اساسى | | رسالہ عمليہ | احکام تجارت
احکام تجارت

شارك استفتاء

مسئلہ90:شرکت کے عقد کے شرائط:

بلوغ،عقل،اختیار،ممنوع التصرف نہ  ہوناہیں،پس ،درج ذیل  افراد کی شرکت صحیح نہیں ہے:

  بچے،مجنون ،مجبور اور سفیہ  جو اپنے اموال کوبے موقع  خرچ کرتاہو اور مفلس (کنگال) جس کواس کے اموال میں تصرف کرنے روک دیاگیاہو ۔

مسئلہ91: اگرشرکت  میں شرط لگائی جائےکہ دوشریکوں میں سے   جوشخص کام کرئےگایاجوشخص اپنے شریک سے زیادہ کام کرئےگا،اسے منفعت میں زیادہ حصہ ملے گا،تو کوئی حرج نہیں ہے ،اس شرط کی وفا واجب ہے۔

 لیکن اگر یہ شرط لگائی جائےکہ جوشخص کام نہیں کرئےگایازیادہ کام نہیں کرئے گا ،اسے منفعت کازیادہ حصہ ملے گاتواظہر یہ ہےکہ ان لوگوں کی شرکت باطل نہیں  ہے،لیکن یہ شرط جاری نہیں ہوگی ،اور ان کے درمیان  منافع ان کے مال کی نسبت تقسیم کیاجائے گا۔

یہی حال ہے اگر دونوں شریک شرط لگائیں کہ سارامنافع دونوں میں سے ایک کےلیےہے یا سارانقصان یااکثر نقصان دونوں میں سے ایک کی گردن پرہوگا۔

مسئلہ92:جب دوشریک کسی ایک کےلیے منفعت میں زیادہ کی شرط نہ لگائیں ،اگر دونوں کے مال برابرہوں تو ان کا نفع ونقصان بھی برابرہوگااور اگر دونوں کے مال برابر نہ ہوں تو منفعت ونقصان دونوں مال کی نسبت سے ہوں گے،پس اگرایک کامال دوسرے کےمال سے دگنا ہوتودگنے مال والے کو نفع ونقصان بھی دگنا ہو گا ، خواہ وہ عمل اورکام کرنے میں مساوی ہوں یامختلف ہوں،یاان میں سے کوئی کام نہ کرتاہو،کام کرنےوالےکےکام کاحساب خاص ہوگا،جب وہ مفت کام کرنے کی نیت نہ رکھتاہو۔

مسئلہ93:جب دوشریک شرکت کے عقد میں شرط کریں کہ دونوں میں سے ہرایک خود کام کرئےگایاان میں سےایک کام کرئےگایا ایک اجرت طے کرکے کسی دوسرے شخص سے کام کروائےگا،تو شرط کے مطابق عمل کرناواجب ہے۔

مسئلہ94:اگرمعین نہ ہوکہ ان دونوں میں سے کون کام کرئےگاتو دونوں میں سےہرایک کےلیےدوسرے کی اجازت کے بغیر اصل مال میں تصرف کرناجائز نہیں ہے۔

مسئلہ95:جس کے ذمہ کام کا کرنا ہے ،اس پرواجب ہےکہ وہ آپس میں کیےگئے معاہدہ کے مطابق کام کرئے،جیسے دونوں طے کریں کہ ادھار خرید کرکے نقد بیچا جائےیا خاص جگہ سے خرید کرکے بیچا جائے تو اس کے مطابق عمل کرناواجب ہے،اور اگر ان میں سے کسی شے کو معین نہ کیاگیاہو تو جو متعارف طریقہ کار ہے اس کے مطابق عمل کرناضروری ہے جس سے شرکت میں ضرر واقع نہ ہو۔

مسئلہ96:اگرکام کرنےوالا دونوں کی شرط کی خلاف ورزی کرئےیا عدم شرط کی صورت میں متعارف طریقہ کار کی خلاف ورزی کرئےتو دوسرے شریک کے حصہ کی نسبت معاملہ(بیع) فضولی ہوگا،اوراگروہ اجازت نہ دے تواسے اس کامال واپس دےدیاجائےیامال کے تلف ہوجانے کی صورت میں اسے اس  کے مال کاعوض واپس کردیاجائے۔

 

شارك استفتاء

احکام شرکت

شرکت:دویازیادہ ا شخاص کا ایک شے کی  ملکیت میں اشتراک ہونا ،خواہ عین مال ہو یا حقوق میں سے ہو،کبھی شرکت بغیر اختیار کے بھی حاصل ہوجاتی ہے ،جیسے مرنے والے  کے ورثاء کا اس کے ترکہ میں اشتراک۔

اور کبھی شرکت دولوگوں کے اختیار سے ہی حاصل ہوتی ہے ،جیسے دولوگوں کا مباحات  کے جمع کرنے میں اشتراک،اس کی کئی صورتیں اورقسمیں ہیں:

