احکام مضاربہ

| |عدد القراءات : 1
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

احکام مضاربہ

مسئلہ190:مضاربہ یعنی انسان کسی دوسرے کو تجارت کےلیے مال دےتاکہ منافع ان کے درمیان نصف یا ایک تہائی تقسیم ہو۔

مضاربہ میں چندامور معتبر ہیں:

1۔ایجاب وقبول،ان میں  لفظ  یا کوئی اور شے جو ایجاب وقبول پر دلالت کرئے کافی ہے،ان میں عربی اور ماضی  معتبر نہیں ہے۔

2۔مالک اور عامل میں سے ہرایک بالغ ، عاقل ہوں  اور اپنے اختیار سے معاہدہ طے کریں،اور بیہودہ کام میں مال صرف کرنے کی وجہ یامفلسی کی وجہ سے مال میں تصرف کرنے سے روک نہ دیاگیاہویہ مالک میں معتبر ہے اور عامل میں معتبر نہیں ہے۔

3۔دونوں میں سے ہرایک کے حصہ کو نصف یا ایک تہائی معین کیاجائے مگر جہاں معمول کے مطابق حصہ چلتاہو جس کی طرف اطلاق کاانصراف ہوتاہو۔

4۔ منافع دونوں کے درمیان بانٹاجائےگا،اگر کسی اجنبی کےلیے اُس سے کچھ مقدار شرط کی گئی ہو تومضاربہ صحیح نہیں ہوگا مگر جب اس اجنبی سے تجارت کے متعلق کام کی شرط لگائی گئی ہو۔

5۔عامل تجارت کرنے کی قدرت رکھتا ہو جس میں خود کا کام کرنامقصود ہواور اگر وہ تجارت کرنے سے عاجز ہوتو مضاربہ صحیح نہیں ہوگا۔

یہ اس وقت ہے جب قید لگائی گئی ہوکہ عامل خود کام کرئے گا،لیکن جب اسے شرط نہ کیاگیاہوتو مضاربہ باطل نہیں ہوگا، اگر شرط کی خلاف ورزی کی جائے تو مالک کو معاملہ کے فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔

لیکن جب نہ یہ صورت  ہو اور نہ ہی وہ صورت ہو،اورعامل تجارت کرنے سے عاجز ہو،یہاں تک کہ کسی دوسرے کی  مدد سے بھی تجارت نہ کرسکتاہو تومضاربہ باطل ہوجاتاہے ،خواہ وہ پہلے سے عاجز ہو یا بعد میں عاجز ہواہو ،پس عاجز ہوتے ہی مضاربہ باطل ہوجائے گا۔

6۔جو مال مضاربہ کے لیےدیاجائے وہ علاقائی کرنسی ہویا انٹرنیشنل کرنسی ہو ،صحیح نہیں ہےکہ جمع پونجی کو مال قراردے کر مضاربہ کےلیے دیاجائےیا قرض کو مضاربہ   کےلیے دیاجائےجو عامل کے ذمہ میں ہو،یہاں تک کہ قرض کوپہلے وصول کرئےاور پھر اسے مضاربہ کےلیےمال قراردےکردے۔

مسئلہ190:اگرعامل کاروبار میں کوتاہی نہ کرئے اور نقصان ہوجائے تو نقصان کی بھرپائی عامل پر نہیں ہوگی اورجب مالک عقد کے ضمن میں عامل پر شرط لگائے کہ منافع کی طرح ،نقصان  کی بھرپائی دونوں پرہوگی،توظاہریہ ہےکہ یہ شرط باطل ہے ،ہاں اگرمالک پر شرط عائدکرئےکہ وہ اپنے کاروبار سے نقصان کی بھرپائی کرئےگا اور یہ صورت پیداہوجائے تو صحیح ہے اور اس کاکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ191:مضاربہ کاعقد طرفین کی جانب سے جائزہے،کیونکہ یہ اذن والے عقود میں سے ہے،دونوں اسے فسخ کرسکتے ہیں ،کام شروع کرنے سےقبل ہویا کام شروع کرنے کے بعد ہو ،فائدہ حاصل ہونے سے قبل ہویافائدہ حاصل ہونے کےبعد ہو ،مطلق ہویا خاص مدت کے ساتھ مقید ہو۔

