مستحقین زکات کے صفات

| |عدد القراءات : 3
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

مستحقین زکات کے صفات

 چند صفات ہیں:

اول۔ایمان،احتیاطاً     کافر اور مخالف کو فقراء و غیرفقراء کے حصہ سے زکات نہ دی جائے،سوائے مؤلفہ قلوب اورسبیل اللہ  والے حصہ کے ،ان حصص سے زکات لےسکتے ہیں۔

دوم۔گناہگاروں میں سے بھی نہ ہو،کیونکہ اسے زکات دی جائے گی تووہ اسے معاصی میں خرچ کرئےگا،یااسے زکات کادینا     گناہ پر اعانت ہوگی۔

سوم۔اُن لوگوں میں سے بھی نہ ہو جوزکات دینے والے کاواجب النفقہ ہو ، جیسے والدین  واجداد اور ان سے اوپر،اولاد اور ان سے نیچے بچے و بچیاں ،دائمی بیوی جب تک کہ ان کا نان و نفقہ ساقط نہ ہو،متعہ والی بیوی جب تک کہ اس نے نان و نفقہ کی شرط لگائی ہوئی ہو۔

چہارم۔ہاشمی(سید)  نہ ہو، جب زکات غیرسید کی ہو،سید غیرسید کی زکات نہیں لےسکتاہے،لیکن سید غیرسید کو زکات دے سکتاہے،پس سید سادات اور غیر سادات دونوں کو زکات دے سکتاہے۔

مسئلہ384:سادات کےلیے جوغیر سادات کا صدقہ حرام ہے وہ زکات مال اور زکات فطرہ ہے ،لیکن مستحبی صدقات  سادات کےلیےحرام نہیں ہیں،اس کےعلاؤہ چند دیگر واجب صدقات بھی سادات کےلیےحرام نہیں ہیں:

کفارات ،ردمظالم ،مجہول المالک،لقطہ(گمشدہ)،فدیہ،نذری صدقہ،جس کی فقراء یاعلماء نےوصیت کی ہو،چہ جائیکہ  موقوف مال۔