قاعدہ(امین ضامن ہوتاہے)
قاعدہ(امین ضامن ہوتاہے)
مسئلہ97:اصل مال میں کام کرنے والا شریک اس مال پر امین ہوتاہے،پس اگر اس کی کوتاہی کے بغیر سارا مال یاکچھ مال تلف ہوجائےتو مال کے تلف کرنے والا ضامن نہیں ہوگا۔
مسئلہ98:اگرکام کرنےوالا شرکت کے مال کے تلف ہوجانے کادعوی ٰ کرئےاور حاکم شرع کےسامنے قسم کھائے تواس کی تصدیق کی جائے گی۔
مسئلہ99:اگردونوں شریک اس اجازت سے جوانہوں نےایک دوسرے کو مال میں تصرف کےلیے دےرکھی ہو،پھرجائیں تو ان میں سے کوئی بھی شرکت کے مال میں تصرف نہیں کرسکتاہے اوراگر ان میں سے ایک اپنی دی ہوئی اجازت سے پھر جائےتودوسرے شریک کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہے،لیکن جوشخص اپنی دی ہوئی اجازت سے پھر گیاہووہ شرکت کے مال میں تصرف کرسکتاہے۔
مسئلہ100:جب دو شریکوں میں سے کوئی ایک تقاضا کرئےکہ شرکت کامال تقسیم کردیاجائے تودوسرے پر اس کی بات کاقبول کرنا واجب ہے،بشرطیکہ اس تقسیم سے شرکت کو ناقابل برداشت ضرر نہ ہوتاہو،یاتقسیم میں حصوں کو ترتیب دیں جس سے اضافی مال مانگاجائے اور اس کی مثل تاکہ اس معاہدہ میں ترمیم کی جائے ،اگرچہ شرکت کی مدت معین کی گئی ہو مگریہ کہ شرکت معاوضہ پر ہو یعنی شراکت دار میں سےہرایک مال کی بابت اس کے پھل پر معاہدہ کرئے تو اس کی بات کاقبول کرنا واجب نہیں ہےاور نہ مدت ختم ہونےسےقبل شرکت کو فسخ کیا جاسکتاہے۔
مسئلہ101:جب شرکاء میں سے کوئی مرجائےتودوسرے کےلیے شرکت کےمال میں تصرف کرناجائز نہیں ہے ،اور یہی حال جنون،اغماء اور سفیہ میں ہے۔
مسئلہ102:جب ایک شریک شرکت کے مال میں تجارت کرئےپھر شرکت کے عقد کابطلان ظاہر ہوجائے،اگر تصرف کااذن شرکت کی صحت کے ساتھ مقید نہ ہو تومعاملہ صحیح ہوگا،اوراس کامنافع دونوں کو ملے گا۔
اگر تصرف کااذن عقد کی صحت کے ساتھ مقید ہوتودوسرے کی نسبت عقد فضولی ہوجائےگا،پس اگراس نے اجازت دے دی تو معاملہ صحیح ہوگااوراگر اس نے اجازت نہ دی تو معاملہ باطل ہوگا۔