شرکت عقدیہ:یہ دویازیادہ شریکوں کے درمیان مال میں عقد کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے،اس میں منافع اور نقصان تقسیم کیاجاتاہے،اس کی تفاصیل خداوند کےاذن سے آیندہ مسائل میں واضح ہوجائیں گی۔

مسئلہ 87:شرکت کے عقد میں ضروری ہےکہ اسے لفظ یا فعل کے ذریعہ سے انشاء کیا جائے،جوشرکت پردلالت کرئے،اس کی صحت میں دومالوں کا آپس میں اس طرح مکس کرنا معتبر ہے جس سے ایک مال دوسرے سے جدانہ کیاجاسکتاہو یعنی ان دونوں مالوں کےدرمیان تمیز نہ کی جاسکتی ہو۔

مسئلہ88:اگردوشخص ایک کام کرتے ہوں اور اپنے عمل کی اجرت  میں اشتراک کریں ،جیسے دو حجام آپس میں  طےکریں کہ وہ حجامت کی جواجرت لیں گے اسے آپس میں تقسیم کریں گے تو شرکت باطل ہے۔

مسئلہ89:اگردوشخص آپس میں یوں اشتراک کریں کہ ان میں سے ہرایک مال کواپنے لیےادھار خرید کرےاوراس کےمنافع میں دونوں شریک ہوں گے ،تویہ جائز نہیں ہے۔

ہاں،اگردونوں  میں سے ہرایک اپنے ساتھی کو دونوں کے لیے مال کےادھار کے طورپر خریدکرنے میں وکیل قرار دے تو یہ شرکت صحیح ہوگی۔

 

شارك استفتاء

خاتمہ ۔اقالہ یعنی معاملہ کوفسخ کرنے کی درخواست کرنا

اقالہ یعنی دومعاملہ کرنے والوں میں سےکوئی ایک دوسرے سے طلب کرکے معاملہ کوفسخ کردے،ظاہرہےیہ تمام عقود لازمہ میں جاری ہوتاہے،یہاں تک کہ ہبہ لازمہ میں بھی سوائے نکاح اور ضمانت کے جاری ہوتاہے،اس کے صدقہ میں جاری ہونے کی بابت اشکال ہے،اوریہ ہر اُس لفظ کےساتھ واقع ہوتاہے جو مراداور مقصود پر دلالت کرتاہے،اگرچہ عربی میں نہ ہو ،بلکہ فعل کے ذریعہ سے بھی واقع ہو جاتا ہے ، جس طرح قول کے ذریعہ سے واقع ہوجاتاہے،مثلاً جب خریدار اور فروخت کرنے والے  میں سے کوئی ایک  فسخ کو طلب کرئے ،اوراس نے اس سے جولیاہواہو اسے دےدے تویہ فسخ اور اقالہ ہوگا،طلب کرنےوالےپر واجب ہے کہ اس کےپاس جو عوض ہو اسے اس کے صاحب کوواپس کر دے۔

مسئلہ83:اقالہ میں کمی و بیشی کرناجائز نہیں ہے ،اگر ایسا کیا جائےتوباطل ہے اور عوض ومعوض اپنے مالک کی ملک میں ہی رہیں گے۔

مسئلہ84:جب کسی کےلیےاپنے ذمہ میں یا خارج میں مال کو  قرارد یاجائے تاکہ وہ اقالہ کرئے ،یوں کہے مجھ سے اقالہ وفسخ کرو اور میں تجھے یہ مال دیتاہوں یا مجھ سے فسخ کرو میں تجھے یہ دوں گا،اظہر صحت ہے،اقالہ طلب کرنےوالے پر لازم ہےکہ تنقید کی صورت میں قراردیئے گئے مال کو قبول کرنےوالے کودے دیاجائے۔

مسئلہ85:اگراقالہ  مال یا منفعت  دینے کی  شرط  پر ہو،جیسے اقالہ وفسخ  طلب کرنے والے سے کہے کہ میں اس شرط پر بیع فسخ  کرتاہوں کہ آپ مجھے یہ شے  دیں گے یا میرے کپڑے کوسلائی کردیں گے اور وہ قبول کرلےتوصحیح ہے۔

مسئلہ86:آیا متعاقدین کے وارث اقالہ وفسخ کی صحت میں   اپنےمورث کاقائم مقام بن سکتے ہیں ،اس میں اشکال ہے اورظاہر ہےکہ صحیح نہیں ہے،پس  وارث کے قائم مقام نہیں بن سکتے ہیں۔

 

شارك استفتاء

مسئلہ77:چار صورتوں میں خریدار مال میں عیب ہونے کی بناپر سودافسخ نہیں کرسکتا اور نہ ہی قیمت کا تفاوت لےسکتاہے:

