احکام صلح
احکام صلح
مسئلہ112:صلح یعنی انسان کسی دوسرے کے ساتھ اس بات پراتفاق کرئےکہ اپنے مال سے یااپنے مال کے منافع سے کچھ دوسرے کودےدے یااپناحق یاقرض چھوڑ دے اوردوسرابھی اس کے عوض اپنے مال یامنافع کی کچھ مقدار اسے دےدے یا قرض چھوڑ دے بلکہ اگرکوئی شخص عوض لیے بغیر اپنامال یامال کامنافع دوسرے کو دےدے یاقرض یااپناحق چھوڑ دے ۔
مسئلہ113:مصالحت کرنے والوں میں چند امور معتبر قرارددیئے گئے ہیں:
بلوغ،عقل،اختیار۔قصد ،ممنوع التصرف نہ ہونا۔
مسئلہ114:صلح میں خاص صیغہ معتبر نہیں ہے ،بلکہ اس میں ہر لفظ کافی ہے جو اس مطلب کواداکردے،یا جوفعل اس مطلب پر دلالت کرئے ۔
مسئلہ115:اپنے حق یاقرض کوچھوڑ دینا،طرف مقابل کی جانب سے قبول کامحتاج نہیں ہے،البتہ اس پر مصالحت کرنے میں قبول کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ116:صلح میں اس کی مصلحتوں کی بابت آگاہی کاہونا ضروری نہیں ہے پس جب دواشخاص میں سے ایک کامال دوسرے شخص کے مال کے ساتھ ملاہواہو توان کےلیےجائز ہےکہ وہ برابری کی بنیاد پر یا مختلف بنیاد پر کاروبار میں شرکت اختیار کر لیں،جیساکہ ان کے لیے جائزہے کہ وہ کسی دوسرے معین مال میں مصالحت کریں ، اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں اموال کے درمیان تمیز مشکل ہو یا تمیز کرنا مشکل نہ ہو۔
مسئلہ117:اگر مقروض اپنے قرض کی مقدار جانتا ہو اور قرض خواہ کو قرض کی مقدار معلوم نہ ہو،اور قرض خواہ کو جوکچھ لیناہو اُس سے کم پر مصالحت کرلے توباقی ماندہ رقم مقروض پرحلال نہیں ہےسوائےاس صورت کےکہ جوکچھ اس نے دینا ہو اس کی بابت خود قرض خواہ کو بتائےاور اسے راضی کرلے یاصورت ایسی ہو کہ اگر قرض خواہ کوقرضے کی مقدار کاعلم بھی ہوتاتب بھی اسی مقدار یعنی کم مقدار پر صلح کرلیتا۔
مسئلہ118:اگردواشخاص ایسی چیزوں سے جوایک ہی جنس سے ہوں اور جن کے وزن یا پیمائش معلوم ہوں اور معلوم ہو کہ ایک کاوزن یا پیمائش زیادہ ہے آپس میں صلح کرلیں تواحتیاط یہ ہے کہ ایسی مصالحت جائز نہیں ہے ،کیونکہ اس مورد کو سود کی حرمت شامل ہے،اوراگران کاوزن معلوم نہ ہو ں اور اس بات کااحتمال ہو کہ ایک کاوزن دوسری سے زیادہ ہےاور وہ صلح کرلیں تو صلح صحیح ہے،اگرچہ احوط اس کاترک ہے۔
البتہ ایسے معاملہ کی تصحیح کی جاسکتی ہے،اس طرح کہ مصالحت کاموضوع ان دو مالوں کے علاؤہ کسی اور شے کو قراردیاجائے ،جیسے دونوں یوں مصالحت کریں کہ اُن میں سے ہرایک اپنے مال کو جودوسرے کے ذمہ میں ہے ہبہ کردے یا ایک دوسرے کے ذمہ کو بری قراردیتے ہوئے مصالحت کریں ۔
مسئلہ119:اگر ایک شخص نے دو لوگوں کایادوشخصوں نے دو لوگوں کا قرض دینا ہو ، اور اس سے سود لازم نہ آتاہو توایسے دوقرض کے مبادلہ پر مصالحت ہوسکتی ہے،جیسے وہ دونوں قرض پیمائش یاوزن والی شے سے نہ ہوں یادونوں ایک جنس سے نہ ہوں یا دونوں پیمائش یاوزن میں مساوی ہوں ،اوراگردونوں قرض پیمائش یاوزن سے ہوں اور ایک ہی جنس سے ہوں تو ان کے مبادلہ پر ایک کے زائد ہونے کی صورت میں صلح جائزنہیں ہے،جیساکہ سابقہ مسئلہ میں گزر چکاہے۔
