درج ذیل علامات کے ذریعہ سے گوشت کا تذکیہ شدہ ہوناثابت ہوتاہے:
1۔مسلمان کے ہاتھ سے لینا۔
جوایسی صورت کے ساتھ ملاہواہو جو تقاضا کرئے کہ اس میں ایسا تصرف کیا جا سکتا ہے جو تذکیہ کے مناسب ہے،جیسے وہ مسلمان گوشت کو کھانے کےلیے پیش کرئے اور جلد کو پہننے اور بچھانے کےلیے آمادہ وتیار کرئے۔
2۔مسلمانوں کے بازار سے لینا۔
خواہ مسلمان کے ہاتھ سے لے یا مجہول الحال شخص کے ہاتھ سے لے۔
3۔ مسلمان شہر میں بنایاگیاہو۔
جیسے ڈبہ میں بند گوشت ،اور جلد کی بنی ہوئی مصنوعات ،جیسے جوتے وغیرہ۔
مسئلہ10:جوشے غیراسلامی ممالک سے درآمد ہوتی ہےاور جوچیزیں کافر کے ہاتھ سے لی جاتی ہیں،مانند گوشت،چربی ،جلد ،ان کی بیع جائزہے ،جب احتمال ہوکہ اسے تذکیہ شدہ حیوان سے لیاگیاہے اور مشتری کو اس کی صورت حال سے آگاہ کیا جائے ( جیسا کہ پہلے گزر چکاہے)۔
لیکن اسے کھانے میں استعمال نہیں کیاجاسکتاہے،جب تک کہ اس کا تذکیہ شدہ ہوناثابت نہ ہو ۔
جس کافر کے ہاتھ میں ہے وہ خبر دے کہ یہ شرعی طریقہ سے ذبح شدہ حیوان کا گوشت ہے تو اُس کی اس خبر سے اُس گوشت کوکھانے میں استعمال نہیں کیاجاسکتا۔
یہی حال اُس گوشت کاہے جسے مسلمان کے ہاتھ سے لیاجائےاور معلوم ہوکہ اس مسلمان نے اسے کافر کے ہاتھ سے لیاہے یعنی وہ اس کے تذکیہ کااعلان نہ کرئے تواس کااستعمال کرناجائز نہیں ہوگا۔
مسئلہ11:غصبی مال کی بیع باطل ہے۔
اس صورت میں بائع پر واجب ہے کہ جو پیسے مشتری سے لیے ہیں،انہیں واپس کردے۔
مسئلہ12: اگر مشتری کا بائع کو پیسے دینے کاارادہ نہ ہو،یااسے پیسے نہ دینے کا قصد کرئے تواس سے بیع باطل نہیں ہوگی ،جب اُس سے اس کا جدی اور سنجیدہ ارادہ متحقق ہوجائے تو اس کے لیے خرید کے بعد پیسے دینالازم ہوگا،اور یہی حکم ہے جب اس کا قصد ہوکہ اس کی قیمت حرام کی کمائی سے دے گا۔
مسئلہ13:حرام آلات لہو کی بیع حرام ہے۔
جیسے موسیقی کے بعض آلات،احتیاط لازم کی بناء پر بچوں کے کھیلنے کے لیے بنائے گئے زبور(سارنگی)کی بیع سے اجتناب کیا جائے،وہ آلات جو حرام میں استعمال ہوتے ہیں اور حلال میں بھی استعمال ہوتے ہیں ،جیسے ریڈیو ،ٹیپ ریکاڈر،ویڈیو ،ٹی وی ، حلال و حرام کے درمیان استعمال ہونے والے مشترک سامان کی خریدوفروخت کا کوئی حرج نہیں ہے،جس طرح انہیں گھر میں رکھنے اور حلال کاموں میں استعمال کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
ہاں!
