احکام جعالہ

| |عدد القراءات : 1
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

احکام جعالہ

مسئلہ 171:جعالہ یعنی انسان وعدہ کرئےکہ اگراس کے لیے یہ کام کیاجائےگاتومیں اس کےبدلے ایک معین مال دوں گا،مثلاً یہ کہے کہ جواس کی گمشدہ شے برآمد کر دے گا وہ اسے دس روپے دےگا اورجوشخص اس قسم کااعلان کرئے اسے جاعل اور جوشخص وہ کام انجام دےاسے عامل کہتے ہیں ،اور اس کام کو جعل یاجعالہ کہتے ہیں ، جعالہ اور اجارہ کےدرمیان فرق یہ ہےکہ اجارہ میں صیغہ پڑھنے کےبعد اجیرکو کام انجام دیناچاہیے اورجس نے اسے اجیر بنایاہو وہ اجرت کےلیے اس کامقروض ہو جاتا ہے  لیکن جعالہ میں اگرچہ عامل ایک معین شخص ہو،تاہم ہوسکتاہےکہ وہ کام میں مشغول نہ ہو اورجب تک وہ کام انجام نہ دے توجاعل اس کامقروض نہیں ہوتا۔

مسئلہ172:جاعل میں معتبر ہےکہ بالغ اور عاقل ہو اور جعالہ کااعلان اپنےارادے اور اختیار سے کرئے اورشرعاً اپنے مال میں تصرف کرسکتاہو ،پس جوشخص اپنا مال بیہودہ کاموں میں صرف کرتاہو اس کاجعالہ صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ173:جعالہ میں معتبر ہےکہ   جاعل جو کام کرواناچاہتاہو ،وہ کام حرام یا بے فائدہ  نہ ہو،پس  جعالہ میں شراب کے پینے کو  یا  رات کےوقت ایک تاریک جگہ پر جانےکو  یازیادہ دیر تپتی دھوپ  میں  کھڑے رہنے کوعوض قراردینا جس کی کوئی عقلائی غرض نہ ہو صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ174:جعالہ میں عوض کامعین کرنا  معتبر ہے، اس طرح کہ جس میں عامل کا حق معین ہو ،جیسے کوئی کہےجومیراگھر بیچے گااسے قیمت کا ایک فیصد دیاجائےگا۔

مسئلہ175:جب جعالہ میں عوض مبہم  اور غیر معین ہوتوعامل کے لیے اجرت المثل  ہوگی۔

مسئلہ176:جب عامل کام  سے پہلےیا کام  کے بعد تبرکاً    کام انجام دے تو عامل کسی شے کامستحق نہیں ہوگا۔

مسئلہ177:جاعل کام میں شروع ہونے سے قبل جعالہ کو فسخ کرسکتاہے لیکن کام میں  شروع ہونے کے بعد،اس کافسخ کرنا مشکل ہوجائے گا۔

مسئلہ178:عامل پر کام کا مکمل کرناواجب نہیں ہے،مگرجب اس کاترک جاعل کے ضرر اور نقصان کاباعث ہو،جیسے وہ کہے:جوبھی میری آنکھ کاعلاج کرئےگااسے یہ یہ دیاجائے گا،اور ڈاکٹر اس کی آنکھ کی سرجری شروع کردے تواسے مکمل کرنا واجب ہے۔

مسئلہ179:اگرعامل کام ادھورا چھوڑ دے اور وہ ایساکام ہوجیسے گھوڑا تلاش کرنا کہ جس کے مکمل کیے بغیر جاعل کوکوئی فائدہ نہ ہو توعامل جاعل سے کسی شے کامطالبہ نہیں کرسکتا اور جاعل اجرت کو کام مکمل کرنے سے مشروط کردے تب بھی یہی حکم ہے مثلاً جب وہ کہے کہ جوکوئی میرا لباس سیئے گا میں اسے دس روپے دوں گا، لیکن اگر اس کی مراد یہ ہوکہ جتنی مقدار میں کام کیاجائے گا اتنی مقدارکےلیے اجرت دے گا توپھر جاعل کو چاہیے کہ جتنی مقدار میں کام ہواہو اتنی مقدار کی اجرت عامل کو دے دے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ دونوں مصالحت کے طور پر ایک دوسرے کوراضی کرلیں۔