احکام مساقات

| |عدد القراءات : 1
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

احکام مساقات

مسئلہ196:مساقات یعنی انسان اس قسم کامعاملہ کرئے کہ  میوہ دار درختوں جن کا پھل خوداس کامال ہو یااس پھل پراس کااختیار ہو ایک مقرر مدت کےلیے کسی دوسرے شخص کے سپرد کردےتاکہ وہ ان کی نگہداشت کرئےاورانہیں پانی دے اور جتنی مقداروہ آپس  میں طے کریں ،اس کے مطابق وہ ان درختوں کاپھل لےلے ،ایسامعاملہ مساقات ہے۔

مسئلہ197:جو درخت پھل نہیں دیتے جیسے بید اور چنار ،ان کے بارے میں مساقات  کاعقد جاری کرنادرست نہیں ہے، اور جن درختوں کے پتوں سے استفادہ کیا جاتا ہےجیسے مہندی کادرخت ان کے بارے میں مساقات کامعاملہ کرنے میں اشکال  ہے۔

مسئلہ198:مساقات کے معاملہ میں صیغہ پڑھناضروری نہیں ہے بلکہ اگردرخت کامالک مساقات کی نیت سے اسےکسی کے سپرد کردے اور جس  شخص کو کام کرنا ہو وہ بھی اسی نیت سے کام میں مشغول ہوجائے تومعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ199:درختوں کامالک اور جوشخص درختوں کی نگہداشت کی ذمہ داری لے ، دونوں بالغ اورعاقل ہوں اور یہ بھی ضروری ہےکہ کسی نے انہیں معاملہ کرنے پر مجبور نہ کیا ہو اور لازم ہے کہ سفیہ نہ ہوں یعنی اپنامال بیہودہ کاموں صرف نہ کرتے ہوں۔

مسئلہ200:مساقات کی مدت متعین ہونی چاہیے،اگر فریقین اس مدت کی ابتداء مقرر کردیں اور اس کااختتام اس وقت کوقراردیں جب اس سے پھل دستیاب ہو تومعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ201:ہرفریق کاحصہ نصف یاایک تہائی وغیرہ ہونا چاہیے اگر معاہدہ کریں کہ دس من میوہ مالک کااور باقی کام کرنے والے کاہوگاتو مساقات باطل ہوجائے گی۔