خریدار اور بیچنے والا گیارہ صورتوں میں معاملہ فسخ کرسکتے ہیں:
1۔جس مجلس میں سودا طے ہواہے،فریقین وہاں سے جدا نہ ہوئے ہوں دونوں کو معاملہ فسخ کرنے کا حق حاصل ہے ،اسے خیار مجلس کہتے ہیں،اور اگر اس مجلس سے چلے جائیں توجب تک ایک دوسرے سے جدانہ ہوں تو بھی یہ خیار دونوں کےلیےباقی رہے گا۔
2۔بیع کے معاملے میں خریدار یا بیچنے والا اوردوسرے معاملہ میں طرفین میں سے کوئی ایک مغبون ہوجائے،اسے خیار غبن کہتے ہیں،مغبون یعنی وہ شخص جسے نقصان پہنچا ہو اور جس کے ساتھ دھوکاہواہو،جسے دھوکاہواہے وہ معاملہ کو فسخ کرسکتاہے یا اس کی اسی حالت پر راضی بھی ہوسکتاہے لیکن اسے حق حاصل نہیں ہے کہ دوسری طرف کو مجبور کرئے کہ قیمت میں جو تفاوت ہے اسے دیاجائےالبتہ جب طرفین کسی قیمت پر راضی ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے ،یہ خیار بیع کے علاؤہ دوسرے معاملات میں جاری ہوتاہے جیسے اجارہ۔
3۔سوداکرتے وقت یہ طے کیاجائے کہ ایک مقررہ مدت تک دونوں کویاکسی ایک فریق کو سودا فسخ کرنے کا اختیار ہوگا،اسے خیار شرط کہتے ہیں۔
4۔فریقین معاملہ میں سے ایک فریق اپنے مال کو اس کی اصلیت سے بہتر بتاکر پیش کرئے،جس کی وجہ سے اس مال کی قیمت لوگوں کی نظروں میں بڑھ جائےاس صورت میں دوسری طرف کےلیے خیار ثابت ہوجائےگا ،اسے خیار تدلیس کہتے ہیں۔
5۔فریقین معاملہ میں سے ایک فریق دوسرے کےساتھ شرط کرئے کہ وہ ایک کام سرانجام دے گا ،جیسے ختم قرآن یا کسی معصوم کی زیارت کی شرط کرئےاور اس شرط پر عمل نہ ہو یایہ شرط کی جائے کہ ایک فریق دوسرے کو ایک مخصوص قسم کامال دے گااورجومال دیاجائےاس میں وہ خصوصیت نہ ہو ،اس میں شرط کرنے والا معاملہ کوفسخ کرسکتاہے،اسے خیار خلف شرط کہتے ہیں۔
6۔دی جانے والی جنس یااس کے عوض میں کوئی عیب ہو اس صورت میں جسے عیبدار شے ملی ہے اس کے لیےخیار ثابت ہوگا،اسے خیار عیب کہتے ہیں۔
7۔یہ پتہ چلے کہ فریقین نے جس جنس کامعاملہ کیاہے ،اس کی کچھ مقدار کسی اور شخص کامال ہے،اس صورت میں اگر اس مقدار کامالک سودے پر راضی نہ ہو توخریدنے والاسودا فسخ کرسکتاہےاسے خیارتبعیض الصفقہ(یاخیار شرکت) کہتے ہیں ،جیسے ایک کتاب کاایک سیٹ خرید کرئےاور پتہ چلےکہ اس کی کچھ جلدیں اس کی نہیں ہیں اوراس کامالک فروخت کرنے پر راضی نہیں ہے۔
8۔جس معین جنس کو دوسرے فریق نے نہ دیکھا ہو ،اگر اس جنس کا مالک اسے اس کی خصوصیات بتائےاور بعد میں معلوم ہو کہ جوخصوصیات اس نے بتائیں تھیں ،وہ اس جنس میں نہیں ہیں،تو دوسرا فریق (مشتری)معاملہ فسخ کرسکتا ہے،اسے خیاررؤیت کہتے ہیں۔
9۔اگر خریدار جنس کی قیمت دینے میں تاخیرکرئےاور تین دن تک قیمت نہ دے تواگر بیچنے والے نے وہ جنس خریدارکے حوالے نہ کی ہو تووہ بیع فسخ کر سکتا ہے ، بشرطیکہ قیمت کی تاخیر معاملہ میں نہ کی ہو اور نہ ہی قیمت کی جلدادائیگی کو شرط کیاہو یا عرف کی عادت کے مطابق معاملہ کی طبعیت جلد ادائیگی کاتقاضا کرتی ہو،ورنہ شرط کے مطابق عمل کیاجائےگاخواہ تاخیر ہو یا تعجیل ہو ۔
