سال کےخرچہ کی بابت مسائل

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

سال کےخرچہ کی بابت مسائل:

مسئلہ356: مستثناء خرچہ کاتعلق ارباح مکاسب سے ہےاور جس میں خمس واجب نہیں ہے،دو امر ہیں:

امراول۔منافع حاصل کرنےکاخرچہ ،ہروہ مال جس کو انسان منافع کے حاصل کرنے میں صرف کرتاہے جیسے مال منتقل کرنے کی مزدوری ،دلال وکاتب وگارڈو دوکان  و گورنمنٹ کی پرچی وغیرہ کاخرچہ،یہ سب منافع سے نکالے جائیں گےپھر باقی سے خمس نکالاجائےگا۔

مسئلہ357:ہر وہ مال جو منافع کے حاصل کرنے میں صرف ہوتاہے،وہ ارباح مکاسب سے مستثناء ہے،اس میں فرق نہیں ہےخرچ والے سال منافع حاصل ہو یا منافع بعد میں حاصل ہو۔

امردوم۔اہل وعیال کاخرچہ،ہروہ مال جسے شایان شان اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے صرف کیاجاتاہے،جوصدقات دیتے ہیں اور زیارت کےلیےجانےمیں رقم خرچ ہوتی ہےاور جو ہدیئے دیتے ہیں اور جومناسب انعامات دیتے ہیں ،اور جو مہمان نوازی میں پیسہ خرچ کرتے ہیں ،اگرچہ کچھ اپنی حیثیت سے زائد خرچ کردیئے جائیں ،جب اُن کاوجود اُس کےسبب سے نہ ہو،اور اُن کے حال کے مناسب مقدار،اس میں سے خمس نکالنا معتبر نہیں ہے۔

مسئلہ358:خرچ صادق نہیں آتامگر اُس میں  جس کو فعلاً مال سے خرچ کرتا ہے ،خرچے کےلیے جمع کیے ہوئے مال پر خرچ صادق نہیں آتاہے ،اس سے سال بھر کے مخارج کے بعد خمس نکالناواجب ہےاگرچہ باقی مال کو خرچے کے لیے جمع کرلیاجائے۔

مسئلہ359:واجب ہےکہ خرچہ اپنی شان کے مطابق کیاجائےجس کی بابت عرف   اور معاشرہ کہےکہ اس نے اپنے حال کے مناسب خرچہ کیاہے،جب اس سے زیادہ خرچہ کرئےگاتواس زائد سے خمس نکالناواجب ہوگا،یہی حکم ہے جب فضول خرچی کرئےیا بیوقوفانہ خرچ کرئے۔

لیکن جب اپنی شان سے کم خرچ کرئےتو سارےزائدمال  میں خمس واجب ہوگا۔

مسئلہ360:جس نے مالی سال مقرر نہ کیاہواہو ،اس کےلیے سر سال ،کام کاپہلادن ہے،اس کےلیے منافع ظاہر ہونے والے دن سے خرچہ کاحساب کیا جا سکتا ہے،راجح ہے بلکہ واجب ہےکہ اس ناحیہ سے فرد خود کو مہمل قرارنہ دے،پس وہ اپنے لیے سرسال کو اپنی عملی زندگی کے پہلے دن سے قراردے،پس جب    تجارتی ،صنعتی،کاشتکاری،تعلیمی،طبی یا کوئی بھی حلال عمل کوشروع کرئےتووہ اس کے شرعی مالی سال کی ابتداء ہوگی،ممکن ہے جیساکہ ہم نے کہاہے،حساب میں جلدی کی جائےاور اس دن کیا جائے جس دن میں منافع ملے یا تنخواہ ملے ،جب اس روٹین پر سال گزر جائےاوروہ اس  میں اپنی اوقات اور شان کے مطابق خرچہ کرچکاہو ،اب کم وزیاد جو مال و پیسہ بچا ہے اس میں خمس واجب ہوگا،خواہ وہ ثمن ہویا منقولہ و غیر منقولہ مال ہو۔

مسئلہ361:مہم یہ ہےکہ عرف کے لحاظ سے سال کاعنوان صادق آئےاور وہ سال جس تقویم سے ہی کیوں نہ ہو ،ہجری ہویامیلادی ہو یاکوئی اور یابغیرتقویم کےہو مہینوں  کو گناہواہویاہفتوں کو گناہواہو۔

مسئلہ362:جب کسی شخص کے پاس کام کاج نہ ہو،،یعنی وہ کسی دوسرے کے سہارے پر زندگی بسر کررہاہو، جیسے اپنے باپ کے یااپنے بیٹےکے یادوسروں کے خوشی سے اس پرخرچ کرنے کے یاوجوہ شرعیہ کے سہارے گزر کر رہاہوتو اس کاسرسال وہ پہلادن ہوگاجس دن میں اسے پہلی دفعہ مال ملا ،اور اس کے لیےسرسال معین نہ ہو تواس کےلیےسرسال وہ دن ہے جس دن میں اسے پہلی دفعہ خمس ملاہے۔

