غلات کی زکات
غلات کی زکات:
غلوں کی زکات ہرقسم کے دانوں میں واجب ہے ،جن کو ناپا یا تولا جاتاہے ،یہ حکم مشہور کے خلاف ہے ،جنہوں نے زکات کے وجوب کو گندم ،جو،کھجور اور انگور کے ساتھ مخصوص قراردیاہے۔
مسئلہ381:زکات کے وجوب میں دو چیزیں شرط ہیں:
اول۔نصاب ،آج کے متعارف وقت کے مطابق تقریباً 847 گرام ہےیعنی 21من
175گرام۔
دوم۔ملک ،جب جنس کے ساتھ وجوب زکات کاتعلق پیداہو تواس وقت وہ اس کی ملکیت میں ہو ،خواہ ملکیت زراعت کی وجہ سے ہو یا جنس وجوب زکات کے تعلق کےوقت سے قبل فصل خرید کی ہو،یا ارث کی وجہ سے ہویا ملک کے دیگر اسباب میں سے کوئی ایک ہو۔
مسئلہ382:چاروں غلوں کی زکات میں مالک پر دسواں حصہ زکات کا نکالناواجب ہے،جب زراعت و درختوں اور کھجوروں کو جاری پانی سے سینچا جائے،جیسے چشمے اور نہروں کا پانی،جوپانی زمین کو لگایاجائے تواس پر زائد خرچہ نہ ہو،مثل آلات سے پانی کالگانایا بارش کے پانی سےیا زمین میں پائپ سے فصل سیراب ہوتی ہو ،جوبعض ملکوں میں پانی لگانے کی روش ہے ،اور اگر فصل کو ڈول وغیرہ سے اور جدید طریقوں سے مانند ٹیوب ویل ،ٹربائن سے سیراب کیا گیاہو تو بیسواں حصہ زکات کانکالناواجب ہے۔
دوسرابیان:فصل کوسیراب کرنے کی چندصورتیں ہیں:
اول۔طبیعی ہو ، بارش سے ہو یا زمین میں لگائے گئے پائپ سے ہو،چشمہ سے ہو،نہر سے ہو،چشمہ خودروہویا لوگوں کا بنایا ہوا ہو۔
دوم۔آلات سے ہو جیسے ٹربائن وغیرہ۔
ان دونوں صورتوں سے مشترک تیار کردہ فصل سےپندرواں حصہ زکات دیناواجب ہے۔