باب زکات
باب زکات
زکات:اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے،اس کاوجوب ضروریات دین میں سے ہے ،اوراس کے وجوب کامنکر کافر ہے ،کیونکہ اس سے رسالت کی تکذیب ہوتی ہے ۔
وجوب زکات کے شرائط عامہ:
اول۔بلوغ۔
دوم۔عقل۔
سوم۔تمکن(مال کے صرف کرنے پر قدرت رکھنا)۔
چہارم۔ ملکیت۔
جن چیزوں میں زکات واجب ہے:
مشہور ہے کہ نو چیزوں میں زکات واجب ہے:
سونا،چاندی،گندم،جو،انگور،کھجور،بھیڑ بکری،گائے،اونٹ۔
سوناوچاندی سکہ میں ہوں اور اُن سے لین ودین ہوتاہو۔
لیکن صحیح وہ ہے جس کا اہل بیت عصمت علیہم السلام سے استفادہ ہوتاہے ،یہ ہےکہ زکات کاوجوب وسیع پیمانے پر واجب ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے:
1۔ہر قسم کے دانے جو ناپے ،تولے جاتے ہیں ،جو زمین سے اگتے ہیں،جیسے چاول،مسور،ماش ،لیکن جس شے کی ان دانوں میں سے تجارت کی جاتی ہے وہ شمارہ تین میں داخل ہے۔
2۔دینار،ڈالر ،یورو،روپے وغیرہ جب انہیں سال بھر محفوظ رکھاجائے اور استعمال نہ کیا جائے۔
3۔تجاری پونجی اور عین مال جن کو محفوظ کرکے رکھاجاتاہےتاکہ اُن کی قیمت بڑھ جائے اور سال بھرپڑی رہیں،دوران سال قیمت خرید سے موجود مال کی قیمت زیادہ ہوجائےاوروہ اسے فروخت نہ کرئے،جس کامقصد یہ ہوکہ قیمت مذید بڑھ جائے گی،تو بیچوں گا۔