُ بَرْکَۃَ رِزْقِہٖ وَ سَدَّ عَلَیْہِ مَعِیْشَتَہٗ وَ وَکَّلَہٗ اِلی نَفْسِہٖ۔

جومسلمان کوکچھ دے اور اس میں ملاوٹ کرئے یااسے نقصان دے یا ایساکرئے جو اسے پسند نہ ہو ،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

جومسلمان بھائی کو کچھ دے اور اُس میں ملاوٹ کرئے ،اللہ اُس کے رزق سے برکت اٹھالیتاہے اور اس کی روزی کو تنگ کردیتاہے اور اسے اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے  ۔

مسئلہ6:پاک کیے جانے کے قابل متنجس شے کے فروخت کرنے  کاکوئی حرج نہیں ہے،جیسے بستر۔

یہی حکم متنجس کی بیع کا ہےجوپاک کیے جانے کے قابل نہ ہو ،جب اُس کی متعارف اور جائز منفعت  طہارت پر موقوف نہ ہوں،جیسے پیٹرول۔

اور اگر اس کی متعارف اور جائز منفعت طہارت پر موقوف ہو تو اس کی بیع تب جائز ہے جب اس بیع سے معتد بہ حلال منفعت کااستفادہ کیا جائے ۔ 

مسئلہ7:بائع پرواجب ہے کہ مشتری کو متنجس  شے کی نجاست کے بارے میں بتائے ،جب اُس کا مشتری کو متنجس شےکی نجاست سے آگاہ نہ کرنا اُسے دھوکا دینے کاسبب بنے،جیسےکوئی شخص کسی پر متنجس پانی فروخت کرتاہے اور وہ اُس پانی سے وضو کر لیتا ہے ۔

 احوط یہ  ہے کہ بہر صورت اُسے مشتری کو آگاہ کرناچاہیے مگر جب اُس کا متجنس شے کی نجاست سے آگاہ کرنا مشتری کےلیے مذاق  کاباعث بنے یعنی دیکھنے والے اس کا مذاق  اڑائیں کہ یہ شخص دین کی پرواہ نہیں کرتاہے۔

مسئلہ8:غیرشرعی طریقہ سے ذبح کیے گئے حیوان  کے گوشت کو فروخت کرناجائز نہیں ہے،اسی طرح اُس کی جلد ،اور اس کے تمام اجزاء جن میں زندگی حلول کرتی ہے،وہ مردار کے حکم میں ہیں۔

مسئلہ9:حیوان کی جلد،گوشت ،چربی اور بقیہ چیزوں  کی خروفروخت جائز ہے،جب احتمال دیاجائے کہ انہیں  شرعی طریقہ پر ذبح شدہ حیوان سے لیاگیاہے۔

لیکن ان کاکھانا جائز نہیں ہے جب تک کہ اُس کا تذکیہ شدہ (یعنی اس کا شرعی طریقہ پر ذبح ہونا)ثابت نہ ہو۔

احوط یہ ہےکہ اگر اس  حیوان کا تذکیہ شدہ  ہونا ثابت نہ ہوتو مشتری  کو خود شرط اور استثناء بتادے جو مسئلہ نمبر سات میں مذکور ہیں۔

 

شارك استفتاء

مکروہ معاملات:

مسئلہ 4:مکروہ معاملات:

1۔وہ ملکیت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھاکر لیجائی نہ جاسکتی ہو جیسے گھر اور زرعی زمین،اس  کا فروخت کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ اس کی قیمت سےکسی  اورجگہ پر  گھر یا زمین  خریدکرناہو۔

2۔حیوانات کے ذبح کرنے کامعاملہ کرنامکروہ ہے،یعنی قصابی۔

3۔کفن فروشی کامعاملہ مکروہ ہے۔

4۔پست لوگوں کےساتھ معاملہ مکروہ ہے ۔

5۔طلوع فجراور طلوع آفتاب کے درمیان معاملہ کرنامکروہ ہے۔

6۔اپنے کام  اور تجارت کو گندم ،جو وغیرہ کی خرید قراردینامکروہ ہے۔

7۔کوئی شخص کسی جنس کو خرید کررہاہوتو اس کے معاملہ میں دخل اندازی کرنامکروہ ہے۔

8۔معاملہ کرتے وقت سچاہواور قسم کھائے یہ بات  مکروہ ہے اور اگر سچانہ ہواور قسم کھائے تویہ بات  حرام ہے۔

 

شارك استفتاء

تجارت میں چار امور مستحب ہیں:

1۔قیمت گزاری میں مسلمانوں کےدرمیان برابری اختیار کرنامستحب ہے  مگرکسی میں  ترجیح ہوتو قیمت گزاری میں کمی واقع کی جاسکتی ہے۔

