مستحقین زکات

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

مستحقین زکات:

مستحقین زکات کی قسمیں:

مستحقین زکات کی آٹھ قسمیں ہیں:

اول۔فقیر۔

دوم۔مسکین۔

فقیرومسکین وہ ہیں ،جن کے پاس اپنااوراپنےاہل وعیال کااپنے حال کے لایق سال بھر کاخرچہ نہ ہو،عیال سے مقصود صرف زوجہ اور بچے ہی نہیں ہیں ،بلکہ وہ افرادبھی ہیں جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو پس یہ مہمان کو بھی شامل ہے۔

سوم۔عاملون یعنی زکات اکٹھی کرنے والے،وہ لوگ ہیں جن کو زکات کی جمع آوری ،زکات لینے،زکات کاحساب کرکے اسے امام علیہ السلام یاان کے عام نائب یامستحق  تک پہچانے کے لیے مقرر کیاگیاہو،ان کاکام آجکل کے کلٹر کے مشابہے ہے۔

چہارم ۔مؤلفہ قلوب،وہ مسلمان جن کاعقیدہ  اسلامی معارف کی بابت ضعیف ہو،ان کو زکات دی جائے تاکہ یہ اسلام کو اچھی نگاہ سے دیکھیں اور دین پر ثابت قدم رہیں ، یاوہ کفار جن کو زکات دی جائے تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوں،یادفاع میں مسلمانوں  کی حمایت اور معاونت کریں یادوسرے کافروں کےساتھ جہاد میں مسلمانوں  کاساتھ دیں  ۔

پنجم۔غلام آزاد کروانے کےلیے،وہ غلام جس کے ساتھ لکھ پڑھ ہوچکی ہو،اوروہ کتابت مطلقہ یامشروطہ کے اداکرنے سے عاجز ہوپس اسے زکات دی جائےتاکہ وہ لکھا ہوامال ادا کرسکےاور وہ غلام جو سختی میں ہو ،تحت فشارہو اسے خریدکرکے آزاد کر دیا جائے،بلکہ ہر غلام کاآزاد کروانابشرطیکہ دوسراکوئی زکات کامستحق میسر نہ ہو،بلکہ اظہر قول کی بناء پر مطلق طور پر غلام آزاد کروانا۔

ششم۔مقروض،جس کے ذمہ لوگوں کاقرض ہو اور وہ  وقت پر اداکرنے سے عاجز ہو،خواہ اپنے سال کاخرچہ قوۃ ً یا بالفعل رکھتا ہو یا اپنے سال کاخرچہ نہ رکھتا ہو ، بشرطیکہ  اس کاقرض معصیت خدا میں نہ ہو۔

ہفتم۔سبیل اللہ تعالی،یہ ہرقسم کے امور خیریہ کوشامل ہے،جیسے سڑک بنانا،پل بنانا ،مساجدومدارس بنانا،دولوگوں کےدرمیان صلح کروانا،فتنہ وفساد دور کروانااور اس کے علاؤہ دوسری تمام جہات عامہ،بلکہ اظہر ہےکہ یہ ہراُس عمل کوشامل ہے جوانسان کو خداکے قریب کرئے،خواہ  جہات عامہ سے ہویاجہات خاصہ سے ہوجیسے کسی کو حج کی طرف بھیجنا ،جب وہ بغیر زکات حج پر جانے کی قدرت نہ رکھتاہو،یاکسی عالم کےلیے گھر بنانا۔

ہشتم۔مسافر ،جس کےپاس سفر کاخرچہ ختم ہوگیا ہو اور گھر واپس جانے کی قدرت نہ رکھتاہو،اسے بقدر ضرورت زکات دی جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے وطن واپس   جاسکے،بشرطیکہ وہ کسی سے قرض بھی نہ لے سکتاہو،یااپنے شہر میں موجود کسی شے کو فروخت بھی نہ کرسکتاہو،وگرنہ وہ سفر میں صاحب قدرت کے زمرہ میں آئے گا۔