احکام شفعہ

| |عدد القراءات : 1
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

احکام شفعہ

جب کوئی ایک شریک اپناحصہ کسی تیسرے شخص پر فروخت کردے تواس کے شریک کو حق حاصل ہے کہ وہ بیچے ہوئے مال کواسی قیمت پرلےلے جو بیع میں مقرر کی گئی ہے ،اس حق کوشفعہ کہتے ہیں ۔

مسئلہ 103: غیر منقول مال کی بیع میں شفعہ تب ثابت ہوتاہے جب وہ مال تقسیم کو قبول کرتاہو جیسے اراضی ،مکانات،باغات اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

کیا شفعہ   منقول مال میں ثابت ہوتا ہے جیسے آلات ،کپڑے ،حیوان؟اور کیا شفعہ ایسے مال میں ثابت ہوتاہے جو غیرمنقول ہولیکن تقسیم کو قبول نہ کرتاہو؟یہاں دوقول ہیں:

اول ۔ثابت ہوتاہے۔

دوم ۔ثابت نہیں ہوتاہے۔

ان میں سے اقوی پہلا قول ہے،احوط ہےکہ  شفعہ کی بابت شریک خریدار کی رضایت لےلے،اور خریدار شریک کی مانگ کو قبول کرئے،اسی طرح ان دونوں کے لیے یہ چند چیزوں میں احوط ہے :کشتی،نہر،راستہ ،حمام اور چکی۔ 

مسئلہ 104:غیر مسکن  اوراراضی میں شفعہ بیع کے ساتھ مختص ہے ،جب مشترک جزء ہبہ معوضہ یا مصالحت یاان کے علاؤہ کسی شے سے منتقل ہو تو شریک شفعہ نہیں کرسکتا،مسکن اور زمین  میں شفعہ  کابیع کےساتھ مختص ہونا محل اشکال ہے،زیادہ مناسب احتیاط کےمقتضیات کی رعایت ہے۔ 

مسئلہ105:جب وقف کو ایسے مورد میں فروخت کیا جائے جس میں اس کا بیچناجائز ہو ،یہاں شریک کے لیے شفعہ کاحق ثابت ہے۔

مسئلہ 106:شفعہ کے ثبوت میں شرط ہے کہ  جوشے بیچی گئی ہے وہ دولوگوں کے درمیان مشترک ہو ،اگر تین لوگوں یااس سے زیادہ کے درمیان مشترک ہو اوراُن میں سے ایک شخص فروخت کردے تو کسی  ایک کو شفعہ کاحق نہیں ہے،اوراگر سوائے  ایک شخص کے باقی سب لوگ فروخت کردیں توکیااس ایک کو شفعہ کاحق ہے یا نہیں ؟اس میں اشکال ہے بلکہ یہ شفعہ  ممنوع ہے۔

مسئلہ107:شفعہ میں معتبر ہے کہ شفعہ کرنے والا مسلمان ہو،جب خریدار مسلمان ہو تو کافر کو مسلمان پر شفعہ کرنے کاحق نہیں ہے،اگرچہ اس نے کافر سے خرید کیا ہو ،مسلمان کےلیے کافر پر شفعہ ثابت ہے اور کافر کےلیے کافر پر شفعہ ثابت ہے۔

مسئلہ108:شفعہ کرنے والے میں شرط ہےکہ وہ قیمت ادا کرنے پرقادر ہو ،پس عاجز شخص کے لیے شفعہ ثابت نہیں ہے اگرچہ رہن کوخرچ کرئےیا کوئی اس کی ضمانت دینے والاہو،مگریہ کہ اس پر خریدارراضی ہوجائے۔

ہاں، اگر کہے کہ میرے پیسے دوسرے شہر میں ہیں تواسے وہاں سے پیسے منگوانے کےلیے مہلت دی جائے گی،اور تین دن زیادہ کئے جائیں گے اگر مہلت پوری ہو جائےاور پیسے نہ ملیں تو وہ شفعہ نہیں کرسکتاہے،اس کی ابتداء شفعہ لینے کاوقت ہے ،بیع کاوقت نہیں ہے۔

مسئلہ109:شفعہ کرنےوالا قیمت ہی  کو شفعہ میں قراردے، اس سے کم وزیادہ  نہیں ،اور بنابر قدرت کے عین قیمت کالین دین لازمی نہیں ہے،بلکہ اگر قیمت مثلی ہوتو اس کی مثل دےسکتاہے ۔

مسئلہ110:ثمن قیمی میں ،شفعہ کےثبوت میں ،مبیع کواس کی قیمت کےساتھ اخذ کرنےمیں دوقول ہیں:

مبیع کو اس کی قیمت کے ساتھ اخذ کرئے۔

مبیع کواس کی قیمت کے ساتھ اخذ نہ کرئے،یہی قول اقوی ہے۔

مسئلہ111:اقوی ہےکہ شفعہ کواخذ کرنےمیں جلدی سے کام لے ٹال مٹول اور بغیرعذر کے تاخیر کرئےگاتوشفعہ ساقط ہوجائے گا،اور اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر کرئےتو شفعہ ساقط نہیں ہوگا،جیسے اسے بیع کاپتہ نہیں تھایا اسے پتہ نہیں تھا کہ شفعہ کرسکتاہوں یانہیں؟یااسے گمان تھا کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اب اسے پتہ چلےکہ قیمت تو کم ہے،یایہ سمجھتاہوکہ زیدنے خرید کیاہے اور پتہ کہ اسے تو عمرو نے خریدکیاہے یااس نے اسے اپنے لیے خریدکیاہو اور پتہ چلےکہ اس نے کسی کےلیے خریدا ہےیااس کے برعکس ہو،یایہ ایک ہے اور دو ظاہر ہوں ،یااس کے برعکس ہو ، یا مبیع پچاس کی ہے اور پتہ چلے کہ چوتھائی پچاس کی ہے یا قیمت سونے میں ہے اور پتہ چلے کہ چاندی میں ہے،یااس لیے کہ وہ نا حق  قیدہےیا ایسے حق کی وجہ سے قید ہے جسے اداکرنے سے عاجز ہے اور اس قسم کے دیگرعذر۔