2۔قیمت گزاری میں سہل انگاری کو  اختیار کرنامستحب ہے ،جب تک غبن(دھوکا) کی  حد تک نہ پہنچ جائے۔

3۔ جنس دیتے ہوئے   زیادہ دیں اور لیتے وقت کم لیں ۔

4۔ بیع کی بابت کوئی درخواست کرئے تو اسے قبول کرنامستحب ہے۔ 

مسئلہ 2:جب معاملہ کی صحت اور فساد میں شک ہو ،جس کاسبب   یہ ہوکہ وہ معاملہ کے حکم سے جاہل ہے،تو اُس کے لیے صحت اور فساد میں سے کسی شے کےآثار کامترتب کرنا جائز نہیں ہے،پس اُس کے لیےجائز نہیں ہےکہ  جومال لیاہےاُس میں تصرف کرئے اور جو مال دیاہے اُس میں بھی تصرف کرناجائز نہیں ہے،بلکہ اُس کے لیے ضروری  ہے کہ اُس معاملہ کی بابت علم حاصل کرئے یا اُس معاملہ میں احتیاط کرئے ، اگرچہ یہ مصالحت کے ذریعہ سے ہو۔

ہاں!

 جب اُس کی لیےہوئے مال میں تصرف کے ذریعہ سے رضایت  ثابت ہوجائےتویہ اُس کےلیےجائز ہے ،یہاں تک کہ معاملہ کے فساد کےفرض پر بھی تصرف کرناجائز ہے۔ 

مسئلہ 3:مکلف پر واجب النفقہ افراد کا خرچہ حاصل کرنے کےلیے کمائی کرنا واجب ہے ،جیسے بیوی اور اولاد،جب   اس کے پاس اُن پر خرچ کرنے کے لیے خرچہ نہ ہو ،اوریہ امور مستحبہ کے لیےمستحب ہے ،جیسے  عیال پرخرچہ کی وسعت پیداکرنےکے لیے اور  فقراء کی مدد کرنے کےلیے کمانا ۔

 

شارك استفتاء

بسم اللہ الڑحمن الرحیم

 احکام تجارت

تجارت رزق اور برکت کے وسیع ترین اسباب میں سےہے،متعدد احادیث میں آیاہے:

(تِسْعَۃُ اَعْشَارِ الرِّزْقِ فِیْ التِّجَارَۃِ

 رزق کے دس میں سے نو حصے تجارت میں ہیں۔

امام  جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے بعض اصحاب سےفرمایا،جس نے بازار سے دوری  اختیار کی  ہوئی تھی:

اُغْدُ اِلیٰ عِزِّکَ ۔ صبح سے اپنی عزت کی طرف جاؤ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

اَلتِّجَارَۃُ تَزِیْدُ فِی الْعَقْلِ ۔تجارت عقل بڑھاتی ہے۔

اِنَّ تَرْکَ التِّجَارَۃِ یَنْقُصُ الْعَقْلَ۔تجارت کا ترک کرنا عقل کو کم کرتاہے۔

رسول خداﷺ نے بنفس نفیس تجارت کی ہے،آئمہ طاہرین علیہم السلام  اپنے اموال   کو تجارت میں مضاربہ کے طور پر خرچ کرتے تھے،تاکہ اللہ تعالی ا       ُنہیں رزق کے درپے دیکھے،اگرچہ انہیں اس  سے منافع کمانے کی کوئی ضرورت اور نیاز نہیں تھی۔

مسئلہ 1:مکلف کے لیے ضروری ہےکہ تجارت کے ضروری احکام کی تعلیم حاصل کرئے،

مَنْ اَرَادَ التِّجَارَۃَ فَلْیَتَّفِقْہُ فِی دِیْنِہٖ لِیَعْلَمَ بِذَلِکَ مَایَحِلُّ لَہٗ مِمَّا یَحْرُمُ عَلَیْہِ وَ مَنْ لَمْ یَتَّفِقْہُ فِی دِیْنِہٖ ثُمَّ اتَّجَرَ تَوَرَّطَ الشُّبْھَاتِ۔

جوشخص تجارت کرناچاہتاہے ،اسے چاہیےکہ اپنے دین کے فقہی مسائل کو حاصل کرئے،تاکہ  اُسے  حلال   اور حرام  کاپتہ چل جائے ،اور جو اپنےدین کےفقہی مسائل کو حاصل نہیں کرتااور تجارت کرتاہے،وہ شبہات کاشکار ہوجاتاہے۔

 

1 2 3
المجموع: 28 | عرض: 21 - 28

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف