اجارہ کی بابت مسائل
اجارہ کی بابت مسائل:
مسئلہ 146:امام حسین علیہ السلام اوردیگر آئمہ طاہرین علیہم السلام کے فضائل و مصائب اور مجالس وعظ و نصیحت اور اس کی مثل خطابات پر اجرت وصول کرنے کا کوئی حرج نہیں ہے اور اسے غرض قرار دینا ایک مرجوح اخلاقی امرہے۔
مسئلہ 147:زندہ شخص کی واجب عبادات کی طرف سے واجب عبادات اجرت پر اداکرنااورادا کرواناجائز نہیں ہے سوائے حج کے،کیونکہ اگر کسی شخص پر استطاعت کی وجہ سے حج واجب ہو اور وہ خود حج اداکرنے سے عاجز ہوتو کسی کو نائب بنا کر حج کراسکتاہے۔
کسی دوسرے کی مستحب عبادات اجرت پر ادا کرناجائزہے مگر کسی کے مستحب نماز ، روزےکے جواز میں اشکال ہے ،اوراگر ان کو رجاء کی نیت سے یا اجارہ کے علاؤہ بجا لایا جائے توکوئی حرج نہیں ہے جیسے کسی کی طرف سے ان عبادات کو بجالایاجائے اور ان کاثواب زندہ کو ہدیہ کیاجائے ۔
میت کی طرف سے اس کی واجب اورمستحب عبادات کااجرت پراداکرنا جائز ہے۔
مسئلہ148:حلال وحرام کے مسائل کی تعلیم دینےپر اجرت لیناجائز نہیں ہے ، واجبات کی تعلیم مثل نماز روزہ وغیرہ جو بنابراحتیاط محل ابتلاء ہوتے ہیں،بلکہ ان کے غیر میں بھی اشکال ہے،اموات کوغسل وکفن اوردفن کرنے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔
ہاں! ان امور میں واجب مقدار سے زائد خصوصیات کے انجام دینے پر اجرت لی جاسکتی ہے۔
مسئلہ149:اجرت میں معتبرہے کہ معلوم ہو پس اگر یہ ناپ یاتول سے ہو تب بھی معلوم ہو اور اگر شمارسے ہوجیسےروپے تب بھی معلوم ہو اور ایسی شے سے ہو جس کومعاملات میں دیکھ کر سودا کیاجاتاہے توضروری کہ اجرت لینے والااسے دیکھ لے ، یا دینے والا اس کی خصوصیات کوبیان کردے۔
مسئلہ150:عقد اجارہ کے واقع ہوتے ہی اجیر اجرت کا مالک اور کام کرنے کا پابند ہوجاتاہے،حق کامطالبہ ان شاء اللہ اگلے مسئلہ میں بیان ہوگا ،اس مسئلہ پر بعض ثمرات اور نتایج مترتب ہوتے ہیں جو مسئلہ 163میں بیان کیےگئے ہیں۔
مسئلہ151:عین مستاجرہ کاقبضہ دینے سے قبل موجر اجرت کامطالبہ نہیں کرسکتا،اسی طرح اجیر کام انجام دینے سےقبل اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا،مگر جب ایساہوکہ اجرت سے کام چلتاہو یا اجرت کے پہلے دینے کا رواج ہو جس سے کام کی تیاری ہوجاتی ہوجیسے حج کی اجرت یا عقدمیں پیشگی اجرت کی شرط لگائی گئی ہو۔
مسئلہ152:جب موجر عین مستاجرہ میں تصرف کرنے کی قدرت رکھتاہو تو مستاجر پر اجرت کا تسلیم کرناواجب ہے،اگرچہ عین مستاجرہ کو سپرد نہ کیا جائےیا اس سے کچھ مدت یاتمام مدت میں استفادہ نہ کیا جائے۔
مسئلہ153:جب کوئی خود کو کسی کام کےلیے اجیربنائے اور خود کو مستاجرکےقبضے میں کام کرنے کےلیے دےتو وہ اجرت کامستحق بن جاتاہے،اگرچہ اس نے پوراکام انجام نہ دیاہو،مثلاً درزی مقررہ دن میں کپڑے سیلائی کرنے کےلیے خود کواجیر قراردے،اوراُس دن میں کام کےلیےحاضرہوجائےتو مستاجرپر واجب ہےکہ درزی کو اجرت دے ،اگرچہ سیلائی کےلیے کپڑا درزی کےحوالے نہ کیاہو،اس دن اجیر فارغ ہو یااپنے یاکسی دوسرے کے کام میں مصروف ہو۔
