مستحقین خمس
مستحقین خمس
خمس کا مصرف
عصر غیبت میں پورا خمس جامع الشرائط مجتہد کو دیا جائے،کیونکہ وہ امام علیہ السلام کی نیابت عامہ رکھتا ہے،تاکہ وہ اسے مقرر کردہ موارد میں صرف کرئے ،مجتہد پر لازم ہے کہ بنی عبدالمطلب بن ہاشم جد رسول خداﷺ کی ضروریات کو پورا کرئےاور یہ وہ لوگ ہیں جن کا نسب باپ کی طرف سے ہاشم کی طرف ہو ،مجتہد کے لیے احوط ہے کہ آدھاخمس ان حضرات پر صرف کرئے ،کیونکہ آیت ( وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فِاِنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبیٰ وَ الْیَتَامیٰ وَ الْمَسَاکِیْن وَ ابْنِ السَّبِیْلِ)کی تفسیر میں وارد ہواہے ،کہ پہلے تین سہم امام کےلیے ہیں اور دوسرے تین بنی عبدالمطلب کے ان عناوین کے لیے ہیں،بہر حال فقیہ اپنے وظیفہ کو بہتر جانتاہے۔
اس کی روشنی میں ،خمس کو دو معروف حصوں میں تقسیم کرنا،سہم امام اور سہم سادات ،اگرچہ مشہوریہی ہے ،مگر صحیح وہ ہےجسے ہم نے کہاہے،یعنی پوراخمس جامع الشرائط مجتہد کودیاجائے،وہی اس کی شرعی تکلیف کوجانتاہے۔
مسئلہ376:مالک کے لیے جائز نہیں ہے کہ خود آدھاخمس سادات میں تقسیم کرئے ، اس پر واجب ہے کہ خمس حاکم شرعی کو دے یا اس سے مستحق تک پہچانے کی اجازت لے ،لیکن اگر حاکم شرعی طلب کرئے تواسے پہچاناواجب ہے ۔
مؤمنین کےلیےخمس کااجازہ عام:
اورہم نے مؤمنین کو اُن کے ذمہ خمس میں سے ایک ثلث خود سے خرچ کرنے کی اجازت دے دی ہے،وہ خود سے محتاج سادات و غیر سادات کوخمس دے سکتے ہیں۔