خمس
باب خمس
جن چیزوں میں خمس واجب ہے:
اور یہ چندچیزیں ہیں:
اول۔غنائم،امام معصوم علیہ السلام کے اذن سے کفار کے ساتھ جنگ کی جائے ،جن کے ساتھ جنگ کرنا حلال ہو اور فتح کی صورت میں اُن کاجومال ہاتھ آتاہے،وہ مال غنیمت ہے ،یہی حکم ہے جب کفارکے ساتھ غزوہ کی صورت میں ہواور امام علیہ السلام کے اذن کے بغیر ہو،یعنی مسلمان انہیں اسلام کی دعوت دیں اور وہ جنگ کرنے نکل آئیں یاوہ مسلمانوں پر حملہ کریں اورجنگ دفاعی ہو ۔
دوم۔معدن،جیسےسونا،چاندی،تانبہ،سلور،عقیق،فیروزہ،یاقوت،الکحل،نمک،تیل وغیرہ،مہم معدن کاصدق ہےخواہ بہنے والی ہویاجامدہو،زمین کی سطح پر ہو یا زمین کےاندر ہو،ارض مملوکہ سے اٹھائےیا مباح زمین سے اٹھائے،احتیاط واجب ہےکہ چونہ اور نورہ یعنی ان دونوں کی تراب کو معدن کےساتھ ملحق قرار دیا جائے ، اگرچہ یہ ان کے جلانے اور پختہ کرنے سے پہلے ہواور چکی کاپتھراور دھونے والی مٹی وغیرہ جس پر زمین کانام صادق آئےاوراُس میں فائدہ دینے کی خصوصیت ہو۔
سوم۔خزانہ،وہ مال جو ایک جگہ ذخیرہ شدہ ہو،زمیں میں ہویادیوارمیں ہو یاکسی اور جگہ میں ہو ، جسے ملے ،یہ اس کےلیے ہےاور اس پر اس کاخمس دینا واجب ہے مگر یہ کہ وہ جانتاہوکہ یہ کسی مسلمان کی ملکیت ہے۔
اس صورت میں اُس پرواجب ہے وہ مال اُس کے مالک کوتلاش کر کے دے ، مالک موجود نہ ہوتواس کے وارثوں کو دے اور اس کامالک یا اس کے ورثہ نہ ملیں تو اُس کاوارث امام علیہ السلام یاآپ کا خاص یا عام وکیل ہے۔
چہارم۔غوطہ،وہ مال ہےجو سمندر میں غوطہ لگاکر نکالاجاتاہے،جیسے جواہرات ، مثل لؤلؤ کےاور اس کی مثل کےجوحیوان نہ ہو۔
پنجم۔وہ زمین جوکافر ذمی مسلمان سے خرید کرتاہے،اس میں بناء براحتیاط کے خمس واجب ہے،زمین میں فرق نہیں ہے خالی اور مملوکہ ہو ،کاشتکاری والی زمین ہو،گھروالی زمین ہووغیرہ۔
ششم۔جوحلال مال حرام مال کے ساتھ مکس ہوگیاہو،اور اس میں تمیز نہ کی سکتی ہو اوراس کی مقداربھی معلوم نہ ہواور اس کے مالکان کابھی پتہ نہ ہو ،اس سے خمس نکال کراسے حلال کیاجاسکتا ہےاور اسے خمس کی نیت سے حاکم شرع کو دیا جا سکتا ہے
احتیاط مستحب ہےکہ ردمظالم اور خمس کاقصد کیاجائے،تاکہ حاکم شرع اسے ایسے شخص پرخرچ کرئےجس پر یہ دونوں عنوان منطبق ہوتے ہوں اوروہ ان دونوں عناوین کامستحق ہو۔
اگر مال کی مقدار معلوم ہواور مالک کاپتہ نہ ہوتواس پر لازم ہے کہ اسے مالک کی طرف سے صدقہ کردے ،خواہ حرام مال خمس کی مقدارکاہو یااس سے کم ہو یااس سے زیادہ ہو ۔
احتیاط واجب ہےکہ یہ کام حاکم شرعی کی اجازت سے ہو،مصلحت ہوتواسے اختیار ہےکہ اسے دے یا کچھ معاف کردے ،اگر مالک کی بابت علم ہواور مقدار سے جاہل ہوتو دونوں کوصلح کے ذریعہ سے راضی کرئےگا،اوراگر مالک صلح کے ذریعہ سے راضی نہ ہو تواس کی طرف اقل کو دفع کرنا جائزہے،اور احتیاط مستحب ہےکہ اکثر المحتملات کواس کی طرف دفع کیاجائے۔
احوط ہےکہ اس کے ساتھ حاکم شرعی کی طرف رجوع کرئے تاکہ جھگڑا ختم ہو اوراگر مکلف مالک اور مقدارکوجانتاہو تواسےمال دینا واجب ہے،اس کی تعیین قرعہ یا دونوں کےدرمیان رضایت سے ہو۔