1۔خریدتے وقت مال کے عیب سے آگاہ ہو۔

2۔خرید کرنے کےبعد عیب کوقبول کرلے۔

3۔سوداکرتے وقت اپنے فسخ اور تفاوت کے حق کو ختم کردے۔

4۔سودے کےوقت بیچنے والاکہےکہ میں اس مال کو جو عیب بھی اس میں ہے ،اس کے ساتھ بیچتاہوں،لیکن اگر وہ ایک عیب کا تعین کردے اور کہےکہ میں اس مال کو اس عیب کے ساتھ فروخت کررہاہوں،اور بعد میں معلوم ہوکہ مال میں کوئی اور عیب بھی ہے تو جوعیب بیچنے والے نے معین نہ کیاہو ،اس کی بناپر خریدار بیع کو فسخ کرسکتاہے یعنی مال واپس کردے اور اگر مال واپس نہ کرسکے تو قیمت کاتفاوت لے سکتاہے۔

مسئلہ78:اگر خریدار کو معلوم ہوکہ مال میں ایک عیب ہے اور اسے وصول کرنے کے بعد میں کوئی اور عیب ظاہر ہوجائےتووہ سودا واپس نہیں کرسکتاہے ،لیکن بے عیب اور عیب دار کے درمیان قیمت کاجو تفاوت ہووہ لےسکتاہے۔

لیکن ،اگر وہ عیب دارحیوان خریدے اور خیار کی مدت(جو تین دن ہے)گزرنے سے پہلے اس حیوان میں کوئی عیب ظاہر ہوجائے اور خریدار نے اسے اپنی تحویل میں لےلیا ہوپھربھی وہ اسے واپس کرسکتاہے ،اوراگر  خریدار کو کچھ مدت تک معاملہ فسخ کرنے کاحق حاصل ہو اور اس مدت کے دوران عیب دار مال میں کوئی  دوسراعیب ظاہر ہوجائےوہ مال واپس کرسکتاہے۔

مسئلہ79:اگرکوئی شخص ایسامال رکھتاہو ،جسے اس نے خود دیکھاہوا نہ ہو ،اور کسی دوسرے شخص نے اس مال کی خصوصیات اسے بتائی ہوں،اور وہ وہی خصوصیات خریدارکوبتائے اور وہ مال اس پر فروخت کردےاور بعد میں اس مالک کو پتہ چلے کہ وہ مال اس سے بہتر خصوصیات کا حامل ہے تووہ سودا فسخ کرسکتاہے۔

مسئلہ80:اگر بیچنےوالا خریدار کو کسی چیز کی قیمت خرید بتائےتواسے چاہیے کہ وہ تمام چیزیں بھی اسے بتائے جن کی وجہ سے مال کی قیمت گھٹتی ،بڑھتی ہے،اگرچہ اسی قیمت پر جس پر مال خریداہے یااس سے بھی کم قیمت پر بیچے ،مثلاً اُسے بتاناچاہیےکہ مال نقد خریداہے یاادھار،کسی شرط کے تحت خریداہے یا بغیر کسی شرط کے خریداہے اوراگرمال کی کچھ خصوصیات  نہ بتائے اورخریدار کوبعد میں علم ہوجائےتووہ  خیار تدلیس  کے لحاظ سے سودافسخ کرسکتاہے،کیونکہ ان خصوصیات کو چھپانا تدلیس شمارہوتاہے۔

اسی سے ہے اگر بیچنے والاخریدار کو مال کی بابت پوری پوری خبردےاورپھر معلوم ہوکہ اس نے جوبتایاہے وہ جھوٹ ہےتو خریدار سودے کو فسخ کرسکتاہے ،اور ساری قیمت دے سکتاہے جسے بیچنے والے نے عقد میں طلب کیاہو۔

مسئلہ81:اگرانسان کوئی جنس کسی ( دلال یا تاجر)کودے اور اس کی قیمت معین کر دے اور یہ کہےکہ   یہ جنس اس قیمت پربیچواوراس سے زیادہ جتنی قیمت وصول کر و گے وہ تمہارے بیچنے کی اجرت ہوگی،تواس صورت میں وہ شخص  اس قیمت سے زیادہ جتنی قیمت بھی وصول کرئےوہ جنس کے مالک کامال ہوگا،اور بیچنے والامالک سے فقط اپنی محنت کی اجرت لےسکتاہےلیکن اگر معاہدہ بطور جعالہ(انعام کے)ہو،اورمال کا مالک کہےاگر تو نے یہ جنس اس قیمت سے زیادہ پربیچی ،تواضافی پیسے  تیرامال ہے،تو وہ اضافی پیسے اُس بیچنے والے کے ہوں گے۔

مسئلہ82:اگر قصاب نر جانور کاگوشت کہہ کر مادہ کاگوشت بیچے تووہ یہ اُس کےلیے جائز نہیں ہے،اب اگروہ اس گوشت کو معین کردے اورکہےکہ میں یہ نرجانور کا گوشت فروخت کررہاہوں تو خریدارسودافسخ کرسکتاہے،اوراگرقصاب اس گوشت کو معین نہ کرئےاورخریدارکوجومادہ کاگوشت ملاہو،وہ اس پرراضی نہ ہوتوقصاب کو چاہیے  کہ اسے نر جانور کاگوشت دے۔

یہی حال ہے جب کوئی یہ کہہ کر کپڑے کوفروخت کرئےکہ اس کارنگ پکاہے اور خریدار کو کچے رنگ والاکپڑا دے دیتاہے۔

شارك استفتاء

خریدار اور بیچنے والا گیارہ صورتوں میں معاملہ فسخ کرسکتے ہیں:

1۔جس مجلس میں سودا طے ہواہے،فریقین وہاں سے جدا نہ ہوئے ہوں دونوں کو معاملہ فسخ کرنے کا حق حاصل ہے ،اسے خیار مجلس کہتے ہیں،اور اگر اس مجلس سے چلے جائیں توجب تک ایک دوسرے سے جدانہ ہوں تو بھی یہ خیار دونوں کےلیےباقی رہے  گا۔

2۔بیع کے معاملے میں خریدار یا بیچنے والا اوردوسرے معاملہ میں طرفین میں سے کوئی ایک مغبون ہوجائے،اسے خیار غبن کہتے ہیں،مغبون یعنی وہ شخص جسے نقصان پہنچا ہو اور جس کے ساتھ دھوکاہواہو،جسے دھوکاہواہے وہ معاملہ کو فسخ کرسکتاہے یا اس کی اسی حالت پر راضی بھی ہوسکتاہے لیکن اسے حق حاصل نہیں ہے کہ دوسری طرف کو مجبور کرئے کہ قیمت میں جو تفاوت ہے اسے دیاجائےالبتہ جب طرفین کسی قیمت پر راضی ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے ،یہ خیار بیع کے علاؤہ دوسرے معاملات میں جاری ہوتاہے جیسے اجارہ۔

3۔سوداکرتے وقت یہ طے کیاجائے کہ ایک مقررہ مدت تک دونوں کویاکسی ایک فریق کو سودا فسخ کرنے کا اختیار ہوگا،اسے خیار شرط کہتے ہیں۔

4۔فریقین معاملہ میں سے ایک فریق اپنے مال کو اس کی اصلیت سے بہتر بتاکر پیش کرئے،جس کی وجہ سے اس مال کی قیمت لوگوں کی نظروں میں بڑھ جائےاس صورت  میں دوسری طرف کےلیے خیار ثابت ہوجائےگا ،اسے خیار تدلیس کہتے ہیں۔

5۔فریقین معاملہ میں سے ایک فریق دوسرے کےساتھ شرط کرئے کہ وہ ایک کام سرانجام دے گا ،جیسے ختم قرآن یا کسی معصوم کی زیارت کی شرط کرئےاور اس شرط پر عمل نہ ہو یایہ شرط کی جائے کہ ایک فریق دوسرے کو ایک مخصوص قسم کامال دے گااورجومال دیاجائےاس میں وہ خصوصیت نہ ہو ،اس میں شرط کرنے والا معاملہ کوفسخ کرسکتاہے،اسے خیار خلف شرط کہتے ہیں۔

6۔دی جانے والی جنس یااس کے عوض میں کوئی عیب ہو اس صورت میں جسے عیبدار شے ملی ہے اس کے لیےخیار ثابت ہوگا،اسے خیار عیب  کہتے ہیں۔

7۔یہ پتہ چلے کہ فریقین نے جس جنس کامعاملہ کیاہے ،اس کی کچھ مقدار کسی اور شخص کامال ہے،اس صورت میں اگر اس مقدار کامالک سودے پر راضی نہ ہو توخریدنے والاسودا فسخ کرسکتاہےاسے خیارتبعیض الصفقہ(یاخیار شرکت) کہتے ہیں ،جیسے ایک کتاب کاایک سیٹ خرید کرئےاور پتہ چلےکہ اس کی کچھ جلدیں اس کی نہیں ہیں اوراس کامالک فروخت کرنے پر راضی نہیں ہے۔

8۔جس معین جنس کو دوسرے فریق نے نہ دیکھا ہو ،اگر اس جنس کا مالک اسے اس کی خصوصیات  بتائےاور بعد میں معلوم ہو کہ جوخصوصیات اس نے بتائیں تھیں ،وہ اس جنس میں نہیں ہیں،تو دوسرا فریق (مشتری)معاملہ فسخ کرسکتا ہے،اسے خیاررؤیت کہتے ہیں۔

9۔اگر خریدار جنس کی قیمت دینے میں تاخیرکرئےاور تین دن تک قیمت نہ دے تواگر بیچنے والے نے وہ جنس خریدارکے حوالے نہ کی ہو تووہ بیع  فسخ کر سکتا ہے ، بشرطیکہ  قیمت کی تاخیر معاملہ میں نہ کی ہو اور نہ ہی  قیمت کی جلدادائیگی کو شرط کیاہو یا عرف کی عادت کے مطابق معاملہ کی طبعیت جلد ادائیگی کاتقاضا کرتی ہو،ورنہ شرط کے مطابق عمل کیاجائےگاخواہ تاخیر ہو یا تعجیل ہو ۔ 

لیکن جوجنس خریدار نے خریدی ہےاگر وہ بعض ایسے میووں کی طرح ہو جوایک دن باقی رہنےسےضایع ہوجاتے ہیں،یابازار سے ختم ہوجاتے ہیں،اوریہ اُس وقت یا رات تک اس کی قیمت نہ دے اوریہ شرط بھی نہ کی ہوکہ قیمت دینے میں تاخیر کرئے گاتو بیچنے والا سودا فسخ کرسکتا ہے،اسے خیارتاخیر کہتے ہیں۔

10۔جس شخص نے کوئی جانور خریداہو وہ تین دن تک سودا فسخ کر سکتا ہے ، اور جوچیزاس نے بیچی ہو اگراس کے عوض میں خریدار نے جانور دیاہوتو جانور بیچنے والا بھی تین دن تک سودافسخ کرسکتاہے ،اسے خیار حیوان کہتے ہیں۔

11۔بیچنے والے نے جوچیز بیچی ہو، اگر اس کاقبضہ نہ دے سکے مثلاً جو گھوڑا اس نے بیچا ہو وہ بھاگ گیاہو تواس صورت میں خریدار سودافسخ کرسکتاہے،اسے خیار تعذر تسلیم کہتے ہیں ۔

مسئلہ69:جب فروخت کرنےوالا جنس  کومشتری کے حوالے کرنے پر قدرت نہ رکھتاہو کیونکہ وہ آسمانی یازمینی آفت کی وجہ سے تلف ہوجائے تو مشتری کےلیے خیار نہیں ہوگا،بلکہ معاملہ اصل سے باطل ہوگااور بیچنے والا قیمت خریدار کو واپس کرئے گااور اسی کی مثل ہے جب بیچنے والے کوقیمت دینے سے پہلے قیمت تلف ہوجائےتوبیع فسخ ہوجائے گی اور جنس بیجنے والے کوواپس کردی جائے ،اورجو جنس عادۃ ً مشتری تک پہنچ نہ سکتی ہو وہ تلف کے حکم میں ہوتی ہے،جیسے وحشی پرندہ اڑ جائے یامچھلی دریا میں گرجائےیا مال چوری ہوجائے،جس پر نشانی نہ ہو اور اس کی مثل دیگر اشیاء۔

مسئلہ70:جب مشتری جنس کی قیمت کو نہ جانتاہو یابیع کے وقت قیمت سے غافل ہو اور اسے عادی قیمت سے زیادہ میں خرید کرئے،اگرقیمت کافرق ایساہوجس کی پرواہ کی جاسکتی ہو اور اس میں جسے دھوکا ہواہے اسے معاملہ فسخ کرنے  کااختیارہے،یہی حکم ہے جب بائع کو جنس کی قیمت معلوم نہ ہو یااس کی قیمت سے غافل ہو یا عادی قیمت سے کم قیمت پر فروخت کرئے ،اگر قیمت کافرق ایساہو جس کی پرواہ کی جاسکتی ہو تو اسے معاملہ کے فسخ کرنے کا اختیار ہے ۔

مسئلہ71:بیع شرط نامی معاملہ کرنا صحیح ہے اور وہ گھر کی بیع ہے جس کی قیمت   یہ ہوکہ ہزار روپے کا مکان دوسو روپے میں بیچ دیاجائے اور شرط کی جائےکہ اگر بیچنے والا مقررہ  مدت تک رقم واپس کردے تومعاملہ فسخ کرسکتاہے ،یہ اس وقت ہے ، جب  خریدار اوربیچنےوالاخرید وفروخت کی نیت رکھتے ہوں تومعاملہ صحیح ہے، یہ صورت نہ ہوتو ان کے درمیان بیع ثابت ہی  نہیں ہوگی ۔

مسئلہ72:بیع شرط کے معاملہ  میں اگربیچنے والےکواطمینان ہوکہ خواہ وہ مقررہ مدت میں رقم واپس نہ بھی کرئےخریداراملاک اسے واپس کردےگاتو سوداصحیح ہے،لیکن اگروہ مدت ختم ہونے تک رقم واپس نہ کرےتووہ خریدارسے املاک کی واپسی کا مطالبہ کرنے کاحق نہیں رکھتا اور اگر خریدار مرجائےتو اس کے ورثاء سےبھی  املاک کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

مسئلہ73:اگرمشتری کو پتہ چلے کہ میں نے جوشے خرید کی ہے اس میں عیب ہے، جیسے جانور خرید کرئےاورپتہ چلے کہ وہ کاناہے تو خریدار معاملہ کو فسخ کر سکتا ہے بشرطیکہ  وہ عیب بیع سے پہلے کاہو ،اگرچہ وہ مال واپس کروانے کی قدرت نہ رکھتا ہو ،اس لیے کہ اس میں تغییر پیداہوگئی ہو یا اس میں ایساتصرف کرئےجوواپسی کی راہ میں رکاوٹ ہو، پس اس صورت میں وہ رقم واپس لےسکتاہےاور اس میں صحیح اور عیب دار شے کی قیمت کو دیکھاجائے گا،مثلاً اگراس نے کوئی مال چارروپے میں خریدا ہو اوراسےاس کے عیب دار ہونے کاعلم ہوجائے تواگراس مال کے بےعیب ہونے کی صورت میں اس کی قیمت آٹھ روپے اورعیب دارہونے کی صورت میں چھ روپے  ہو توچونکہ بے عیب اور عیب دار کی قیمت کافرق ایک چوتھائی ہے اس لیےاس نے جتنی رقم دی ہے اس کاایک چوتھائی یعنی ایک روپیہ بیچنےوالے سے لےلے۔

اوراگر بیچاہوامال معین نہ ہو اورعقد کلی پر ہواورجو مال دیاجائےوہ عیب دارہو تواسے معاملہ فسخ کرنےیا تفاوت کے مطالبہ کاحق نہیں ہے ،بلکہ وہ صحیح مال میں سے کسی دوسرے فرد   کا مطالبہ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ74:اگر بیچنے والے کو پتہ چلےکہ اس نے جس چیز کے عوض اپنامال بیچاہے ،اس میں عیب ہے اوروہ عیب مال کےعوض میں دی گئی چیز میں سودے سےپہلے موجود ہو تووہ سودافسخ کرسکتاہے اورجوکچھ اسے اس مال کے عوض میں ملاہے ،اسے اس کے مالک کو واپس کرسکتاہے ،اور اگر تبدیلی یاتصرف کی وجہ سے واپس نہ کرسکے تواسے حق حاصل ہےکہ مشتری سے صحیح وسالم اور عیب دار کی قیمت کاتفاوت وصول کرلے، ،جس ذکر سابقہ مسئلہ میں کیاگیاہے۔

جب قیمت کلی ہو جو معین نہ کی گئی ہو (جیساکہ یہ اکثر معاملات میں ہوتاہے)اور بیچنے والے کو پتہ چلےکہ مجھے جوفرد دیاگیاہےاس میں عیب ہےتووہ بیع کو  فسخ نہیں کرسکتاہےاور نہ ہی قیمت کے تفاوت کامطالبہ کرسکتاہے،بلکہ وہ قیمت کے دوسرے فرد کا مطالبہ کرسکتاہے۔

مسئلہ75:اگرسوداکرنے کےبعد اور قبضہ دینے سے پہلے مال میں کوئی عیب پیداہوجائے توخریدار سودا فسخ کرسکتاہے اورجوچیز مال کے عوض دی جائے،اگراس میں سودا کرنےکےبعد اور قبضہ دینے سے پہلے کوئی عیب پیداہوجائے تو بیچنے والا سودےکو فسخ کرسکتاہے،لیکن اگر فریقین قیمت کافرق لیناچاہیں تواس میں اشکال ہے،احتیاط کی بناپر دونوں کو ایک دوسرے سے راضی ہوناچاہیے ۔

لیکن اگر مال لینے پرقدرت نہ رکھتاہوتو صحیح اور عیب دار والی قیمت کے تفاوت کا مطالبہ کرناجائز ہے۔

مسئلہ76:ظاہر ہے کہ خیار عیب میں یہ ضروری نہیں ہےکہ وہ فوراً سودے کوفسخ کردے ، بلکہ وہ بعد میں بھی سودافسخ کرنے کاحق رکھتاہے،مگرجب عرف کی نظر میں ،اس کواس قدر معاملے کے فسخ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ دوسری جانب کےلیےضرر کاباعث ہو،اس فسخ کے جاری کرنے میں دوسری جانب کا موجود ہونامعتبر نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

خیارات(یعنی معاملہ فسخ کیے جانے کی صورتیں)

مسئلہ 68:معاملہ فسخ کرنے کے حق کو خیار کہتے ہیں،جس کے خریداراور بیچنے والامعین حالات میں  مالک ہوتے ہیں،جس میں وہ عقد کو فسخ  اور لغو کردیتے ہیں اورمعالات پہلے والی صورت کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔

 

شارك استفتاء

بیع نقدین(سونے چاندی کو سونے چاندی کے عوض بیچنا)

مسئلہ 61: اگرسونے کوسونے سے یاچاندی کو چاندی سے بیچا جائےتوخواہ وہ سکہ دار ہوں یا بےسکہ ،اگر ان میں سے ایک کاوزن دوسرے سے زیادہ ہوتوایسامعاملہ جائز نہیں ہے۔

مسئلہ62:اگر سونے کو چاندی سے ،چاندی کو سونے سے بیچا جائےتومعاملہ صحیح ہےاور ضروری نہیں ہےکہ دونوں کاوزن برابر ہو۔