مسئلہ192:جب مضاربہ کا عقد مطلق ہوتو عامل ،بائع اور مشتری کی حیثیت سے، اس کی مصلحت کےمطابق ،اُس میں تصرف کرسکتاہے ،جنس کی نوع کی بابت کسی قسم کی کوتاہی نہ کرئےیا لاپرواہی نہ کرےیا نامناسب حرکت نہ کرئے،ہاں وہ مال کو لے کر مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شہر نہیں جاسکتاہے،مگرجب وہاں ایسا ہوتاہو اوراس کی طرف اطلاق منصرف ہو پس اگرمالک کی مخالفت کرئےاور سفر پر چلائے اور مال تلف ہوجائے تووہ اس مال کا ضامن ہوگا۔

مسئلہ193:مالک اور عامل میں سے ہرایک کی موت سے مضاربہ باطل ہو جاتا ہے ، مالک کی موت کی وجہ سے اس لیے کہ اُس کے مرنےسے مال اس کے ورثاء کی طرف  منتقل ہوجاتا ہے،اب اگر مال عامل کے ہاتھ میں رہے تواس کے لیے نئے مضاربہ کی نیاز ہوگی ،اگر ورثاء اجازت دےدیں تو صحیح ہوگا۔

مسئلہ194:آج کل کےدور میں ہےکہ ایک شخص کوکام کرنے کےلیے مال دیا جاتا ہے اور ہر معین مدت میں محدود مبلغ دیاجاتاہے ،یہ مضاربہ نہیں ہے کیونکہ اس میں  گزشتہ تیسری شرط کی محتاجی رہتی ہے ،لیکن یہ معاملہ تین شرطوں سے صحیح ہو سکتاہے :

1۔محدود مبلغ کو دیئے جانے والے مال کےلیے متعارف منافع قراردیاجائے۔

2۔عامل مال سے کام کرئے ،پس اگر اسے اپنی ضروریات میں خرچ کردے تو صاحب مال محدد لہ مبلغ کامستحق نہیں ہوگا۔

3۔ مال دینے والا  ،محدد لہ مبلغ کامستحق نہیں ہوتاہے مگر عامل کےلیے منافع کے ظاہر ہونے کے بعد اس کامستحق بنتاہے،پس اگر نقصان ہوجائے یا اس مدت میں بازار بند ہوجائےتووہ کسی شے کامطالبہ نہیں کرسکتاہے۔

مسئلہ195:مضاربہ کے مال پر جو خسارہ عائد ہوتاہے یا تلف ہوجاتاہے(جل جاتا ہے یا چوری وغیرہ ہوجاتاہے)اس کی منافع سےبھرپائی کی جائے ،جب تک کہ مضاربہ  باقی ہے ،منافع پہلے والاہویابعد میں ملے ،پس عامل  کے حصہ کی پہلے والے ، منافع کی بابت   ملکیت ساری یاکچھ متزلزل ہوتی ہے کیونکہ اسے خسارہ پڑا ہے یا بعد میں مال تلف ہو جائے ،استقرار ملکیت مضاربہ کی مدت کےختم ہونے یا معاملہ کے فسخ ہونےکےساتھ حاصل ہوتاہے،ہاں جب عامل عقد کے ضمن میں مالک پرشرط لگائے کہ منافع سے خسارہ یاتلف کے نقصان کوپورا نہیں کیاجائےگا ،خواہ خسارہ اورتلف منافع سے پہلے ہوں یااس سے بعد میں ہوں تو شرط صحیح ہے اور اس کے مطابق عمل کیاجائے گا۔

یادونوں کا معین مدت کے شروع میں حساب کیاجائے ،پس اگر دونوں کوفائدہ ہو اور وہ مدت کے شروع میں حساب کریں توہرایک کامنافع اپنے صاحب کےلیے مال مملوک  ہوجائے گااوروہ شرکت کامال نہیں رہےگا پس اس سے بعد میں ہونے والے خسارہ کی بھرپائی نہیں کی جائے گی ،کیونکہ ہرمدت کے آخر میں کام ،اذن والاجدید عقد ہوگا۔