اجارہ سے حاصل ہونے والی منفعت مقصودہ کے شرائط

| |عدد القراءات : 1
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

اجارہ سے حاصل ہونے والی منفعت مقصودہ کے شرائط:

مسئلہ 139:جس استفادہ کے لیے مال اجارہ پر دیاجاتاہے اس میں  چار امور معتبر ہیں:

1۔اس سے استفادہ کرناحلال ہو ،دکان کو شراب کی بیع کےلیے یااس کو سٹور کرنے کےلیے کرایہ پر لینا ،دینا درست نہیں ہے ،یعنی یہ تب ہے جب عقد اجارہ اسی استفادہ پر واقع ہو،یا شراب اٹھانے کے لیے جانور اجارہ کرنا جائز نہیں ہے،ہاں اگر اجارہ کے عقد میں اسے شرط قرارنہ دیاجائے اور اجارہ پر دی جانے والی شے سے حرام کام میں استفادہ نہ کیاجائے ،بلکہ اس سے دوسرے حلال منافع حاصل کیے جانے ہوں توایسا اجارہ کاعقد صحیح ہوگا۔

2۔بنابراحتیاط اجارہ کے مقابلےمیں مال کاخرچ کرنا عقلاء کی نظر میں بیوقوفی نہ ہو۔

3۔جوچیزکرائےپردی جائےاگر اس سے کئی فائدے اٹھائے جاسکتے ہوں توجوفائدہ اٹھانے کی مستاجرکو اجازت ہو اسے معین  کرناچاہیے،مثلاً ایک گاڑی کرائے پردی جائے،جس پر سواری بھی کی جاسکتی ہواور سامان بھی لادا جاسکتاہو تواسے کرایہ پردیتے وقت معین کیا جائے کہ آیا مستاجر اسے سواری کےلیےیا سامان اٹھانے کےلیے یادونوں کاموں کےلیے استعمال کرئے گا اور مستاجر کےحق کی تعیین بھی واجب ہے۔

4۔استفادہ کرنےکی مقدار کاتعین،اور یہ ہر عقد کااپناحساب ہوتاہے،گاہے مدت کا تعین کیاجاتاہے جیسے گھر ،دکان کا اجارہ،اورگاہےکام کاتعین کیاجاتاہےجیسےایک لباس کا مخصوص کیفیت اور ڈیزائن پر سلائی کرنا،گاہے مسافت کا تعین کیا جاتاہےجیسے گاڑی کا ایک شہر سے دوسرے  شہر لےجانے کے لیے کرائے پر لینا۔

مسئلہ140:احتیاط واجب کی بنا پر ،اختیاری طور پراور بغیر عذر شرعی کے  داڑھی کا مونڈوانا حرام ہے،پس  حجام کےلیےاس پر اجرت لینابھی جائز نہیں ہے،ہاں،جب کسی عذر کی وجہ سے داڑھی کا مونڈوانا جائز ہوجائے تو حجام اس پر اجرت لے سکتا ہے

مسئلہ141:ضروری ہے کہ اجارہ کی مدت معین کی جائے،خصوصاً جب مدت کو عقد   میں دخل حاصل ہو،اگر اجارہ کی مدت کے شروع ہونے کا تعین نہ کیا جائے تو اس کے شروع ہونے کاوقت اجارہ کاصیغہ پڑھنے کے بعد سے ہوگا،اگرمدت کوعقد میں دخل حاصل نہ ہو جیسے کپڑے کی سیلائی تو اسے معین ہی کیا جائےگا۔

مسئلہ142:اگرایک مکان ایک سال کےلیے کرائے پر دیاجائےاور معاہدے کی ابتداء کاوقت صیغہ پڑھنےسے ایک مہینے بعد سے مقرر کیاجائے،تواجارہ صحیح ہو گا ، اگرچہ جب صیغہ پڑھاجارہاہووہ مکان کسی دوسرے کے پاس کرائےپرہو۔

مسئلہ143:اگراجارے کی مدت کاتعین نہ کیاجائے تو اجارہ صحیح نہیں ہوگا،پس اگر مکان کامالک مستاجر سےکہے کہ میں نے آپ کو یہ مکان ایک ماہ یادوماہ کے لیے اجارے پردیا،تویہ اجارہ درست نہیں ہوگا۔

 جب مکان کا مالک  کہےکہ میں نے یہ مکان آپ کو ماہانہ ایک ہزار روپے کرایہ پردیا اوراس کے بعد بھی تم جتنی مدت اس میں رہوگے اس کاکرایہ ایک  ہزار روپے ماہانہ ہوگاجس سے اجارے کاشروع کرنامقصود ہویا وہ اپنامکان ایک ہزار روپے  کےبدلے ایک معین ماہ کرایہ پر دے اور کہےکہ اس کے بعد جتنارہوگے اس کا حساب اپناہوگا تواس صورت میں جب اجارے کی مدت کی ابتداء کاتعین کرلیاجائے یااس کی ابتداء کاعلم ہو پہلے مہینے کااجارہ صحیح  ہے۔

اور بعد والے ماہ میں مستاجر اجرت مسمی پر استفادہ کرسکتاہے لیکن یہ معاملہ غیرلازمہ ہوگا ،مالک جب چاہے اپنی جگہ خالی کرواسکتاہے۔ 

مسئلہ144:جو گھر مسافروں اور زائرین کے لیے بنائے جاتے ہیں ،جب اس میں لوگوں کے ٹھہرنے کی مدت کی مقدار معلوم نہ ہو ،اگروہ مالک مکان سے طے کرلیں کہ مثلاً ایک رات کا اتنا کرایہ دیں گے اور مالک اس پر راضی ہوجائے تواس جگہ سے استفادہ کرناجائز  ہے لیکن جب اجارہ کی مدت معلوم  نہ ہو تو اجارہ صحیح نہیں ہوگا اور مالک مکان پہلی رات کےبعد جب بھی چاہے انہیں نکال سکتاہے،جیساکہ سابقہ مسئلہ میں بیان کیا گیاہے۔

مسئلہ145:کوئی شخص خود کو کسی کام کے لیے اجیر قراردے ،اور خود کام کوانجام دینے کی قید نہ لگائے تو وہ کسی دوسرے کو خود سے کم اجرت پر  کام نہیں دے سکتا ، مثلاً کوئی کام 150 روپےمیں لےکرکسی سے 100روپے میں وہی کام نہیں کروا سکتا،اوراگر دونوں اجرتیں دوجنس سے ہوں یا خود کچھ کام کرچکاہو اور پھر باقیماندہ کام کسی دوسرے سے کم اجرت میں کروائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