مسئلہ63:اگرسونے یاچاندی کو سونے یاچاندی کے عوض بیچاجائےتو بیچنے والے اور خریدار پرواجب ہے  کہ ایک دوسرے سے جداہونے سے پہلے جنس اور اس کاعوض ایک دوسرے کے حوالے کردیں،اوراگرجس چیز کے بارے میں معاملہ طے ہواہو اس کی مقدار کچھ بھی متعلقہ شخص کے حوالے نہ کی جائےتوبیع باطل ہوگی۔

مسئلہ 64:اگر  سونے ،چاندی کے بیچنے والے یاخریدار میں سے کوئی ایک طے شدہ مال پوراپورا دوسرے کے سپرد کردے لیکن دوسراکچھ مقدار دوسرے کے سپرد کرے اور پھر وہ ایک دوسرے سے جداہوجائیں تواگرچہ اتنی مقدار کے متعلق معاملہ صحیح ہے اور باقی کی نسبت معاملہ باطل ہے لیکن جس کو پورامال نہ ملاہو وہ معاملہ فسخ کرسکتاہے۔

مسئلہ 65:اگرکان کی چاندی کی مٹی کو خالص چاندی سے اور کان کی سونے کی مٹی کو خالص سونے سے بیچاجائےتودرست نہیں ہے کیونکہ اس سے سود میں پڑنے کاخوف ہوتاہے ، لیکن چاندی کی مٹی کوسونے سے اور سونے کی مٹی کوچاندی سے بیچناصحیح ہے۔

مسئلہ66:اگر سونے چاندی کی بنی ہوئی چیزوں کو ان کی جنس کے عوض ،اس کے بنانے کی اجرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اضافے کے ساتھ بیچا جائے،تو جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سود بن جائے گا ،البتہ سود سے بچنے کےلیے اسے کسی دوسری جنس کے بدلے میں خرید کیا جاسکتاہےیا دومعاملے کیے جائیں ،یوں کہ فروخت کرنے والااسے اس ریٹ پر دے جو اس کےپاس ہے اور خرید کرئے اس ریٹ پر جودوسرے کے پاس  ہے۔

مسئلہ67:اگر کسی کا دوسرے کے ذمہ ایک خاص کام کا قرض ہو ،وہ دوسرے کام  کی اجرت سے اس قرض کوواپس لے سکتاہے بشرطیکہ دوسراشخص لینے والے دن اس  کام اور جدید مقدار پرراضی ہو ۔ 

 

شارك استفتاء

احکام بیع سلف

مسئلہ55:جوجنس انسان نے بطور سلف خریدکی ہو،اسے وہ مدت ختم ہونے سے قبل فروخت کرنے والے کے علاؤہ کسی دوسرے شخص پر فروخت نہیں کرسکتاہے،اور مدت ختم ہونے کے بعد اگرچہ خریدارنے اس جنس کو  اپنے قبضہ میں نہ لیاہو،اسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے،البتہ جن غلوں کو تول کریاناپ کر بیچاجاتاہےمثلاً گندم ،جو اور دوسری اجناس،انہیں اپنے قبضے میں لےلینےسے پہلےبیچناجائز نہیں ہے ، سوائےاس کے کہ خریدارنے جس قیمت پر خریدی ہوں ،اُسی قیمت پر فروخت کر دے۔

مسئلہ 56:سلف کے لین دین میں اگر فروخت کرنےوالا مدت ختم ہونے پر وہ جنس دےدے جس کا معاملہ ہواہو،توخریدار کوچاہیے کہ اسے قبول کرئے،نیز اگر فروخت کرنے والا جس شے کا معاملہ ہواہو،اس سے بہتر شے دے لیکن جنس کے اعتبار سے دونوں ایک سمجھی جاتی ہوں تو خریدار کو چاہیے کہ اسے قبول کرلے،اس لیےکہ زائد صفت کے منتفی ہونے کو شرط قرارنہیں دیاگیا۔

مسئلہ 57: جب فروخت کرنے والا مدت ختم ہونے سے پہلے جنس  قبضے میں دےیا اس سے کمتر جنس دے تو خریدار پر قبول کرناواجب نہیں ہے ، نیز جب  جنس کی مقدار میں اضافہ کرئےتوخریدار کے لیے اس کاقبول کرنا جائز ہے ۔

مسئلہ 58:فروخت کرنے والااُس جنس کی بجائے جس کاسودا ہواہے کوئی دوسری جنس دے اور خریدار اسے لینے پر راضی ہوجائے تو یہ معاملہ صحیح ہوگا ،البتہ اس میں  دیکھا جائےگا کہ کیا یہ اُن موارد میں سے نہیں ہے جن سے ہم نے منع کیاہے۔

مسئلہ 59:جوجنس  بطور سلف بیچی گئی ہو اگروہ خریدار کے حوالے کرنے کےلیےطے شدہ وقت پر نایاب ہوجائےاور بیچنے والا اسے مہیا نہ کرسکے توخریدار کو اختیار ہےکہ انتظار کرئےتاکہ بیچنے والااسے مہیاکردےیامعاملہ فسخ کردے اور جو چیز بیچنے والے کودی ہو،اسے یااس کے بدل کو واپس لےلے۔