مسئلہ350:اگرمعلوم ہوکہ مالک بہت زیادہ اوربےشمار افراد میں کوئی ایک ہے تو اُس کی طرف سے صدقہ کردے،احتیاط واجب ہےکہ یہ کام حاکم شرع کی اجازت سےکیاجائے۔
مسئلہ351:جب مال رد مظالم میں دےدینے یاصدقہ کردینے کے بعد مالک ظاہرہوجائے،تواگراُس نے یہ کام حاکم شرع کی اجازت سے کیاتھاتواس کے ضامن نہ ہونے کے بارے میں کوئی اشکال نہیں ہے،اوراگر اُس نے یہ کام حاکم شرع کی اجازت سے نہیں کیاتھاتواحتیاط اس میں ہے کہ مالک کو صورت حال سے آگاہ کرکے راضی کرئے،اگرچہ احتیاط واجب ہےکہ مالک معاف کردے۔
مسئلہ352:جب حلال مال حرام مال سے مخلوط ایساہوکہ جس کاتعلق خمس سے ہو،تواس سے دودفعہ خمس نکالناواجب ہے،حلال مال کاخمس پہلے دے اور پھر دوسرا خمس نکالے۔
مسئلہ353:جب خمس نکالنے سے قبل حرام سے مکس مال میں تصرف کرلےتو خمس ساقط نہیں ہوگا،بلکہ اس کے ذمہ میں ہے کہ وہ اس خمس کو خمس کے مستحق کی طرف پہنچائے،یہی حال مجہول المالک مال کاہے ،جس میں تصرف کرلیاگیاہو ،وہ مال اس کے ذمہ میں رہتاہے،جیسے ردمظالم ،اگر اس کی مقدار کوجانتاہوتواسے اداکرئےاور اگراس کی مقدار کونہ جانتاہو تواسے حق حاصل ہے کہ اقل مقدار پر اقتصار کرئے،اور باقی کادینااحتیاط مستحب کی بناپر ہوگا۔
ہفتم۔جومال اُس کے سال بھر کے خرچہ سے بچ جائے،جسے اُس نے اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لیے خرچ کرناہوتاہے ،جس کاتعلق صنعت ،زراعت،تجارت،اجارہ ،مال مباح کے منافع سے ہوتاہے۔
بلکہ احوط و اقوی یہ ہے کہ اس کاتعلق ہر منافع کےساتھ ہے جو اس کی ملکیت قرارپاتاہےجیسے ہبہ، ہدیہ ،انعام ،وصیت شدہ مال،وقف خاص وعام کا فائدہ ، میراث جس کی توقع اور گمان نہیں ہوتا،خلع کاعوض ۔
قبض کے ذریعہ سے ملک کے فرض کی بناپر ،ان عناوین میں خمس واجب ہوتا ہے ، متوقع میراث جیسے پہلے طبقہ کی میراث ،زوجہ کا مہریہ ،اعضاء کی دیت ،جنایات کی چٹی ان سب میں خمس کےوجوب میں تردد ہے،اس لیے کہ ان پر غنیمت اور منافع کے عنوان کے صدق میں شک ہے خصوصاً آخری عنوان میں شک حاصل ہوتاہے کہ آیا اسے امام کے قول،،فی کل ماافادالناس من قلیل او کثیر،،کاعموم شامل ہے یاشامل نہیں ہے ،اس میں اصالۃ البرائت جاری ہوگی مگر احتیاط اس سے خمس نکالنے کاتقاضا کرتی ہےیا دو اعلمیت کے محتملات میں سے ایک کی طرف رکوع کیاجائےلیکن مشہور کہتے ہیں کہ اس سے خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ354:ظاہرہے کہ ایک تاریخ مقرر کرکے اسے سال کا آغاز قراردینا،مکلف کے لیےولایت کے عنوان کےمطابق مصلحت ہے،سال سے زائد کرناجائزنہیں ہے ، یعنی خمس کے دینے میں جلدی کرنا بیشتر ہےسوائے ولی کی اجازت کے،اس سے پہلے خمس کادینا،اس سے کوئی مانع نہیں ہے۔
مسئلہ355:مال موروث میں دوشرطوں سے خمس واجب نہیں ہے:
شرط اول۔اس کا متعلق خمس کےلیے مورِث کی زندگی میں نہ ہوجیسے اُس کاخمس دیاہواہویاوہ مال ارث ہویامہریہ ہو تو اس کاخمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
شرط دوم۔وہ شوہر یابیوی کے ساتھ ،پہلے طبقہ کی میراث میں سے ہو۔