اموال تجارت کی زکات
اموال تجارت کی زکات
تجارت کے اموال سے مراد،پونجی اور ہرقسم کامملوکہ مال ہے جو معاوضہ کےعقد سے ملکیت قراردیاجاتاہےاور اس میں کسب اور منافع کی غرض ہوتی ہے،یہ سونا چاندی کوشامل نہیں ہے کیونکہ یہ اس دور میں نوٹ کے عنوان میں داخل ہے ۔
مسئلہ 383:اموال تجارت میں زکات کی مقدار دواشاریہ پانچ فیصد ہے،درج ذیل شروط سے واجب ہے:
1۔ سال بھر مال مالک کی ملکیت میں رہے کمائی اور منافع کی غرض سے رہے۔
2۔طول سال میں منافع کاقصد باقی رہے،اگراس قصد سےعدول کرلے اور دوران سال ذاتی استعمال کی نیت کرلےتو زکات واجب نہیں ہوگی۔
3۔طول سال میں مال متاع یعنی اصل مال یا اسے بڑھانے کی طلب میں رہے ، لیکن زیادت کو طلب کرنے کی غرض سے اسے فروخت نہ کرئے پس اگر دوران سال کم کو طلب کرئے تواس میں زکات واجب نہیں ہوگی۔
4۔ایک قول کے مطابق شرط ہے کہ یہ مال نصاب کو پہنچ جائےاور وہ سوناچاندی میں سے ایک کانصاب ہے،جیساکہ گزرچکاہے،مگریہ کہ یہ تام دلیل سے ثابت نہیں ہے ،روایات کے اطلاق کامقتضی ،نصاب کاشرط نہ ہوناہے اور یہ احوط ہے۔