یہی حکم ہے جب کچھ دے اور باقی نہ دے،اس کےلیے جائز نہیں ہےکہ قیمت خرید سے زیادہ میں فروخت کرئے،جیساکہ مسئلہ55میں گزر چکاہے۔

مسئلہ 60:اگرکوئی شخص کوئی جنس بیچے اور معاہدہ کرئےکہ کچھ مدت بعد وہ جنس خریدار کے حوالے کردے گااوراس کی قیمت بھی کچھ مدت بعد لے گاتو احتیاط کی بنا پر ایسا معاملہ باطل ہے ۔

 

شارك استفتاء

شرائط بیع سلف

مسئلہ 54:بیع سلف میں سات امور معتبر ہیں:

1۔ان خصوصیات کوجن کی وجہ سے کسی جنس کی قیمت میں فرق پڑتاہومعین کر دیاجائے،لیکن زیادہ باریک بینی بھی ضروری نہیں،بلکہ اس قدر کافی ہے کہ لوگ کہیں کہ اس کی خصوصیات معلوم ہوگئیں ہیں،پس ایسی شے کی بیع سلف درست نہیں جو سوائے دیکھنے کے معلوم نہ ہوتی ہو۔

2۔اس سے بیشترکہ خریدار اور فروخت کرنےوالاایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ، خریدار پوری قیمت فروخت کرنے والے کودےدےیااگر فروخت کرنے والاخریدار کااتنی ہی رقم کا مقروض ہواور خریدارکو اس سے جوکچھ لیناہواسے جنس کی قیمت میں حساب کرلے اورفروخت کرنےوالااس بات کوقبول کرئے۔

اور اگر خریدار اس جنس کی قیمت کی کچھ مقدارفروخت کرنےوالے کو دے دے ، تو اگرچہ اس مقدارکی نسبت سے معاملہ درست ہے لیکن فروخت کرنےوالا معاملہ کو فسخ کرسکتاہے ۔

3۔مدت کوٹھیک ٹھیک معین کیاجائےاوراگرفروخت کرنےوالاکہےکہ جنس کاقبضہ فصل کٹنے پردوں گاتوچونکہ اس سے مدت کاتعین ٹھیک ٹھیک  نہیں ہوتااس لیے معاملہ صحیح نہیں  ہے۔

4۔جنس کاقبضہ دینے کےلیے ایساوقت معین کیاجائےجس وقت وہ جنس اتنی کمیاب نہ ہوکہ فروخت کرنےوالا اس کاقبضہ نہ دے۔

5۔جنس کاقبضہ دینے کی جگہ کاتعین کیاجائےلیکن اگر طرفین کی باتوں سے جگہ کاپتہ چل جائےتواس کانام لینا ضروری نہیں ہے۔

6۔اس جنس کا ناپ یا تول معین کیاجائےاور جس چیزکوعموماً دیکھ کر اس کا معاملہ کیا جاتاہے، اسے بطورسلف بیچناجائزہے ،لیکن مثال کے طور پر اخروٹ اور انڈوں کی بعض قسموں میں فرق اس قدرکم ہوناچاہیےکہ عقلاء  اسے اہمیت نہ دیں۔

7۔جس چیزکو بطورسلف بیچاجائےاگروہ ان اجناس میں سے ہوجوتول کر یاناپ کر بیچی جاتی ہیں ،تواس کاعوض اسی جنس سے نہ ہو ،جیسے گندم کو گندم کے بدلےبطور سلف بیچانہیں جاسکتاہے،کیونکہ اس سے سود لازم آتاہے۔

 

شارك استفتاء

بیع سلف

مسئلہ 52: بیع سلف یعنی:خریدارقیمت دے دےاورایک مدت کےبعد جنس اپنے قبضے میں لے،اگر خریدار کہے کہ میں یہ رقم دے رہاہوں  تاکہ  چھ ماہ کےبعد فلاں جنس لےلوں اورفروخت کرنے والاکہےکہ میں نے قبول کیا یا فروخت کرنے والا رقم لےلےاورکہے کہ میں نے فلاں جنس فروخت کی تاکہ اس کا قبضہ چھ مہینے کے بعد دوں گا تو  یہ معاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ 53:سونے یاچاندی کی بیع سلف، سونے یاچاندی کے سکوں کےذریعہ سے کرنا جائز نہیں ہے،اورسونے ،چاندی کے علاؤہ دوسری چیزوں کی بیع سلف سونے اور چاندی   یاکسی دوسری متاع (پونجی)کے ساتھ ہوسکتی ہے،اوراحوط ہےکہ بیع سلف میں مبیع کے بدل میں سونے چاندی کوقراردیاجائے۔

 

1 2 3
المجموع: 28 | عرض: 11 - 20

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف