جن موارد میں صرف قضاء واجب ہے

| |عدد القراءات : 3
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

جن موارد میں صرف قضاء واجب ہے:

مسئلہ 332:چند موارد میں صرف  قضاء واجب ہے:

اول۔مجنب شخص جو  سویارہے یہاں تک کہ صبح ہوجائے،اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔

دوم۔جب  کوئی شخص اپنے روزے کو نیت میں خلل ڈالنے کی وجہ سے باطل کردے اور روزہ کو باطل کرنے والے امور میں سے کسی کواستعمال نہ کرئے۔

سوم۔احتیاط واجب کی بناء پر ،جب کوئی شخص غسل جنابت کو بھول جائے اور ایک دن یاکئی دن گزر جائیں۔

چہارم۔جب طلوع فجر کے بعد طلوع کی بابت مراعات اور حجت کا خیال کئے بغیر روزہ کوباطل کرنے والے امور میں سے کسی کواستعمال کرئے ،لیکن اگر طلوع فجر پر حجت قائم ہوجائے تو قضاء اور کفارہ دونوں واجب ہوگا۔

پنجم۔رات کے داخل ہونے سے قبل افطار کرنا ،یہ اندھیرے کی وجہ سے ہو جس سے گمان کرئے کہ رات ہوگئی ہےاورآسمان میں بادل نہ ہوں۔

ششم۔کلی وغیرہ سے پانی کامنہ میں داخل کرنا،یہ استحباب شرعی ہے یا کسی اور غرض سے ایساکرئےاور پانی پیٹ کے اندر چلاجائے،یہ قضاء کاموجب ہے ،اس پر کفارہ نہیں ہے ۔

ہفتم۔ملاعبت(بیوی سے بوس و کنارکرنے) سے منی کا خارج  ہونا ،اگر وہ منی کے نکلنے کاقصد نہ رکھتاہو اور ناہی اس کی یہ عادت ہوکہ ایسے کام سے منی خارج ہو جاتی ہو۔