اگراس کے پاس زیادہ مال نہ ہوکہ جسے خمس میں دےتو اس کاسرسال نہیں ہو گا ،یہاں تک کہ اسے زیادہ مال نہ  مل  جائےاور جب اسے زیادہ مال میسر ہوجائے تو خمس دینے میں جلد اقدام کرناواجب ہوجائے گا،زیادہ مال کے میسرنہ ہونے کی صورت میں اُس کے لیے مستحب ہے کہ ایک معین دن کومقرر کرئے،تاکہ اسے اپنے لیےحاکم شرع کے ساتھ اتفاق کرکے  سرسال  قراردے ۔

مسئلہ363:جب کوئی شخص کئی سال تک خمس کاکوئی حساب و کتاب نہ کرئے،یہ اس کی کوتاہی کی وجہ سے ہو یا کوتاہی کی وجہ سے نہ ہو،اوراس نے ان سالوں میں منافع کمایاہو اور بہت زیادہ مال کااستفادہ کیاہو،مال اسباب جمع کیاہو ،بنک بیلنس بنایاہو،گھروں کو آباد کرتارہاہو،پھر متوجہ ہواکہ ان منقولہ وغیر منقولہ اموال سے خمس نکالناواجب تھا،وہ اپنے پاس موجود تمام اموال کاخمس نکالے،جن کواس نے خرید کیا ،آباد کیا،اگایاجو خرچہ سے شمار نہیں ہوتے تھے۔

ان امور میں سے ،جسے اس نے خرچہ کےلیے قراردیاہوجیسے سکونت کاگھر ، گاڑی ،ضروری سامان ،اس پر خمس نہیں ہے ،اگر اس  نےانہیں سال کے منافع سے لیا ہو ، اس میں دوحالتوں میں خمس واجب ہے:

1۔جو مال اس نے ان چیزوں کے خرید کرنے کے لیے دیا،اسے ایک سال سے زیادہ کےعرصہ میں جمع کیا تھااور وہ اس کی سال بھرکی بچت تھی،پس اس نے خرید کے سال سے پہلے والے سال میں جمع شدہ مال  سے جو کچھ  لیا،اس سے خمس دے۔

2۔ جب خریدی ہوئی عین باقی پڑی ہو اور خریدکےبعد  بچت میں ہو،یہاں تک کہ اس کے خرچہ میں داخل ہونےسے قبل ،اُس پر سال گزر جائے۔ 

مسئلہ364:سال کے خرچہ میں داخل ہے،جس  کااستعمال تام ہو اور جس کا استعمال  تام نہ ہو لیکن اس کی ملکیت اس کے اجتماعی حال کے مناسب  ہوجیسے عورت کے لیے زیور اوردینی  یا ثقافتی مردکےلیےکتب ، یاسینریاں وغیرہ ،یہی حکم ہے آلات وغیرہ جن کو ضرورت کے تحت خرید کیاہو،اگرچہ ان سے ابھی استفادہ نہیں کیا ہے ، جیسے آگ بجھانے والے آلات،دریاں ،مہمان نوازی والےبرتن،مہمانوں کوان کی منزل تک پہنچانے کے لیےگاڑی،ان کے بیٹھنےکےلیے خیمے،بچوں کوسکول یا بازار  پک و ڈراپ کےلیے وین ، یادیگر مناسب کام کےلیےکوئی شے خریدکی ہو ،یہ سب خرچہ میں داخل ہیں،اگرچہ انہیں استعمال نہ کیاہو۔

اگر ذخیرہ کردہ مال ،اس کے معاشرتی حال سے زائد کاہویااس کی ضرورت کے احتمال سے زائد ہو تو اس میں خمس واجب ہوتاہے۔

مسئلہ365:جب کوئی شخص خرچے کے لیے ضرورت سے زائد گندم ، جو ، گھی ، چینی،چائے وغیرہ خرید کرئےتواس پر اس کاخمس نکالناواجب ہے۔

خرچہ ،جس کی محتاجی ہوتی ہے اور عین بھی باقی رہتی ہے،جب اس سے بےنیاز ہوتو ظاہرہےکہ اس میں خمس واجب نہیں ہے،بشرطیکہ اس سے بےنیازی سال کے بعد حاصل ہو ،اس لیےکہ اگرچہ یہ خرچہ سے بچ گیاہے مگر اس پر صادق نہیں آتا ہے کہ یہ سال کے ارباح میں سے ہے،جس طرح عورتوں کے زیورات میں ہے جن  سے بڑھاپےکی عمر میں عورت بے نیاز ہوجاتی ہے اور جیسے کپڑے جو شخص کے حال کے مناسب شمار نہ ہوتے ہوں،یااس کے جسم کے مناسب نہ ہوں،اور سال کے دوران بے نیازی حاصل ہوجائے،پس اگر خرچہ ایسی شے سے ہو جس کا آیندہ سالوں کےلیے شمارکرنا متعارف ہوتاہے،جیسے سردی و گرمی کے ان کے موسم کی انتہاء پر کپڑے ،یا کارپٹ اور مہمانوں کے لیے معین موسموں میں تیار کردہ آلات ،جیسے امام حسین علیہ السلام کے زائرین ،پس ظاہر ہےکہ ان میں بھی خمس واجب نہیں ہے اور ایسی صورت حال نہ ہوتو بناء بر احتیاط کے خمس کاادا کرناواجب ہوگا۔