مسئلہ120:اگر کسی شخص کو کسی دوسرے سے اپناقرضہ کچھ مدت کے بعد واپس لینا ہو جس کاتعلق پیمائش یاوزن کے ساتھ ہوجس میں سود داخل ہوسکتاہو ، تو ایسے معاملہ کی تصحیح کرلینا ضروری ہے، اور وہ اس طرح کہ مقروض کےساتھ مقررہ مدت سے پہلے مقدار معین سے کم پر صلح کرلے جس سے اس کامقصد یہ ہوکہ کچھ حصہ چھوڑ دے اور باقی ماندہ مقدار نقد لےلے،اس کے علاؤہ کوئی دوسری صورت(جیسے آج کے دور میں کاغذی کرنسی جو پیسہ شمار کی جاتی ہے)اس سے مقدار معین سے کم پر بیع اور صلح جائز ہے،یہ مقروض سے ہو یاکسی اور سے ہو،بنابراس کے قرض خواہ کے لیے جائزہےکہ خرچ وغیرہ میں بل (پرائزبونڈ) کو دے دےجوہمارے زمانے میں رائج ہے کیونکہ موجودہ استعمال ہونے والی نقدی ناوزن میں آتی ہے اور ناہی پیمائش میں آتی ہے۔
مسئلہ121:اگردواشخاص کسی چیز پر آپس میں صلح کرلیں توایک دوسرے کی رضا مندی سے اس صلح کوفسخ کرسکتے ہیں ،نیز اگر سودے کے سلسلے میں دونوں کویا کسی ایک کو سودافسخ کرنے کا حق دیاگیاہوتوجوشخص وہ حق رکھتاہو وہ صلح فسخ کرسکتاہے۔
مسئلہ122:صلح میں چند خیار جاری نہیں ہوتے ہیں:
1۔خیار مجلس،یعنی جب تک خریداراور بیچنے والااُس مجلس سے جدا نہ ہوگئے ہوں جس میں سوداطے پایاہے ۔
2۔خیار حیوان،یعنی اگرخریدار ایک جانور کو خریدے توتین دن تک سودافسخ کرنے کاحق رکھتاہے ۔
3۔ خیار تاخیر،یعنی اگرایک خریدار خریدی ہوئی جنس کی قیمت تین دن تک نہ دے اورجنس کواپنی تحویل میں نہ لے ۔
ہاں!
اگرصلح کادوسرافریق مصالحت کامال دینے میں غیرمعمولی تاخیر کرئےیا یہ شرط رکھی گئی ہو کہ مصالحت کامال نقد دیاجائےاور دوسرافریق اس شرط پر عمل نہ کرئےتواس صورت میں صلح فسخ کی جاسکتی ہےاور باقی آٹھ خیارات جن کاذکر خریدوفروخت کے احکام میں آیاہے ،وہ صلح میں جاری ہوتے ہیں،خیارغبن چند موارد میں جاری نہیں ہوتاہے،جیسے دونوں ایسے مخلوط مال پر مصالحت کریں جس کو جدانہ کیاہواور اس میں تمیز کرنامتعذرنہ ہو پھر مصالحت کےبعد اسے تمیز دیں ،اور اس میں دونوں میں سے کسی ایک کے لیے غبن (دھوکہ)ہو۔
مسئلہ123:اگرصلح والےمال میں عیب ظاہرہوجائےتو سودے کوفسخ کیاجاسکتاہے ،لیکن متعلقہ شخص بے عیب اور عیب دارکے درمیان قیمت کافرق لیناچاہےتواس میں اشکال ہے۔
مسئلہ124:اگرکوئی شخص اپنےمال کے ذریعہ دوسرے سے صلح کرے اوراس کے ساتھ شرط ٹھہرائےکہ جس چیز پرمیں نے آپ سے صلح کی ہے میرے مرنے کے بعد تواسے وقف کردے گا اوردوسرا شخص بھی اس کو قبول کرلے تواسے چاہئے کہ اس شرط پر عمل کرئے،اور اگر مصالحت کرنےوالے کی موت کے بعد اس کا وارث نہ ہو تو شرط پوری کرنے کی بابت حاکم شرعی کی طرف رجوع کرنالازم ہے ،اور اگر اس کا وارث ہوتواس سے اجازت لیناواجب ہے۔