زکات فطرہ
زکات فطرہ
فطرہ کے وجوب کے شرائط؛
1۔بلوغ،پس بچے پر فطرہ واجب نہیں ہے ۔
2۔غنی(مالدار)،پس فقیر پر فطرہ واجب نہیں ہے، جو سال کاخرچہ قوۃ ً وبالفعل نہ رکھتاہو ۔
جب مجنون غنی و مالدار ہو تواس کے ولی کےلیےاحوط یہ ہےکہ اس کی زکات فطرہ ،اسی کے مال سےدے،فطرہ کےوجوب میں شخص کے مغمیٰ نہ ہونے سے مشروط قراردینے میں اشکال ہے،اوراحوط ہےکہ یہ شرط نہیں ہے۔
مشہور ہےکہ عید کی رات غروب آفتاب سے قبل فطرہ کے وجوب کی شرائط کاجمع ہونا معتبر ہے ،اور جب غروب ہوجائے تو فطرہ واجب ہوجاتاہے ،جب غروب آفتاب سےایک لحظہ قبل یا غروب کے ساتھ بعض شرائط مفقود ہوجائیں ،تو فطرہ واجب نہیں ہوگا،غروب سے مراد سورج کی ٹکیہ کا افق سے سقوط کرجاناہے،یعنی سورج کی ٹکیہ کی آخری جزء افق کے نیچے چلی جائےاور اگر مفقودہ شرائط غروب کے بعد یا رات میں یاعیدکےدن جمع ہوجائیں تو احتیاط مستحب ہے کہ فطرہ نکالے۔
مسئلہ385:فقیر کے لیے فطرہ نکالنا مستحب ہے ،اورجب اس کے پاس فقط ایک صاع کی گنجائش ہوتو وہ ایک فطرہ گھرکےایک فردکودے اور وہ دوسرے کو دے اور وہ تیسرے کو دے ،اسی طرح دیتے جائیں اور آخری شخص کسی اجنبی مستحق کو دے دے ،اس وظیفہ کے اداکرنے میں ایک صاع یااس کی قیمت سے کم مجزی نہیں ہے ، اورجب اُن میں بچے یامجنون ہوتو اس سے ولی لےکر اس کی طرف سے ادا کر دے ، اوریہ وظیفہ ایک دسترخوان پر کھانے والے خاندان سے مجزی ہوتاہے اوراکثر سے مجزی نہیں ہوتاہے ۔
مسئلہ386:جس میں شرائط جمع ہوں ،اس پر واجب ہےکہ اپنا اور اپنے عیال کی طرف سے فطرہ نکالے ،عیال واجب النفقہ ہوں یا واجب النفقہ نہ ہوں،قریب ہوں یابعید ہوں ،مسلمان ہوں یاکافر ہوں ،چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں ۔
بلکہ ظاہر فطرہ کاوجوب ہےاگرچہ اس نے کسی ایک کواپنے عیال کے ساتھ تھوڑے سے وقت میں ملایاہوجیسے مہمان جو چاند نظر آنے سےپہلے آجائےاوراس کےپاس عید کی رات رہے،اوروہ اس کے پاس کھانا کھاسکتاہو ،اگرچہ اس وقت اس کے پاس کھانانہ کھائے ،اور جب کسی شخص کوشب عیدافطار کی دعوت دی جائےتو وہ اس کے عیال سے نہیں ہوگا اور اس کافطرہ دعوت دینے والے پر واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ387:فطرہ کی زکات کی جنس میں ضابطہ یہ ہے:جوشے اکثر لوگ کھاتے ہوں،جیسے گندم ،جو،کھجور،انگور،چاول،مکئی،باجرہ۔
مسئلہ388:وہ مقدار جو فطرہ کی زکات میں ایک فرد کی طرف سے دینا واجب ہے،ایک صاع ہے۔اورایک صاع چار مد کاہوتاہے پس ایک فرد کافطرہ تقریباً تین کلوگرام ہے۔
فطرہ نکالنے کاوقت:
اس زکات کے واجب ہونے کاوقت غروب کے وقت عید کی رات ہے،اور فطرہ دینے کاوقت عیدکےدن طلوع آفتاب سے زوال تک ہے،اگرچہ ظاہرہے کہ فطرہ رات میں ہی دےدیاجائے تومجزی ہے ،اور احوط ہے کہ اسے نماز عید سے پہلے نکالاجائے یاجداکیاجائے ،اور اگرنماز عید نہ پڑھے تو اس کاوقت زوال تک بڑھ جاتاہےاور احتیاط واجب کی بناء پر اس سے زیادہ تاخیر نہ کرئے ،اورجب اسے جداکردے تو اداکرنے میں تاخیر جائز ہے ،بشرطیکہ تاخیر عقلائی غرض کی بناپر ہو ،جیسے مستحق کاانتظار ہو ،یاکسی تنگی میں ہو جس کے زائل ہوجانے کی امید ہو ۔
اگر فطرہ نہ دے اور اسے جدابھی نہ کرئے یہاں تک کہ عید الفطر کےدن سورج زوال کرجائے،تو احتیاط لازم ہےکہ اسے قصد رجاء سے بجالائےیا مافی الذمہ کے قصد سے بجالائے یا قربت مطلقہ سے بجالائے،یہ احتیاط عید فطر کے سارے دن کےلیےہے ،بلکہ سارے سال کے لیے ہے ،بلکہ ساری عمر کےلیےہے۔
مسئلہ389:ماہ رمضان میں قرض کے عنوان سے فطرہ کامقدم قراردیناجائز ہے،اور پھر اداکے وقت اسے زکات فطرہ سے حساب کرلیاجائے۔
مسئلہ390:غیرسید کافطرہ سید پر حرام ہےاور سید کافطرہ سیداور غیر سید دونوں کےلیےحلال ہے ،اس میں معتبر مالک کی ہستی ہے جب دےتو مالک کون ہے ،یہ دیکھاجائےگا ،خواہ عائل ہویامعیل ہو۔
مسئلہ391:مالک کےلیےجائزہے کہ وہ خود فقراء کودے ،احوط اورافضل ہےکہ فطرہ مجتہد کودیاجائے ،کیونکہ مجتہدین زیادہ بصیرت رکھتے ہیں کہ اسے کن مصارف میں صرف کیاجائے۔
مسئلہ392:مستحب ہے کہ اس میں قریبی رشتہ داروں کومقدم قراردیاجائے ،پھر ہمسائیوں کو مقدم قراردیاجائے،ضروری ہے کہ اس میں صاحب علم ،صاحب دین اور صاحب فضل کوترجیح دی جائے۔