مسئلہ154:اگراجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد پتہ چلے کہ اجارہ توباطل تھا ، تو مستاجر پر اجرت المثل کادینا واجب ہے ،پس اگر ایک سوروپے میں گھر اجارہ پردیا جائے اوراجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد پتہ چلےکہ اجارہ باطل ہے ،اگراس کی متعارف اجرت پچاس روپے ہو تو مستاجر پر پچاس روپے سے زائد دیناواجب نہیں ہے،اوراگر اس کی متعارف اجرت دوسو روپےہواور موجر مالک ہو یااس کاوکیل ہوتو اسے اجرت مسمی سے زائدوصول کرنےکاحق نہیں ہے(اوروہ اجرت مسمی ایک سو روپے ہے)اگر مدت کےدوران پتہ چلےکہ اجارہ باطل ہے تو اس کاحکم گزرے ہوئے وقت کی نسبت وہی ہے جو ساری مدت کےبعد باطل کےپتہ چلنے کاہے۔
مسئلہ155:جب عین مستاجرہ تلف ہوجائےاورمستاجر نے جان بوجھ کراسےتلف نہ کیاہواور اس کی حفاظت میں کوئی کوتاہی بھی نہ کی ہوتووہ اس کا ضامن نہیں ہو گا ، یہی حال ہےجب اجیرکےپاس سے مال تلف ہوجائے جیسے درزی ،وہ کپڑے کے تلف ہوجانے پر ضامن نہیں ہوگا بشرطیکہ اس نے کسی قسم کی زیادتی یا کوتاہی نہ کی ہو۔
مسئلہ156:جب قصاب بغیر شرعی طریقہ کے جانور کو ذبح کرئےتو وہ اس کاضامن ہوگا،خواہ اجیر ہویا خوشی بخوشی ذبح کیاہو۔
مسئلہ157:جب معلوم مقدار سامان لوڈ کرنے کےلیے گاڑی کرایہ پرلی جائےاور اس پر اس مقدارسے زیادہ مال لاد دیاجائے جس سے گاڑی خراب یاعیب دار ہو جائے تووہ اس کاضامن ہوگا۔
یہی حکم ہے جب مقدار معین نہ کی گئی ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ مال لاد دیا جائے ، دونوں فرض کے مطابق اس پر واجب ہےکہ زیادہ والے مال کی اجرت دے۔
مسئلہ158:اگر شیشہ اٹھانے کے لیے جانور کرایہ پر لیاجائے اور وہ کودے جس سے شیشہ ٹوٹ جائے تو وہ ضامن نہیں ہوگا مگر جب وہ اسے مارے اور وہ اس کی وجہ سے کودپڑے۔
مسئلہ159:بچے کا ختنہ کرنے والابچے کاختنہ کرئےاوراسے نقصان پہنچ جائےیہاں تک کہ اس سے اُس کی موت واقع ہوجائے ،اب اگر وہ تجربہ کار اور اہل خبر میں سے ہو اور اپنے کام میں کوتاہی نہ کرئے توضامن نہیں ہوگا،جیسے اس وقت اس کے پاس کفایت کرنےوالے لوازمات موجود نہ ہوں یا بچے کی بابت ختنے کی قابلیت مشخص نہ ہوئی ہو،اگریہ امر اسی کی طرف موکول ہو اور اسے فقط ختنہ کرنےکی تکلیف نہ دی گئی ہو،اور اس نے تجاوز نہ کیاہوجیسے معمول والی حد سے زیادہ گوشت نہ کاٹا ہو اور اپنے علم میں کوتاہی نہ کی ہو ،جس سے نقصان پہنچ سکتاہو۔
مسئلہ160:اگرڈاکٹر کسی مریض کا خود علاج کرئےیا اس کی سرجری کرئے،جواپنے پیشہ میں مہارت رکھتا ہو،اور پوری کوشش کرکے درست تشخیص کرئےاور دقت سے آپریشن کرئے ،لیکن اتفاقاً مریض کو نقصان پہنچ جائے ،یامریض کی موت واقع ہوجائے،تو ڈاکٹر اس کا ضامن نہیں ہوگا،ڈاکٹر کےلیے احوط ہے کہ آپریشن اور علاج سے قبل لکھوالےکہ نقصان کی صورت میں ڈاکٹر ذمہ دار نہیں ہوگا۔
مسئلہ161:جس شخص نے کوئی شے اجارے پر دی ہو وہ اور مستاجر ایک دوسرے کی رضایت سے اجارہ کو فسخ کردیں تواجارہ فسخ ہوجاتاہے ،اسی طرح اگر اجارے میں شرط عائد کریں کہ وہ دونوں یاان میں سےایک معاملے کو فسخ کرنے کا حق رکھتاہے تو معاہدے کے مطابق اجارہ فسخ کرسکتے ہیں۔
مسئلہ162:اگر مال اجارہ پر دینےوالے یامستاجر کوپتہ چلےکہ وہ گھاٹے میں رہاہے ،اگر اجارہ کرنے کے وقت وہ اس امر کی جانب متوجہ نہ تھا کہ وہ گھاٹے میں ہے تو وہ اجارہ فسخ کرسکتاہے ،لیکن اگراجارے کے صیغے میں یہ شرط عائد کی جائےکہ اگران میں سے کوئی گھاٹے میں بھی رہے گا تواسے اجارہ کے فسخ کرنے کا حق نہیں ہو گا تو پھر وہ اجارہ فسخ نہیں کرسکتا۔
مسئلہ163:اگرکوئی شخص کوئی شے اجارے پردےاوراس سے بیشتر کہ اس کاقبضہ مستاجرکودے کوئی اور شخص اس شے کوغصب کرلے تومستاجر اجارہ فسخ کرسکتاہے اور جوشےاس نے اجارہ پر دینے والےکودی ہو اسے واپس لے سکتاہےیایہ بھی کر سکتاہےکہ اجارہ فسخ نہ کرئےاور جتنی مدت وہ شے غاصب کے پاس رہی ہو اس کی عام طور پر جتنی اجرت بنتی ہو ، وہ غاصب سے طلب کرلے ،لہذااگر مستاجر ایک جانور کا ایک مہینہ کا اجارہ دس روپے کےعوض کرئےاورکوئی شخص اس جانورکو دس دن کےلیے غصب کرلے اورعام طور پر اس کا دس دن کااجارہ پندرہ روپے ہو تو مستاجر پندرہ روپے غاصب سے لے سکتاہے۔
مسئلہ164:اگرمستاجر اجارہ والی شے کو اپنی تحویل میں لے چکاہو اور اس کے بعد کوئی مانع پیداہوجائے تو وہ اجارہ کو فسخ نہیں کرسکتا ،مثلاً کوئی اسے غصب کر لے تو صرف اتناکرسکتاہے کہ اس شے کاعام طور پر جتنا کرایہ بنتاہے وہ غاصب سے حاصل کرلے۔
مسئلہ165:اگرموجر اجارہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے اجارہ شدہ شے کو فروخت کردے تواجارہ باطل نہیں ہوگا،وہ مستاجرپر فروخت کرئے یا کسی اور پر فروخت کرئے ۔
مسئلہ166:اگر اجارہ شدہ شے قابل استفادہ نہ رہے یا اس سے مقصود استفادہ حاصل نہ کیاسکتا ہوتواجارہ باطل ہوجاتاہے،جب کوئی ایک سال کے لیے گھر اجارہ پرلے اور سال شروع ہونے سے پہلے مکان گرجائےتواجارہ باطل ہوجائے گا،اور اگر سال کے دوران مکان گرجائےتو باقیماندہ مدت کےلیے اجارہ باطل ہو جائے گا ، مستاجر گزشتہ مدت کی نسبت اجارہ فسخ کرسکتاہے،اورجب اجارہ باطل کرئےگاتو اس گزشتہ مدت کی اجرت المثل دےگا،اور اگراجارہ کوفسخ نہ کرئےتو اجارہ کےمبلغ کو باقی اور گزشتہ مدت پرتقسیم کیاجائےگا،اور مالک گزشتہ مدت کے کرایہ لینے کا مستحق ہوگا۔
مسئلہ167:اگرکوئی شخص ایسامکان کرایہ پردے جس کے دوکمرے ہوں اوران میں سے ایک کمرہ خراب ہوجائے لیکن وہ فوراً اس کی مرمت کرادے اوراس سےجوفائدہ اٹھایاجاسکتا ہواس میں کوئی فرق نہ پڑے تواجارہ باطل نہیں ہوتا،اور مستاجر بھی اسے فسخ نہیں کرسکتا ،لیکن اگر اس کمرے کی مرمت میں اتناوقت لگ جائے کہ مستاجر کواس سے جواستفادہ کرناہو اس کی کچھ مقدارضایع ہوجائے تواس مقدارکی حد تک اجارہ باطل ہوجائےگا اورمستاجرساری مدت کےلیے اجارہ فسخ کرسکتاہے اورجتنے دن استفادہ کیا ہو اس کی اجرت المثل دے سکتاہے۔
مسئلہ168:اگر مال اجارہ پر دینے والا یامستاجر مرجائے تواجارہ باطل نہیں ہوتا،ہاں اگر اجارہ پردینے والےکامکان اپنانہ ہو مثلاً کسی دوسرے شخص نے وصیت کی ہوکہ جب تک وہ (اجارہ پر دینےوالا)زندہ ہے مکان کی آمدنی اس کامال ہوگا تو اگر وہ مکان کرایہ پر دےدے اوراجارہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے مرجائےتو اس کے مرنے کے وقت سے اجارہ باطل ہوگا ۔
مسئلہ169:اگرکوئی کام کرانے والاشخص کسی کو اس مقصد سے وکیل بنائےکہ وہ اس کے لیےکاری گر مہیا کردے تو اگر کاری گر نے جوکچھ اس شخص سے لیا ہے کاری گر کو اس سے کم دے توزائد اس پرحرام ہے اوراسے چاہیے کہ وہ رقم مالک کو واپس دےدے۔
مسئلہ170:جب کوئی کسی کو کام کےلیےاجیر بنائے کہ اس کام کواس مخصوص طریقہ سے کرناہے یا فلاں وقت میں کرناہے یافلاں مکان میں کرناہے اور اجیر اس کی مخالفت کرئے تواجیر کسی اجرت کامستحق نہیں ہوگا،اور اگر وہ اپنے کیےکاتدارک نہ کرسکے تو جونقصان کیا ہے اس کاضامن ہوگا ،اور اگر اس کے لیے تدارک ممکن ہوتو جیسامالک چاہتاہے ویساکرے۔