لیکن جوجنس خریدار نے خریدی ہےاگر وہ بعض ایسے میووں کی طرح ہو جوایک دن باقی رہنےسےضایع ہوجاتے ہیں،یابازار سے ختم ہوجاتے ہیں،اوریہ اُس وقت یا رات تک اس کی قیمت نہ دے اوریہ شرط بھی نہ کی ہوکہ قیمت دینے میں تاخیر کرئے گاتو بیچنے والا سودا فسخ کرسکتا ہے،اسے خیارتاخیر کہتے ہیں۔
10۔جس شخص نے کوئی جانور خریداہو وہ تین دن تک سودا فسخ کر سکتا ہے ، اور جوچیزاس نے بیچی ہو اگراس کے عوض میں خریدار نے جانور دیاہوتو جانور بیچنے والا بھی تین دن تک سودافسخ کرسکتاہے ،اسے خیار حیوان کہتے ہیں۔
11۔بیچنے والے نے جوچیز بیچی ہو، اگر اس کاقبضہ نہ دے سکے مثلاً جو گھوڑا اس نے بیچا ہو وہ بھاگ گیاہو تواس صورت میں خریدار سودافسخ کرسکتاہے،اسے خیار تعذر تسلیم کہتے ہیں ۔
مسئلہ69:جب فروخت کرنےوالا جنس کومشتری کے حوالے کرنے پر قدرت نہ رکھتاہو کیونکہ وہ آسمانی یازمینی آفت کی وجہ سے تلف ہوجائے تو مشتری کےلیے خیار نہیں ہوگا،بلکہ معاملہ اصل سے باطل ہوگااور بیچنے والا قیمت خریدار کو واپس کرئے گااور اسی کی مثل ہے جب بیچنے والے کوقیمت دینے سے پہلے قیمت تلف ہوجائےتوبیع فسخ ہوجائے گی اور جنس بیجنے والے کوواپس کردی جائے ،اورجو جنس عادۃ ً مشتری تک پہنچ نہ سکتی ہو وہ تلف کے حکم میں ہوتی ہے،جیسے وحشی پرندہ اڑ جائے یامچھلی دریا میں گرجائےیا مال چوری ہوجائے،جس پر نشانی نہ ہو اور اس کی مثل دیگر اشیاء۔
مسئلہ70:جب مشتری جنس کی قیمت کو نہ جانتاہو یابیع کے وقت قیمت سے غافل ہو اور اسے عادی قیمت سے زیادہ میں خرید کرئے،اگرقیمت کافرق ایساہوجس کی پرواہ کی جاسکتی ہو اور اس میں جسے دھوکا ہواہے اسے معاملہ فسخ کرنے کااختیارہے،یہی حکم ہے جب بائع کو جنس کی قیمت معلوم نہ ہو یااس کی قیمت سے غافل ہو یا عادی قیمت سے کم قیمت پر فروخت کرئے ،اگر قیمت کافرق ایساہو جس کی پرواہ کی جاسکتی ہو تو اسے معاملہ کے فسخ کرنے کا اختیار ہے ۔
مسئلہ71:بیع شرط نامی معاملہ کرنا صحیح ہے اور وہ گھر کی بیع ہے جس کی قیمت یہ ہوکہ ہزار روپے کا مکان دوسو روپے میں بیچ دیاجائے اور شرط کی جائےکہ اگر بیچنے والا مقررہ مدت تک رقم واپس کردے تومعاملہ فسخ کرسکتاہے ،یہ اس وقت ہے ، جب خریدار اوربیچنےوالاخرید وفروخت کی نیت رکھتے ہوں تومعاملہ صحیح ہے، یہ صورت نہ ہوتو ان کے درمیان بیع ثابت ہی نہیں ہوگی ۔
مسئلہ72:بیع شرط کے معاملہ میں اگربیچنے والےکواطمینان ہوکہ خواہ وہ مقررہ مدت میں رقم واپس نہ بھی کرئےخریداراملاک اسے واپس کردےگاتو سوداصحیح ہے،لیکن اگروہ مدت ختم ہونے تک رقم واپس نہ کرےتووہ خریدارسے املاک کی واپسی کا مطالبہ کرنے کاحق نہیں رکھتا اور اگر خریدار مرجائےتو اس کے ورثاء سےبھی املاک کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔
مسئلہ73:اگرمشتری کو پتہ چلے کہ میں نے جوشے خرید کی ہے اس میں عیب ہے، جیسے جانور خرید کرئےاورپتہ چلے کہ وہ کاناہے تو خریدار معاملہ کو فسخ کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ عیب بیع سے پہلے کاہو ،اگرچہ وہ مال واپس کروانے کی قدرت نہ رکھتا ہو ،اس لیے کہ اس میں تغییر پیداہوگئی ہو یا اس میں ایساتصرف کرئےجوواپسی کی راہ میں رکاوٹ ہو، پس اس صورت میں وہ رقم واپس لےسکتاہےاور اس میں صحیح اور عیب دار شے کی قیمت کو دیکھاجائے گا،مثلاً اگراس نے کوئی مال چارروپے میں خریدا ہو اوراسےاس کے عیب دار ہونے کاعلم ہوجائے تواگراس مال کے بےعیب ہونے کی صورت میں اس کی قیمت آٹھ روپے اورعیب دارہونے کی صورت میں چھ روپے ہو توچونکہ بے عیب اور عیب دار کی قیمت کافرق ایک چوتھائی ہے اس لیےاس نے جتنی رقم دی ہے اس کاایک چوتھائی یعنی ایک روپیہ بیچنےوالے سے لےلے۔
اوراگر بیچاہوامال معین نہ ہو اورعقد کلی پر ہواورجو مال دیاجائےوہ عیب دارہو تواسے معاملہ فسخ کرنےیا تفاوت کے مطالبہ کاحق نہیں ہے ،بلکہ وہ صحیح مال میں سے کسی دوسرے فرد کا مطالبہ کرسکتا ہے ۔
مسئلہ74:اگر بیچنے والے کو پتہ چلےکہ اس نے جس چیز کے عوض اپنامال بیچاہے ،اس میں عیب ہے اوروہ عیب مال کےعوض میں دی گئی چیز میں سودے سےپہلے موجود ہو تووہ سودافسخ کرسکتاہے اورجوکچھ اسے اس مال کے عوض میں ملاہے ،اسے اس کے مالک کو واپس کرسکتاہے ،اور اگر تبدیلی یاتصرف کی وجہ سے واپس نہ کرسکے تواسے حق حاصل ہےکہ مشتری سے صحیح وسالم اور عیب دار کی قیمت کاتفاوت وصول کرلے، ،جس ذکر سابقہ مسئلہ میں کیاگیاہے۔
جب قیمت کلی ہو جو معین نہ کی گئی ہو (جیساکہ یہ اکثر معاملات میں ہوتاہے)اور بیچنے والے کو پتہ چلےکہ مجھے جوفرد دیاگیاہےاس میں عیب ہےتووہ بیع کو فسخ نہیں کرسکتاہےاور نہ ہی قیمت کے تفاوت کامطالبہ کرسکتاہے،بلکہ وہ قیمت کے دوسرے فرد کا مطالبہ کرسکتاہے۔
مسئلہ75:اگرسوداکرنے کےبعد اور قبضہ دینے سے پہلے مال میں کوئی عیب پیداہوجائے توخریدار سودا فسخ کرسکتاہے اورجوچیز مال کے عوض دی جائے،اگراس میں سودا کرنےکےبعد اور قبضہ دینے سے پہلے کوئی عیب پیداہوجائے تو بیچنے والا سودےکو فسخ کرسکتاہے،لیکن اگر فریقین قیمت کافرق لیناچاہیں تواس میں اشکال ہے،احتیاط کی بناپر دونوں کو ایک دوسرے سے راضی ہوناچاہیے ۔
لیکن اگر مال لینے پرقدرت نہ رکھتاہوتو صحیح اور عیب دار والی قیمت کے تفاوت کا مطالبہ کرناجائز ہے۔
مسئلہ76:ظاہر ہے کہ خیار عیب میں یہ ضروری نہیں ہےکہ وہ فوراً سودے کوفسخ کردے ، بلکہ وہ بعد میں بھی سودافسخ کرنے کاحق رکھتاہے،مگرجب عرف کی نظر میں ،اس کواس قدر معاملے کے فسخ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ دوسری جانب کےلیےضرر کاباعث ہو،اس فسخ کے جاری کرنے میں دوسری جانب کا موجود ہونامعتبر نہیں ہے۔