اس کا ایسے شخص کےلیے گھر میں رکھنا جائز نہیں ہے ،جس کے بہکنے کی بابت یا جس کے اہل خانہ کی بابت گناہ میں پڑنے سے امن نہ ہو۔
وہ اشیاء جن کی منفعت حرام میں منحصر ہو،جیسے بعض تصویریں اورسی ڈیز،ان کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے۔
مسئلہ14:شراب بنانےکےقصد سے انگور اور کھجور کی خریدوفروخت کرناحرام ہے۔
اور اگر شراب بنانے کاارادہ نہ ہو تو ان کی خرید وفروخت جائز ہے ،اگرچہ بائع احتمال رکھتا ہوکہ مشتری انہیں شراب میں استعمال کرئےگا۔
مسئلہ15:ذی روح کا مجسمہ بنانا حرام ہے،خواہ انسان کا ہو یا غیر انسان کاہو،جیسے معمول کے مطابق بنائی جانے والی تماثیل جو پتھر ،موم بتی اور آہنی چیزوں سے بنائی جاتی ہیں،اگر اس کے بنانے سے خالق بننے کاقصد ہو یا اسے عبادت کےلیے بنایا جائے (بت وغیرہ)۔
احوط یہ ہے کہ بہر صورت ذی روح کا مجسمہ بنانا حرام ہے،مجسمہ کے علاؤہ فوٹو بنانے کاکوئی حرج نہیں ہے،اسی طرح مجسمہ والی فوٹو کے گھر میں محفوظ کرکے رکھنے ،ان کی خریدوفروخت کرنے کاکوئی حرج نہیں ہے،اگرچہ یہ کام مکروہ ہے۔
مسئلہ16:جو شے جوئے یاچوری یا باطل معاملہ سے حاصل کی گئی ہو، اُس کا خرید کرنا جائز نہیں ہے ،اگرمشتری ایسی شے کوخرید کر لے تواس پر واجب ہے کہ اسے مالک کے حوالے کردے۔
مسئلہ17:فائدہ اور انعام لینے میں کامیابی کے قصد سے ،لاٹری ٹکٹ کا خریدوفروخت کرنا جائز نہیں ہے
اگرپرچی خرید کرتے وقت اور مال صرف کرتے وقت شرعی کام پر اعانت کرنے کاقصد ہوتو اسے خرید کرنےکاکوئی حرج نہیں ہے جیسے مدرسہ بنانا یا پل بنانا یااس کی مثل کسی اور کام کا کرنا۔
دونوں صورتوں کے پیش نظر اُس شخص کو دیاہوامال جس کے نام کاقرعہ نکلے (جب اس کی متصدی غیراہلی شرکت ہو)یہ مال مجہول المالک شمار کیاجائے گااور اس کے لیے حاکم شرعی کی طرف رجوع کرناپڑے گا،تاکہ یہ کام اصلاح سے انجام پا جائے ، اور اگراس کی متصدی اہلی شرکت ہو تو اس دیئے ہوئے مال میں تصرف کرنے کا کوئی حرج نہیں ہےمگر جب معلوم ہوکہ اس سلسلہ میں دیاہوامال ،مال حرام ہے۔
مسئلہ18:مال میں ملاوٹ کرنابہر صورت حرام ہے ،معاملہ میں ملاوٹ سے معاملہ فاسد ہوجاتاہے،جب ملاوٹ اس طرح کی ہوکہ شے کو اس کی جنس کے مخالف ظاہر کیاجائے،جیسے کوئی شخص مال کو سونے کی خرید پر خرچ کرئے،اور بائع اسےایسی شے دے جو سونے کے مشابہے ہو ۔
گاہے معاملہ فاسد نہیں ہوتا،جب ملاوٹ اس طرح کی ہو کہ شے میں اس کی جنس کے علاؤہ کسی اور جنس کو مخلوط کیا جائے،جیسے گھی میں چربی کا مخلوط کرنا،اس صورت میں بیع شخصی ہو یعنی بیع کو موجودشے کی ذات پرواقع کیاگیاہو،جیسے کہے:میں نے آپ پر یہ کلوگرام گھی فروخت کیا،تواس میں موجود چربی کی نسبت معاملہ باطل ہوگا،اور بائع نے اس کی جو رقم وصول کی ہے وہ بائع کی ملک میں منتقل نہیں ہوگی،مشتری کو بیع کے فسخ کرنے کااختیار ہوگا۔
اگر بیع کلی ہو ،جیسے اس سامنے پڑےکلو گرام گھی کوفروخت کرئے ،اور اسے مخلوط گھی دے تو مشتری کو اختیارحاصل ہےکہ وہ گھی واپس کرکے بائع سے خالص گھی کامطالبہ کرئے۔
مسئلہ19:سود کی دوقسمیں ہیں:
اول۔معاوضی سود،یہ ناپ،تول کے ساتھ مخصوص ہے۔
دوم۔قرضی سود،یہ ہرقسم کے قرض میں جاری ہوتاہے ،جب شرط لگائی گئی ہو کہ اسے زیادہ واپس لوٹایا جائے گا۔
مسئلہ20:ناپ تول والی اشیاء کی زیادہ واپس لینے کی نیت سے خریدوفروخت حرام ہے ، جیسے ایک ٹن گندم دو ٹن گندم کے مقابلے میں فروخت کرئے ،یہ حکم عام ہے اور شامل ہے ہر اُس شے کو جس میں سے ایک صحیح اور دوسری عیبدار ہویا ایک عمدہ اور دوسری کمترہویا دونوں کی قیمت مختلف ہو ،اگر جوہری سونا دےاور غیرجوہری زیادہ سوناواپس لےتو یہ سود ہوگااور حرام ہوگا۔
مسئلہ21:زیادت میں معتبر نہیں ہے کہ زائد عوض ومعوض کی جنس سے ہو ،پس جب ایک ٹن گندم ایک ٹن گندم اورایک درہم کے مقابلے میں فروخت کرئے تویہ سود اور حرام ہوگا۔
بلکہ اگر زائد کاتعلق کام کاج کے ساتھ ہو ،جیسے بائع اور مشتری میں سے کوئی ایک دوسرے پر شرط لگائےکہ وہ اس کے لیے کام بھی کرئے گا تو یہ سوداورحرام ہوگا،اگر زیادت حکمی ہو تویہی حکم جاری ہوگا ،جیسے ایک ٹن گندم نقدی ، ایک ٹن ادھار کے بدلےمیں فروخت کرئے۔
مسئلہ22:سود سے خلاصی پانے کےلیے،جب کوئی شخص چاہے کہ ناپ یاتول کی مقدار کا اُس سے زائد ناپ یاتول سےمبادلہ کرئے،جیسے چاہےکہ دوکلوگندم کے فروخت کرئےجو ایسی قسم کی ہو ،جومرغوب نہ ہو ،اور اس کے مقابلےمیں عمدہ اور مرغوب گندم لے۔
تواولاً معاملہ کو دو طرح سے جاری کرئے،پس دو کلو ایک مبلغ میں فروخت کرئے پھر اسی مبلغ سے دوسرا کلو خریدکرئے ،جس سے مطلوب حاصل ہوجائے گا۔
دوسرایہ کہ اقل کی طرف کےساتھ کسی شے کی زیادت ،جیسےمذکورہ دوکلو کاایک کلوکےبرابر فروخت کرناجس کے ساتھ رومال یا قلم یا کتاب وغیرہ ہو ۔
یا زیادت طرفین میں ہو اور زیادت متغایر ہو۔
مسئلہ23:ایسی شے کی بیع جائز ہےجسے طول یا پیمائش یا شمار کے ذریعہ بیچا جاتا ہے ، جیسےکپڑے،کتب اور اخروٹ کی زیادہ کے ساتھ بیع،جیسے دس اخروٹ پندرہ کے برابر فروخت کیےجائیں ،یہ حکم مطلق ہے نقد ہویا ادھار ہو اور جنس کے اختلاف کے ساتھ ہو،اور اگرجنس کےساتھ اتحادہوتوبہتر ہےکہ ادھار کی صورت میں اس بیع سے اجتناب کیا جائے ،جیسے کتاب کاسیٹ نقداً اُسی کتاب اور طبع کےمعین مدت کے بعد ، دو سیٹ کے برابر فروخت کیا جائے۔
مسئلہ24:اوراق نقدی جو ناپ،تول کےساتھ تعلق نہ رکھتے ہوں ،اور اُن میں معاوضی سودبھی جاری نہ ہوتاہو،اُن کی ایک دوسرے کےمقابلے میں بیع جائز ہے
بشرطیکہ جنس کا نقد اور ادھار کے لحاظ سے اختلاف ہو۔
لیکن ہم نے کرنسی کی اس کے غیر کے ساتھ ،ایک مدت تک ،کی بیع میں حد بندی کی ہے کہ نقدی اور مؤجل قیمت میں ماہانہ تین فیصد سے زیادہ فرق نہ پڑے ،جب ایک ورقہ کاریٹ سو ڈالر بمقابلہ نقد میں ایک لاکھ عراقی دینار ہو ،تواس کی ایک ماہ بعد مؤجل بیع کا ریٹ،103ہزار دینار سے زیادہ نہ ہو،ہم نے ان معاملات کی تفصیل خاص استفتاء بعنوان احکام بیع الدولار بالآجل میں تشریح کے ساتھ بیان کردی ہے ، عراقی دینار کی مثل کی مثل کے ساتھ بیع ،ذمہ میں زیادت کےساتھ ،جائز نہیں ہے۔
اوراق کی تنزیل نقدی ہوتواس کی بیع کاکوئی حرج نہیں ہے یعنی اس میں مذکور مبلغ ،جب کوئی شخص اس کا واقعی طور پر مقروض ہو تواسے حریف مصارف وغیرہ میں استعمال کیا جاسکتاہے،یعنی قرض دینے والااسے کم قیمت میں فروخت کردے،جس سے قیمت نقد ہوجائے گی۔
مسئلہ25:یہ دیکھنےکےلیےکہ یہ مبیع ناپ سے تعلق رکھتی ہےیا تول سے تعلق رکھتی ہے،اس میں اس ملک میں جاری عرف کو معتبر قراردیاگیاہے۔
پس اگر ایک شے ایک ملک میں ناپ یا تول کےساتھ فروخت ہوتی ہو تو اسےاس ملک میں نقداً زیادہ قیمت میں فروخت کیا جاسکتاہے،جہاں اسے گن کر فروخت کیا جاتاہے۔
ہاں! اگر مبیع اکثر ممالک میں ناپ یا تول سےفروخت ہوتی ہو ،تو اسی حکم کو دوسرے سب ملکوں میں عمومیت دینا اولی و بہتر ہے ،اور جس مبیع کا حال ملکوں میں مختلف ہو اور اُن میں کوئی حالت غلبہ نہ رکھتی ہو،اس کاحکم ہر ملک میں ،اس کے اپنے حساب سے ہوگا پس اس کی بیع زیادت کے ساتھ ایسے ملک میں جائز نہیں ہے ،جس میں اسے ناپ و تول کے ساتھ بیچا جاتاہے،نقداً بیع جائز ہے جہاں اسے گن کر فروخت کیا جاتاہے،لیکن اگر کسی شے کاحال ایک ہی ملک میں مختلف ہو تو احتیاط واجب ہے کہ اسے اس ملک میں زیادہ قیمت میں فروخت نہ کیاجائے۔
مسئلہ26:اگر عوض اور معوض کی ایک جنس نہ ہو تو زیادہ قیمت کا لیناجائزہے،جیسے ایک ٹن چاول کو دوٹن گندم کے عوض بیچاجائے۔
مسئلہ27:احتیاط ہےکہ ایک اصل سے لی گئی ،دو چیزوں کے درمیان قیمتی بڑھاؤ جائزنہیں ہے ،جیسے ایک کلو پنیرکو دوکلو دودھ کےبرابر فروخت کرناجائز نہیں ہے ، البتہ تروتازہ پھل کی باسی پھلوں کےبرابر فروخت جائز نہیں ہے،اس کی بابت بعض گزشتہ مسائل میں ذکر کردیاہے۔
مسئلہ28:سود کے باب میں گندم اور جو ایک جنس سے شمار ہوتےہیں،پس ان میں سے ایک ٹن کو دوٹن کے برابر فروخت کرناجائز نہیں ہے،اسی طرح ایک ٹن جو کی نقداً بیع ،ایک ٹن ادھار گندم کے برابر میں جائز نہیں ہے۔
مسئلہ29:سودی معاملہ مطلق حرام ہے،مسلمان کے ساتھ کیا جائے یا غیرمسلم کے ساتھ کیاجائے،مشہور علماء نے اس سے چند موارد کااستثناء کیاہے:
1۔جومعاملہ مسلمان اور کافر کے درمیان ہو،کافرحربی ہویا کافر ذمی ہو۔
2۔باپ ،بیٹے کے درمیان۔
3۔شوہر اور بیوی کے درمیان۔
ظاہرہےکہ یہ استثناء نہیں ہیں ،بلکہ خاص عناوین کے تحت ،اضافی رقم وصول کرنے کے جواز کے موارد میں سے ہیں،پس کافر حربی اور کافر ذمی سے زیادہ رقم وصول کرنا جائز ہے،کیونکہ ان کے نزدیک یہ معاملہ صحیح ہوتاہے ،لہذا ان کی بابت قاعدہ الزام جاری کیاجائے گا۔
باپ بیٹے کےدرمیان اور شوہر بیوی کے درمیان اس لیے جائز ہے کیونکہ ان کی جیب ایک ہوتی ہے،جیساکہ عامۃ الناس کی زبان میں کہاجاتاہے۔