زراعت یعنی کھتی باڑی کے احکام
زراعت یعنی کھتی باڑی کے احکام
مسئلہ 180:مزارعت یعنی زرعی زمین کامالک کاشتکار سے اس قسم کامعاہدہ کرئےکہ اپنی زمین اس کے اختیار میں دے دے تاکہ وہ اس میں کاشت کرئے اور پیداوار کی کچھ مقدار مالک کو دے دے۔
مسئلہ181:مزارعت میں چند امور معتبر ہیں:
1۔مالک کی طرف سے ایجاب ہو،مالک کاشتکار سے کہے:میں نےتجھے زمین دی تاکہ تو اسے کاشت کرے،اور کاشتکار کہے : میں نے قبول کیا،یا مالک اپنی زمین کاشتکار کو بیجنے کےلیے دے اور کاشتکار اسے کچھ کہے بغیر قبول کرلے۔
2۔دونوں بالغ ،عاقل ،اور مزارعہ کا معاہدہ اپنےقصد اور اختیار سے انجام دیں اور اپنامال بیہودہ کاموں میں صرف نہ کریں کہ جس کی وجہ سے انہیں مال میں تصرف کرنے سے روک دیاجائے۔
3۔دونوں اپنا حصہ زمین کی پیداوار سے قراردیں پس اگریہ شرط کریں کہ جو پیداوار پہلے یا آخر میں حاصل ہوگی وہ ان میں سے کسی ایک کامال ہے تو مزارعت باطل ہوگی ،مگر یہ کہ چوتھی شرط کے منافی نہ ہو۔
4۔دونوں میں سے ہرایک کاحصہ پیداوار کا نصف یا ایک تہائی ہو ،پس اگر مالک کہے:کاشت کر واور مجھے جوچاہے دے دینا،تومزارعت صحیح نہیں ہوگی ،اسی طرح اگرمالک یا کاشتکار کے لیے مقدار معین کردی جائے جیسے دس من تو مزارعت درست نہیں ہے۔
5۔کاشت کی مدت معین کرنا ،جس میں کاشتکاری کاحصول ممکن ہو اور اگرمدت کی ابتداءایک مخصوص دن اور مدت کااختتام فصل کے حاصل ہونےکو مقرر کردیں تو کافی ہے۔
6۔زمین کاشت کے قابل ہو اگراس میں کاشت ممکن نہ ہو لیکن ایسا کام کیاجائے جس سے کاشتکاری کاکام کیا جاسکتاہو جیسے سپرے وغیرہ تو مزارعہ صحیح ہوگا۔
7۔زراعت کا معین کرنا جب کہ ان دونوں کی رائے مختلف ہو،اور اگر ان دونوں کی خاص رائے نہ ہو ،یاان دونوں کی رائے ایک ہو توتعیین ضروری نہیں ہے۔
8۔زمین کامعین کرنا،اگر مالک کی زمین مختلف جگہ پر ہو اور وہ کسی ایک جگہ کو معین نہ کرئےتو مزارعت باطل ہوگی۔
9۔اخراجات کی تعیین،جو خرچ ہر ایک کو کرنا ہو اس کاعلم ہوتو پھر اس کا معین کرنا ضروری نہیں ہے۔
مسئلہ182:اگرمالک کاشتکار سے طے کرئےکہ پیداوار کی کچھ مقدار مالک کی ہوگی اور جو باقی بچے گی ،اسے آپس میں تقسیم کرلیں گے تواگر انہیں علم ہو کہ اس مقدار کو علیحدہ کرنے کے بعد کچھ نہ کچھ باقی بچ جائے گاتو مزارعہ صحیح ہے۔
مسئلہ183:اگر مزارعہ کی مدت ختم ہوجائے جو پانچویں شرط کے محقق ہونے کے لیے کافی ہو اور پیداوار ابھی دستیاب نہ ہوتو اگرمالک زمین اس بات پر راضی ہوکہ اجرت پریا بغیر اجرت کے فصل اس کی زمین میں کھڑی رہے اورکاشتکار بھی راضی ہوتو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر مالک راضی نہ ہو تووہ کاشتکار کومجبور کرسکتاہےکہ فصل زمین میں سے کاٹ لے اور اگر فصل کاٹ لینے سے کاشتکار کو کوئی نقصان پہنچے تو مالک کےلیےضروری نہیں ہے کہ اسے اس کاعوض دے لیکن اگرکاشتکار مالک کوکوئی شے دینے پر راضی ہو تب بھی وہ مالک کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ فصل اپنی زمین پر رہنے دے۔
لیکن جب عقد میں طے کی گئی مدت موضوعیت کے عنوان سے نہ ہو بلکہ طریقیت کے عنوان سے ہو یعنی مطلوبہ مدت کو فصل حاصل کرنے کےلیے معتبر قراردیاگیاہو تو مالک پر واجب ہےکہ مدت کو فصل کاٹنے کے وقت تک بڑھادیاجائے۔
مسئلہ184:اگرکوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ زمین میں کھیتی باڑی کرنا ممکن نہ ہو مثلاً زمین سے پانی منقطع ہوجائے تو مزارعہ ختم ہوجاتاہے ،اور اگر کاشتکار بلاوجہ کھیتی باڑی نہ کرئے تواگر زمین اس کے تصرف میں رہی ہو اور مالک کااس میں کوئی تصرف نہ رہاہو توکاشتکار کوچاہیے کہ عام شرح پراس مدت کی اجرت مالک کو دے۔
مسئلہ185:اگر مالک زمین اور کاشتکار صیغہ پڑھ چکے ہوں توایک دوسرے کی رضا مندی کے بغیر مزارعہ منسوخ نہیں کرسکتے اور بعید نہیں ہےکہ اگر مالک مزارعہ کے ارادے سے زمین کسی شخص کودےدے تب بھی ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر وہ معاملہ فسخ نہ کرسکیں گے ۔
لیکن اگر مزارعہ کے معاہدے کے سلسلے میں انہوں شرط کی ہوکہ ان میں سے دونوں کو یاکسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کاحق حاصل ہوگا تو جو معاہدہ انہوں نے کررکھاہو اس کے مطابق معاملہ فسخ کرسکتے ہیں۔
مسئلہ186:اگرمزارعہ کے معاہدہ کے بعد مالک زمین یا کاشتکار مر جائے تومزارعہ منسوخ نہیں ہوجاتا اوران کے وارث ان کی جگہ لےلیتے ہیں لیکن اگر کاشتکار مر جائے اور اس نے معاہدہ کررکھاہو کہ خود کاشت کرئے گا ،تومزارعہ منسوخ ہوجاتاہے اوراگر زراعت نمایاں ہوچکی ہوتو اس کاحصہ اس کے ورثاء کودے دیناچاہیے اورجو دوسرے حقوق کاشتکار کوحاصل ہوں وہ بھی اس کے ورثاء کومیراث میں مل جاتے ہیں لیکن وہ مالک کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتے کہ فصل اس کی زمین میں کھڑی رہے۔
مسئلہ187:اگرکاشت کے بعد پتہ چلے کہ مزارعہ باطل تھا تو جو بیج ڈالاگیاہو وہ مالک کامال ہو تو جوفصل ہاتھ آئےگی وہ بھی اسی کا مال ہوگی اور اسے چاہیےکہ کاشتکار کی اجرت اورجو کچھ اس نے خرچ کیاہو اور کاشتکار کی مملوکہ جن بیلوں اور دوسرے جانوروں نے زمین پر کام کیاہو ان کاکرایہ کاشتکار کودے اور بیج کاشتکار کامال ہو توفصل بھی اسی کامال ہےاوراسے چاہیےکہ زمین کاکرایہ اورجوکچھ مالک نے خرچ کیاہو اور ان بیلوں اور جانوروں کاکرایہ جومالک کےہوں اور جنہوں نے اس زراعت پر کام کیاہو مالک کودے دے ۔
مسئلہ188:اگربیج کاشتکار کامال ہو اورکاشت کےبعد فریقین کوپتہ چلےکہ مزارعہ باطل تھا تواگر مالک اورکاشتکار رضامند ہوں کہ اجرت پر یابلااجرت فصل زمین میں کھڑی رہے توجائز ہے ،اگر مالک راضی نہ ہو توفصل پکنے سے پہلے ہی وہ کاشتکار کو مجبور کرسکتاہے کہ اسے کاٹ لے،کاشتکار کوحق حاصل نہیں ہے کہ مالک کو زراعت کے زمیں میں کھڑے رہنےپر مجبور کرئے اگرچہ ایسا اجرت کےذریعہ سے ہی ہو ، مالک بھی کاشتکار کو مجبور نہیں کرسکتا کہ فصل کو زمین میں کھڑی رہنے دے و لو مفت ہی ہو۔
مسئلہ189:اگرفصل کی جمع آوری اورمزارعہ کی میعاد ختم ہونے کےبعد زراعت کی جڑیں زمین میں رہ جائیں اوردوسرے سال فصل دیں تو اگر مالک نے کاشتکار کے ساتھ زراعت کی جڑوں میں اشتراک کامعاہدہ نہ کیاہو تو دوسرے سال کی فصل مالک زمین کامال ہے۔